• 18 اکتوبر, 2021

نظریہ جہاد میں دوسرے مسلمانوں کی تبدیلی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اب تو بعض علماء اور سکالر جن میں عرب بھی شامل ہیں، جہادی تنظیموں اور شدت پسندوں کے نظریہ جہاد کے خلاف کہنے لگ گئے ہیں۔ بلکہ جہاد کے بارے میں ہی کہنے لگ گئے ہیں کہ آجکل کا یہ جہاد جو ہے یہ غلط ہے۔ پس جن کو وہ اپنے بنیادی عقائد کہتے تھے، اُن نظریات میں تبدیلی، اُن عقائد میں تبدیلی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کے بعد آئی ہے اور ان میں جو پڑھے لکھے لوگ کہلاتے ہیں، جن کا دنیا سے واسطہ بھی ہے، رابطہ بھی ہے، وہ یہ کہنے لگ گئے ہیں، مثلاً جہاد وغیرہ کے بارے میں کہ یہ غلط ہے۔ یہ تبدیلی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے بعد اور آپ کی جہاد کی صحیح تعریف کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ چاہے وہ احمدیت کو مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت احمدیہ کے جہاں تک عقائد کا سوال ہے، اس کو غیروں میں سے بھی ایک بڑا طبقہ جو ہے وہ ماننے پر مجبور ہے۔ اب آ جا کے زیادہ بحث اس بات پر ٹھہر گئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام نبی کا ہے یا نہیں ہے؟ یہ بھی ان شاء اللہ تعالیٰ ایک دن طے ہو جائے گا۔ اسی طرح جو ہمارا عمومی مؤقف ہے، تعلیم ہے، عقائد ہیں اُس کو سمجھنا نہیں چاہتے اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اُن کے پاس دلیل بھی کوئی نہیں ہے۔ ہمارے عقائد کے تعلق میں بحث پر جب لاجواب ہو جاتے ہیں تو مار دھاڑ اور قتل و غارت پر آ جاتے ہیں اور یہی کچھ آجکل اکثر مسلمان فرقوں کی طرف سے احمدیت کے خلاف ہو رہا ہے اور خاص طور پر پاکستان میں یا بعض جگہ ہندوستان میں۔ اور یہ پھر اس بات کی دلیل ہے کہ اُن کے پاس ہمارے عقائد کو غلط ثابت کرنے کے لئے نہ ہی کوئی قرآنی دلیل ہے اور نہ ہی کوئی عقلی دلیل ہے۔ جب گھیرے جاتے ہیں، قابو میں آ جاتے ہیں تو ماردھاڑ پر اتر آتے ہیں۔ پس عقیدے کے لحاظ سے دلائل و براہین کی رو سے احمدی اُس مقام پر ہیں جہاں اُن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جو کم علم احمدی ہیں اُن کو بھی چاہئے کہ اپنے علم میں اس لحاظ سے پختگی پیدا کریں۔ آجکل تو ایم ٹی اے پر بعض پروگرام مثلاً راہِ ہدیٰ وغیرہ اسی لئے دئیے جا رہے ہیں کہ ان سے زیادہ سے زیادہ سیکھیں اور کسی قسم کے احساسِ کمزوری اور کمتری کا شکار نہ ہوں، اُس میں مبتلا نہ ہوں۔ بہر حال جماعت احمدیہ کی اکثریت بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہ ُ سب ہی اپنے عقیدے میں پختہ ہیں۔ اگر کوئی کمزور بھی ہے تو وہ یاد رکھے کہ جو عقیدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے، وہی حقیقی اسلام ہے اور غیروں میں اس کو کسی بھی دلیل کے ساتھ رَدّ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ پس چند ایک جو کمزور ہیں وہ بھی اپنے اندر مضبوطی پیدا کریں۔ کسی قسم کی کمزوری دکھانے کی ضرورت نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عقیدے اور علمی لحاظ سے ہمیں نہایت ٹھوس اور مدلّل لٹریچر عطا فرمایا ہے۔ اسی طرح عملی باتوں کی طرف بھی بہت زیادہ توجہ دلائی ہے۔

جہاں تک عقیدے اور علمی لٹریچر کا تعلق ہے جس کا اثر جیسا کہ مَیں نے کہا احمدی نہ ہونے کے باوجود بھی غیروں پر ہے لیکن صرف عقیدے کی اصلاح کافی نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اعمال کی اصلاح کے لئے بھی آئے تھے۔ جب تک ہمارے عمل کی بھی اصلاح نہ ہو اُس وقت تک عقیدے کی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ عمل ہی ہے جو پھرغیروں کو اس طرف مائل کرتا ہے کہ وہ جماعت میں بھی شامل ہوں، ہماری باتیں بھی سنیں، یا کم از کم خاموش رہیں۔ نیک عمل اور پاک تبدیلیاں ایک خاموش تبلیغ ہیں۔ بعض قریب آئے ہوئے اور بیعت کے لئے تیار صرف اس لئے دور ہو جاتے ہیں کہ کسی احمدی کا عمل اُن کے لئے ٹھوکر کا باعث بن گیا۔

پس اس زمانے میں جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے دُور ہو رہے ہیں، ہمیں اپنے عقیدے کے ساتھ اپنے اعمال کی حفاظت کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے اور شدت سے ضرورت ہے۔ عقیدے کے لحاظ سے تو ہم یقینا ًجنگ جیتے ہوئے ہیں لیکن اگر عقیدے کے مطابق عمل نہ ہوں اور جو تعلیم دی گئی ہے اُس کے مطابق نہ چلیں، اُس کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش نہ ہو تو آہستہ آہستہ صرف نام رہ جاتا ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں کی اکثریت میں ہم دیکھتے ہیں کہ غلط قسم کے کاموں میں ملوث ہیں۔ نمازوں کی اگر پڑھتے بھی ہیں تو صرف خانہ پری ہے۔ اکثریت تو ایسی ہے جس کو نمازوں کی پرواہ بھی نہیں ہے۔ جھوٹ عام ہے۔ اب تو بے حیائی بھی بلا جھجک اور کھلے عام ہے۔ گزشتہ دنوں ایک غیر از جماعت دوست ملے۔ کہنے لگے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ شدت پسند اور اسلام کے دعویدار جو مختلف جگہوں پر اسلام کی غیرت کے نام پر حملے کرتے ہیں اور اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں۔ سکولوں پر حملے کرتے ہیں، معصوم عورتوں اور بچوں کو مار رہے ہیں لیکن کہتے ہیں میں پاکستان گیا تو میں نے دیکھا کہ اسلام آباد میں ایک مین روڈ کے اوپر ہی سڑک پر ایک شراب کشید کرنے کی فیکٹری تھی، Brewery جسے کہتے ہیں، اُس پر کبھی ان شدت پسندوں نے حملہ نہیں کیا۔ حالانکہ وہ کھلے عام ہے۔ اسی طرح کہنے لگے ٹی وی چینل ہیں، ننگے اور بیہودہ پروگرام پاکستان میں بھی آتے ہیں اور مسلمان چینلوں میں بھی آتے ہیں، ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھاتا یا اُن پر حملہ نہیں ہوتا۔ بہر حال یہ اسلام پسندوں کی عملی حالت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جہاں تک شراب کا تعلق ہے، شراب کشید کرنے والوں، رکھنے والوں، بیچنے والوں، پلانے والوں، پینے والوں، ان سب پر لعنت بھیجی ہے۔ (سنن ابی داؤد کتاب الاشربۃ باب العنب یعصرللخمر حدیث 3674)

یہ لعنت تو ان لوگوں کو برداشت ہے کہ وہاں شراب کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں لیکن احمدی کا کلمہ پڑھنا ان کو کبھی برداشت نہیں ہو سکتا۔

(خطبہ جمعہ 30؍ مارچ 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

سورۃ الحجر اور النّحل کا تعارف ازحضرت خلیفۃ المسیح الرابع

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 ستمبر 2021