• 19 اکتوبر, 2021

واقعات و حکایات شیریں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنی مبارک تحریرات و ملفوظات میں وقتاً فوقتاً بعض پر حکمت اور سبق آموز واقعات و حکایات نہایت دل نشین انداز میں بیان فرمائے ہیں جو پڑھنے والوں کے لئے مفید اور اصلاح نفس کے لئے بہت مو ثر ہیں ۔

مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ان بیان فرمودہ واقعات و حکایات کو دو کتابچوں ’’واقعات شیریں‘‘ اور ’’حکایات شیریں‘‘ میں جمع کیا ہے ۔ فَجَزَاہُمُ اللّٰہُ خَیْرًا۔

قارئین الفضل کے استفادہ کے لئے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے بیان فرمودہ بعض واقعات وحکایات ان کتابچوں میں سے اخذ کر کے پیش ہیں ۔

دنیا کی خاطر عداوت کیا کرنی

دنیا اور اس کا اسباب کیا ہستی رکھتا ہے کہ اس کی خاطر تم کسی سے عداوت رکھو۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے کیا عمدہ واقعہ بیان کیا ہے کہ دو شخص آپس میں سخت عداوت رکھتے تھے۔ ایسا کہ وہ اس بات کو بھی ناگوار رکھتے تھے کہ ہر دو ایک آسمان کے نیچے ہیں۔ ان میں سے ایک قضائے کار فوت ہو گیا۔ اس سے دوسرے کو بہت خوشی ہوئی۔ ایک روز اس کی قبر پر گیا اور اس کو اکھاڑ ڈالا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا نازک جسم خاک آلود ہے اور کیڑے اس کو کھا رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دیکھ کر دنیا کے انجام کا نظارہ اس کی آنکھوں کے آگے پھر گیا اور اس پر سخت رقت طاری ہوئی اور اتنا رویا کہ اس کی قبر کی مٹی کو تر کر دیا اور پھر اس کی قبر کو درست کرا کر اس پر لکھوایا

مکن شادمانی بمرگ کسے
کہ دہرت پس ازوئے نماند بسے

(ملفوظات جلد نہم صفحہ218)

خدا کے بندوں پر رحم

شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو ناروا کی بیماری تھی۔ اس نے کہا کہ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ کریم مجھے شفا بخشے تو میں نے جواب دیا کہ آپ کے جیل خانہ میں ہزاروں بے گناہ قید ہوں گےان کی بد دعاؤں کے مقابلہ میں میری دعا کب سنی جا سکتی ہے ۔ تب اس نے قیدیوں کو رہا کر دیا اور پھر وہ تندرست ہو گیا ۔ غرض خدا کے بندوں پر اگر رحم کیا جاوے تو خدا بھی رحم کرتا ہے۔

(ملفوظات جلد نہم صفحہ369)

ہمارا نقارہ

اعداء کا وجود ہمارا نقارہ ہے۔ یہ انہیں کی مہربانی ہے کہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ مثنوی میں ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور ایک مکان کو نقب لگا رہا تھا ایک شخص نے اوپر سے دیکھ کر کہا کہ کیا کرتا ہے۔ چور نے کہا کہ نقارہ بجا رہا ہوں۔ اس شخص نے کہا آواز تو نہیں آتی چور نے جواب دیا کہ اس نقارہ کی آواز صبح کو سنائی دیوے گی اور ہر ایک سنے گا ایسے ہی یہ لوگ شور مچاتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو لوگوں کو خبر ہوتی رہتی ہے ۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ372)

خلق میں تبدیلی ممکن ہے

ذکر کرتے ہیں کہ افلاطون کو علم فراست میں بہت دخل تھا۔ اور اس کے دروازے پر ایک دربان مقرر کیا ہوا تھا جسے حکم تھا کہ جب کوئی شخص ملاقات کو آوے تو اول اس کا حلیہ بیان کرو اس حلیہ کے ذریعہ وہ اس کے اخلاق کا حال معلوم کر کے پھر اگر قابل ملاقات سمجھتا تو ملاقات کرتا ورنہ رد کر دیتا۔ ایک دفعہ ایک شخص اس کی ملاقات کو آیا دربان نے اطلاع دی۔ اس کے نقوش کا حال سن کر افلاطون نے ملاقات سے انکار کر دیا۔ اس پر اس شخص نے کہلا بھیجا کہ افلاطون سے کہہ دو کہ جو کچھ تم نے سمجھا ہے بالکل درست ہے مگر میں نے قوت مجاہدہ سے اپنے اخلاق کی اصلاح کر لی ہے اس پر افلاطون نے ملاقات کی اجازت دے دی پس خلق ایسی شے ہے جس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ129)

نقلی فقیر کی عزت

کہتے ہیں کہ ایک گبر چالیس سال تک ایک جگہ آگ پر بیٹھا رہا اور اس کی پرستش میں مصروف رہا۔ چالیس سال کے بعد جب وہ اٹھا تو لوگ اسکے پاؤں کی مٹی آنکھ میں ڈالتے تھے تو ان کی آنکھ کی بیماری اچھی ہو جاتی تھی ۔ اس بات کو دیکھ کر ایک صوفی گھبرایا ۔ اور اس نے سوچا کہ جھوٹے کو یہ کرامت کس طرح سے مل گئی اور وہ اپنی حالت میں مذبذب ہو گیا اس پر ھاتف کی آواز اسے پہنچی جس نے کہا تو کیوں گھبراتا ہے سوچ کہ جب جھوٹے اور گمراہ کی محنت کو خدا تعالیٰ نے ضائع نہیں کیا تو جو سچا اس کی طرف جائے گا اس کا کیا درجہ ہوگا ؟ اور اس کو کس قدر انعام ملے گا ۔

(ملفوظات جلد نہم صفحہ246-247)

یہودی کے اسلام لانے کا واقعہ

ایک یہودی کا قصہ ہے جو کہ ایک بڑا طبیب گزرا ہے اور جس کا نام ابوالخیر تھا۔ کہ ایک دفعہ وہ ایک کوچہ میں سے گزر رہا تھا۔ جبکہ اس نے ایک شخص کو یہ پڑھتے ہوئے سنا۔ کہ أَحَسِبَ النَّاسُ الآیۃ اگرچہ وہ یہودی تھا اس نے آیت کو سن کر اپنے ہاتھوں سے ایک دیوار پر ٹیک لگا لی اور سر جھکا کر رونے لگا۔ جب رو چکا تو اپنے گھر آیا اور جب وہ سو گیا تو اس نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہوں نے آ کر فرمایا کہ اے ابوالخیر تعجب ہے کہ تیرے جیسا فضل و کمال والا انسان مسلمان نہ ہو۔ صبح جب اٹھا تو اس نے تمام شہر میں اعلان کر دیا کہ میں آج مذہب اسلام قبول کرتا ہوں۔

(ملفوظات جلد نہم صفحہ201)

ذرہ سی نیکی کا بدلہ

ایک یہودی نے کسی شخص کو کہا کہ میں تجھے جادو سکھلا دوں گا ۔ شرط یہ ہے کہ تو کوئی بھلائی نہ کرے ۔ جب دنوں کی تعداد پوری ہو گئی اور جادو نہ سیکھ سکا تو یہودی نے کہا تو نے ان دنوں میں تو نے ضرور کوئی بھلائی کی ہے ۔ جس کی وجہ سے تو نے جادو نہیں سیکھا اس نے کہا کہ میں نے کوئی اچھا کام نہیں کیا سوائے اس کہ راستہ میں سے کانٹا اٹھایا ۔ اس نے کہا ۔ بس یہی تو ہے جس کی وجہ سے تو جادو نہ سیکھ سکا ۔ تب وہ بولا خدا تعالیٰ کی بڑی مہربانیاں ہیں کہ اس نے ذرہ سی نیکی کے بدلہ بڑے بھاری گناہ سے بچا لیا ۔

(ملفوظات جلد ششم صفحہ26)

محبت کی نظر اور عداوت کی نظر کا فرق

سلطان محمود سے ایک بزرگ نے کہا کہ جو کوئی مجھ کو ایک دفعہ دیکھ لیوے اس پر دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔ محمود نے کہا یہ کلام تمہارا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے۔ ان کو کفار، ابولہب، ابوجہل وغیرہ نے دیکھا تھا ان پر دوزخ کی آگ کیوں حرام نہ ہوئی اس بزرگ نے کہا اے بادشاہ کیا آپ کو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ اگر دیکھا اور جھوٹا کاذب سمجھا تو کہاں دیکھا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھنے والا اگر محبت اور اعتقاد کی نظر سے دیکھتا ہے تو ضرور اثر ہو جاتا ہے اور جو عداوت اور دشمنی کی نظر سے دیکھتا ہے تو اسے ایمان حاصل نہیں ہوا کرتا ۔

(ملفوظات جلد ششم صفحہ66)

تین حج

مجھے ۔۔۔۔۔ ایک نقل یاد آئی کہ ایک بزرگ کی کسی دنیا دار نے دعوت کی جب وہ بزرگ کھانا کھانے کے لیے تشریف لے گئے تو اس متکبر دنیا دار نے اپنے نوکر کو کہا کہ فلاں تھال لانا جو ہم پہلے حج میں لائے تھے اور پھر کہا دوسرا تھال بھی لانا جو ہم دوسرے حج میں لائے تھے ۔ اور پھر کہا کہ تیسرے حج والا بھی لیتے آنا۔ اس بزرگ نے فرمایا کہ تُو تو بہت ہی قابل رحم ہے ان تینوں فقروں میں تو نے اپنے تینوں ہی حجوں کا ستیاناس کر دیا ۔ تیرا مطلب اس سے صرف یہ تھا کہ تو اس امر کا اظہار کرے کہ تو نے تین حج کیے ہیں اس لیے خدا نے تعلیم دی ہے کہ زبان کو سنبھال کر رکھا جائے اور بے معنیٰ بے ہودہ بے موقع باتوں سے احتراز کیا جائے۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ422)

ایک بزرگ اور چور کی کہانی

ایک بزرگ کہیں سفر میں جا رہے تھے اور ایک جنگل میں ان کا گزر ہوا جہاں ایک چور رہتا تھا اور جو ہر آنے جانے والے مسافر کو لوٹ لیا کرتا تھا۔ اپنی عادت کے موافق اس بزرگ کو بھی لوٹنے لگا۔ بزرگ موصوف نے فرمایا وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ تمہارا رزق آسمان پر موجود ہے۔ تم خدا پر بھروسہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔ چوری چھوڑ دو۔ خدا تعالیٰ خود تمہاری ضرورتوں کو پورا کر دے گا۔ چور کے دل پر اثر ہوا۔ اس نے بزرگ موصوف کو چھوڑ دیا اور ان کی بات پر عمل کیا ۔ یہاں تک کہ اسے سونے چاندی کے برتنوں میں عمدہ عمدہ کھانے ملنے لگے وہ کھانے کھا کر برتنوں کو جھونپڑی کے باہر پھینک دیتا۔ اتفاقا پھر وہی بزرگ کبھی ادھر سے گزرے تو اس چور نے جو اب بڑا نیک بخت اور متقی ہو گیا تھا۔ اس بزرگ سے ساری کیفیت بیان کی اور کہا کہ مجھے اور آیت بتلاؤ تو بزرگ موصوف نے فرمایا کہ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِنَّهُ الْحَقُّ۔ یہ پاک الفاظ سن کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اس کے دل پر بیٹھ گئی پھر تڑپ اٹھا اور اسی میں جان دے دی۔

پس اے عزیز تم نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے کیا کیا نعمتیں ملتی ہیں اور تقوی اختیار کرنے سے کیسی دولت ملتی ہے ۔ غور کر کے دیکھو وہ خدا تعالیٰ جو زمین و آسمان کے رہنے والوں کی پرورش کرتا ہے۔ کیا اس کے ہونے میں کوئی شک و شبہ ہو سکتا ہے ۔ وہ پاک اور سچا خدا ہی ہے جو ہم تم سب کو پالتا پوستا ہے ۔ پس خدا ہی سے ڈرو ۔ اسی پر بھروسہ کرو اور نیکی اختیار کرو۔

(سیرة مسیح موعود جلد اول صفحہ156)

چالیس چراغ

ایک قصہ مشہور ہے ایک بزرگ نے دعوت کی اور اس نے چالیس چراغ روشن کیے۔ بعض آدمیوں نے کہا اس قدر اسراف نہیں چاہیئے۔ اس نے کہا جو چراغ میں نے ریاء کاری سے روشن کیا ہے اسے بجھا دو۔ کوشش کی گئی ایک بھی نہ بجھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی فعل ہوتا ہے اور دو آدمی اس کو کرتے ہیں ایک اس فعل کو کرنے میں مرتکب معاصی کا ہوتا ہے اور دوسرا ثواب کا اور یہ فرق نیتوں کے اختلاف سے پیدا ہو جاتا ہے۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ470)

نیکی کی کشش

انسان کے اندر نیکی اور بدی کی ایک کشش ہے ۔ آدمی نیکی کرتا ہے مگر نہیں سمجھ سکتا کہ کیوں نیکی کرتا ہے ۔ اسی طرح ایک شخص بدی کی طرف جاتا ہے لیکن اگر اس سے پوچھا جاوے تو کدھر جاتا ہے تو وہ نہیں بتا سکتا ۔ مثنوی رومی میں ایک حکایت اس کشش پر لکھی ہے کہ ایک فاسق آقا کا ایک نیک غلام تھا ۔ صبح کو جو مالک نوکر کو لے کر بازار سودا خرید نے کو نکلا تو راستہ میں اذان کی آواز سن کر نوکر اجازت لے کر مسجد میں نماز کو گیا اور وہاں جو اسے ذوق اور لذت پیدا ہوا تو بعد نماز ذکر میں مشغول ہو گیا آخر آقا نے انتظار کر کے اس کو آواز دی اور کہا کہ تجھے اندر کس نے پکڑ لیا ۔ نوکر نے کہا کہ جس نے تجھے اندر آنے سے باہر پکڑ لیا غرض ایک کشش لگی ہوئی ہے اسی کی طرف خدا نے اشارہ فرمایا ہے کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلیٰ شَاکِلَتِہٖ ہر ایک فریق اپنے اپنے طریق پر عمل کر رہا ہے۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ141)

ایک ذرا سی بات

تکبر اور شرارت بری بات ہے ۔ ایک ذرا سی بات سے ستر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں ۔ لکھا ہے کہ ایک شخص عابد تھا وہ پہاڑ پر رہا کرتا تھا اور مدت سے وہاں بارش نہ ہوئی تھی ۔ ایک روز بارش ہوئی تو پتھروں اور روڑیوں پر بھی ہوئی تو اس کے دل میں اعتراض پیدا ہوا کہ ضرورت تو بارش کی کھیتوں اور باغات کے واسطے ہے یہ کیا بات ہے کہ پتھروں پر ہوئی یہی بارش کھیتوں پر ہوتی تو کیا اچھا ہوتا ۔ اس پر خدا تعالیٰ نے اس کا سارا ولی پن چھین لیا ۔ آخر وہ بہت سا غمگین ہوا اور کسی اور بزرگ سے استمداد کی تو آخر اس کا پیغام آیا کہ تو نے اعتراض کیوں کیا تھا ۔ تیری اس خطا پر عتاب ہوا ہے ۔ اس نے کسی سے کہا کہ ایسا کر کہ میری ٹانگ میں رسہ ڈال کر پتھروں پر گھسیٹتا پھر ۔ اس نے کہا ایسا کیوں کروں ؟ اس عابد نے کہا کہ جس طرح میں کہتا ہوں اسی طرح کرو آخر اس نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اس کی دونوں ٹانگیں پتھروں پر گھسیٹنے سے چھل گئیں تب خدا نے فرمایا کہ اب بس کر اب معاف کر دیا ۔۔۔۔۔۔ انسان کو چاہیئے کہ کبھی خدا تعالیٰ پر اعتراض نہ کرے

(ملفوظات جلد ششم صفحہ57)

دوست کا انتخاب

ایک کتاب میں ایک عجیب بات لکھی ہے کہ ایک شخص سڑک پر روتا چلا جا رہا تھا راستہ میں ایک ولی اللہ اس سے ملے انہوں نے پوچھا کہ تو کیوں روتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا دوست مر گیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ تجھ کو پہلے سوچ لینا چاہیئے تھا۔ مرنے والے کے ساتھ دوستی ہی کیوں کی؟

(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ22)

حصول ثواب کی تڑپ

عالمگیر کے زمانہ میں مسجد شاہی کو آگ لگ گئی تو لوگ دوڑے دوڑے بادشاہ سلامت کے پاس پہنچے اور عرض کی کہ مسجد کو تو آگ لگ گئی اس خبر کو سن کر وہ فوراً سجدہ میں گرا اور شکر کیا حاشیہ نشینوں نے تعجب سے پوچھا کہ حضور سلامت یہ کون سا وقت شکر گزاری کا ہے کہ خانہ خدا کو آگ لگ گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو سخت صدمہ پہنچا تو بادشاہ نے کہا میں مدت سے سوچتا تھا اور آہ سرد بھرتا تھا کہ اتنی بڑی عظیم الشان مسجد جو بنی ہے اور اس عمارت کے ذریعہ سے ہزار ہا مخلوقات کو فائدہ پہنچتا ہے کاش کوئی ایسی تجویز ہوتی کہ اس کار خیر میں کوئی میرا بھی حصہ ہوتا لیکن چاروں طرف سے میں اس کو ایسا مکمل اور بے نقص دیکھتا تھا کہ مجھے کچھ سوجھ نہ سکتا تھا کہ اس میں میرا ثواب کسی طرح ہو جائے سو آج خدا تعالیٰ نے میرے واسطے حصول ثواب کی ایک راہ نکال دی وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (البقرہ: 245) ’’اور اللہ خوب سننے والا اور بہت جاننے والا ہے‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ387)

(مرسلہ: فائقہ بشریٰ)

پچھلا پڑھیں

سورۃ الحجر اور النّحل کا تعارف ازحضرت خلیفۃ المسیح الرابع

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 ستمبر 2021