• 2 اکتوبر, 2020

ایڈیٹر کی ڈاک

تاثرات… تجاویز …آراء

الفضل آن لائن کی سہولت ہمارے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔۔اس میں مجھے ان عنوانات پر لکھے گئے مضامین پڑھنے کا موقع ملا ہے جو کہ زیادہ تر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں۔۔

آج بروز 11 جون کے الفضل کا یہ مضمون «کچھ دن پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارہ گزرا تھا « نہایت ہی خوبصورت اور دلچسپ مضمون لگا۔۔۔اس کو پڑھ کر واقعی دل للچایا کہ ہمیں بھی پہلے وقتوں کی طرح کی عید منانے کا موقع مل سکے۔۔ان تمام مناظر کو سوچنا ہی اس قدر خوبصورت اور حقیقی تھا کہ گویا عید کا جشن ہمارے سامنے ہی منایا جا رہا ہو۔۔

میں الفضل کی نہایت شکر گزار ہوں کہ اسکے ذریعے ہمیں اپنے بڑوں کے گزارے گئے خوبصورت ماضی اور تہواروں کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔۔

(امتہ الحئ)

امید ہے بفضل تعالیٰ خیریت سے اور ہمہ تن خدمت دینیہ میں مصروف ہونگے اللہ کرے ایسا ہی ہو۔

آپ کی اخبار کا کچھ ماہ سے باقاعدگی کے ساتھ مطالعہ کا موقع مل رہا ہے.

اللہ تعالی آپ کی اس کاوش کو مزید بڑھائے اور ساری ٹیم کو بہترین جزاء عطا کرے۔ آمین

(وسیم احمد جنجوعہ۔ ہائیڈل برگ جرمنی)

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپکی کاوشوں کورنگ لائے۔الفضل اخبار کے ذریعہ سے جہاں احباب جماعت کی علمی، تربیتی اور تبلیغی رجحانات کو تقویت ملتی ہے وہاں ادبی پیاس بھی بجھتی ہے۔ خاکسار ایک مختصر مضمون کے بارہ میں اپنے احساسات کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔

محترمہ صفیہ بشیر سامی صاحبہ نے ’’لاک ڈاؤن میں میری عید اور عیدی‘‘ میں عید اور عیدی کا سماں جو باندھا سو باندھا پر جو جماعت احمدیہ کے ایک حسن کا جوبیان کیا تو آنکھیں بھر آئیں۔ یقینا محترمہ نے ان گنت احمدی احباب و خواتین کے تجربات کو زبان دی جو اظہار کرتے نہیں یا کر نہیں سکتے۔ فجزاہا اللہ خیرا۔

(نصیر احمد شاہد۔ مربی سلسلہ فرانس)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 23 جون 2020ء