• 15 جنوری, 2021

سراپا محمدؐ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :
’’رسول اللہ ﷺ کے واقعاتِ پیش آمدہ کی اگر معرفت ہو اور اِس بات پر پوری اطلاع ملےکہ اُس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ ؐ نے آکر کیا کیا تو انسان وجد میں آکر اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ کہہ اُٹھتا ہے۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے قرآن شریف اور دنیا کی تاریخ اِس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریمؐ نے کیا کِیا ورنہ وہ کیا بات تھی جو آپؐ کے لئے مخصوصاً فرمایا گیا اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّھَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (الاحزاب:57) کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔ پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان دنیا میں آیا جو محمدؐ کہلایا ﷺ۔‘‘

(ملفوظات جلداوّل صفحہ421 ایڈیشن1988)

قرآن شریف تدبر و تفکر و غور سے پڑھنا چاہیے

ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن شریف کس طرح پڑھا جاوے؟ حضرت اقدس (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے فرمایا:
قرآن شریف تدبر و تفکر و غور سے پڑھنا چاہیے۔ حدیث شریف میں آیا ہے رُبَّ قَارٍ یَلْعَنُہُ الْقُرْاٰنُ۔ یعنی بہت ایسے قرآ ن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔ جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا ہے۔ تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گذر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبّر و غور سے پڑھنا چاہیے اور اس پر عمل کیا جاوے۔

(ملفوظات جلد5 صفحہ 157۔ ایڈیشن 1988ءمطبوعہ ربوہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

اعلانِ ولادت