• 5 جون, 2020

جماعتِ احمدیہ کا آغاز اور شاندار مستقبل

‘‘مجھے اُس خدائے کریم و عزیز کی قسم ہے جو جھوٹ کا دشمن اور مفتری کا نیست و نابود کرنے والا ہے کہ میں اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کے بھیجنے سے عین وقت پر آیا ہوں اور اُس کے حکم سے کھڑا ہواہوں اور وہ میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور نہ میری جماعت کو تباہی میں ڈالے گا جب تک وہ اپنا تمام کام پورا نہ کر لے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے،،

(اربعین حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ348 )

ایمان ، یقین ، تحدّی اور جلال سے بھرے ہوئے یہ مبارک الفاظ اُس مقدس ہستی کے ہیں جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس زمانہ میں بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا۔یہ مقدس وجود ہمارے پیارے آقا،سرورِ کائنات،خاتَمُ الانبیاء، حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے روحانی فرزندِ جلیل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام بانی جماعتِ احمدیہ کا ہے ۔

انیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں مذہبِ اسلام کی حالت بہت ہی کسمپرسی کی تھی ۔ مسلمان تو تھے مگر صرف نام کے۔ ان کی ایمانی اور عملی کمزوریوں کو دیکھ کر عیسائیت اور دیگر مذاہب ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور ہو رہے تھے ۔ مسلمانوں میں جواب کی ہمت نہ تھی ۔ دردمندانِ اسلام کے دل مضطرب تھے ا ور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر سجدہ زیر۔بالآخر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اسلام کی حفاظت اور احیائے نو کی بناء ڈالی ۔اس زمانہ کے سب سے بڑے عاشقِ رسول غلامِ احمد نے خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محي کی تلاش میں ہیں اور ایک شخص نے آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ھٰذَا رَجُلٌ یُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِکہ یہی وہ شخص ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے ۔ یہ خدائی اشارہ تھا کہ محبت رسول کی شرط اس مقدس وجود میں متحقق ہے اور یہی ہر خیر و برکت کی کلید ہے ۔ پھر آپ کو ایک کشف میں یہ نظارہ بھی دکھایا گیا کہ ایک باغ لگایا جا رہا ہے اور آپ کو اس کا مالی مقرر کیا گیا ہے۔ 1882ء کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس الہام سے نوازا قُلْ اِنّی اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤمِنِیْنَیہ آپ کی ماموریت اور مجددیت کا پہلا الہام تھا ۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ بھی واضح فرمایا کہ امت محمدیہ میں جس امام مہدی اور مسیح موعود کے آنے کا وعدہ دیا گیا تھا وہ وعدہ آپ کے وجود میں پورا ہوچکا ہے اور آپ ہی کو رسولِ پاک ﷺ کی نیابت میں امام مہدی اور مثیلِ مسیح کا منصب عطا فرمایا گیا ۔یہ وہی زمانہ ہے جب آپ نے اسلام کی تائید و نصرت میں اپنے عظیم الشان قلمی جہاد کا آغاز کیا ۔کتاب براہینِ احمدیہ کی اشاعت نے عالمِ اسلام میں ایک نئی زندگی پیدا کر دی اور مسلمانوں کے پژمردہ چہروں پر رونقیں نظر آنے لگیں ۔ آپ کی ان تالیفات کو تیرہ سو سال میں اسلام کی بہترین خدمت قرار دیا گیا ۔آپ اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف اس شان سے نبردآزما ہوئے کہ روحانی بصیرت رکھنے والوں نے اس گوہر آبدار کو خوب پہچان لیا ۔لدھیانہ کے مشہور صوفی حضرت حاجی احمد جانؓ نے لکھا ۔ “ آپ مجدّد وقت ، طالبانِ سلوک کے لئے آفتاب اور گمراہوں کے لئے خضرِ راہ اور منکرین ِ اسلام کے لئے سیفِ قاطع اور حاسدوں کے لئے واسطے حجّتِ با لغہ ہیں” اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کے ہاتھ بیعت کی غرض سے آپ کی طرف اٹھنے لگے لیکن آپ نے ایسی ہر درخواست کے جواب میں یہی فرمایا۔

‘‘ اب تک خدا وند کریم کی طرف سے کچھ علم نہیں اس لئے تکلّف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں’’

وقت گزرتاگیا اوربالآخر وہ مبارک گھڑی آ گئی جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی اجازت عطا ہوئی کہ آپ لوگوں سے بیعت لیں۔یکم دسمبر 1888ءکو آپ نے ایک اشتہار ‘‘تبلیغ’’ کے نام سے شائع فر مایا جس میں پہلی بار الہام الٰہی کے حوالہ سے اعلان فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے بیعت لینے کا ارشاد فرمایا ہے ۔ آپ نے تحریر فرمایا کہ ‘‘یہ ربّانی حکم ہے جوآج میں نے پہنچا دیا ہے’’

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 188)

اس ابتدائی اعلان کے قریباً چالیس روز بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 12جنوری 1889ء کو ‘‘تکمیلِ تبلیغ ’’ کے نام سے ایک اور اشتہار شائع فرمایا جس میں دس شرائط بیعت کا ذکر فرمایا ۔ اشتہار کے آخر میں تحریر فرمایا کہ

‘‘دعوتِ بیعت کا یہ عام اشتہار ہے اورمتحملین شرائط متذکرہ بالا کو عام اجازت ہے کہ بعد ادائے استخارہ مسنونہ اس عاجز کے پاس بیعت کرنے کے لئے آویں’’

ان اشتہارات کی اشاعت کے بعد سیدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے قادیان سے لدھیانہ کا سفر اختیار فرمایا۔ اور حضرت صوفی احمد جان ؓ کے مکان واقعہ محلہ جدید میں قیام پذیر ہوئے ۔ لدھیانہ آنے کے چند روز بعد 4 مارچ 1889ء کو آپ نے ایک اور اشتہار بھی شائع فرمایا جس میں بیعت کی حقیقت، بیعت کے اغراض و مقاصد اور بیعت کے ذریعہ حاصل ہونے والی روحانی برکات کا تفصیل سے ذکر فرمایا ۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ بیعت کو کیفیت و کمیّت ہر لحاظ سے بڑی عظمت اور شوکت عطا فرما ئے گا۔آپ نے تحریر فرمایا کہ

‘‘یہ گروہ اُس کا ایک خاص گروہ ہو گا اور وہ اُنہیں آپ اپنی روح سے قوّت دے گا اور انہیں گندی زیست سے صاف کرے گا اور اُن کی زندگی میں ایک پاک تبدیلی بخشے گا۔ وہ ………اِس گروہ کو بہت بڑھائے گا اور ہزارہا صادقین کو اس میں داخل کرے گا۔وہ خود اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کو نشو و نما دے گا یہاں تک کہ اِن کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی ’’

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 198)

حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی طرف سے ان اشتہارات کی اشاعت نے مخلصین اور مومنین کے دل میں زندگی کی روح پھونک دی۔ یہ فدائی روحیں تو عرصہ سے اس سعادت کی منتظر تھیں ۔ امام الزمان علیہ السلام کی آواز سنتے ہی مخلصین لدھیانہ پہنچنے لگ گئے ۔ بیعت لینے کے لئے آپ نے حضرت منشی صوفی احمد جان ؓ کے مکان کو پسند فرمایا ۔یہ وہی عارف باللہ اور پاک باطن صوفی بزرگ ہیں جو آپ کے قدیم عشاق میں سے تھے اور اس بات کے خواہش مند تھے کہ آپ کے دستِ مبارک پر بیعت کی سعادت پائیں ۔ آپ ہی نے حضرت مسیح پاک کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

سب مریضوں کی ہے تمہیں پہ نگاہ
تم مسیحا بنو خدا کے لئے

اس وقت تو مسیح پاک علیہ السلام نے آپ کو یہی جواب دیا کہ میں ابھی بیعت لینے کے لئے مامور نہیں کیا گیا ۔ مگر آہ ! کہ جب یہ وقت آیا تو آپ اس دنیاسے رخصت ہو چکے تھے لیکن مسیح پاک علیہ السلام کی قدر شناسی اور ذرّہ نوازی دیکھیے کہ آپ نے بیعت ِ اولیٰ کے لئے جس جگہ کا انتخاب فرمایا وہ اسی عاشقِ صادق کا مکان تھا جو تاریخ احمدیت میں دارالبیعت کے نام سے موسوم ہوا ۔ اور مزید یہ کہ 313بیعت کرنے والوں کی فہرست جب اپنی کتاب ضمیمہ انجامِ آتھم میں شائع فرمائی تو 99 ویں نمبر پر اس عاشقِ صادق کا نام بھی شامل فرمایا کہ یہ پاک انسان تو برسوں قبل ہی آپ کے مبائعین کے زمرہ میں داخل ہو چکا تھا ۔

بالآخر 23 مارچ 1889ء کا دن آگیا جو اسلام کی تاریخ میں ایک سنہری دن ہے ۔ یہی وہ مبارک دن ہے جس روز دورِ آخَرین میں احیائے اسلام کی آسمانی تحریک کا دنیا میں باقاعدہ آغاز ہوا اور حقیقی اسلام کی علمبردار جماعت،جماعت احمدیہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس روز جماعت کی تاریخ میں پہلی بار، اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل میں ، سنتِ نبویؐ کی پیروی کرتے ہوئے ، امامُ الزمان سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا دستِ مبارک مبائعین کے ہاتھوں کے اوپر رکھتے ہو ئے ان سے بیعت لی ۔ یہ بیعت اولیٰ کہلاتی ہے ۔اس روز سے بیعت کا یہ طریق جماعت ِ احمدیہ میں جاری و ساری ہے ۔ ابتداء میں بیعت کی تقریب میں چند افراد شامل ہوا کرتے تھے اور تقریب بھی مقامی نوعیت کی ہوتی تھی ۔ اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے MTA کی برکت سے یہ ایک عالمگیر تقریب بن چکی ہے جس میں ہر سال لاکھوں افراد خلیفہ وقت کے دستِ مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہوتے ہیں ۔

23مارچ1889ء 20رجب 1310ہجری جمعرات کا دن تھا۔ حضرت مسیح پاک علیہ السلام مکان کے اس حجرہ میں تشریف لائے جومکان کے شمال مشرقی کونہ میں ہے ۔ اس وقت اس کی حالت ایک خستہ حال کچی کوٹھڑی کی تھی ۔ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کمرہ کے جنوب مشرقی کونے میں نیچے بیٹھ گئے اور انتہائی سادگی کے ساتھ بیعت کی تقریب کا آغاز ہوا۔ کمرے کے دروازہ پر حضرت شیخ حامد علی رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا اور ہدایت دی کہ جسے میں کہتا جاؤں اسے کمرہ میں بلاتے جاؤ۔ سب سے پہلے جس خوش نصیب کو آپ نے بیعت کے لئے طلب فرمایا وہ آپ کے فدائی اور سرتاپا عاشق،حضرت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ تھے۔حضرت اقدس نے حضرت مولوی صاحب کا ہاتھ کلائی پر سے زور کے ساتھ پکڑا اور بڑی لمبی بیعت لی۔ بیعت کے الفاظ یہ تھے۔

‘‘ آج میں احمدؑکے ہاتھ پر اپنے ان تمام گناہوں اور خراب عادتوں سے توبہ کرتا ہوں جن میں میں مبتلا تھا اور سچے دل اور پکے ارادہ سے عہد کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور میری سمجھ ہے اپنی عمر کے آخری دن تک تمام گناہوں سے بچتا رہوں گا اور دین کو دنیا کے آراموں اور نفس کے لذّات پر مقدّم رکھوں گا اور 12جنوری کی دس شرطوں پر حتی الوسع کاربند رہوں گا اور اب بھی اپنے گزشتہ گناہوں کی خدا تعالیٰ سے معافی چاہتا ہوں ۔

اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ
اَشْہَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ حْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
رَبِّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ

پانچ احباب کو نام بنام بلانے اور ان سے بیعت لینے کے بعد حضرت مسیح پاک علیہ السلام نےحضرت شیخ حامد علیؓ سے فرمایا کہ اب آپ خود ہی ایک ایک آدمی کو اندر داخل کرتے جائیں۔ اس طرح سب سے فرداً فرداً بیعت کا سلسلہ جاری رہا۔ اس روز چالیس خوش نصیبوں نے آپ کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا ۔

حضرت مسیح پاک کے ارشاد پر اس موقع پر ایک خصوصی رجسٹر تیار کیا گیا جس پر یہ عنوان لکھا گیا ۔

‘‘بیعت توبہ برائے حصول تقویٰ وطہارت’’

اس میں سب مبائعین کے نام،ولدیت اور سکونت وغیرہ کا اندراج کیا گیا ۔ بعض ابتدائی نام حضرت اقدس نے خود اپنے دستِ مبارک سے تحریر فرمائے اور باقی نام مختلف اوقات میں دیگر احباب نے درج کئے ۔ حضرت منشی ظفر احمؓد آف کپور تھلہ نے پہلے روز بیعت کی توفیق پائی ۔ وہ اس بیعت کی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں کہ

‘‘حضور تنہائی میں بیعت لیتے تھے اور کواڑ بھی قدرے بند ہوتے تھے ۔ بیعت کرتے وقت جسم پر ایک لرزہ اور رقّت طاری ہو جاتی تھی اور بیعت کے بعد دعا بہت لمبی فرماتے تھے ۔’’

مردوں سے بیعت لینے کے بعد حضرت اقدس گھر میں واپس تشریف لائے اور بعض عورتوں سے بھی بیعت لی۔ سب سے پہلے بیعت کر نے کی سعادت حضرت صغریٰ بیگم رضی اللہ عنہا نے پائی جوحضرت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور صوفی احمد جان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں ۔ بیعت کی تقریب کے بعد جملہ حاضر احباب نے حضرت اقدس کے دستر خوان پر کھانا کھایا اور بعد ازاں نماز ادا کی گئی۔

یہ ہے بہت مختصر اور اجمالی ذکر اُس عظیم الشان اور یاد گار دن کا جب جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی ۔ یہ دراصل ابتداء تھی ایک عظیم الشان روحانی، عالمگیر انقلاب کی جو ازل سے اللہ تعالیٰ کی غالب تقدیر کا ایک حصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ ازلی تقدیر دن بدن روشن تر اور کُل دنیا پر محیط ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے غلام اور عاشقِ صادق، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی ترقی،عظمت، شوکت اور عالمگیر غلبہ کے متعلق جو جو بشارتیں عطا فرمائیں وہ ایک ایک کر کے پوری ہو رہی ہیں اور مومنین کے دلوں کو یقینِ محکم عطا کررہی ہیں کہ احمدیت کے ذریعہ غلبہء اسلام کی تقدیر ضرور پوری ہو کر رہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت بلکہ دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی اس خدائی تقدیر کا راستہ ہر گز نہیں روک سکتیں۔

جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اذنِ الہٰی سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی اس زمانہ میں ابتداً آپ بالکل اکیلے تھے۔ کوئی دنیاوی مددگار اور ہمنوا نہ تھا ۔ ہاں زمین و آسمان کا خالق، قادر و توانا خدا، جس نے آپ کو بھیجا تھا، وہ آپ کے ساتھ تھا۔آپ نے فرمایا۔
‘‘ میرے پر ایسی رات کوئی کم گزرتی ہے جس میں مجھے یہ تسلّی نہیں دی جاتی کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ہیں۔’’

( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 49 )

پھر اسی علام الغیوب خدا سے خبر پا کر آپ نے اعلان فرمایا :

‘‘خدا تعالیٰ نے مجھے بار بارخبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلا ئے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا……… خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ’’

(تجلیاتِ الہٰیہ،روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409 )

پھر آپ نے بڑے جلال اور تحدّی سے،الہٰی وعدوں اور خدائی نصرتوں پر کامل یقین رکھتے ہوئے علی الاعلان فرمایا ۔

‘‘ دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اِس سِلسلہ کی دُنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سِلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مرادیہی سلسلہ ہو گا ۔ یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں یہ اُس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں’’

( تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 182 )

یہ ساری بشارتیں جن کا مرکزی نقطہ تائید و نصرت الٰہی ہے بڑی شان سے دن رات پوری ہو رہی ہیں۔ ہر آنے والا دن احمدیت کی روز افزوں ترقی کا آئینہ دار ہے۔ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے آثار روشن سے روشن تر ہوتے جا رہے ہیں ۔ فتح اسلام کا ایک دلربا نقشہ ہماری نظروں کے سامنے روز بروز کھلتا چلا جا رہا ہے ۔

کاروانِ احمدیت جس کا آغاز چالیس افراد سے ہوا ، آج اس کی تعداد کروڑہاکروڑ تک جا پہنچی ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بڑھ رہی ہے۔دنیا کا کوئی معروف ملک نہیں جہاں یہ شجراحمدیت نہ لگ چکا ہو۔شجرہ طیبہ کی طرح اس کی جڑیں اکنافِ عالم میںخوب مضبوطی سے پیوست ہیں جبکہ اس کی شاخیں شش جہات میں سایہ فگن ہیں۔ ہر قوم اس چشمہ سے پانی پی رہی ہے اور رنگ و نسل کی تمیز سے بے نیاز، شجرِ احمدیت کی گھنی چھاؤں تلے شانہ بہ شانہ خدمتِ اسلام میں مصروف ہیں۔ساری دنیا میں قرآنِ مجید اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت میں جماعت احمدیہ ایک امتیازی مقام رکھتی ہے۔تعلیمی اور طبّی خدمت کے میدانوں میں بے لوث خدمتِ انسانیت کرنے والی اس جماعت کی خدمت کا برملا اعتراف کیا جاتا ہے۔ اکنافِ عالم میں ہزاروں مساجد کی تعمیر کا اعزاز اس جماعت کو حاصل ہے۔مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ انٹرنیشنل کے ذریعہ دنیا کے کونہ کونہ میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی خوش بختی اور سعادت اس جماعت کو حاصل ہے ۔ اس طرح یہ بشارتِ الہٰی کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا دن رات پورا ہو رہا ہے۔مسیح پاک علیہ السلام کے کپڑوں سے بادشاہوں کے برکت پانے کا نشان بارہا پورا ہو چکا ہے ۔ گیمبیا،نائیجریا اور بینن کے متعدد بادشاہ اور حکمران اس سعادت کو حاصل کر چکے ہیں۔ علم و معرفت میں کمال حاصل کرنے کے میدان میں حضرت چوہدری محمدظفراللہ خان،پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد کی امتیازی خدمات اپنی مثال آپ ہیں۔

تائید و نصرت الہٰی کےنشانوں کاکوئی شمارنہیں۔حق یہ ہے کہ ہر دن احمدیت کی ترقی کا پیغام لے کر طلوع ہوتا ہے اور عالَم احمدیت پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے کس تحدّی اور جلال کے ساتھ فرمایا ہے۔

‘‘ اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔ اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا ۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فو ق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا ۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی ….میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔’’

( تذکرۃ الشہادتین ،روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 66-67 )

(مولانا عطاء المجیب راشد ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

برکاتِ خلافت

اگلا پڑھیں

عید سعید کی برکات اور ایک مومن کی ذمہ داریاں