• 7 اگست, 2020

مشرکوں کے بتوں کوگالی مت دو

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریقِ ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ لَا تَسُبُّوا الَّذِینَ یَدعُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدوًا بِغَیرِ عِلمٍ(الانعام:109) یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے کیونکہ وہ اس خدا کو جانتے نہیں۔ اب دیکھو کہ باوجود یکہ خدا کی تعلیم کی رو سے بُت کچھ چیز نہیں ہیں مگر پھر خدا مسلمانوں کو یہ اخلاق سکھلاتا ہے کہ بتوں کی بد گوئی سے بھی اپنی زبان بند رکھو اور صرف نرمی سے سمجھاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مشتعل ہو کر خدا کو گالیاں نکالیں اور ان گالیوں کے تم باعث ٹھہر جاؤ‘‘

(پیغام صلح۔ روحانی خزائن جلد 23صفحہ461-460)

تو یہ ہے معاشرے میں، دنیا میں امن و سلامتی قائم رکھنے کے لئے اسلام کا حکم۔ ہر گند کا جواب گند سے دینا اپنے اوپر گند ڈالنے والی بات ہے۔ مخالف اگر کوئی بات کہتا ہے اور تم جواب میں اُن کو اُن کے بتوں کے حوالے سے جواب دیتے ہو تو وہ جواب میں خداتعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ انتہائی مثال دے کر مسلمانوں کو سمجھا دیا کہ جب بھی بات کرو تمہارے کلام میں حکمت کا پہلو ہونا چاہئے۔ یہ بھی نہیں کہ بزدلی دکھاؤ اور مداہنت کا اظہار کرو۔ لیکن مَوعِظَۃُ الحَسَنَہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھو۔ اس حکم کو ہمیشہ سامنے رکھو۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا یہ ایک انتہائی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سمجھا دیا کہ تمہارے غلط ردّ عمل سے غیر مسلم خدا تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور ایک مسلمان کو خدا کی غیرت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔ پھر تمہیں تکلیف ہو گی اور اپنے غلط الفاظ کے استعمال کی وجہ سے خدا کو گالیاں نکلوانے کے پھر تم ذمہ دار ہو گے۔ اسی طرح دوسروں کے بزرگوں کو، بڑوں کو، لیڈروں کو جب تم برا بھلا کہو گے تو وہ بھی اس طرح بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لئے حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے باپوں کو گالیاں مت دو۔ تو کسی نے سوال کیا کہ ماں باپ کو کون گالیاں نکالتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا جب تم کسی کے باپ کو برا بھلا کہو گے تو وہ تمہارے باپ کو گالی نکالے گا اور یہ اسی طرح ہے جس طرح تم نے خود اپنے باپ کو گالی نکالی۔ تو یہ سلامتی پھیلانے کے لئے اسلامی تعلیم ہے کہ شرک جو خداتعالیٰ کو انتہائی ناپسندیدہ ہے جس کی سزابھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں معاف نہیں کروں گا ان شرک کرنے والوں کے متعلق بھی فرمایا کہ ان سے اخلاق کے دائرہ میں رہ کربات کرو۔ تمہارے لئے یہی حکم ہے کہ تمہارے اخلاق ایسے ہونے چاہئیں جو ایک مسلمان کی صحیح تصویر پیش کرتے ہیں۔

پس آج مسلمان کا کام ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کا پرچار کرے۔ باقی رہا یہ کہ جو اسلام پر استہزاء کرنے سے باز نہیں آتے ان سے کس طرح نپٹا جائے۔ اس بارہ میں خداتعالیٰ نے بتا دیا کہ ایسے لوگوں کی بدقسمتی نے ان کے فعل ان کو خوبصورت کرکے دکھائے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھی باتیں کررہے ہیں اور ان لوگوں نے آخر پھر اس زندگی کے بعد خداتعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور جب وہ خداتعالیٰ کی طرف لوٹ کرجائیں گے تو خداتعالیٰ انہیں آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ پھر ان سے وہ سلوک کرے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلقِیَا فِی جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍعَنِیدٍ۔ مَنَّاعٍ لِّلخَیرِ مُعتَدٍ مُّرِیبٍ۔ الَّذِی جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ فَاَلقِیٰہُ فِی العَذَابِ الشَّدِیدِ (ق:26-25) یعنی اے نگرانو! اور اے گروہو!! تم دونوں سخت ناشکری کرنے والے اور حق کے سخت معاند کوجہنم میں جھونک دو۔ہر اچھی بات سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے اور شک میں مبتلا کرنے والے کو۔ وہ جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا کوئی معبود بنا رکھا تھا۔ پس تم دونوں اسے سخت عذاب میں جھونک دو۔

تو یہ اللہ تعالیٰ ان داروغوں کو فرمائے گا۔ اگلے جہان میں ان سے یہ سلوک فرمائے گا۔ جس کام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہواہے اس بارے میں ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 22جون 2007ء) (الفضل انٹرنیشنل 13/جولائی تا19/جولائی 2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 23 جولائی 2020ء