• 3 جولائی, 2022

فقہی کارنر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تبرک

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ؓ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر محمد اسما عیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری زمانہ میں اکثر دفعہ احباب آپ کے لئے نیا کرتہ بنوا لاتے تھے اور اسے بطور نذر پیش کر کے تبرک کے طور پر حضور کا اُترا ہوا کرتہ مانگ لیتے تھے۔ اسی طرح ایک دفعہ کسی نے میرے ہاتھ ایک نیا کرتہ بھجوا کر پرانے اترے ہوئے کرتے کی درخواست کی۔ گھر میں تلاش سے معلوم ہوا کہ اس وقت کوئی اُترا ہوا بے دھلا کرتہ موجود نہیں۔ جس پر آپ نے اپنا مستعمل کرتہ دھوبی کے ہاں کا دھلا ہوا دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ میں نے عرض کیا کہ یہ تو دھوبی کے ہاں دھلا ہوا کرتہ ہے اور وہ شخص تبرک کے طور پر میلا کرتہ لے جانا چاہتا ہے۔ حضور ہنس کر فرمانے لگے کہ وہ بھی کیا برکت ہے جو دھوبی کے ہاں دھلنے سے جاتی رہے۔ چنانچہ وہ کرتہ اُس شخص کو دے دیا گیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ شخص غالباً یہ تو جانتا ہوگا کہ دھوبی کے ہاں دھلنے سے برکت جاتی نہیں رہتی۔ لیکن محبت کا یہ بھی تقاضا ہوتا ہے کہ انسان اپنے مقدس محبوب کا اُتار ہوا میلا بے دُھلا کپڑا اپنے پاس رکھنے کی خواہش کرتا ہے اور اسی طبعی خواہش کا احترام کرتے ہوئے گھر میں پہلے میلے کپڑے کی تلاش کی گئی لیکن جب وہ نہ ملا تو دُھلا ہوا کرتہ دے دیا گیا۔

(سیرت المہدی جلد1 صفحہ343۔344)

(داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

نمائندگان برائے الفضل آن لائن (قسط 2)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 مئی 2022