• 5 دسمبر, 2021

سانحہ ارتحال

مکرم سىد رفىق احمد شاہ ۔ ٹوکىو (جاپان) سے تحرىر کرتے ہىں :
کہ مىرى خوشدامن مکرمہ بلقىس بىگم مؤرخہ 5نومبر 2021ء کو صبح فجر کےو قت وفات پا گئىں۔ انا للّٰہ وانا الىہ راجعون ۔

آپ مرکز مىں رہائش پذىر تھىں لىکن اپنى بىٹى سے ملنے دوسرے شہر گئى ہوئى تھىں کہ وہىں وفات کا سانحہ پىش آگىا ۔وفات کے وقت آپ کى عمر 91 برس تھى۔ مرحومہ موصىہ تھىں اور آپ کى تدفىن بہشتى مقبرہ مىں عمل مىں آئى۔

آپ کے نانا مکرم سىد گل حسن شاہ صحابى حضرت مسىح موعود علىہ السلام تھے۔ آپ کى شادى سىد نثار احمد شاہ صاحب (مرحوم) کے ساتھ ہوئى۔ جنہوں نے قادىان مىں تعلىم حاصل کى اور مولوى فاضل کى سند بھى حاصل کى۔ قادىان مىں زمانہ طالب علمى کے وقت حضرت خلىفۃ المسىح الثانىؓ کے پاؤں دبانے کا شرف بھى متعدد بار حاصل ہوا۔ پھر حضرت خلىفہ ثانىؓ کى اجازت سے فوج مىں شمولىت حاصل کى۔الفرقان فورس مىں بھى شرکت کى۔ 

آپ نے بہت خوشگوار عائلى زندگى گزارى۔ تمام اولاد کى بہت اچھى تربىت کى۔ آپ کے خاوند سىد نثاراحمد شاہ صاحب  (مرحوم) بہت علم دوست اور وضع دار شخصىت کے مالک تھے۔ سىد نثاراحمد شاہ صاحب  فوج کى اىجوکىشن کور  مىں تھے۔ ملازمت مىں خوب نىک نامى کمائى ۔ دوران ملازمت کھارىاں ، لاہور ، سىالکوٹ اور کوہ مرى وغىرہ مىں قىام رہا۔ کوہ مرى مىں قىام کے دوران خاکسار کو بھى گرمىوں مىں آپ کے ہاں ٹھہرنے اور دونوں کى مہمان نوازى  اور شفقت سے خوب لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ وہ پرانى خوشگوار ىادىں آج بھى ذہن مىں تازہ ہىں۔

فوجى ملازمت کے دوران اىک بار اىک رائفل گم پائى گئى۔ انچارج کى حىثىت سے ذمہ دارى آپ پر عائد ہوتى تھى۔ ىہ اىک بہت خطرناک معاملہ تھا اور کورٹ مارشل تک کا خطرہ تھا۔ حضرت خلىفۃ المسىح الثالثؒ کو دعا کے لىے تحرىر کىا گىا تو جواب آىا کہ فکر مند نہ ہوں ىہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ آخر مجرم کا پتہ چل گىا اور خدا کے فضل سے آپ کو اس خوفناک صورت حال سے نجات ملى۔

1989ء مىں اپنے مىاں کى فوج سے رىٹائرمنٹ کے بعد آپ نے مرکز مىں مستقل رہائش اختىار کر لى جہاں اپنا گھر بنانے کى توفىق ملى ۔اپنے حسن سلوک اور نرم مزاج کى وجہ سے ىہاں بھى جلد ہى ملنے جلنے والوں مىں ہر دل عزىز ہو گئىں۔ 2008ء مىں لمبى علالت کے بعد جب آپ کے خاوند وفات پاگئے تو ىہ صدمہ بڑے صبر سے برداشت کىا ۔ ان کى آخرى بىمارى مىں تىماردارى کى توفىق ملى۔

آپ کى اولاد مىں پانچ بىٹىاں اور دو بىٹے ہىں۔  دو بىٹىاں بىرون ملک ہىں۔ اىک بىٹى کے علاوہ سب شا دى شدہ اور صاحب اولاد ہىں۔

گاؤں کے ماحول کى وجہ سے زىادہ تعلىم نہ ہونے کے باوجود مطالعہ کا بہت شوق تھا ۔ الفضل کے ساتھ ساتھ جماعتى رسائل پڑھتى تھىں۔

اولاد کى اچھى  تعلىم وتربىت کى ۔ اىک بىٹے کو بچپن سے ہى کىڈٹ کالج مىں داخل کرواىا جو بعد مىں فوج سےکرنل کے عہدے سے رىٹائر ہوئے۔ دوسرے بىٹے ابتدا مىں کالج مىں لىکچرر رہے اور ا ب اىک تعلىمى ادارہ چلا رہے ہىں۔ 

آپ بہت سادہ شخصىت کى مالک تھىں ۔ اپنے حسن سلوک کى وجہ سے اپنوں اور بىگانوں مىں بہت ہردلعزىز تھىں۔ بہت نرم مزاج طبىعت تھى کبھى کسى کا دل نہىں دکھاىا۔ مىں نے انہىں کبھى بلند آواز سے بات کرتے ىا غصہ مىں نہىں دىکھا۔ جھوٹ سے بہت نفرت تھى۔ دوسروں کے متعلق غىر مناسب گفتگو کرنے سے کوسوں دور تھىں۔ بڑھاپے مىں طبعى طور پر مختلف عوارض لاحق ہو جاتے ہىں ۔ لىکن  صبر شکر کے ساتھ ان جسمانى بىمارىوں کا مقابلہ کىا۔ 

چندوں کى ادائىگى کے علاوہ اپنى طرف سے اور بزرگوں کى طرف سے بھى صدقہ و خىرات کىا کرتى تھىں۔ کسى کى پرىشانى کا سن کر بہت فکرمند ہو جاتى تھىں۔ عبادات مىں بہت شغف تھا۔ نماز تہجد کے علاوہ نماز چاشت کا بھى اہتمام کرتى تھىں۔ اٹھتے بىٹھتے ذکر مىں مصروف رہتى تھىں۔ آپ کى بڑى بىٹى (خاکسار کى اہلىہ) مکرمہ سىدہ فرحت رفىق ان دنوں جاپان مىں ہىں۔ اور لجنہ جاپان کى بانى ممبرات مىں سے ہىں۔ 1983ءمىں لجنہ کى تنظىم کے قىام پر پہلى صدر مقرر ہوئىں اور اب بھى جماعتى خدمات انجام دےرہى ہىں۔

وفات سےپہلے آخرى  بىمارى مىں آپ کى بىٹى، داماد، بہو اور نواسىوں  نے بھى آپ کا بہت خىال رکھا۔ اللہ تعالىٰ سب کو بہترىن اجر عطا ء فرمائے۔ آمىن

آپ کى وفات سارے خاندان کے بہت بڑا صدمہ ہے۔ تمام ملنے جلنے والوں اور غىروں نے بھى  ان کى وفات کو بہت محسوس کىا ہے۔ اللہ تعالى سے دعا ہے کہ مرحومہ سے  اللہ مغفرت کا سلوک فرمائے۔ تمام عزىز و اقارب کو صبر کى توفىق عطا فرمائے اور مرحومہ کے نىک اوصاف آئندہ نسلوں مىں بھى  جارى رکھنے کى توفىق عطا فرمائے آمىن۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ