• 20 جولائی, 2024

مسجد بیت الاحد جاپان

جاپان کو ارضِ مشرق اور چڑھتے سورج کی سرزمین کہا جاتا ہے۔اس ملک و قوم کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ جاپانی قوم شنتو مذہب کی پیروکار ہے اور یہ لوگ صدیوں سے مظاہرِ فطرت کی پرستش اور محبت میں مبتلاء چلے آتے ہیں۔

شنتو مت ایک ایسا منفرد مذہبی فلسفہ ہے کہ جس کی نہ ابتداء معلوم ہے نہ ہی کوئی ایسا مذہبی صحیفہ پایا جاتا ہے جو شنتو مت کی حقیقت اور عقائد کو بیان کر سکے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں لکھی گئی جاپانی تاریخ کی دو مشہور کتابیں جاپان کے شاہی خاندان اور اس ملک وقوم کی تاریخ کا ماخذ سمجھی جاتی ہیں۔

شنتو مت کے نزدیک ہر چیز میں خداکا وجود جلوہ گر ہے یہاں تک کہ اجسام اور ارواح، بزرگان اور مقدس ہستیاں بذات خود خدا ہیں۔ لیکن خدا کے اس نہایت متنوع تصور کے باوجودشنتو مت میں بتوں کی پوجا نہیں کی جاتی۔ بلکہ یوں نظر آتا ہے کہ جاپانی قوم صدیوں سے معبود حقیقی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جاپانی قوم کے اس مزاج کا تجزیہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: ’’جاپانیوں کو عمدہ مذہب کی تلاش ہے۔‘‘

شنتو مت جاپان کا فطری اور قومی مذہب ہونے کے باوجودجب بھی جاپانی قوم کے سامنے کوئی دوسرا مذہبی فلسفہ پیش کیا گیا تو اس قوم نے ان تمام مذاہب کونہایت شرح صدر سے خوش آمد ید کہا۔ جاپانی حضرت کنفیوشس کے اخلاقی فلسفے سے بھی متاثر ہوئے اور انہوں نےحضرت لاؤتزے کی تعلیمات کا اثر بھی قبول کیا۔ تیسری صدی عیسوی میں یہ قوم بدھ مت سے آشنا ہوئی تو حضرت گوتم بدھ کی تعلیم انہیں بھانے لگی اورچھٹی صدی عیسوی تک شاہی خاندان سمیت جاپانیوں کی بڑی تعداد بدھ مت میں داخل ہوگئی۔ ہسپانوی اور پرتگالی مبلغین نے جب مسیحیت کا پیغام جاپانی قوم کے سامنے پیش کیا تو یہ قوم پہلی مرتبہ ابراہیمی مذاہب کے فلسفہ سے آشنا ہوئی اور ایک بڑی تعداد حلقہ بگوشِ مسیحیت ہوگئی۔

جاپانی تاریخ کے مطالعہ سے ایسے کوئی قرائن یا ثبوت نہیں ملتے کہ یہ قوم قرون اولیٰ یا قرون وسطی میں اسلام یا مسلمانوں سے رُوشناس ہوئی ہو۔جاپان میں اسلام پر تحقیق کرنے والے حضرات کے مطابق جاپانیوں کا اسلام سے تعارف بہت پرانا نہیں بلکہ یہ حال ہی کی بات ہے۔ 1900ء کے قریب ایک جاپانی تاجر بمبئی گئے اور ایک مسجد دیکھ کر اسلام کی طرف متوجہ ہوئے اور مسلمان ہوگئے۔ ان کا نام AHMAD ARIGA تھا۔ اسی طرح جنگ عظیم اول کے ایام میں جاپانیوں اور سلطنت عثمانیہ کے مابین تعلقات قائم ہو گئے۔گویا مسلمانوں اور جاپانیوں کے مابین قائم ہونے والے یہ اولین مراسم تھے۔اخبارات کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جاپانیوں کی اسلام کی طرف رغبت کی خبر پہنچی توآپ نے اس قوم کو اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے پر جوش تڑپ کا اظہار فرمایا۔آپ نے فرمایا:
’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ جاپانیوں کو اسلام کی طرف توجہ ہوئی ہے۔ اس لئے کوئی ایسی جامع کتاب ہو جس میں اسلام کی حقیقت پورے طور پر درج کر دی جاوے گویا اسلام کی پوری تصویر ہو جس طرح پر انسان سراپا بیان کرتا ہے اور سر سے لے کر پاؤں تک کی تصویر کھینچ دیتا ہے۔اسی طرح سے اس کتاب میں اسلام کی خوبیاں دکھائی جاویں۔ اس کی تعلیم کے سارے پہلوؤں پر بحث ہو اور اس کے ثمرات اور نتائج بھی دکھائے جاویں۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ371)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کی نشاة ثانیہ کی مہم آپ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی مشرق و مغرب میں زمین کے کناروں تک جا پہنچی۔ ایک طرف دنیا کے انتہائی مغرب میں واقع براعظم امریکہ اسلام احمدیت سے رُوشناس ہوگیا تو دوسری طرف دنیا کے انتہائی مشرقی کنارے یعنی نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے بھی سعید فطرت روحیں امام الزماں کی آغو ش میں آنے لگیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی حضرت مفتی صادق صاحبؓ نے جاپانیوں کوبھی تبلیغی خطوط لکھ کر اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوششیں کیں۔

اشاعتِ اسلام کے لئے جب تحریک جدید کا قیام عمل میں آیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے سب سے اولین تبلیغی مہم کے لئے جن ممالک کا انتخاب فرمایا جاپان بھی ان میں سے ایک تھا۔

مکرم صوفی عبدالقدیر نیاز صاحب 4؍جون 1935ء کو جاپان کے ساحلی شہر ’’کوبے‘‘ پہنچے۔ آپ جماعت احمدیہ کی طرف سے جاپان تشریف لانے والے پہلے مبلغ اسلام تھے۔آپ نے جاپان میں قیام کے دوران جاپانی زبان سیکھی، تبلیغی لیکچرز دئے اور اسلام کے تعارف پر مشتمل کچھ لٹریچر تیار کروایا۔ جنگ عظیم دوم کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل آپ کو بعض شکوک کی بناء پر جاپانی اداروں نے حراست میں بھی لیا اور کچھ تفتیش کرنے کے بعد رہا کردیا۔

آپ ابھی جاپان میں ہی تھے کہ حضرت خلیفة المسیح الثا نی رضی اللہ عنہ نے 10؍جنوری 1937ء کو مولوی عبد الغفور صاحب کو جاپان روانہ فرمایا۔ آپ کو جاپان بھجواتے ہوئے حضور بعض نصائح فرمائیں جو مشرقِ بعید کے ممالک میں مصروفِ عمل مبلغین و داعیان الیٰ اللہ کے لئے ایک جامع لائحہ عمل ہیں۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ہشتم صفحہ219-221)

اس کے بعد جنگ عظیم دوم کی وجہ سے کچھ عرصہ تک مبلغین کی جاپان آمد کا سلسلہ معطل رہا لیکن خلافت ثالثہ کے دور میں 1969ء تاحال جاپان میں مبلغین اور احباب جماعت خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی راہنمائی میں اشاعتِ اسلام کی خدمت بجا لارہے ہیں۔

1957ء میں مکرم محمد اویس کوبایاشی صاحب کا قبولِ اسلام،1981ء میں جاپان میں پہلے احمدیہ سنٹر کی خرید اور 1989ء میں جاپانی زبان میں ترجمہ قرآن کی اشاعت، حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ اور حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے دورہ ہائے جاپان اس سرزمین پر اشاعتِ اسلام کی مہم کے اہم سنگ ہائے میل ہیں۔

خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےدوروں کی بدولت جاپان میں اشاعت اسلام کی کاوشیں تیز تر ہوگئیں۔ نیا لٹریچر شائع ہوا، میڈیا کے ذریعہ ملک کے طول وعرض تک اسلام احمدیت کا نام متعارف ہوا اور جماعت کا انتظامی ڈھانچہ مضبوطی سے استوار ہونے لگا۔

خلافت ثالثہ میں ہی ناگویا میں احمدیہ سنٹر کی خرید سے اشاعتِ اسلام کا ایک مرکز قائم ہوچکا تھا۔ لیکن باقاعدہ مسجد کی تعمیر احباب جماعت احمدیہ جاپان کی دیرینہ خواہش تھی۔

جماعت احمدیہ جاپان نے 1991ء میں ٹوکیو کے نواحی علاقہ Togane میں ایک قطعہٴ زمین خریدا مگر وہاں مسجد تعمیر نہ ہوسکی۔ پہلی مسجد کی تعمیر کے لئے احباب جماعت کی پاکیزہ خواہش اور تڑپ کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ جب بھی مسجد کی تحریک ہوئی احباب و خواتین نے بڑھ چڑھ کر مالی قربانیاں پیش کیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور جاپان میں پہلی مسجد کی تعمیر کے لئے خلافتِ خامسہ کا دور مبارک مقدر تھا۔ لہٰذا سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیزکے پہلے دورہ جاپان کے دوران ہی حضور کی خاص توجہ سے مسجد کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔

تعمیرِ مسجد کمیٹی کا تقرر

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مئی2006ء کے دورہ جاپان کے دوران جاپان میں جلد پہلی مسجد تعمیر کرنے کی تاکید فرماتے ہوئے خاکسار کو مسجد کمیٹی کا پہلا صدر مقررفرمایا اور دعاؤں کے ساتھ کام شروع کرنے کی ہدایت فرمائی۔مکرم ایڈیشنل وکیل التبشیر صاحب نے بذریعہ خط اس منظوری کی اطلاع ان الفاظ میں دی۔

مکرم و محترم نیشنل صدر صاحب جاپان

السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے نیشنل مجلس کی میٹنگ کے دوران تعمیر مسجد کمیٹی مقرر فرمائی تھی جس کے درج ذیل ممبران حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے منظور فرمائے ہیں۔

  1. مکرم انیس احمد ندیم صاحب۔ مبلغ انچارج جاپان
  2. مکرم سیکرٹری صاحب تربیت
  3. مکرم سیکرٹری صاحب جائیداد
  4. مکرم صدر صاحب انصار اللہ
  5. مکرم سیکرٹری صاحب تبلیغ
  6. مکرم سیکرٹری صاحب امور خارجیہ

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اس کمیٹی کا صدر مکرم انیس احمد ندیم صاحب مبلغ انچارج جاپان کو مقرر فرمایا ہے۔ براہ کرم تمام ممبران کو اطلاع کردیں کہ وہ باقاعدہ اپنا کام شروع کردیں۔ جَزَاکُمُ اللّٰہ اَحْسَنُ الْجَزَاء

وَالسَّلَام
خاکسار
(دستخط) عبد الماجد طاہر
ایڈیشنل وکیل التبشیر

(مکتوب بذریعہ فیکس 13996-T بتاریخ23؍مئی 2006ء)

مسجد کی جگہ کی تلاش اور مسجد فنڈ کی وصولی کا آغاز

سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ہدایات کے مطابق مسجد کمیٹی نے مئی 2006ء میں کام کا آغاز کیا۔ ایک طرف مالی تحریک کے ذریعہ احباب جماعت کو مسجد کی تعمیر کے لئے قربانی پیش کرنے کی دعوت دی گئی اور دوسری طرف مسجد کمیٹی نے مناسب جگہ کی تلاش شروع کردی۔

مالی قربانی کی تحریک پر اولین لبیککہنے والے احباب کے اسماء بغرض دعا اور ریکارڈ پیش خدمت ہیں۔ مکرمہ زینت جلیل صاحبہ، مکرمہ سمیرا حامد صاحبہ، مکرمہ حامدہ زریں صاحبہ، مکرمہ امة الودود ناصر صاحبہ، مکرمہ طاہرہ افتخار صاحبہ، مکرمہ ثمینہ جنود صاحبہ، فوزیہ طلعت ڈار صاحبہ، مکرمہ فرحت رفیق صاحبہ، اور مکرمہ فائزہ انیس صاحبہ نے خواتین کی طرف سے نقدی اور زیورات پیش کرنے کی توفیق حاصل کی۔

قربانی کی توفیق پانے والے اولین احباب میں مکرم ضیاء اللہ ڈار صاحب، مکرم ظفر اللہ ڈار صاحب مرحوم، مکرم ناصر احمد بھٹی صاحب، مکرم مقبول احمد شاد صاحب، مکرم رانا شوکت صاحب،مکرم مرزا حامد بیگ صاحب، مکرم مبشر زاہد صاحب، مکرم سید رفیق احمد صاحب، مکرم احمد فتح الرحمن صاحب اور مکرم یوسف جلیل صاحب قابل ذکر ہیں۔

مسجد کی جگہ کی تلاش کا کام شروع کرتے ہوئے متعدد جگہیں دیکھی گئیں اور حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں رپورٹ پیش کی گئی اس پر حضور نے ہدایت فرمائی کہ:
’’باہر کھلی جگہ پر لیں تاکہ بعد کے مسائل نہ ہوں، لیکن سہولتیں ہوں‘‘

حضرت خلیفة المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعائیں

احباب جماعت نے مسجد کی تحریک پر والہانہ لبیک کہا اور نہایت بیش قیمت قربانیاں پیش کرنی شروع کردیں۔ مسجد فنڈ کی تحریک کے بعد شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس میں اس چھوٹی سی جماعت کے احباب وخواتین یا بچوں میں سے کسی نے مسجد کی تعمیر کے لئے قربانی نہ پیش کی ہو۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسجد کی تعمیر مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمادی۔

قربانی کرنے والے احبا ب و خواتین کے اسماء حضرت خلیفة المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بغرض دعا پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ہر ماہ وصولی کی رپورٹ بھی خدمت اقدس میں پیش کی جاتی رہی۔ جنوری 2007ء کی رپورٹ پر حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پیارے عزیزم انیس احمد ندیم صاحب۔مبلغ جاپان!

السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

آپ کی فیکس ملی ہے کہ ماہِ جنوری2007ء میں مسجد فنڈ میں 50ہزار ین کے زیورات اور 232,000ین رقم وصول ہوئی ہے۔ مَاشَآءَ اللّٰہ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ اللہ سب کو جزاء دے اور ان کے اموال اور نفوس میں برکت ڈالے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو مسجد کے لئے مناسب جگہ کی خرید کی جلد توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ کی مدد فرمائے۔

وَالسَّلَام
خاکسار
(دستخط) مرزا مسرور احمد

(مکتوب T-10793 بتاریخ 15؍فروری 2007ء)

خاکسار کے ساتھ مسجد کمیٹی کے ممبران تبدیل ہوتے رہے،لیکن اس خدمت کے لئے مقرر کئے جانے والے تمام احباب و خواتین نے شبانہ روز محنت، دعاؤں اور مالی قربانی کے ذریعہ سے جاپان میں پہلی مسجد کی تعمیر کا سفر بخیر و خوبی مکمل کیا۔ ابتداء میں جن احباب کو مسجد کمیٹی کے ممبر یا محصل کے طور پر خدمت کی توفیق ملی ان کے اسماء بغرض دعا و ریکارڈ محفوظ کئے جارہے ہیں۔ مکرم یوسف ڈار صاحب، مکرم سید مشہود احمد صاحب، مکرم یوسف جلیل صاحب، مکرم محمد عصمت اللہ صاحب، مکرم ناصراحمد بھٹی صاحب، مکرم نصیر احمد طارق صاحب اورمکرم مبشر احمد زاہد صاحب۔

مسجد بیت الاحد کی تعمیر کے لئے حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا مئی 2006ء کا دورہ جاپان ایک مہمیز ثابت ہوا اور اللہ تعالیٰ کےخاص فضل و کرم اور تائید ونصرت سے اس دورہ کے بعد محض سات سال کے قلیل عرصہ میں جاپان میں پہلی مسجد کی تعمیر کے لئے جگہ خرید لی گئی۔

2006ء کے بعد تعمیرِ مسجد کی تحریک مسلسل آگے بڑھتی رہی۔ اس سفر کے دوران بسا اوقات امید ویاس کی گھڑیاں بھی آئیں۔ بعض دفعہ یہ محسوس ہوتا تھا کہ کوئی جگہ نہایت مناسب ہے مگر پھر اچانک کوئی ایسی روک پیش آجاتی کہ وہ جگہ ہماری پہنچ سے دور ہوجاتی۔ بعض جگہیں احباب میں سے کچھ کوتو پسند آجاتیں مگر بعض دیگر احباب اس رائے سے اتفاق نہ کرتے۔بسا اوقات تو معاملات طے ہونے کے انتہائی قریب محسوس ہوتے اور معاہدہ کی کارروائی کی شرائط بھی طے ہونے لگتیں لیکن پھر اچانک بات بگڑ جاتی۔

احباب جماعت احمدیہ جاپان، مسجد کمیٹی کے ممبران اور محصلین کا جذبہء خدمت اور خلوص قابل رشک قرار دیا جاسکتا ہے۔ان احباب کے دل اس یقین کامل سےلبریز تھےکہ اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں اور قربانیوں کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے وہ دن جلد نصیب کرے گا کہ جب ہم جاپان میں خدا تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے قابل ہوسکیں گے۔

احباب جماعت احمدیہ جاپان کو اپنے امام کی دعاؤں اور توجہ پر علی وجہ البصیرت ایمان تھا کہ وہ مقدس منصوبہ جس کی داغ بیل خلیفة المسیح کے ہاتھ سے پڑی ہے،ضروری پایہ ء تکمیل کو پہنچے۔ لہٰذا احباب جماعت نے مسجد کی تحریک پر نہایت والہانہ لبیک کہتے ہوئے اپنے عزیزاموال و جائیدادیں دیوانہ وار اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش کرنی شروع کردیں۔سیدنا حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے احباب جماعت احمدیہ جاپان کے اس جذبہءخدمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’جب آپ کو توجہ دلائی گئی کہ نیا مرکز خریدیں تو جیسا کہ پہلے میں ذکر کر چکا ہوں، جماعت جاپان نے مالی قربانیاں کیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جگہ خرید لی۔ چھوٹی سی جماعت ہے لیکن اللہ کے فضل سے بڑی قربانی کی ہے، اس لحاظ سے بہت سے لوگوں نے بڑی بڑی رقمیں ادا کی ہیں۔ بچوں نے اپنے جیب خرچ ادا کئے، عورتوں نے اپنے زیور ادا کئے اور بعض نے اپنے پاکستان میں گھر بیچ کر رقمیں ادا کیں یا کوئی جائیداد بیچ کر رقم ادا کی۔ بعض نے اپنے قیمتی اور عزیز زیور، پرانے بزرگوں سے ملے ہوئے زیور بیچ کر مسجد کے لئے قیمت ادا کی۔ غرض کہ مالی قربانیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانی کرنے کی آپ نے کوشش کی اور پیش کیں۔ اللہ تعالیٰ یہ سب مالی قربانیاں قبول فرمائے اور آپ لوگوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 8؍نومبر 2013ء بمقام ناگویا)

مسجد کی جگہ کی خرید اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نزول

2013ء کا آغاز بھی جاپان میں حسبِ معمول نماز تہجد سے ہوا۔ احباب جماعت احمدیہ جاپان کو سالِ نو کے آغاز پر نہایت دردِ دل سے دعائیں کرنے کی تحریک کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں اور قربانیوں کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے مسجد کی تعمیر کے لئے راہیں آسان فرمادے۔

2013ء کے سال کو جاپان میں مسجد کی تعمیر کا سال بنانے کے لئے تمام احباب کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے اور مسجد کے لئے جگہ کی تلاش کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ اسی طرح وقتاً فوقتاً اپنی یہ عاجزانہ خواہش حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کرکے دعاؤں کے لئے عرض کیا جاتا کہ بظاہر تو ایسے آثا ر نظر نہیں آتے لیکن حضور پر نور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ معجزانہ رنگ میں ہماری مدد فرمائے اور ہماری نہایت حقیر کاوشوں کو اپنے فضل ورحم سے قبول فرمالے۔مسجد فنڈ کی وصولی کو تیزترکرنے کے لئے خاکسار نے ایک مسجد کمیٹی فرمائی جس کے ممبران درج ذیل تھے۔ مکرم مرزا حامد بیگ صاحب، مکرم ظفر احمد ظفری صاحب، مکرم عدیل احمد صاحب، مکرم غضنفر پرویز صاحب، مکرم حافظ محمد امجد عارف صاحب اور مکرم عبد القیوم صاحب۔

اس سال کے آغاز پر ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ حضرت خلیفة المسیح الخامس کی دعاؤں کا اعجاز نظر آنے لگا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے مسجد کے لئے ایک ایسی جگہ مل گئی جس پر نہ صرف شرح صدر ہونے لگا بلکہ احباب میں سے جس نے اسے دیکھا اس نے اطمینان کا اظہار کیا۔

جب یہ معاملہ مجلس عاملہ ناگویا میں اور نیشنل عاملہ کے ممبران کے سامنے پیش کیا گیا تو اس موقع پر بھی تمام ممبران نے متفقہ طور پریہ جگہ خریدنے کی سفارش کی۔ گویا اس جگہ کی خرید کے بعد احباب جماعت کا اتحاد اور اتفاق اس بات کا مظہر تھا کہ یہی وہ بابرکت جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر ہونا چاہیے۔

معجزانہ رنگ میں جگہ کی تلاش

مؤرخہ 12؍اپریل 2013ء کو خاکسار ایک دن مکرم حافظ محمد امجد عارف صاحب کے ہمراہ احمدیہ سنٹر ناگویا کے نواح میں واقع ایک پراپرٹی ڈیلر سے میٹنگ کررہا تھا توانہوں نےہمیں Tsushima شہر میں ایک بُک سٹور کے بارہ میں بتایا اور کہا کہ جس طرح کی جگہ آپ تلاش کررہے ہیں یہ ان شرائط کے قریب تر ہے۔ یہ میٹنگ مکمل ہوتے ہی خاکسار نے مکرم مرزا حامد بیگ صاحب کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ اس طرح ہمیں پراپرٹی ڈیلر نے ایک جگہ دکھائی ہے آپ کا کام اس علاقہ میں ہے لہٰذا آج شام کو کام سے واپسی پر آپ وہ جگہ دیکھتے آئیں۔ مکرم مرزا حامد بیگ صاحب نے کہا کہ اتفاق ہے کہ اس وقت میں اسی جگہ پہ کھڑا ہوں، بُک سٹور تو فروخت ہوچکا ہے لیکن اس کے سامنے اس سے بہتر ایک اور عمارت قابل فروخت ہے۔ خاکسار نے فوری طور پر صدر جماعت ناگویا،ناگویا میں موجود نیشنل عاملہ کے ممبران اور مسجد کمیٹی کو فوری طور پر جمع ہونے کی گزارش کی اور اسی دن شام کویہ جگہ دیکھنے کا پروگرام بنایا۔

جو احباب فوری طور پر اس تحریک پرجمع ہوئےان کے اسماء بغرض دعا و ریکارڈ تحریر کئے جارہے ہیں۔

•مکرم ظفر اللہ ڈار صاحب مرحوم •مکرم مقبول احمد شاد صاحب •مکرم رانا شوکت محمود صاحب •مکرم مرزا حامد بیگ صاحب •مکرم ظفر احمد ظفری صاحب •مکرم عدیل احمد صاحب •مکرم حافظ محمد امجد عارف صاحب •مکرم غضنفر پرویز صاحب •مکرم عبد القیوم صاحب •مکرم طلعت محمود صاحب اور •مکرم مظفر قادیانی صاحب۔

مسجد کی جگہ پر اتفاقِ رائے اور بے مثال قربانیاں

مسجد کی جگہ دیکھتے ہی احباب کی اکثریت کے دل شرح صدر سے معمور نظر آئے۔یہ عمارت اتفاق سے قبلہ رخ تھی۔ رقبہ ہماری خواہش کے مطابق ایک ہزار مربع میٹر کے قریب تھا۔ برلب سڑک واقع ہونے کی وجہ سے اس جگہ کی لوکیشن بھی نہایت مناسب تھی۔ اسی طرح ہائی وے بھی بالکل قریب سے گزرتی اور ریل کا اسٹیشن بھی محض ڈیڑھ دو کلومیٹر کی مسافت پر واقع تھا۔

جگہ دیکھنے کے بعد اس شام کو رات گئے تک احباب کے ساتھ تفصیلی میٹنگ کرکے ہر پہلو پر غور و خوض کیا گیا۔جب ہر طرح سے تسلی اور شرح صدر نظر آنے لگی تو احباب نے زور دیا کہ جلد از جلد معاملہ حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پیش کرکے منظوری حاصل کی جائے۔

خاکسار نے احباب کے سامنے مسجد فنڈ کی صورتحال پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس جگہ کی مالیت تقریباً آٹھ کروڑ ین ہے جبکہ ہمارے پاس مسجد فنڈ میں محض دو کروڑ ین موجود ہیں۔یہ معاملہ حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کرنے سے قبل اپنی مالی استطاعت کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے۔

• اس موقع پر مکرم ظفر اللہ ڈار صاحب مرحوم نےاپنے جذبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مسجد کی جتنی جگہیں دیکھی ہیں ایسی جگہ کبھی نظر نہیں آئی۔ ہمارے لئے قربانی کا یہ تاریخی موقع ہوگا لہٰذا ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے بلکہ ہر فردِ جماعت سے رابطہ کرکے اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے لئے ہر ممکن جدو جہد کرنی چاہیے۔ظفر اللہ ڈار صاحب مرحوم نے فوری طور پر پچاس لاکھ ین کی قربانی پیش کرتے ہوئے اپنے خاندان کی طرف سے مزید پچاس لاکھ ین پیش کرنے کا وعدہ کیا۔

• مکرم مقبول شاد صاحب نے وعدہ کیا کہ جاپان میں مسجد کی تعمیر ہماری دیرینہ خواہش ہے اور بڑی سے بڑی قربانی پیش کرکے بھی ہمیں اس کام کو ممکن بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔مقبول شاد صاحب نے مسجد کے بیعانہ کے لئے ادا کی جانے والی رقم جو تقریباً پچاس لاکھ ین کے قریب دینے کا وعدہ کیا اور اس کے علاوہ بھی مسجد کے لئے قربانی پیش کی۔

• مکرم رانا شوکت محمود صاحب نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں بھائیوں نے جس قدر قربانی پیش کی ہے میں بھی اسی قدر رقم مسجد کے لئے اللہ تعالیٰ راہ میں پیش کرتا ہوں اور یہ وعدہ کرتا ہوں کہ معاہدہ کے وقت اگر کچھ مزید ضرورت ہوئی تواس موقع پر بھی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہ کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پچاس لاکھ ین کی اس ادائیگی کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی قربانی کی توفیق بخشی۔

• مکرم مرزا حامد بیگ صاحب جو جنوری 2013ء سے مسجد کمیٹی کے نگران مقرر ہوچکے تھے اور ہر ماہ پچاس ہزار ین مسجد کے لئے پیش کررہے تھے، انہوں نے دس لاکھ ین فوری پیش کئے اور بتایا کہ ان کی اہلیہ مکرمہ سمیرا حامد صاحبہ اپنا سارا زیور جاپان میں مسجد کی تعمیر کے لئے پیش کرچکی ہیں۔

• مکرم ظفر احمد ظفری صاحب نے بھی دس لاکھ ین قربانی پیش کی۔ یہ رقم ان کی استطاعت کے لحاظ سے کافی بڑی رقم تھی،لیکن اس قربانی کے بعد بھی انہوں نے مسجد کی تحریک کے لئے ہر موقع پر قربانی پیش کرنے کی توفیق پائی۔ اسی طرح صدر جماعت ناگویا کی حیثیت سے مسجد فنڈ کی وصولی اورمسجد میں وقارعمل کے انعقاد کے ذریعہ غیر معمولی خدمت کی توفیق پائی۔

• مکرم عدیل احمد صاحب، مکرم غضفر پرویز صاحب، مکرم حافظ محمد امجد عارف صاحب، مکرم طلعت محمود صاحب اور مکرم عبد القیوم صاحب اور دیگر احباب نے بھی نہ صرف بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں بلکہ مسجد کی تحریک کو مؤثر طریق سے احباب تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اوروصولی کے لئے شبانہ روز محنت کی توفیق پائی۔سیدنا حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الاحد کی تعمیر کو اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ:
’’یہ مسجد کی جو کوشش ہے، یہ آپ نے چند مہینوں میں کی۔ ان کوائف سے ظاہر ہو گیا کہ جو مسجد کی جگہ ملی ہے یہ غیر معمولی طور پر ایک تو قربانیاں جو آپ نے کیں وہ تو کیں، اس کے ملنے کی جو تاریخ ہے وہ بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بغیر کسی سوچ کے اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور ایک دم انتظام ہو گیا اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ یہ جگہ ملنا آپ کی کوششوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ثمرہ ہے۔ اتنی وسیع جگہ آپ کو مل گئی ہے۔ ایسی جگہ ہے کہ میرے خیال میں چند ماہ پہلے تک تو آپ میں سے بعض تصور بھی نہیں کر سکتے ہوں گے کہ یہ جگہ مل سکتی ہے۔ پس یہ چیز ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بنانے والی ہو۔

(خطبہ جمعہ 8؍نومبر 2013ء بمقام ناگویا)

• احباب جماعت کے بے لوث اور والہانہ جذبہء قربانی کو دیکھتے ہوئے مؤرخہ 12؍اپریل 2013ء کی رات کو جب میٹنگ ختم ہوئی تو مسجد فنڈ کی وصولی دو کروڑ سے چارکروڑ تک پہنچ چکی تھی۔ مسجد کی تحریک احباب کے سامنے پیش کرنے کے بعد جن احباب نے غیر معمولی خدمت کی توفیق پائی ان کا مختصر ذکر خیر پیش خدمت ہے۔

• ایک سری لنکن احمدی دوست مکرم نعیم احمد صاحب اپنی مالی مشکلات کے باوجود تعمیرِ مسجد کے لئے دو لاکھ ین پیش کئے اور مسجد تعمیر ہونے کے بعد اس خواہش کا اظہار کیا کہ مسجد پر ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ لکھوانے کی خدمت ان کے سپرد کی جائے۔ چنانچہ یہ خدمت ان کے حصہ میں آئی۔

• مکرم ناصر امام صاحب جو جاپان میں ہی احمدیت قبول کرکے جماعت میں شامل ہوئے ہیں انہوں نے مسجد کی تعمیر کے لئے دس لاکھ ین کی قربانی پیش فرمائی۔ ان کی اہلیہ کو بھی خانہٴ خدا کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کی توفیق ملی۔ نیز مکرم ناصر امام صاحب مسجد کی تعمیر کے بعد مسجد میں اعتکاف کی توفیق حاصل کرنے والے پہلے وجود ہیں۔

مسجد کی تحریک احباب کے سامنے پیش کی گئی تو ایک احمدی دوست مکرم سعید احمد صاحب مسجد کمیٹی کے ممبران اور محصل کو اپنے ساتھ گھر لے گئے اور کہا کہ گھر میں جو کچھ ہوا وہ سب پیش کردوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ محترمہ نے مختلف ڈبے محصلین کے سامنے پیش کردئے،جب ان میں موجود رقم کو گنا گیا تو اس کی مالیت دس لاکھ ین سے زائد تھی۔

• مکرم ناصر احمد بھٹی صاحب اور ان کے اہل خانہ قبل ازیں بھی مسجد کے لئے غیر معمولی قربانی پیش کرچکے تھے،لیکن جلسہ سالانہ جاپان کے موقع پر جب خاکسار نے احباب جماعت کو دوبارہ قربانیاں پیش کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے پاکستان میں اپنا گھر فروخت کرکے بیس لاکھ ین سے زائد رقم خانہٴ خدا کے لئے پیش کردی۔ اس سے قبل بھی انہیں مسجد کی تعمیر کے لئے متعدد بار غیر معمولی قربانی کی توفیق مل چکی ہے۔

• انڈونیشین احمدی احباب مکرم احمد فتح الرحمن صاحب اور مکرم احسان رحمت اللہ صاحب نے بھی نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ اپنے اہل خانہ کی طرف سے بھی غیر معمولی قربانی پیش کرتے ہوئے خانہٴ خدا کی تعمیر میں حصہ لیا۔مکرم ناصر بشیر خاکی صاحب اور ان کی والدہ محترمہ نے بھی مسجد بیت الاحد کی تعمیر کے لئے غیر معمولی قربانی کی توفیق حاصل کی۔

• مکرم سہیل انور صاحب نے بھی مسجد فنڈ کی تحریک میں غیر معمولی قربانی کی توفیق پائی۔ مکرم محمد عصمت اللہ صاحب اور ان کے اہل خانہ نےبھی غیر معمولی قربانی پیش کرتے ہوئے مسجد بیت الاحد کی تعمیر میں حصہ لیا۔مکرم سید رفیق احمد صاحب، مکرم ملک منیر احمد صاحب، مکرم نصیر احمد طارق صاحب، مکرم ناصر ندیم بٹ صاحب، مکرم موراماتس سعید صاحب، مکرم ہیروشی اکبر سیکی گوچی صاحب اور مکرم سید طاہر احمد صاحب بھی حتی المقدور قربانی کرنے والے احباب میں شامل تھے۔

• مکرم مبشر احمد زاہد صاحب نے بطور صدر جماعت ٹوکیو اس تحریک کو مؤثر طریق سے ٹوکیو جماعت کے سامنے پیش کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ انہوں نےذاتی طور پر بھی ایک بڑی قربانی پیش کی اور ان کی اہلیہ مکرمہ حامدہ زریں صاحبہ زیورات پیش کرنے والی خواتین میں سر فہرست تھیں۔

سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیزنے جماعت احمدیہ جاپان کے احباب وخواتین کی ان قربانیوں پر نہایت مشفقانہ الفاظ میں خراج تحسین پیش فرمایا۔ حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے احباب جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’جماعت احمدیہ جاپان نے اس کی خرید کے لئے بڑی مالی قربانیاں بھی دی ہیں اور مالی قربانیوں کا حق بھی ادا کیا ہے لیکن ہمیشہ یادرکھیں کہ حقیقی حق ادا ہوتا ہے جب ہم ان باتوں کو سمجھیں اور اُن پر عمل کریں جو حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں کرنے کے لئے کہی ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 8؍نومبر 2013ء بمقام ناگویا)

مسجد کی تعمیر کے لئے احمدی خواتین کا بے مثال جذبہٴ قربانی

مسجد بیت الاحد کی تعمیر میں احمدی خواتین اور بچیوں کی بے مثال قربانیاں بھی تاریخ احمدیت جاپان کا ایک زریں باب ہیں۔ خاکسار نے مئی2013ء میں جلسہ سالانہ جاپان کے موقع پر جب یہ تحریک احمدی خواتین کے سامنے رکھی تو ان کی قربانیوں اور خدمت دین کا جذبہ نہایت قابل رشک تھا۔

تحریک کے ابتدائی چند ماہ میں احمدی خواتین نے ایک کلو گرام سے زیادہ وز ن کے زیورات اللہ تعالیٰ کے گھر کے لئے پیش کردیے اور مختلف وقتوں میں جاپان میں پہلی مسجد کی تعمیر کے لئے پیش کئے گئے زیورات کا وزن اندازاً تین سے چار کلو گرام بنتا ہے۔

• مکرمہ حامدہ زریں صاحبہ اپنا گلوبند، ہار، کانٹے، ٹاپس اور 24 طلائی چوڑیاں مسجد کے لئے پیش کرنے کی توفیق حاصل کی۔ ان کی ہمشیرہ منزہ صاحبہ اور بیٹی نادیہ صاحبہ نے بھی اپنے زیورات کے سیٹ مسجد بیت الاحد کے لئے پیش کرنے کی توفیق حاصل کی۔

• مکرمہ مسعودہ بیگم صاحبہ مرحومہ کچھ عرصہ قبل پاکستان سے تشریف لائی تھیں انہوں نے بیٹی کی شادی کے لئے تیار کروایا گیا زیورات کا سیٹ پیش کردیا۔ مکرم اسماء صدف صاحبہ نے اپنی والدہ کی طرف سے ملنے والے نہایت عزیز کڑے اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

• مکرمہ سمیر اغضنفر صاحبہ کی شادی پر ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا انہوں نے زیورات کے تین سیٹ پیش کرنے کی توفیق حاصل کی۔مکرمہ فائزہ رئیس صاحبہ نے اپنی شادی کا سیٹ اور مکرمہ رملہ رئیس صاحبہ نے لاکٹ اس قربانی کے لئے پیش کرنے کی توفیق حاصل کی۔

• مکرمہ فوزیہ طلعت ڈارصاحبہ ایک کنگن، ایک مکمل سیٹ اور تین انگوٹھیاں، ان کی بیٹیوں تہمینہ ڈار صاحبہ اور سبینہ ڈار صاحبہ نے کانٹے اور پازیب مسجد فنڈ کی تحریک پیش کردئے۔

• مکرمہ شازیہ مظفر صاحبہ نے ایک ہار، دو کانٹے اور چار چوڑیاں مسجد فنڈ کے لئے پیش کرکے اس قربانی میں حصہ لیا۔ مکرمہ شبانہ مقبول صاحبہ نے چار عدد طلائی چوڑیاں، مکرمہ راضیہ قیوم صاحبہ نے چار عد دطلائی چوڑیاں،مکرم درثمین صاحبہ نے دو عددطلائی چوڑیاں پیش کردیں۔

• مکرمہ ثمرہ عارف صاحبہ نے لاکٹ، انگوٹھی اور کانٹے، مکرمہ سائرہ شوکت صاحبہ نے چھ چوڑیاں، جھمکے اور انگوٹھی۔ مکرمہ مائدہ ناصر صاحبہ نے ٹاپس اور مکرمہ ثمینہ جنود صاحبہ نے دو کانٹے اور ایک عدد گانٹی مسجد فنڈ میں پیش کرکے اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر میں حصہ لیا۔

سابقہ ادوار میں مسجد کی تحریک پر زیورات پیش کرکے قربانی کرنی والی احمدی بہنوں میں مکرمہ سمیرا حامد صاحبہ، مکرمہ امت الودود صاحبہ، مکرمہ طاہرہ افتخار صاحبہ اور مکرم روبینہ نصر ت صاحبہ نے اپنے تقریباً تمام زیورات اللہ تعالیٰ کے گھر کے لئے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

اس قربانی کے علاوہ احمدی بہنوں نے نقدی کی صورت میں بھی بڑی قربانی پیش کرنے کی توفیق حاصل کی۔ بعض بچیوں نے اپنے جیب خرچ اور بعض نے بڑے شوق سے جمع کی گئی غیر ملکی کرنسی مسجد بیت الاحد کے لئے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ان قربانیوں کا ذکر خیر کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا:
’’بہر حال جب آپ کو توجہ دلائی گئی کہ نیا مرکز خریدیں تو جیسا کہ پہلے میں ذکر کر چکا ہوں، جماعت جاپان نے مالی قربانیاں کیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جگہ خرید لی۔ چھوٹی سی جماعت ہے لیکن اللہ کے فضل سے بڑی قربانی کی ہے، اس لحاظ سے بہت سے لوگوں نے بڑی بڑی رقمیں ادا کی ہیں۔ بچوں نے اپنے جیب خرچ ادا کئے، عورتوں نے اپنے زیور ادا کئے اور بعض نے اپنے پاکستان میں گھر بیچ کر رقمیں ادا کیں یا کوئی جائیداد بیچ کر رقم ادا کی۔ بعض نے اپنے قیمتی اور عزیز زیور، پرانے بزرگوں سے ملے ہوئے زیور، بیچ کر مسجد کے لئے قیمت ادا کی۔ غرض کہ مالی قربانیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانی کرنے کی آپ نے کوشش کی اور پیش کیں۔ اللہ تعالیٰ یہ سب مالی قربانیاں قبول فرمائے اور آپ لوگوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 8؍نومبر 2013ء بمقام ناگویا)

اللہ تعالیٰ کے خاص فضل واحسان سے مسجد کے لئے جگہ کی خرید اور تعمیر تک کے تمام مراحل بخیریت مکمل ہوئے۔ مؤرخہ 6؍جون 2013ء کو مسجد بیت الاحد کی جگہ کی خرید کا معاہدہ عمل میں آیا۔ لیکن یہ معاہدہ اس بات سے مشروط تھا کہ اگر اس جگہ کی بطور مسجد استعمال کی اجازت مل گئی تو معاہدہ پر عمل درآمد ہوگا ورنہ فریقین معاہدہ منسوخ کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے نو مبر میں اجازت نامہ موصول ہونے کی اطلاع بذریعہ فون موصول ہوئی اور 5؍دسمبر 2013ء کو تحریری طور پر اطلاع موصول ہوگئی۔ مسجد کی جگہ کی خرید کی اطلاع سیدنا حضور انور کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپ نے مشفقانہ دعاؤں سے نوازتے ہوئے فرمایا:
آپ کی فیکس محررہ 20؍دسمبر 2013ء مل گئی ہے کہ ’’مسجد بیت الاحد‘‘ جاپان کی رقم کی ادائیگی، انتقال اور Handover کی کارروائی مکمل ہو گئی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ اَللّٰھُمَّ زِدْ وَبَارِکْ۔ اللہ تعالیٰ کرے ا س مسجد کے ذریعہ جاپان میں اسلام کی تبلیغ کی راہیں کھلیں اور یہ مسجد عبادت گزاروں سے بھر جائے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو جماعت کی ترقی اور مضبوطی کے لئے نمایاں خدمات سر انجام دینے کی توفیق بخشے۔آمین

(مکتوب حضور انور 31.12.2013)

سیدنا حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الاحد کی تعمیر کے لئے احباب جماعت احمدیہ جاپان کی قربانیوں کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’مسجد بیت الاحد کے لئے بعض بڑی مالی قربانی کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ جب مسجد بنانے کی تحریک کی گئی تو ایک احمدی بھائی کہتے ہیں کہ جب ان کو محصّل نے یا سیکرٹری مال نے، جس نے بھی تحریک کی تو یہ احمدی ان کو اپنے ساتھ لے گئے کہ میرے ساتھ گھر چلیں اور جو کچھ ہے مَیں پیش کر دیتا ہوں۔ ان کی اہلیہ جاپانی ہیں۔ جب وہ گئے اور چندے کا بتایا تو انہوںنے مختلف ڈبّے لا کے سامنے رکھ دئے اور جب ان میں سے رقمیں نکالی گئیں یا دیکھا گیا تو یہ ساری چیزیں تقریبًا دس ہزار ڈالر مالیت کی تھیں۔ اسی طرح صدر صاحب جاپان نے یہ بھی لکھا کہ بعض احباب کے حالات سے ہمیں آگاہی تھی کہ وہ زیادہ آسودہ حال نہیں ہیں لیکن انہوں نے اپنے اخراجات کو محدود کر کے اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے لئے قربانی کی سعادت حاصل کی اور ایک وقت میں انہوں نے جو رقم دینی تھی اس میں دو اڑھائی لاکھ ڈالر کی کمی آ رہی تھی لیکن احباب نے بڑی قربانی کر کے تکلیف اٹھا کر یہ رقم ادا کی۔ جو پہلے دے چکے تھے انہوں نے بھی پوری کوشش کی اور جو کچھ میسر تھا لا کے پیش کر دیا اور اس طرح تقریباً سات لاکھ ڈالر جمع ہو گئے۔ ایک نوجوان طالبعلم پارٹ ٹائم جاب کر رہے ہیں۔ اسّی ہزار یَن ان کو تنخواہ ملتی ہے۔ اس میں سے ہر مہینے پچاس ہزار یَن مسجد کے لئے ابھی تک پیش کرنے کی توفیق پا رہے ہیں یا جب تک رپورٹ تھی اس وقت تک دیتے رہے۔ احمدی بچے بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں۔ اپنی جیب خرچ لا کر مسجد کے لئے چندہ پیش کرتے رہے اور بچوں میں سب سے زیادہ قربانی ایک بچی نے کی ہے جس نے مختلف کرنسیوں کی صورت میں مختلف وقتوں میں جو اس کو تحفے تحائف اپنے بڑوں سے ملتے رہے وہ دئے اور اس طرح جو رقم اس نے جمع کی ہوئی تھی وہ جمع کی گئی تو نو ہزار ڈالر کے قریب رقم بنی جو اس نے پیش کر دی۔ احمدی خواتین نے بڑی قربانیاں کیں۔ اپنے زیور پیش کر دئے اور ایک خاتون نے تو اپنی چوبیس چوڑیاں پیش کر دیں۔ پھر ایک اور ہیں انہوں نے اپنے زیورات جو ان کی والدہ کی طرف سے ملے تھے وہ دے دئے۔ ایک خاتون جو پاکستان سے آئی ہیں انہوں نے اپنے زیور کا نیا سیٹ مسجد کے لئے پیش کر دیا جو انہوں نے جنوری میں ہی اپنی بیٹی کی شادی کے لئے خریدا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام قربانی کرنے والوں کو اپنی جناب سے بے انتہا نوازے۔ ان کے اموال میں برکت دے۔ ان کے نفوس میں برکت دے۔ انہیں ایمان اور یقین میں بڑھاتا چلا جائے اور ان سب کو اس مسجد کا حق ادا کرنے والا بنائے۔ یہ مسجد جہاں ان کی عبادت کے معیار بلند کرے وہاں یہ آپس میں محبت پیار میں بھی بڑھنے والے ہوں اور اس محبت اور پیار کو دیکھ کر دوسروں کی بھی اس طرف توجہ پیدا ہو۔‘‘

(خطبہ جمعہ 8؍نومبر 2013ء بمقام ناگویا)

مسجد کی جگہ کی خرید کے بعد وقار عمل

مسجد بیت الاحد کے لئے عمارت کی خرید کے بعد بطور مسجد استعمال سے قبل بڑے پیمانے پر وقار عمل کی ضرورت تھی۔صدر جماعت ناگویا مکرم ظفر احمد ظفری صاحب اور نگران مسجد کمیٹی مکرم مرزا حامد بیگ صاحب نے شبانہ روز محنت کرکے نہایت جانفشانی سے اس کام کو انجام دیا۔ مکر عدیل احمد صاحب، مکرم عبد اللہ ایوب صاحب، مکرم غضنفر پرویز صاحب، مکرم مظفر احمد قادیانی صاحب اور دیگر احباب جماعت ناگویا کی اس خدمت کے ذریعہ کم از کم پچاس لاکھ ین کی رقم بچائی گئی۔

مکرم ناصر احمد بھٹی صاحب، مکرمہ امة الودود صاحبہ، مکرمہ روبینہ ناصر صاحب اور مکرمہ مائدہ ناصر صاحبہ نے بھی نہایت بے لوث جذبہ کے ساتھ وقار عمل میں حصہ لیا اور عمارت کے مختلف حصوں کی توڑ پھوڑ کے بعد بسا اوقات رات گئے تک ملبہ کو سنبھالنے کی خدمت انجام دیتے رہے۔

رجسٹریشن اور قانونی مراحل

جگہ کی خرید کے بعد بطور مسجد رجسٹریشن اور اجازت نامہ کا مشکل مرحلہ درپیش تھا۔ اس خدمت کے لئے اللہ تعالیٰ نے مکرم Akio Najima صاحب اور مکرم Ito Hiroshi صاحب کو وسیلہ بنایا۔ مکرم مقبول شاد صاحب اس کام کی نگرانی کے لئے مقرر تھے۔انہوں نے غیر معمولی محنت اور توجہ سے یہ خدمت انجام دی اورا س خدمت کی بدولت اجازت نامہ کا حصول جلد ممکن ہوا۔

سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز مسجد کی تعمیر میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ایک دفعہ تو وکلاء نے مسجد کمیٹی کو مشورہ دیا کہ یہاں کام بہت مشکل معلوم ہوتا ہے اور جماعت رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کے نام انتقال اور دیگر مسائل کا سامنا آ سکتا ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اس معاہدے سے دستبردار ہو جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے راستے کی یہ ساری روکیں جو تھیں وہ ہٹا دیں۔ لوکل لوگوں کی طرف سے مسائل پیدا ہونے کا یا اعتراض آنے کا خدشہ تھا۔ کیونکہ یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ اس شہر میں یہ پہلی مسجد ہے لیکن لوکل لوگوں کے ساتھ جب میٹنگز کی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں کو بھی ایسا انشراح عطا کر دیا کہ انہوں نے فوراً اپنی رضا مندی ظاہر کر دی۔ بعض ان میں سے اس وقت یہاں بیٹھے ہوئے موجود بھی ہوں گے۔ یہ تمام باتیں یہاں کے رہنے والے احمدیوں کے لئے ایمان اور یقین میں اضافے کا باعث ہونی چاہئیں اور مَیں پھر دوبارہ کہوں گا کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20؍نومبر 2015ء بمقام مسجد بیت الاحد جاپان)

مسجد کا نقشہ اور ڈیزائن

مکرم سرمد ہاشمی صاحب اور ان کے ساتھ مکرمہ Tamiya صاحبہ اس خدمت کے لئے مقرر تھیں۔ مکرم سرمد ہاشمی صاحب نے اس خدمت کے لئے ٹوکیو سے ناگویا تک کے متعدد سفر کرکے مسجد کی پیمائشیں وغیرہ کنفرم کیں اور مسجد کو موجودہ صورت میں خوبصورت ڈیزائن میں ڈھالا۔

سیدنا حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الاحد کے کوائف بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ:
’’مسجد کے بعض کوائف بھی مَیں پیش کر دیتا ہوں۔ مسجد کی زمین کا کُل رقبہ 1000مربع میٹر ہے۔ دو منزلہ عمارت ہے۔ جیسا کہ یہاں آنے والوں نے تو دیکھ لیا، دنیا والوں کو بتادوں کہ یہ علاقے کی مین سڑک کے بالکل اوپر ہے۔ یہ سڑک جو ہے علاقے کی ساری بڑی سڑکوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ ہائی وے کے ایگزٹ (exit) کے بہت قریب ہے بلکہ اسے دو ہائی ویز (highways) لگتی ہیں۔ قریب ہی ریلوے اسٹیشن موجود ہے۔ اس ریلوے اسٹیشن سے Nagoya کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ تک سیدھی ٹرین جاتی ہے۔ اس لحاظ سے بھی اس میں بڑی سہولتیں ہیں۔ مسجد کا نام بیت الاحد میں نے رکھا تھا۔ یہاں تبرک کے لئے مسجد مبارک قادیان اور دارالمسیح کی اینٹیں بھی نصب ہیں۔ عمارت کی پہلی منزل پر مسجد کا مین ہال ہے۔ یہ ہال جس میں بیٹھے ہوئے ہیں یہاں پانچ سو سے زائد نمازیوں کی گنجائش موجود ہے اور اوپر کی منزل میں لجنہ ہال ہے اور صحن ہے۔ وہاں چھوٹی سی سائبان لگا کر کچھ فنکشن بھی کئے جا سکتے ہیں اور اس کو شامل کر لیا جائے تو سات آٹھ سو نمازی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری منزل پر دفتر بھی ہے۔ چھوٹی سی لائبریری ہے۔ لجنہ ہال ہے۔ مربی ہاؤس ہے۔ گیسٹ رومز ہیں اور اس مسجد کی عمارت خریدی گئی تھی لیکن بعد میں اس میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اس کی وجہ سے اس کو مسجد کا رنگ دینے کے لئے چاروں کونوں پہ منارے بھی تعمیر کئے گئے اور گنبد بھی بنایا گیا اور یہ سڑک پر ہونے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کھینچنے کا بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20؍نومبر 2015ء بمقام مسجد بیت الاحد جاپان)

سنگ بنیاد کی تقریب اور دعاؤں سے تعمیر کا آغاز

مسجد بیت الاحد کی تعمیر مؤرخہ 25؍اکتوبر 2014ء کو شروع ہوئی۔ مکرم صاحبزادہ مرزا محمود صاحب انچارج سنٹرل آڈٹ آفس لندن مؤرخہ 10؍دسمبر 2014ء کو مسجد کے کام کے معائنہ کے لئے تشریف لائے۔سیدنا حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی منظوری سے مسجد بیت الاحد کے محراب میں مسجد مبارک قادیان اور دارلمسیح کی اینٹیں نصب کرکے باقاعدہ سنگ بنیاد کی تقریب عمل میں آئی۔

مسجد بیت الاحد جاپان کا افتتاح

اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان اور حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے مؤرخہ 11؍نومبر 2015ء کو مسجد بیت الاحد جاپان کی تعمیر کا کام مکمل ہوا۔ سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مسجد کے افتتاح کے موقعے پر خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ آج جماعت احمدیہ جاپان کو اپنی پہلی مسجد بنانے کی توفیق ملی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعمیر کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور آپ لوگ اس مقصد کو پورا کرنے والے ہوں جو مسجد بنانے کا مقصد ہے۔‘‘

نیز آپ نے مسجد کی تعمیر پر آنے والی لاگت کے کوائف پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’اس کی خرید اور تعمیر وغیرہ پر کُل تقریباً تیرہ کروڑ اٹھتر لاکھ یَن (137800000Yen) کی رقم خرچ ہوئی ہے۔ یہ تقریباً کوئی بارہ لاکھ ڈالر کے قریب بن جاتی ہے۔ اس میں سے تقریباً نصف سے کچھ کم تو مرکز کی گرانٹ تھی یا مدد تھی۔ باقی لوگوں نے، یہاں کی جماعت چھوٹی سی ہے، بڑی قربانی کر کے اس مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20؍نومبر 2015ء بمقام مسجد بیت الاحد جاپان)

’’یہ مسجد نہ صرف جاپان بلکہ جو شمال مشرقی ایشیائی ممالک چین، کوریا، ہانگ کانگ، تائیوان وغیرہ ہیں، ان میں جماعت کی پہلی مسجد ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو باقی جگہوں میں بھی راستے کھولنے کا ذریعہ بنائے اور وہاں بھی جماعتیں ترقی کریں اور مسجدیں بنانے والی ہوں۔

ہر احمدی اس حقیقت کو پھیلانے والا بھی ہو کہ اسلام محبت اور سلامتی کا مذہب ہے اور ہماری مساجد اس کا symbol ہیں تا کہ اس قوم میں اسلام کا حقیقی پیغام پھیلانے کے راستے وسیع تر ہوتے چلے جائیں اور یہ قوم بھی ان خوش قسمتوں میں شامل ہو جائے جو اپنے پیدا کرنے والے کو پہچاننے والی اور محسن انسانیت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو سمجھنے والی ہو۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20؍نومبر 2015ء بمقام مسجد بیت الاحد جاپان)

(انیس رئیس۔ جاپان)

پچھلا پڑھیں

میانمار میں پہلی مسجد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 دسمبر 2022