• 15 جنوری, 2021

آج کی دعا


رَبِّ اِنَّ قَوۡمِیۡ کَذَّبُوۡنِ ﴿۱۱۸﴾ ۖ فَافۡتَحۡ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَہُمۡ فَتۡحًا وَّ نَجِّنِیۡ وَ مَنۡ مَّعِیَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾

(سورۃ الشعراء آیت نمبر118.119)

ترجمہ: اے میرے ربّ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ پس میرے درمیان اور ان کے درمیان واضح فیصلہ کر دے اور مجھے نجات بخش اور اُن کو بھی جو مومنوں میں سے میرے ساتھ ہیں۔

یہ حضرت نوح علیہ السلام کی حالت مغلوبیت میں نصرت طلبی کی دعا ہے۔

حضرت نوح ؑ نے قوم کے ہنسی مذاق پر انکو سمجھایا مگر وہ انکار پرمصر رہے۔ جب حضرت نوحؑ خدائی حکم کے مطابق کشتی تیار کر رہے تھے تب بھی آپ انہیں سمجھا رہے تھے کہ کاش وہ سمجھ جائیں۔مگر وہ استہزاء کرتے رہے۔آخر خدا نے حضرت نوحؑ اور آپ کے متبعین کو جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے انہیں اس تباہی سے بچا لیا۔باقیوں کو جو کہ آپ کے مخالف تھے خدا نے انہیں سیلاب کے ذریعہ سے تباہ کر دیا۔

پیارے امام سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جماعت کواپنے خطبہ جمعہ مؤرخہ 10ستمبر 2010 کو مندرجہ بالا دعا کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:
’’پس میرے درمیان اور ان کے درمیان واضح فیصلہ کر دے اور مجھے نجات بخش اور ان کو بھی جو مومنوں میں سے میرے ساتھ ہیں۔ انبیاء اور ان کی جماعتوں کا اصل ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس زمانے میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے واضح فرما دیا ہے کہ ہماری کامیابی، ہماری فتوحات دعا کے ذریعے سے ہونی ہیں۔ نہ کہ کسی ہتھیار سے، نہ کسی احتجاج سے۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ نمبر36 جدید ایڈیشن ربوہ)

نہ کسی اور ذریعہ سے۔ پس دعاؤں کو مستقل مزاجی سے کرتے چلے جانا یہی ہمارا فرض ہے اور یہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے‘‘۔

(خطبہ جمعہ 10؍ ستمبر 2010)

(مرسلہ: قدسیہ محمود سردار)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

اعلانِ ولادت