• 5 اگست, 2020

حضرت حامد حسین خان صاحب میرٹھی رضی اللہ عنہ

حضرت حامد حسین خان صاحب رضی اللہ عنہ ولد مکرم محمد حسین خان صاحب قوم پٹھان یوسف زئی اصل میں مراد آباد (یو۔ پی) بھارت کے رہنے والے تھے، علی گڑھ سے تعلیم پائی اور میرٹھ میں ملازمت اختیار کی اور زندگی کا بڑا حصہ میرٹھ میں گزارنے کی وجہ سے میرٹھی کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے۔ آپ کے نواسے مکرم نسیم احمد خان صاحب ٹورانٹو بیان کرتے ہیں:

’’آپ چونکہ اپنے وطن سے آنے کے بعد میرٹھ میں آباد ہوئے تھے اور اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد تک میرٹھ میں رہے اور پھر کچھ عرصہ بعد قادیان شفٹ ہوگئے تھے اس لئے ان کے نام کے آگے میرٹھی لکھا جاتا ہے حالانکہ آپ صوبہ سرحد میں مردان کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام زیدہ، وہاں کی پیدائش ہے (حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب نے آپ کا تعلق مراد آباد سے لکھا ہے۔ ناقل) اور آپ یوسف زئی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور pure پٹھان تھے۔ آپ تین بھائی تھے، بڑے بھائی مقصود حسین خان جو حیدرآباد دکن میں آباد ہوگئے تھے، نواب حیدرآباد دکن کے خاص حکیم تھے، وہ احمدی نہیں تھے۔ دوسرے نمبر پر حضرت حامد حسین خان صاحبؓ تھے۔ آپ سے چھوٹے ایک زاہد حسین خان صاحب تھے جو آپ کی میرٹھ سے ہجرت تک آپ ہی کے پاس رہے، وہ بھی احمدی نہیں تھے۔‘‘

آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سفر دہلی 1905ء کے موقع پر بیعت کی، اخبار بدر حضرت اقدس علیہ السلام کے اس سفر کی روداد میں لکھتا ہے:

’’28؍اکتوبر 1905ء۔ صبح اور پھر بعد ظہر عصر تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے تقریریں کیں، قریب دس کے نئے آدمی بیعت میں شامل ہوئے جن میں سے بعض کے نام مفصلہ ذیل ہیں…. حامد حسین خان صاحب منصرم میرٹھ‘‘

(بدر 3 نومبر 1905ء صفحہ 4کالم 2)

آپ اپنی قبول احمدیت کی داستان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’میں 1902ء میں علی گڑھ کالج سے آکر میرٹھ میں ملازم ہوا، ملازمت کے کچھ عرصہ بعد مکرمی خان ذوالفقار علی خان صاحب بر سبیل تبادلہ بعہدہ انسپکٹر آبکاری میرٹھ میں تشریف لائے۔ آپ چونکہ احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی بیعت کر چکے تھے لہذا آپ کے گھر پر دینی ذکر اذکار ہونے لگا اور شیخ عبدالرشید صاحب زمیندار ساکن محلہ رنگساز صدر بازار میرٹھ کیمپ اور مولوی عبدالرحیم صاحب وغیرہ خان صاحب موصوف کے گھر پر آنے جانے لگے۔ خان صاحب موصوف سے چونکہ مجھے بوجہ علی گڑھ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے،محبت تھی اس لئے میری نشست و برخواست بھی ان کے گھر پر ہونے لگی اور میں نے بھی حضرت اقدس کی کتابیں دیکھنے کا شوق ظاہر کیا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی چھوٹی چھوٹی تصانیف خان صاحب موصوف نے مجھے دیں جو میں نے پڑھیں۔ غالبًا سب سے پہلے میں نے برکات الدعا پڑھی، اس کے بعد ’’عسل مصفیٰ‘‘ مجھ کو دی گئی، وہ میں نے دیکھنا شروع ہی کی تھی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی، خان صاحب کے ہاں تشریف لائے، وہ ایک مناظرہ کے سلسلہ میں آئے تھے۔ اس وقت ایک ہی مسئلہ زیر بحث تھا اور وہ وفات مسیح کا مسئلہ تھا۔ مناظرہ وغیرہ تو میرٹھ کے شریر اور فسادی لوگوں کے باعث نہ ہوا لیکن مولوی صاحب نے وفاتِ مسیح کے متعلق تقریر کی جو میں نے سنی۔ میرٹھ کی پبلک سے جوجھگڑا مناظرہ کے متعلق ہوا اس کے حالات ایک رسالہ کی صورت میں شائع کیے گئے، اس میں میرا بھی نام ہے۔

اس کے بعد مجھ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام سے ملنے کا اشتیاق ہوگیا اور میں نے خان صاحب سے عرض کیا کہ اگر حضرت اقدس میرٹھ کے قرب و جوار میں تشریف لائیں تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیں، ایسے عظیم المرتبت شخص کو نہ دیکھنا بڑی بد نصیبی ہے۔ اس وقت مجھے بیعت کرنے کا خیال نہ تھا۔ اس کے بعد ایک دن خان صاحب موصوف نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام دہلی تشریف لا رہے ہیں، کیا آپ زیارت کے لیے چلیں گے؟ میں نے آمادگی ظاہر کی۔ حضرت اقدس جب دہلی تشریف لائے تو خان صاحب موصوف نے مجھ سے چلنے کے لئے ارشاد فرمایا چنانچہ میں اُن کے ہمراہ دہلی روانہ ہوگیا۔ دہلی میں حضرت اقدس کا قیام الف خان والی حویلی میں جو محلہ چتلی قبر میں واقع ہے، تھا۔ میں اور خان صاحب بذریعہ ریل دہلی پہنچے اس وقت غالبًا 12 یا ایک بجے کا وقت تھا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے مکان کے اوپر کے حصہ میں تشریف رکھتے تھے اور نیچے اور دوست ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکان میں داخل ہوتے ہوئے میری نظر مولوی محمد احسن صاحب پر پڑی چونکہ اُن سے تعارف میرٹھ کے قیام کے وقت سے ہو چکا تھا، میں اُن کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا، تھوڑی دیر میں غالبًا خان صاحب نے جو اس برآمدہ میں بیٹھے ہوئے تھے جس کے اوپر کے حصہ میں حضرت اقدس کا قیام تھا مجھ کو اپنے پاس بُلوا لیا، میں ایک چارپائی پر پائنیتی کی طرف بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔ جہاں میں بیٹھا تھا اُس کے قریب ہی زینہ تھا جس کے ذریعہ حضرت اقدس اوپر تشریف لے جاتے تھے، اس طرف میری پشت تھی تھوڑی دیر کے بعد حضرت اقدس نیچے تشریف لائے، میری چونکہ سیڑھیوں کی طرف پشت تھی، میں نے حضرت اقدس کو اوپر سے نیچے تشریف لاتے ہوئے نہ دیکھا۔ حضور آہستگی سے اُتر آئے اور میرے برابر ہی چارپائی کی پائنیتی پر بیٹھ گئے جب حضور بیٹھ چکے تو کسی نے مجھے بتلایا کہ حضرت صاحب تشریف لے آئے، اُس وقت میں نے گھبرا کر اٹھنا چاہا مگر حضور نے ارشاد فرمایا کہ یہاں ہی بیٹھے رہیں (یہ یاد نہیں کہ حضور نے مجھ کو بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا یا صرف زبان سے ارشاد فرمایا) حضرت اقدس کے تشریف لانے کی تمام دوستوں کو جو مکان کے مختلف حصوں میں قیام پذیر تھے اطلاع ہوگئی اور مکان میں ایک ہلچل مچ گئی، اس قدر یاد ہے کہ غالبًا خان صاحب نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ میرٹھ سے آئے ہیں، اتنے میں خواجہ صاحب آئے، اُن کے ہمراہ کوئی اور صاحب بھی تھے۔ میں نہ خواجہ صاحب سے واقف نہ کسی اور دوست سے، حضرت اقدس نے خواجہ صاحب سے مولوی نذیر احمد صاحب کے متعلق کوئی سوال کیا جو مجھے یاد نہیں، نہ یہ یاد ہے کہ خواجہ صاحب نے کیا جواب دیا۔ بہر حال خواجہ صاحب دن بھر کے حالات سناتے رہے، تھوڑی دیر کے بعد کسی نے وہیں اذان دی، چبوترہ پر فرش بچھایا گیا اور نماز ظہر و عصر پڑھی گئی، میں نے بھی نماز جماعت سے پڑھی، صحیح یاد نہیں کہ کس نے نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہوکر حضور نے بیعت کے متعلق ارشاد فرمایا۔ اس پر کسی نے زور سے کہا کہ جو دوست بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ آگے آ جائیں چنانچہ بہت سے دوست آگے ہوئے اور میں سب سے پیچھے رہ گیا۔ حضور نے بیعت شروع کرنے سے قبل ارشاد فرمایا کہ جو دوست مجھ تک نہیں پہنچ سکتے وہ بیعت کرنے والوں کی کمر پر ہاتھ رکھ کر جو میں کہوں وہ الفاظ دُہراتے جائیں، مَیں اس وقت بھی خاموش الگ سب سے پیچھے بیٹھا رہا اور ہاتھ بیعت کرنے والوں کی کمر پر نہ رکھا۔ جب حضرت اقدس نے بیعت شروع کی تو میرا ہاتھ بغیر میرے ارادے کے آگے بڑھا اور جو صاحب میرے آگے بیٹھے ہوئے بیعت کے الفاظ دوہراتے رہے تھے، ان کی کمر پر پہنچ گیا۔ مجھ کو خوب یاد ہے کہ میرا ہاتھ میرے ارادے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ خود بخود آگے بڑھ گیا اور پھر میں نے بھی الفاظ بیعت دوہرانے شروع کر دیے۔ جب حضرت اقدس نے رَبّ اِنّی ظَلَمْتُ نَفْسی … فرمایا تو سب نے اس کو دوہرایا، میں نے بھی دوہرایا لیکن جب حضرت اقدس نے اس کے معنی اردو میں فرمانے شروع کیے اور بیعت کنندوں کو دوہرانے کا ارشاد فرمایا اور میں نے وہ الفاظ دوہرائے تو اپنے گناہوں کو یاد کر کے سخت رقت طاری ہوگئی یہاں تک کہ اس قدر زور سے چیخ کر رونے لگا کہ سب حیران ہوگئے، مَیں روتے روتے بے ہوش ہوگیا مجھ کو خبر نہ رہی کہ کیا ہو رہا ہے۔ حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ پانی لاؤ، وہ لایا گیا اور حضور نے اس پر کچھ پڑھ کر میرے اوپر چھڑکا (یہ مجھ کو بعد میں خان صاحب سے معلوم ہوا) حالت بے ہوشی میں مَیں نے دیکھا کہ مختلف رنگوں کے نور کے ستون آسمان سے زمین تک ہیں۔ اس کے بعد کسی دوست نے مجھے زمین سے اٹھایا، میں بیٹھ گیا مگر میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔ اس قدر حالت متغیر ہوگئی تھی کہ میرٹھ میں آکر بھی بار بار روتا تھا۔ پھر خان صاحب موصوف نے میرے نام بدر اور ریویو جاری کرا دیا، بدر میں حضرت اقدس کی وحی مقدس شائع ہوتی تھی اس سے بہت محبت ہو گئی اور ہر وقت جی چاہتا تھاکہ تازہ وحی سب سے پہلے مجھ کو معلوم ہو پھر جلسہ پر دار الامان آنے لگا اور برابر آتا رہا، حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے بھی خط لکھتا رہتا، ایک خط کا جواب حضرت اقدس نے اپنے دست مبارک سے دیا، وہ میرے پاس موجود تھا لیکن جب میرٹھ سے پنشن کے بعد دارالامان میں ہجرت کی تو کہیں کاغذات میں مخلوط ہوگیا یا ضائع ہوگیا۔

1907ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر میں قادیان حاضر ہوا، غالبًا صبح کی نماز کے لئے یا نماز کے بعد مسجد مبارک میں زینہ کے اوپر چڑھ رہا تھا اور حکیم عبدالصمد صاحب ساکن انچولی ضلع میرٹھ میرے ہمراہ تھے، ناگاہ حضرت اقدس نے اس دروازہ میں سے جو مسجد مبارک میں ہے جس میں سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد مبارک میں تشریف لاتے ہیں، آواز دی کہ مفتی صاحب کو بلاؤ! اس وقت اور بہت سے دوست زینہ پر موجود تھے، کسی نے عرض کیا کہ حضور مفتی صاحب آتے ہیں، تھوڑی دیر کے بعد مفتی محمد صادق صاحب تشریف لے آئے۔ چونکہ زینہ میں بہت سے دوست جمع ہوگئے تھے اور اس خیال سے بھی کہ حضور کا ارشاد سنیں کہ مفتی صاحب کو کیا حکم ہوتا ہے، بڑی تنگی تھی، بڑی مشکل سے مفتی صاحب کے لئے جگہ کی گئی اور مفتی صاحب دروازہ کے قریب پہنچ گئے اُس وقت حضورؑ نے ارشاد فرمایا کہ ہم کو آج شب یہ الہام ہوا ہے یَا نَبِی اَطْعِمِ الْجَائِعَ وَ الْمُعْتَر اور ساتھ ہی فرمایا کہ جاکر دیکھیں کہ کچھ مہمان بھوکے تو نہیں رہے۔ مفتی صاحب پنسل کاغذ ہمراہ لے گئے تھے، انھوں نے اوّل وحی الٰہی کو نوٹ کیا اس کے بعد مہمان خانہ میں پہنچے، دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ رات بعض دوست جو دیر سے آئے تھے بھوکے رہ گئے اور کھانا نہ مل سکا۔ مفتی صاحب نے واپس آکر حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور رپورٹ عرض کی۔ پھر ہم چلے آئے۔

ایک مرتبہ میں جلسہ پر آیا ہوا تھا اور حضورؑ سیر کو تشریف لے جانے لگے تو مجھ کو کسی دوست نے بتلایا کہ حضورؑ سیر کو تشریف لے جا رہے ہیں، میں بھی ہمراہ ہوگیا، بہت سے دوست ہمراہ تھے حضور کے گرد حلقہ باندھے جا رہے تھے، مجھ کو مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے اس حلقہ کے اندر لے لیا اور میں حضور کے کلمات مبارک سنتا ہوا ہمراہ رہا۔ جہاں تک مجھ کو یاد ہے حضور اس دن ریتی چھلہ کی طرف سیر کو تشریف لے گئے تھے وہاں جاکر کسی دوست نے کچھ اشعار بھی سنائے، مسجد اقصیٰ میں بھی میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی تقریر سنی تھی اور کچھ کلمات مبارک نوٹ بھی کیے تھے…..‘‘

(الفضل 17جون 1941ء صفحہ 3,4)

ایک مرتبہ ایک معاند نیاز احمد میرٹھی کا مضمون ’’پیری مریدی‘‘ رسالہ ’’عصر جدید‘‘ نومبر و دسمبر 1905ء میں شائع ہوا جس میں اُس نے جھوٹ اور افترا کرتے ہوئے یہ لکھا کہ مرزا صاحب اپنے ’’معتقدوں کو کوئی خاص راستہ نہیں بتاتے…. اور نہ کسی مرید سے اس کے بیجا افعال کی باز پُرس کرتے ہیں اور پھر اُس کو اپنے زمرہ سے خارج کرتے ہیں…‘‘ جس کے جواب میں حضرت خان ذوالفقار علی خان گوہر صاحبؓ نے اخبار بدر میں ایک مضمون لکھا جس میں آپ کی مثال دیتے ہوئے لکھا:۔

’’….پھر آپ کی دیوار کے بیچ حامد حسین خاں کلرک آبکاری ضلع میرٹھ رہتے ہیں….، آپ کے عزیز مرد اور عورت ان سے اور ان کے اہل و عیال سے ملتے رہتے ہیں، یہ نوعمر نو جوان 25 سال سے زیادہ عمر نہیں رکھتے، گزشتہ قیام دہلی میں حضرت میرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہوئے ہیں، ان کے پچھلے اعمال اور موجودہ حال دونوں سے آپ با خبر ہیں، ایک زمانہ ان کے انقلاب حال کا معترف اور ان کے تقویٰ سے متاثر ہوا ہے لیکن افسوس آپ کا دل ان نظاروں سے بھی نہ پسیجا۔ کیا آپ مہربانی فرما کر کسی میرٹھ والے احمدی کا بتا سکتے ہیں کہ ….. کم از کم صوم و صلوٰۃ کا پابند نہ ہوتا ہو یا کسی نہج سے اس کی یا اس کے گھر والوں کی بد چلنی خلقت پر ظاہر ہوئی ہو اور عدالت تک پہنچی ہو…..‘‘

(بدر 26 اپریل 1906ء صفحہ 7 کالم 1)

آپ ساری زندگی خلافت احمدیہ کے ساتھ نہایت اخلاص کے ساتھ وابستہ رہے۔ آپ نے یکم جنوری 1964ء کو کراچی میں وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 1270) ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے، آپ 3/1 حصہ کے موصی تھے۔

(الفضل 5جنوری 1964ء صفحہ 1,8)

آپ کی وفات پر حضرت محمد احمد مظہر صاحب (جو آپ کے داماد بھی تھے) نے آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھا:

…اپنی دیانت، حسن کارکردگی اور خلق اللہ کی ہمدردی کی وجہ سے بڑے نیک نام، کثیر الاحباب اور مرجع خاص و عام تھے۔ خوش پوش، خوش خور، اعلیٰ درجہ کے مہمان نواز، نماز تہجد کے ہمیشہ پورے پابند، حلیم الطبع، منکسر المزاج، گفتگو میں نرمی اور متانت، زبان پاکیزہ اور سلیس۔

خدا وندِ رائے و خداوندِ شرم سخنِ گفتنِ خوب و آوائے نرم

چہرہ سُرخ و سفید اور بہت دلکش، آپ سے ملنے والا آپ کی نیکی اور شرافت سے ضرور متأثر ہوتا۔ شکار کے شائق تھے اور بندوق چلانے میں ماہر اس وجہ سے عمر کے آخری تین سالوں کے سوا آپ کی جسمانی صحت بہت عمدہ رہی۔ پنشن پانے کے بعد آپ میرٹھ سے ہجرت کرکے قادیان آگئے اور ایک عرصہ تک بطور نائب ناظر دعوۃ و تبلیغ کام کرتے رہے۔ 1947ء میں تقسیم ملک کے بعد قادیان سے لاہور آئے اور پھر شہر دادو (سندھ) میں سکونت پذیر ہوئے اور وہاں سے نقل مکانی کر کے کراچی میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ …..

….قادیان سے ہجرت کر کے اکتوبر 1947ء میں میاں بھائی کی والدہ لاہور پہنچ کر 93 سال کی عمر میں فوت ہوگئیں، اس طرح تقریبًا 42سال تک میاں بھائی نے اپنی والدہ کی خدمت کی لیکن یہ خدمت کس قسم کی تھی، تمام کنبے پر والدہ حاکم اور مختار اور منصرم بیٹا ماں کے ہر حکم پر گوش برآواز اور چشم براہ۔ والدہ کے شدید سے شدید مطالبہ کو بخوشی پورا کرنا خاکسار نے مدتوں دیکھا، لَا تقل لّھما اُفٍّ کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے اور اس ارشاد مبارک کا یہ پہلو بھی سمجھنے کے قابل ہے کہ جس گھر میں بیٹا ماں کا فرمان بردار اور اطاعت گزار ہو، وہ گھر بجائے خود اطمینان اور راحت کی جنت بن جاتا ہے، میاں بھائی مرحوم کے گھر کی یہی حالت رہی اور ہر چھوٹا بڑا میاں بھائی کے نقش قدم پر چل کر دادی اماں کا مطیع رہا …..

(مضامین مظہر صفحہ 90-93 از محمد احمد مظہر صاحب۔ شائع کردہ مجلس انصار اللہ و خدام الاحمدیہ لائل پور 1972ء)

آپ کے نواسے مکرم نسیم احمد خان صاحب (تصویر بھی انھوں نے ہی مہیا کی ہے) آپ کے اہل و عیال کے تعارف میں لکھتے ہیں:۔

حضرت حامد حسین خان صاحب نے دو شادیاں کی تھیں، پہلی بیوی سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں، بڑے لڑکے کا نام محمود حسین خان اور دوسرے لڑکے کا نام یوسف حسین خان، دونوں لڑکے حیدرآباد دکن میں اپنے تایا مقصود حسین خان یار جنگ کے پاس مقیم رہے اور وہیں تعلیم پائی، تایا کے احمدی نہ ہونے کی وجہ سے یہ دونوں بیٹے بھی احمدی نہیں ہوئے۔ محمود حسین خان صاحب پاکستان آگئے تھے اور کراچی میں اکاؤنٹنٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ یوسف حسین خان صاحب پاکستان نہیں آئے ان کے بارے میں کچھ علم نہیں۔

پہلی بیوی سے آپ کی دو لڑکیاں محترمہ نور جہاں بیگم صاحبہ اور محترمہ شاہ جہاں بیگم صاحبہ تھیں۔وہ دونوں احمدی تھیں۔ محترمہ نور جہاں بیگم صاحبہ (اچھی بی) کی شادی حضرت محمد احمد مظہر صاحب کے ساتھ ہوئی ان کی تمام اولاد بفضلہ تعالیٰ احمدی ہے۔(ان کےنام حسب ذیل ہیں)

ناصر احمد ظفر کراچی، طاہر احمد ظفر مرحوم، حمید احمد ظفر لاہور، لطیف احمد ظفر اسلام آباد، اقبال احمد ظفر لائل پور، مظفر احمد ظفر صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع فیصل آباد۔ بیٹی کا نام محترمہ ناصرہ بیگم صاحبہ تھا۔

دوسری بیٹی محترمہ شاہ جہاں بیگم صاحبہ (شجن بی) کی شادی میرے والد جناب عبدالحلیم خان صاحب (ابن حضرت مولوی عبدالواحد خان میرٹھیؓ) سے ہوئی جو احمدی اور خلافت کے شیدائی تھے، آپ کی اولاد میں چار لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں:

مبارک احمد خان لندن، نسیم احمد خان (خاکسار) ٹورانٹو، شفیع احمد خان ٹورانٹو، خورشید احمد خان ٹورانٹو اور لڑکیوں کے نام :بلقیس جہاں بیگم مرحومہ، نیر جہاں بیگم ٹورانٹو، نصرت جہاں بیگم ٹورانٹو، طلعت جہاں بیگم کراچی اور فرحت جہاں بیگم دبئی۔

حضرت حامد حسین خان صاحب کی دوسری شادی حضرت میمونہ بیگم صاحبہ بنت حضرت سید انوار حسین خان صاحب رضی اللہ عنہ آف شاہ آباد ضلع ہردوئی کے ساتھ ہوئی جن سے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں: صادق حسین خان مرحوم، اصغر حسین خان ٹورانٹو، مسعود حسین خان لندن، خالد حسین خان امریکہ، راشد حسین خان امریکہ، رشیدہ بیگم امریکہ، سعیدہ بیگم ٹورانٹو، آمنہ بیگم ٹورنٹو، صفیہ بیگم ٹورانٹو، شاہدہ بیگم ٹورانٹو

٭…٭…٭

(غلام مصباح بلوچ۔ استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 23 جولائی 2020ء