• 7 اگست, 2020

یادِ رفتگاں ۔مکرم قریشی افتخار احمد

داد و ستد کے کھرے،تقویٰ کی راہوں پہ چلے،نیکیوں میں آگے بڑھے،وقف کی روح کو سمجھے اور خلافت سے اخلاص و وفا کا مضبوط رشتہ استوار کئے مکرم قریشی صاحب 3 جون 2020 ءکو بقضائے الہی بعمر 99 سال اس دار فانی سے کوچ کرکے آسودگان خاک بہشتی مقبرہ قدیم ربوہ میں جا ملے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ پیشہ کے لحاظ سے سول انجینئر تھے۔ محکمہ انہار پنجاب میں خدمات سرانجام دیں۔ ترقی کرتے کرتے چیف انجینئر کے عہدہ تک پہنچے۔ قائم مقام سیکرٹری بھی رہے۔ انڈس واٹر کمیشن کے ممبر بھی تھے۔ بھارت کے ساتھ مذکرات میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرتے رہے۔آپ کا سروس ریکارڈ نہایت درجہ مثالی رہا۔ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی وقف کی آپ کاوکیل المال ثالث کےطورپر تقرر ہوا۔نائب صدر بھی رہے۔ وقف کی روح زندگی کا زیوررہی۔ان کے پوتے مکرم حلیم احمد صاحب کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آپکے ہاں قیام تھا۔اسدن بھی آپ وقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے دفتر تشریف لے گئے تھے۔ آپ کے زیر استعمال ہمیشہ سائیکل رہی۔دفتر آنا جانا اسی پر تھا۔ درویشانہ طرز زندگی وطیرہ رہا۔

دوران سروس قاعدہ قانون کے سختی سے پابند رہے۔جائز کام کرنے میں دیر نہ کرتے اور ناجائز کام میں کسی دباؤ اور شخصیت کو خاطر میں نہ لاتے ۔ایک دفعہ ربوہ سے کسی نے ایک سائل کی درخواست پر سفارشی رقعہ دیا۔قانون میں گنجائش نہ تھی۔سفارش رد کردی۔کسی نے کہا۔قریشی صاحب! دیکھیں کس صاحب کی سفارش ہے؟ کہا۔میں نے اپنی قبر میں جانا ہے اس نے اپنی قبر میں۔دیانت داری اور تقویٰ شعاری کا یہ عالم تھا کہ قریبی رشتہ داری بھی انکے پائے استقلال کو متزلزل نہ کر پاتی تاکہ اس کے کام پہ کوئی شک کا شائبہ تک بھی نہ پڑے۔آپ کے بہنوئی صاحب ہی یہ واقعہ بتاتے ہیں کہ محکمہ انہار میں کچھ اسامیاں نکلیں۔جن کا انٹرویو آپ نے کرنا تھا۔ایک میرے بھانجا نے بھی اپلائی کیا ہوا تھا۔رات کو اس کا قیام بھی قریشی صاحب کے ہاں تھا۔تاکہ قریشی صاحب انٹرویو میں کامیاب قرار دیں۔اگلے دن جب انٹرویو کا سلسلہ شروع ہوا اور جب عزیزم کی باری آئی تو آپ یہ کہہ کر دفترسے اٹھ گئے کہ یہ میرا رشتہ دار ہے۔اس کا انٹرویو آپ لوگ کریں۔

آپ نستعلیق شخصیت کے مالک تھے۔ دقیقہ شناس تھے۔ کشادہ پیشانی سے ملتے۔ خوش مزاح بھی تھے۔ صاف ستھرا لباس زیب تن ہوتا۔عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔پاکیزہ زبان تھی اور بے ریا بیان تھا۔خلیق اور اہل دل انسان تھے ۔غم زندگی لازمہ بشریت ہے ۔حضرت منشی فیاض علی کپورتھلوی صحابی حضرت مسیح موعودؑ کی پوتی محترمہ سکندر بیگم صاحبہ آپ کے عقد میں تھیں۔واقفیں حال بیان کرتے ہیں کہ یہ ایک مثالی جوڑا تھا۔وہ آپ کی زندگی میں وفات پا گئیں۔اس صدمہ مفارقت کو صبر و حوصلہ سے دل پہ لیا۔ ایک جواں سال بیٹے کی مرگ پر بھی صبر کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔رضا بقضا پر راضی رہے۔المختصر کہ آپ گونا گوں خوبیوں اور اوصاف کے حامل انسان تھے۔اللہ تعالیٰ مغفرت کاملہ کا سلوک فرماتے ہوئے مرحوم کو اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔

٭…٭…٭

(محمد اشرف کاہلوں)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 23 جولائی 2020ء