• 9 جولائی, 2020

تم میں سے ایک گروہ ہونا چاہئے جو دین کا علم حاصل کرے

سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ
پس جو واقفین نَو لڑکے خاص طور پر اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں خود بھی اپنی ظاہری اور مالی حالت کی بہتری کی بجائے روحانی حالت میں بہتری کی کوشش کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو ہر احمدی سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ اس کا معیار انتہائی بلند ہو تو ایک شخص جس کے ماں باپ نے پیدائش سے پہلے اس کو دین کے لئے وقف کر دیا اور اس کے لئے دعائیں بھی کی ہوں اس کو کس قدر ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہنچا دوں آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اُسے سُنے یا نہ سُنے کہ اگر کوئی نجات چاہتا ہے ۔اور حیات طیّبہ یا ابدی زندگی کا طلبگار ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے۔ اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت ،میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اور حضرت ابراہیم ؑکی طرح اُس کی رُوح بول اٹھے اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (البقرۃ:132)‘‘ کہ میں تو اپنے ربّ کا فرمانبردار ہو چکا ہوں۔ فرمایا ’’جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا، خدا میں ہو کر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پا نہیں سکتا۔ پس تُم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف مَیں اپنی زندگی کی اصل غرض سمجھتا ہوں۔‘‘ یہی بنیاد ہے اور یہی مقصد ہے ’’پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اِس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے اور خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 100۔ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس واقفین نَو کو عام احمدی سے بلند ہو کر یہ مقام حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دین کی خاطر دوسرے بھی وقف کرتے ہیں اور ہر ایک وقف کر بھی نہیں سکتا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ ہونا چاہئے جو دین کا علم حاصل کرے اور پھر جا کے اپنے لوگوں کو بتائے۔ دنیاوی کاموں میں بھی الجھے ہوئے ہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود ؑنے یہ بھی فرمایا کہ دنیاوی کام کرتے ہوئے بھی خدا کا خوف اور دین مقدم ہونا چاہئے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ 91۔ایڈیشن 1985ئ مطبوعہ انگلستان)

واقفین نَو کو تو اپنے قناعت کے معیاروں کو بہت بڑھانا چاہئے۔ اپنی قربانی کے معیاروں کو بہت بڑھانا چاہئے ۔یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم مالی لحاظ سے کمزور ہوں گے تو ہمیں شاید ہمارے بہن بھائی کمتر سمجھیں یا والدین ہمیں اس طرح توجہ نہ دیں جس طرح باقیوں کو دے رہے ہیں۔ اول تو والدین کو ہی یہ خیال کبھی دل میں نہیں لانا چاہئے کہ واقفین زندگی کمتر ہیں۔ واقفین زندگی کا معیار اور مقام ان کی نظر میں بہت بلند ہونا چاہئے۔ لیکن واقفین زندگی کو خود اپنے آپ کو ہمیشہ دنیا کا عاجز ترین بندہ سمجھنا چاہئے۔

واقفین نَو کو جہاں قربانی کا معیار بڑھانا ہے وہاں اپنی عبادتوں کے معیار کو بھی بلند کرنا چاہئے، اپنی وفا کے معیار کو بھی بڑھانا چاہئے۔ اپنے اور اپنے والدین کے عہد کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحتیوں اور استعدادوں سے کام لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دین کی خاطر، دین کی سربلندی کی خاطر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ تب اللہ تعالیٰ بھی نوازتا ہے اور کسی کوبغیر جزا کے اللہ تعالیٰ نہیں چھوڑتا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک موقع پر اپنے عہدوں کو وفا کے ساتھ پورا کرنے کے بارے میں نصیحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کی ہے جیسا کہ فرمایا ہے: وَاِبْرٰہِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی (النجم:38) کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دکھایا‘‘۔

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 234۔ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس عہدوں کو پورا کرنا کوئی معمولی چیز نہیں ہے اور وہ عہد جو وقف زندگی کا عہد ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درد بھرے الفاظ ہم سن چکے ہیں یہ کیسا عظیم عہد ہے۔ اگر ہر وقف نَو لڑکا اور لڑکی اپنے اس عہد کو وفا کے ساتھ پورا کرنے والا ہو تو ہم دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔ بعض نوجوان جوڑے میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بھی وقف نَو ہوں ،میری بیوی بھی وقف نَو ہے، میرا بچہ بھی وقف ہے۔ یا ماں کہے گی کہ میں وقف نَو ہوں، باپ کہے گا میں وقف نَو ہوں اور میرا بچہ وقف نَو ہے تو یہ بڑی قابل تعریف بات ہے ۔لیکن اس کا حقیقی فائدہ تو جماعت کو تبھی ہو گا جب وفا کے ساتھ اپنے وقف کے عہد کو پورا کریں گے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28؍اکتوبر 2016ء بمطابق 28؍اخاء 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الاسلام ، ٹورانٹو، کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 23 جون 2020ء