• 3 مارچ, 2024

فطرتِ اسلامی

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃ ِفَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِیْمَةَبَھِیْمَةَ جَمْعَآءَ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِیْھَا مِنْ جَدْعَآءَ

(مسلم کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر بچہ فطرتِ اسلامی پر پیدا ہو تا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔ یعنی قریبی ماحول سے بچے کا ذہن متاثر ہوتا ہے جیسے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا۔ کیا تمہیں ان میں کوئی کان کٹا نظر آتا ہے؟ یعنی بعد میں لوگ اس کا کان کاٹتے ہیں اور اسے عیب دار بنا دیتے ہیں۔

پچھلا پڑھیں

ساؤتومے میں جماعت احمدیہ کی سولہویں مسجد کا افتتاح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 فروری 2023