• 1 فروری, 2023

دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں یہ شوق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
ہمیں اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے اور جائزے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں یہ شوق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ رمضان میں ایک مہینہ نہیں یا ایک مرتبہ اعتکاف بیٹھ کر پھر سارا سال یا کئی سال اس کا اظہار کر کے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے اس شوق اور لگن کو اپنے اوپر لاگو کر کے، تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب مستقل طور پر حاصل ہو، ہم میں سے کتنے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پیار کا سلوک کرتے ہوئے دعاؤں کے قبولیت کے نشان دکھاتا ہے، اُن سے بولتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر یہ معیار حاصل کرنا یا حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔

پس اسلام کے احیائے نو کایہی تو وہ انقلاب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پیدا کرنے کے لئے آئے تھے۔ اگر واقع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام ہر ایک کو معلوم ہو اور آپ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کی ہر ایک میں تڑپ ہو، اگر ہمیں پتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر کتنے عظیم نشانات دکھائے اور آپ کے ماننے والوں میں سے بھی بے شمار کو نشانات سے نوازا تو ہم میں سے ہر ایک اُس مقام کے حصول کی خواہش کرتا اور اس کے لئے کوشش کرتا جہاں اُس سے بھی براہِ راست یہ نشان ظاہر ہوتے اور اُسے نظر آتے۔ قوتِ ایمان میں وہ جِلاء پیدا ہوجاتی جس کے ذریعہ سے پھر ایسی قوتِ ارادی پیدا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے ایک خاص جوش پیدا کر دیتی ہے۔

پس اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نشانات جن کا اظہار اللہ تعالیٰ آج تک فرماتا چلا آ رہا ہے ہمارے دلوں میں ایک جَوت جگانے والا ہونا چاہئے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے آپ علیہ السلام اور اپنے اور آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کے طفیل آپ کے ہر اُسوہ کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس مقام پر پہنچ جائیں جہاں اللہ تعالیٰ ہم سے ایک خاص پیار کا سلوک کر رہا ہو۔

ہم دنیاوی چیزوں میں تو دوسروں کی نقل کرتے ہیں۔ کسی کی اچھی چیز دیکھ کر اُس کو حاصل کرنے کی خواہش کرتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کے لئے کئی طریقے بھی استعمال کرتے ہیں، اور اس معاملے میں ہر ایک اپنی سوچ اور اپنی پہنچ کے مطابق عمل کرنے کی یا نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی کسی کا مثلاً اچھا، خوبصورت جوڑا ہی پہنا ہوا دیکھ لے، سوٹ پہنا ہوا دیکھ لے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اُس کو بھی مل جائے اور اُس کے پاس بھی ایسا ہی ہو۔ کوئی کوئی اَور چیز دیکھتا ہے تو اُس کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ اب تو ٹی وی نے دنیا کو ایک دوسرے کے اتنا قریب کر دیا ہے کہ متوسط طبقہ تو الگ رہا، غریب افراد بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ میرے پاس زندگی کی فلاں سہولت بھی موجود ہونی چاہئے اور فلاں سہولت بھی موجود ہونی چاہئے۔ ٹی وی بھی ہو میرے پاس اور فریج بھی ہو میرے پاس کیونکہ فلاں کے پاس بھی ہے۔ وہ بھی تو میرے جیسا ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ اگر فلاں کو یا زید کو یہ چیزیں اُس کے کسی عزیز نے تحفۃً لے کر دی ہیں تو مجھے اس بات پر لالچ نہیں کرنا چاہئے۔ فوراً یہ خیال ہوتا ہے کہ زید کے پاس یہ چیز ہے تو میرے پاس بھی ہو اور پھر قرض کی کوشش ہوجاتی ہے۔ یا بعض لوگوں کو اس کام کے لئے بعض جگہوں پرامداد کی درخواست دینے کی بھی عادت ہو گئی ہے۔ بیشک جماعت کا فرض ہے کہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ضرورتمند کی ضرورت پوری کرے لیکن درخواست دینے والوں کو، خاص طور پر پاکستان، ہندوستان یا بعض اور غریب ممالک بھی ہیں، اُن کو جائز ضرورت کے لئے درخواست دینی چاہئے اور اپنی عزتِ نفس کا بھی بھرم رکھنا چاہئے۔ اسی طرح ذرا بہتر معاشی حالت کے لوگ ہیں تو دیکھا دیکھی وہ بھی بعض چیزوں کی خواہش کرتے ہیں، نقل کرتے ہیں۔ کسی نئے قسم کا صوفہ دیکھا تو اُس کو لینے کی خواہش ہوئی۔ نئے ماڈل کے ٹی وی دیکھے تو اُس کو لینے کی خواہش ہوئی یا اسی طرح بجلی کی دوسری چیزیں یااور gadget جو ہیں وہ دیکھے تو اُن کو لینے کی خواہش ہوئی۔ یا کاریں قرض لے کر بھی لے لیتے ہیں۔ ضمناً یہ بھی یہاں بتا دوں کہ آجکل دنیا کے جو معاشی بدحالی کے حالات ہیں اُن کی ایک بڑی وجہ بنکوں کے ذریعہ سے ان سہولتوں کے لئے سُود پر لئے ہو ئے قرض بھی ہیں۔ سُود ایک بڑی لعنت ہے۔ جب چیزیں لینی ہوں تو یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ اُن کو کہاں لے جائے گا۔ بہر حال یہ چیزیں خریدنا یا سود پر قرض دینا ہی ہے جس نے آخر کار بہتوں کو دیوالیہ کر دیا۔

(خطبہ جمعہ 24؍جنوری 2014ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

انسانیت کی خدمت ہماری پہچان

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جنوری 2023