• 30 ستمبر, 2020

جماعت احمدیہ کا قیام اور تحریک جدید

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہےکہ ‘‘اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیاہے)جو ابھی ان سے نہیں ملے۔وہ کامل غلبہ والا(اور) صاحب حکمت ہے‘‘

(سورة جمعہ آیت 4)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے مصداق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو اس زمانے کے امام اور مہدی کے طور پر مبعوث فرمایا تا توحید کا بول بالا ہو اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور قرآن کریم کی صداقت دنیا پر روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے۔الٰہی منشا ء کے مطابق آپ نے 23مارچ 1889ء (بمطابق20رجب 1310ھ)کو حضرت صوفی احمد جان صاحب کے مکان واقع لدھیانہ میں چالیس افراد سے بیعت لے کر جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔اسی وجہ سے ہر سال 23مارچ کو جماعت احمدیہ میں یوم مسیح موعود منایا جانا رائج ہے۔

بیعت کی غرض بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔ ‘‘اس جماعت میں داخل ہو کر اوّل زندگی میں تغیر کرنا چاہیے کہ خدا پر ایمان سچا ہو اور ہر مصیبت میں کام آئے۔پھر اس کےا حکام کونظر خفت سے نہ دیکھا جائے بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جائے۔اور عملاً تعظیم کا ثبوت دیا جائے۔‘‘

(مطبوعہ الفضل 2007)

فرمایا؛۔’’جو ہمارا مرید الٰہی محبت کی آگ سےجلتا ہو گااور خدا کو حقیقی طور پر پا لینے کی خواہش کمال درجہ پر اس کے سینہ میں شعلہ زن ہو گی اسی پر بیعت کالفظ حقیقی طور صادق آوے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم ص)

سو اس زمانے میں دین کی سچائی کو اکناف عالم میں پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس بطل جلیل اور جری اللہ کوکھڑا کیا جس نے سیف کا کام ،قلم سے لیا اور دین کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا ایسا کرشمہ دکھایا کہ ہر مخالف کے پرخچے اڑا دیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم آسمان کی رفعتوں پر بلند سے بلند تر ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسی عظیم الشان کام کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعد خلافت کا بابرکت نظام جاری فرمایا ۔اور خلافت کے ذریعے تکمیل اشاعت دین کے لئے تحریک جدید جیسے اسباب مہیا فرمائے ۔تحریک جدید براہ راست خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک تھی ۔جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے قلب مبارک پر ایسے رنگ میں یکا یک القاء ہوئی کہ دنیا کی روحانی فتح کی سب منزلیں اپنی بہت سی تفصیلات کے ساتھ حضور کے سامنے آگئیں اور مستقبل میں فتوحات کے طریق کا نقشہ اور سکیم آپ پر عیاں ہو گئیں۔ آپ فرماتے ہیں:۔ ‘‘جب میں نے اس کے متعلق ارداہ کیا تو میں خود نہ جانتا تھا کہ کیا کیا لکھوں گا۔مگر جوں جوں میں نوٹ لکھتا جاتا خدا تعالیٰ وہ طریق اور وہ ذرائع سمجھاتا جاتا تھا جن سے احمدیت مضبوط ہو سکتی تھ

(تقریر غیر مطبوعہ 27 دسمبر 1946، تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 4)

’’میں سمجھتا ہوں میری زندگی میں بھی یہ ایسا ہی واقعہ تھاجبکہ روح القدس میرے دل پر اترا اور وہ میرے دماغ پر ایسا حاوی ہو گیا کہ مجھے یوں محسوس ہوا گویا اس نے مجھے ڈھانک لیا ہے اور ایک نئی سکیم ایک دنیا میں تغیر پیدا کر دینے والی سکیم میرے دل پر نازل کر دی اور میں دیکھتا ہوں کہ میری تحریک جدید کے اعلان سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔قرآنی نکتے مجھ پر پہلے بھی کھلتے تھےاور اب بھی کھلتے ہیں ۔مگر پہلے کوئی معین سکیم میرے سامنے نہیں تھی جس کے قدم قدم کے نتیجہ سے میں واقف ہوں ۔۔۔دشمنوں کی بہت سی تدبیریں میرے سامنے بےنقاب ہیں ۔ان کی کوششوں کا مجھے علم ہے ۔اور یہ تمام امور ایک وسیع تفصیل کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔۔۔۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 8صفحہ 5،6،الفضل 7 اپریل 1939صفحہ 7 کالم 2)

تحریک جدید میں تمام افراد جماعت کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا:۔ ’’گو اس تحریک میں شامل ہونا اختیاری ہو گا۔مگر جو شخص شامل ہونے کی اہلیت رکھنے کے باوجود اس خیال کے ماتحت شامل نہیں ہو گا کہ خلیفہ نے شمولیت کو اختیاری قرار دیا ہے وہ مرنے سے پہلے اس دنیا میں یا مرنے کے بعد اگلے جہاں میں پکڑا جائے گا۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو اپنے اندر ایمان کا ایک ذرہ بھی رکھتا ہے ۔وہ میری اس تحریک پر آگے آجائے گا۔اور وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے نمائندہ کی آواز پر کان نہیں دھرتا ۔اس کا ایمان کھویاجا ئے گا۔‘‘

فرمایا: ’’یہ تحریک کسی خاص گروہ سے مختص نہیں ۔بلکہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اس میں حصہ لے ۔جو احمدی اس تحریک میں حصہ نہیں لے گا۔ ،ہم اسے احمدیت اور اسلام میں کمزور سمجھیں گے ۔کیونکہ جس شخص کے دل میں یہ خواہش نہیں کہ )دین(کی خدمت اور احمدیت کی اشاعت کے لئے کچھ خرچ کرے، اس کا۔۔۔احمدیت کا قبول کرنا محض بیکار ہے‘‘۔ فرمایا:۔ ’’میں نے اس چندہ کو لازمی کر دیا ہے۔جماعت کے ہر مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ اس میں حصہ لے۔‘‘

ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں:۔
’’علاوہ آمد پرچندے کے اور وصیت وغیرہ کے مختلف تحریکات بھی ہوتی رہتی ہیں ان میں سے ایک مستقل تحریک ،تحریک جدید کی بھی ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے کی تھی ۔جب حضرت خلیفتہ الثانی نور اللہ مرقدہ نے یہ تحریک کی اس کا بہت بڑا مقصد ہندوستان سے باہر دنیا میں تبلیغ اسلام تھا ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بہترین نتائج نکلے اور آج احمدیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 193 (اس وقت213) ممالک میں یاتو اچھی طرح قائم ہو چکی ہے یا ایسے پودے لگے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی صحت کے ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں۔‘‘

(مطبوعہ الفضل 27نومبرتا 13دسمبر2009)

حضرت مسیح علیہ السلام عصر حاضر میں تکمیل اشاعت دین کے لئے تشریف لائے۔ اسی مقصد کے لئے جماعت کی بنیاد آج سے ایک سو تیس برس قبل رکھی۔ اسی مقصدکے لئے خلافت کے زیر سایہ نظام جماعت اور افراد جماعت کوشاں ہیں ۔دنیا چاہے کچھ کہے ،تکفیر کے فتوے لگائے ۔مگر ہم سب جب تک دم میں دم ہے اسی مقصد کےلئے کوشاں رہیں گے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا :۔

بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اشاعت دین کے لئے تحریک جدید کی مالی قربانی میں بھی تاحد استطاعت بڑھ چڑھ کرحصہ لینےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 23 جون 2020ء