• 12 اگست, 2020

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خدائی حفاظت کے حوالے سے ایک نظارہ کا بیان

حضورؑ نےفرمایا:
کل کا نظارہ دیکھ کر میں خوش ہوا۔ میرے مکان میں چاربلیاں رہتی ہیں، ایک والدہ ہے اور تین اس کی بیٹیاں وہ بھی جوان اور مضبوط ہیں۔ کل کی دوپہر کے وقت میں اکیلا ادھر کے دالان میں بیٹھا تھا کہ میرے دروازے کے آگے ایک چڑیا آ کر بیٹھ گئی ،فی الفور بڑی بلّی نے حملہ کیا اور اس چڑیا کا سر منہ میں پکڑ لیا۔پھر دوسری بلی آئی اس نے وہ چڑیا پہلی بلّی سے لے کر اپنے قبضہ میں کر لی اور اس کا سر منہ میں پکڑ لیا اور زمین پر ایسا رگڑا کہ میں وہ حالت مارے رحم کے دیکھ نہ سکا اور دوسری طرف میں نے منہ کرلیا اور پھر جو میں نے دیکھا تو تیسری بلی نے اس چڑیا کا سر اپنے منہ میں لیا اور اس وقت مجھے خیال آیا کہ غالباً سر کھایا گیا۔ اتنے میں چوتھی بلی نے اس چڑیا کو لیا اور زمین میں اسے رگڑا تب میں نے یقین کیا کہ چڑیا مر چکی اور سرکھالیا گیا اور رگڑنے میں کئی دفعہ چڑیا زمین پر گر پڑی پھر ایک بلی نے چاہا کہ اس چڑیا کے گوشت میں سےکچھ حصہ لے ۔اس نے اس چڑیا کو کھانے کے لئے اپنی طرف کھینچا شاید اس غرض سے کہ نصف پہلی بلی کے منہ میں رہے اور نصف آپ کھائے لیکن کسی سبب سے وہ چڑیا دونوں کے منہ سے نکل کر زمین پر جا پڑی اور گرتے ہی پُھر کر کے اڑ گئی ۔چاروں بلیاں پیچھے دوڑیں مگر پھر کیا ہوسکتا تھاوہ کسی درخت پر جا بیٹھی اور بلیاں خائب و خاسر واپس آئیں ۔اس واقعہ کو دیکھ کر میرے دل کو بہت جوش آیا کہ اس طرح خدا تعالیٰ دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑاتا ہے۔

(مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب آف مدراس،مکتوبات احمدیہ جلد دوم صفحہ 413۔412)

(مرسلہ: طاہر محمود مبشر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 23 جولائی 2020ء