• 4 مارچ, 2024

دلچسپ و مفید واقعات و حکایات (قسط 17)

دلچسپ و مفید واقعات و حکایات
بیان فرمودہ
حضرت مصلح موعودؓ 
قسط 17

خلیفہٴ وقت کی حفاظت جماعت کا فرض ہے

مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو بعض دوستوں نے لکھنا شروع کر دیا کہ خلیفہ وقت کو نماز کے لئے مسجد میں نہیں آنا چاہئے۔ اِسی طرح ملاقات کا سلسلہ بھی بند کر دینا چاہئے۔

میں نے کہا اس کامطلب تو یہ ہوا کہ خلیفہ وقت کو کسی منارہ پر باندھ دیا جائے اور جماعت اپنا فرض ادا نہ کرے۔جب تک خلافت رہے گی خلیفہ مسجد میں نماز پڑھانے ضرور جائے گا، وہ ملاقات کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا، چاہے دشمن اُس پر حملہ کرے یا نہ کرے۔ اِسی طرح وہ اپنے فرائض بھی بجا لائے گا آگے جماعت کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں کہ وہاں کوئی مشکوک آدمی تو موجود نہیں۔

رسول کریمﷺ نے بھی یہودیوں کی دعوت کو منظور کر لیا تھا اورآپ کی شان یہی تھی کہ اس دعوت کو منظور فرما لیتے۔ صحابہؓ کایہ فرض تھا کہ وہ حفاظت کے پیش نظر کھانا چَکھ لیتے لیکن اُن سے یہ غلطی سرزدہو گئی اُنہوں نے کھانا چکھا نہیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ رسول کریمﷺ نے کھانا کھا لیا۔ آپ کو الہاماًپتہ لگ گیا کہ اِس کھانے میں زہر ملا ہوا ہے اور آپ نے لقمہ منہ سے نکال کر پھینک دیا تھا لیکن غالباً حضرت عائشہؓ کی یہ روایت ہے کہ وفات کے وقت آپ نے فرمایا کہ یہودیوں نے کھانے میں جو زہر کھلایا تھا اُس کا اثر اُس وقت تو نہیں ہوا لیکن اب جسم میں اُس کا اثر معلوم ہوتا ہے یعنی اُس وقت توآپ بچ گئے لیکن اس زہر کا اعصاب پر ایسا اثر ہوا کہ بڑھاپے میں جا کر وہ محسوس ہوا۔

اسی طرح ایک اور واقعہ آتا ہے آپ ایک جنگ سے واپس آرہے تھے کہ رستہ میں ایک جگہ آرام کرنے کے لئے لشکر ٹھہر گیا۔ صحابہؓ کا خیال تھا کہ چونکہ ہم اب مدینہ کے قریب آگئے ہیں اس لئے خطرہ باقی نہیں رہا مگر وہ تھکے ہوئے تھے اس لئے علیحدگی میں آرام کرنے کے لئے بکھر گئے اور محمد رسول اللہﷺ اکیلے ایک درخت کے نیچے رہ گئے۔ آپ نے اپنی تلوار درخت کے ساتھ لٹکا دی اور خود آرام کی خاطر لیٹ گئے۔ لمبے سفر کی تھکاوٹ تھی اِس لئے آپ کو نیند آگئی۔

ایک کافر جس کا بھائی مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے مارا گیا تھا اُس نے یہ قسم کھائی تھی کہ چونکہ اُس کے بھائی کو مارنے والے مسلمان ہی ہیں اور وہ محمد رسول اللہﷺ کے ماننے والے ہیں اِس لئے میں اپنے بھائی کا انتقام لینے کی خاطر محمد رسول اللہﷺ کو ماروں گا۔ چنانچہ وہ اس ارادہ سے چوری چُھپے آپ کے ساتھ ساتھ آرہا تھا۔ اس نے اس موقع کو جب صحابہؓ کسی خطرہ کا احساس نہ کرتے ہوئے آرام کی خاطر منتشر ہو گئے تھے اور رسول کریمﷺ ایک درخت کے سایہ میں اکیلے سوئے ہوئے تھے، غنیمت جانا۔ اُس نے درخت سے تلوار اُتاری اور آپ کو آواز دے کر کہا اب کون تم کومجھ سے بچا سکتا ہے؟

اُس وقت باوجود اس کے کہ آپ بے ہتھیار تھے اور بوجہ لیٹے ہوئے ہونے کے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے، آپ نے نہایت اطمینان اور سکون سے جواب دیا۔’’اللہ‘‘۔ اب اللہ کا لفظ تو سارے لوگ کہتے ہیں۔ فقیر بھی اللہ اللہ کہتے ہیں لیکن ظاہر میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن محمد رسول اللہﷺ نے جب ’’اللہ‘‘ کہا تو خداتعالیٰ کی ذات آپ کے پیچھے موجود تھی۔ آپ کا یہ لفظ زبان سے نکالنا تھا کہ اُس دشمن کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ وہ تلوار آپ نے فوراً اُٹھا لی۔

اب وہ شخص جو آپ کے قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا تھا۔ آپ نے معلوم کرنا چاہا کہ آیا میرے منہ سے اللہ کا لفظ سُن کر بھی اسے سمجھ آئی ہے یا نہیں آپ نے اُسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اب مجھ سے تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ تو اُس نے کہا آپ ہی رحم کریں تو مجھے چھوڑ سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے چھوڑ دیا اور فرمایا کہ تمہیں بھی کہنا چاہئے تھا کہ اللہ ہی بچا سکتا ہے کیا میرے منہ سے سُننے کے باوجود بھی تمہیں اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔

اب دیکھ لو! خداتعالیٰ نے اپنے رسول کی ایک نشان کے طور پر حفاظت تو کر دی لیکن دراصل یہ ذمہ داری صحابہؓ کی تھی۔ خداتعالیٰ نے کہا میرا کام حفاظت نہیں ہاں موت سے بچانا میرا کام ہے اور موت سے میں بچا لوں گا لیکن اُس نے حملہ میں کوئی روک پیدا نہیں کی۔

پس کچھ کام جماعت کو بھی کرنے پڑتے ہیں۔ خلیفہ پر پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔ خلیفہ اپنا کام کرے گا اور جماعت کو اپنا فرض ادا کرنا ہو گا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ555-557)

مغز اور روح کے بغیر عبادت بیکار ہے

خالی حج کوئی چیز نہیں۔مجھے یاد ہے جب مَیں حج کر کے واپس آرہا تھا تو جس جہاز پر میں واپس آرہا تھا اُس کا کپتان انگریز تھا۔اس نے مجھ سے کہا میں نے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔ آپ کی عمر 23، 24سال کی ہے۔ ( میں اُس وقت خلیفہ نہیں بنا تھا)۔ آپ حج کرکے آئے ہیں، اس لئے اب آپ کو نماز روزے کی ضرورت تو نہیں رہی۔

میں نے کہا حج کا نماز، روزہ ترک کرنے سے کیا تعلق ہے؟ اُس نے کہا مسلمان کہتے ہیں کہ حج کرنے سے نماز، روزہ معاف ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا جب آپ نیا سوٹ پہن لیتے ہیں تو کیا دوسرے سوٹ کی حفاظت ترک کر دیتے ہیں؟ اِس پر وہ ہنس پڑا۔ میں نے کہا حج کیا ہے؟ ایک نیا سوٹ ہے۔ اب کیا اُس نئے سوٹ کی حفاظت کی وجہ سے دوسر ے لباس کی حفاظت ترک کر دی جائے گی؟

مجھے خوب یاد ہے کہ جس سال میں نے حج کیا اُس سال سُورت کے ایک تاجر نے بھی حج کیا تھا۔ میں نے دیکھا جب وہ شخص منیٰ کی طرف جا رہا تھا تو وہ اُردو کے نہایت گندے عشقیہ شعر پڑھ رہا تھا۔ اتفاقاً جس جہاز پر میں واپس آرہا تھا اُس پر وہ تاجر بھی سوار تھا۔

جب اُسے پتہ لگا کہ میں کون ہوں تو اس شخص نے کہا خدایا! یہ جہاز جس میں یہ شخص ہے غرق کیوں نہیں ہو جاتا۔ میں نے سُنا تو کہا اگر یہ جہاز غرق ہو گیا تو تُو کہاں جائے گا؟ وہ شخص دن میں کوئی نماز نہیں پڑھتا تھا لیکن یہ بات اکثر کہتا رہتا تھا کہ خدایا! وہ جہاز جس میں یہ شخص سوار ہے غرق کیوں نہیں ہو جاتا۔

ایک دن میں نے اُس سے سوال کیا کہ کیا آپ حج کرکے آئے ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا میں نے آپ کو پہلی دفعہ اُس وقت دیکھا تھا جب آپ ایک اونٹ پر سوار ہو کر منیٰ کی طرف جا رہے تھے۔ یہ وقت دعا کاہوتا ہے لیکن آپ اُس وقت فحش اور گندے شعر پڑھ رہے تھے۔ اسی طرح آپ نماز بھی نہیں پڑھتے۔ پھر آپ پر کون سی مصیبت پڑی تھی کہ آپ حج کے لئے گئے اور اتنا روپیہ تباہ کیا؟

اُس نے کہا میں میمن قوم کا ایک فرد ہوں، میرا باپ ایک بڑا تاجر ہے، ہماری دُکان سے ہر روز لوگ دس دس پندرہ پندرہ ہزار روپیہ کا سَودا لے جاتے ہیں، ہمارے ساتھ کی دُکان پر دو بھائی کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک بھائی حج کر کے آیا اور واپس آکر اُس نے دُکان پر ایک بورڈ لگایا۔ جس پر اُس نے اپنے آپ کو حاجی لکھا۔ اب اس بورڈ کو پڑھ کر ہر شخص اُن کی دکان پر جانے لگا جس سے ہماری بِکری کم ہو گئی۔ میرے باپ نے کہا تم بھی حج کر آؤتاکہ ہم بھی اپنی دکان پر حاجی کا بورڈ لگا سکیں نہیں تو ہماری دکان ختم ہو جائے گی، ورنہ مجھے حج سے کیا کام؟

حقیقت یہ ہے کہ مذہب قبول کرنے کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ انسان کی حرکات، افکار، اور دماغ سب تبدیل ہو جائیں۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو کسی مذہب کے قبول کرنے سے اُسے کچھ بھی نہیں ملتا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ557-558)

اطاعت یہی ہے پہلے عمل پھر تحقیق

جو شخص خداتعالیٰ کا ہو جاتا ہے وہ ہر کام کو بغیر یہ سوچنے کے کہ یہ عقل کے معیار پر پورا اُترتا ہے یا نہیں کرتا چلا جاتا ہے۔

ایک دفعہ رسول کریمﷺ مسجد میں وعظ فرما رہے تھے۔ بعض صحابہ مجلس کے کناروں پر کھڑے تھے، آپ نے اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ اُس وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ پاس کی گلی میں سے گزر رہے تھے۔ آپ کے کان میں یہ آواز پڑی تو آپ وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے مسجد کی طرف اُنہوں نے گھسٹتے ہوئے آنا شروع کر دیا۔

کسی شخص نے آپ سے کہا یہ کیا احمقانہ حرکت ہے کہ تم گلی میں اس طرح بیٹھ کر چل رہے ہو۔ آپ نے فرمایا میرے کان میں رسول کریمﷺ کی یہ آواز پڑی تھی کہ بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھ گیا۔ اس پر اس شخص نے کہا کیا تمہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ رسول کریمﷺ نے یہ حکم اُن لوگوں کو دیا ہے جو مسجد میں آپ کے سامنے کھڑے تھے؟ آپ نے فرمایا یہ درست ہے لیکن موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ پتہ نہیں مَیں مسجد میں پہنچنے سے قبل ہی مر جاؤں اور اِس حکم پر عمل نہ کر سکوں تو خداتعالیٰ کے سامنے میں کیا جواب دوں گا۔ کیا خداتعالیٰ کے سامنے میں یہ کہوں گا کہ رسول کریمﷺ کا ایک حکم میں نے نہیں مانا تھا اس لئے جونہی آواز میرے کان میں پڑی تو میں بیٹھ گیا۔ چاہے یہ بیوقوفی کا کام قرار دے دیا جائے لیکن اگر مسجد میں جانے سے قبل مجھے موت آگئی تو خداتعالیٰ کے سامنے میں یہ تو کہہ سکوں گا کہ میں نے رسول کریمﷺ کا ہر حکم جو میرے کانوں میں پڑا مانا ہے۔

اِسی طرح جب رسول کریمﷺ نے شراب کے حرام ہونے کے متعلق اعلان فرمایا تو اُس وقت کچھ صحابہؓ ایک شادی کے موقع پر جمع تھے۔ ایک مٹکا باقی تھا جس کو وہ شروع کرنے ہی والے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز آئی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔

اِس پر اُن میں سے ایک نے کہا سنو رسول کریمﷺ نے فرمایا ہے شراب حرام ہو گئی ہے۔دوسرے نے کہا باہر نکل کر ذرا تصدیق کر لو لیکن جس صحابی ؓ کو اُس نے یہ بات کہی تھی اُس نے ڈنڈا مٹکے پر مارا اور اُسے پھوڑ کر کہا خدا کی قسم! میں پہلے مٹکاتوڑوں گا اور پھر تحقیقات کروں گا۔ جب میرے کان میں آواز پڑ گئی تو تحقیقات کا سوال بعد میں پیدا ہو گا، عمل پہلے ہو گا۔

پس صحابہؓ میں یہ روح تھی کہ وہ احکام پر فوری طور پر عمل کرتے تھے اور یہ نہیں سوچتے تھے کہ آیا وہ عقلی معیار پر پورا اُترتے ہیں یا نہیں۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ559-560)

انداز محبت

ایک جج تھے جو احمدی تھے بعد میں اُنہیں ٹھوکر بھی لگی۔ اُنہوں نے جب بیعت کی تو اس کے بعد ایک دفعہ مجھے ملنے کے لئے آئے۔ میں اُنہیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ میرا جوڑا پہن کر آ گئے ہیں۔ شلوار، کوٹ اور قمیض سب یوں معلوم ہوتے تھے کہ وہ میرے ہی ہیں۔

میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ ہمیشہ اِسی قسم کا لباس پہنتے ہیں؟ تو اُنہوں نے جواب دیا جب میں نے بیعت کی تو میں نے خیال کیا کہ اب ظاہری طور بھی آپ کا رنگ اختیار کرنا چاہئے۔ چنانچہ میں نے ایک احمدی سے پوچھا کہ آپ کا لباس کس قسم کا ہوتا ہے؟ تو اس نے بتایا کہ آپ کا لباس اِس اِس قسم کا ہوتا ہے تو میں نے اِسی قسم کا لباس بنوا لیا۔ انسان کی روحانی طور پر بھی اس قسم کی کوشش کی ضرورت ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے متعلق روایت آتی ہے کہ جب آپ حج کے لئے تشریف لے جاتے تو ایک جگہ پر پہنچ کر آپ رستہ سے ہٹ کر کچھ دُور چلے جاتے اور وہاں کچھ دیر کے لئے اس طرح بیٹھ جاتے جیسے کوئی پیشاب کرنے بیٹھتا ہے۔

ایک صحابیؓ نے دیکھا کہ آپ ہر دفعہ اس جگہ جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے بظاہر پیشاب کرنے کی غرض سے وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر واپس آجاتے ہیں تو اُنہوں نے دریافت کیا کہ آپ اُس جگہ کیوں جاتے ہیں؟

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا میں ہمیشہ اِس بات کو چُھپاتا رہا ہوں اور میری خواہش تھی کہ میرا یہ راز لوگوں کو معلوم نہ ہو لیکن چونکہ آپ نے اب پوچھ لیا ہے اِس لئے بتا دیتا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ رسول کریمﷺ نے اِس جگہ بیٹھ کر پیشاب کیا تھا۔ میں نے چاہا کہ چلو آپ کے اِس کام کی بھی نقل ہو جائے۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ560-561)

ماحول پر نظر اور پہرہ دینا مومن کا شیوہ ہے

ایک صحابیؓ روایت فرماتے ہیں کہ ایک رات خطرہ کا الارم ہوا۔ سب لوگ جاگ اُٹھے اور ایک جگہ پر اکٹھے ہو کریہ تجویز کرنے لگے کہ رسول کریمﷺ کی خدمت میں اطلاع دے کرہدایات لی جائیں۔ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک سوار آرہا ہے۔ جب لوگ بڑھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سوار خود رسول کریمﷺ ہیں۔ آپﷺ نے ہمیں مخاطب کر تے ہوئے فرمایا کوئی فکر کی بات نہیں تم سب گھروں میں واپس چلے جاؤ، اور سوجاؤ۔ کچھ بدوی لوگ اُونٹوں کولڑا رہے تھے میں نے خیال کیا کہ شاید دشمن آگیا ہے چنانچہ میں اُس طرف چلا گیا جِدھر سے آواز آرہی تھی تا صحیح خبر لا سکوں۔ یہ ذہنیت تھی جو رسول کریمﷺ اور صحابہؓ کے اندر پائی جاتی تھی۔

اس کے مقابلہ میں ہماری جماعت کی یہ حالت ہے کہ چوہدری عبداللہ خان صاحب نے مجھے بتایا کہ محراب کے سامنے جولوگ بیٹھے تھے میں نے جب اُن سے بعض باتیں دریافت کیں تو ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ شخص مشکوک حالت میں تھا۔ وہ کمبل اوڑھے ہوئے تھا اور اُس کا منہ کمبل سے ڈھکا ہوا تھا۔ جب وہ سجدہ میں گیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی چیز اُس کی جیب سے گر رہی ہے لیکن اس شخص کو یہ احساس نہ ہوا کہ اُسے احتیاطی تدبیر کرنی چاہئے۔ اُس نے یہ خیال کیا کہ یہ صدر انجمن احمدیہ کا کام ہے مجھے اس کے کام میں دخل نہیں دینا چاہئے۔

قادیان میں ایک دفعہ اسی قسم کا واقعہ ہوا۔ میں دارالحمد میں تھا کہ میرے ایک لڑکے نے مجھے اطلاع دی کہ ایک نوجوان آیا ہے اور وہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ میں باہر آیا لیکن ابھی رستہ میں ہی تھا کہ باہر شور پڑ گیا۔ باہر آکر دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ کوئی نوجوان تھا، اُس کے پاس چُھرا تھا اور وہ حملہ کی نیت سے یہاں آیا تھا۔ اب اُسے پکڑ لیا گیا ہے۔

مجھے عبدالاحد خان پٹھان نے بتایا کہ یہ نوجوان بچوں کے پاس کھڑا تھا اور اُن سے کہہ رہا تھا کہ میں مرزا صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ بات کرتے وقت اُس نے اپنی ٹانگ کوحرکت دی اور یہ حرکت اِس قسم کی تھی کہ جیسے پٹھان اُس وقت کیا کرتے ہیں جب اُنہوں نے چُھرا چُھپایا ہوا ہو۔ میں نے اُسے اس قسم کی حرکت کرتے دیکھا تو میں نے اُسے پکڑ لیا اور ٹٹولنے پر واقع میں اندر سے چُھرا نکل آیا۔ لیکن یہاں وہ نوجوان آتاہے، مسجد میں آکر بیٹھتا ہے، اس کی ظاہری حالت اُسے مشکوک بتاتی ہے پھر جب نماز پڑھتا ہے تو اُس کی جیب میں سے چاقو نیچے گر جاتا ہے اور وہ اُسے اُٹھاکر جیب میں دوبارہ ڈال لیتا ہے لیکن اُسے کسی نے پکڑا نہیں۔

ایک دفعہ مکہ کے قریب دشمن نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ حضرت رسول کریمﷺ مدینے میں ایک خیمہ میں بیٹھے تھے کہ کھٹ کھٹ کی آواز آئی۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا کون ہے؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ میں فلاں شخص ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کیا بات ہے؟ تو اُس نے عرض کیا یارسول اللہ!ﷺ میں نے خیال کیا کہ مکہ والوں نے مسلمانوں سے لڑائی شروع کر دی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کفار مدینہ پر بھی حملہ کر دیں۔ میں یہاں حاضر ہوا ہوں تا آپﷺ کی خدمت میں درخواست کروں کہ مدینہ کی حفاظت کے لئے میری قوم حاضر ہے۔

اب دیکھو مکہ میں لڑائی ہو رہی ہے لیکن صحابہؓ مدینہ میں پہرہ کا انتظام کرنے لگ جاتے ہیں۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ561-562)

جب بندہ نہیں بولتا تو خدا بولتا ہے

جب عبداللہ بن ابی بن سلول نے یہ کہا کہ جو شخص سب سے زیادہ معزز ہے یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول۔ وہ نعوذ باللّٰہ سب سے ادنیٰ اور ذلیل شخص یعنی محمد رسول اللہﷺ کو مدینہ سے باہر نکال دے گا تو یہ خبر اس کے بیٹے کو بھی ملی جو اسلام لا چکا تھا۔ وہ رسول کریمﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول اللہ!ﷺ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ میرے باپ نے ایسے الفاظ کہے ہیں اور اس قسم کے الفاظ کی سزا قتل کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا میرا تو اُسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں۔ اس نے کہا یارسول اللہ !ﷺاگر آپ کا یہ ارادہ ہو کہ میرے باپ کو قتل کر دیا جائے تو آپ مجھے حکم دیں کہ میں اُسے قتل کروں۔ اگر کسی اور شخص نے میرے باپ کو قتل کیا تو ممکن ہے کبھی میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوجائے کہ اُس نے میرے باپ کو قتل کیا ہے اور میں اس کو کوئی نقصان پہنچا بیٹھوں لیکن رسول کریمﷺ نے فرمایا میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

جب وہ شخص مدینہ پہنچا تو رسول کریمﷺ مدینہ میں داخل ہو چکے تھے، باقی لوگ داخل ہو رہے تھے۔ وہ تلوار کھینچ کر رستہ میں کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہنے لگا اگر تم نے مدینہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ تم مدینہ میں داخل ہونے سے قبل یہ اعلان کرو کہ مَیں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور رسول کریمﷺ سب سے زیادہ معزز ہیں اور جب تک تم اِس بات کا اعلان نہیں کرو گے میں تمہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔

چنانچہ عبداللہ بن ابی بن سلول نے اعلان کیا میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور محمد رسول اللہﷺ سب سے زیادہ معزز ہیں۔ یہ الٰہی تصرف تھا۔ خود عبداللہ کے بیٹے نے یہ تہیہ کر لیا کہ جب تک میں اپنے باپ کے منہ سے یہ فقرہ نکلوا نہ لوں گا میں اُسے چھوڑوں گا نہیں۔

اگر تم بھی خداتعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کر لو تو خواہ دشمن تمہیں نقصان پہنچانے کی کتنی ہی کوشش کرے اللہ تعالیٰ اِس کے ازالہ کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کر دے گا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ565-566)

احمدی غص بصرسے کام لیتے ہیں

ایک دفعہ عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوا اور ایک احمدی ڈاکٹر بطور گواہ پیش ہوئے۔ مخالف فریق یہ سمجھتا تھا کہ احمدی غَضِّ بصر سے کام لیتے ہیں اور عورتوں کی طرف نہیں دیکھتے۔

اُس کے مخالف فریق کے وکیل نے احمدی ڈاکٹر پر یہ سوال کیا کہ کیا آپ نے فلاں عورت کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھا تھا؟ اُس کے جواب میں اُنہوں نے کہا میں نے اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا تھا حالانکہ وہ کہہ سکتا تھا کہ میں اُس کی آواز کو پہچانتا ہوں، اُس کی چال کو پہچانتا ہوں۔

لیکن غیر احمدی وکیل کو چونکہ یہ پتہ تھا کہ احمدی سچ کی خاطر جھوٹ نہیں بولتا اِس لئے اُس نے یہ تدبیر کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عورت جس پر مقدمہ تھا بری ہو گئی۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ573)

دولت کے درست استعمال کے لئے بھی دعا کرو

اِس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم دُعائیں کریں جہاں اللہ تعالیٰ ہمیں روپیہ دے وہاں ہمیں اس کے صحیح استعمال کی بھی توفیق عطا فرمائے کیونکہ روپیہ کا غلط استعمال کیا جائے تو وہ ضائع ہو جاتا ہے۔

حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ فرمایا کرتے تھے کہ اُن کا ایک دوست بہت امیر تھا۔ جب وہ مرا تو اُس نے لاکھوں روپیہ اپنے پیچھے چھوڑا اور وہ روپیہ اُس کے لڑکے کو ملا۔ خود تو اُس نے بڑی تنگی میں گزارا کیا تھا لیکن اپنے بیٹے کے لئے اُس نے کافی سرمایہ اپنے پیچھے چھوڑا۔ ایک دن کسی شخص نے آپ سے آکر کہا کہ آپ اپنے دوست کے بیٹے کو سمجھائیں وہ قیمتی تھان کپڑے کے خریدتا ہے اور اُنہیں سارا دن پھاڑتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے یہ بات سُن کر بڑا تعجب ہوا کیونکہ میرے نزدیک یہ پاگلانہ حرکت تھی۔ تاہم میں نے اُسے اپنے پاس بلایا اور کہا میاں! تمہارے متعلق یہ شکایت آئی ہے کہ تم اپنی دولت کو ضائع کر رہے ہو۔ تم قیمتی تھان کپڑے کے خریدتے ہو اور پھر انہیں بیٹھے پھاڑتے رہتے ہو، اس کا کیا فائدہ۔

وہ کہنے لگا مولوی صاحب! نیا کپڑا پھاڑنے کے نتیجہ میں جو چِر کی آواز آتی ہے وہ مجھے بڑی اچھی لگتی ہے اِس لئے میں سارا دن یہی کام کرتا رہتا ہوں۔

اب دیکھو اگرچہ اس کے پاس روپیہ بہت تھا لیکن اس نے اُسے ناواجب طور پر ضائع کر دیا۔ اسلامی بادشاہوں کے پاس بھی بہت روپیہ رہا لیکن اُنہوں نے بھی اسے اِسی طرح ضائع کر دیا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ585)

نامعلوم پھر یہ موقع ملے یا نہ ملے

جرمنی میں ہمبرگ یونیورسٹی کے ایک مشہور پروفیسر ہیں جو مشرقی زبانوں کے ماہر ہیں۔ یونیورسٹی نے انہیں اسلام پر ایک کتاب لکھنے کے لئے بھی مقرر کیا ہے اُنہوں نے ایک جرمن رسالہ میں ایک اہم مضمون لکھا تھا جس پر امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ نے انہیں مبارکباد دی اور لکھا کہ میں نے اب تک جرمن کے کسی رسالہ میں اتنا قیمتی مضمون نہیں پڑھا۔

وہ پروفیسر جرمنی میں میری آمد کی خبر سُن کر مجھے ملنے کے لئے آگیا اور کہنے لگا میں نے آپ سے بعض مخفی باتیں کرنی ہیں آپ اپنے سیکرٹری اور دوسرے ساتھیوں کو ذرا کمرہ سے باہر بھیج دیں۔ چنانچہ میں نے اپنے سیکرٹری اور دوسرے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کچھ دیر کے لئے کمرہ سے باہر چلے جائیں۔

جب وہ کمرہ سے باہر چلے گئے تو اُس نے کہا میں آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ اسے فِی الحال مخفی رکھا جائے۔ میں نے کہا بہت اچھا، بیعت کے مخفی رکھنے میں کوئی حرج نہیں چنانچہ اُس نے بیعت کر لی۔

جب نماز کا وقت آیا تو میں اُس کمرہ میں گیا جو نماز کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔ جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ وہ پروفیسر بھی مقتدیوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے اپنے مبلّغ کو پاس بلایا اور اس سے کہا کہ اِس سے پوچھو کہ تم نے تو اپنی بیعت کو مخفی رکھنے کے لئے کہا تھا اور اب خود ہی نماز میں شامل ہو گئے ہو، اب تمہاری بیعت مخفی کس طرح رہ سکتی ہے؟

مبلّغ نے دریافت کیا تو وہ کہنے لگا کہ بے شک میں نے اپنی بیعت مخفی رکھنے کی درخواست کی تھی لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ شاید خداتعالیٰ انہیں میری خاطر ہی جرمنی میں لایا ہے۔ پھر نہ معلوم یہ موقع نصیب ہو یا نہ ہو۔ اِس لئے میں نے کہا کہ آپ کی اقتداءمیں چند نمازیں تو پڑھ لوں۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ592)

اتفاق کی برکت

کہتے ہیں ایک شخص نے موت کے وقت اپنے سب بیٹوں کو بُلایا اور ایک جھاڑو منگوا کر کہا اِس جھاڑو میں سے ایک تنکا نکال کر توڑو۔ اُنہوں نے اُس تنکے کو بڑی آسانی سے توڑ دیا۔ اس کے بعد اُس نے انہیں جھاڑو دیا اور کہا کہ اسے توڑو مگر ان سے نہ ٹوٹا۔ اِس پر اُس نے کہا میرے بیٹو! تم نے دیکھا کہ ایک ایک تنکا ذاتی طور پر کوئی قوت نہیں رکھتا، تم نے اُسے ایک اُنگلی کے دباؤ سے ہی توڑ دیا لیکن جھاڑو کو توڑنا تمہارے لئے مشکل ہو گیا۔

اسی طرح اگر تم متفرق ہو گئے تو دُنیا کی ہر طاقت تمہیں تباہ کر سکتی ہے لیکن اگر تم اکٹھے اور متفق رہے تو تم محفوظ ومصؤن رہو گے۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ600)

مایوسی وپژمردگی

کہتے ہیں کوئی میراثی تھا جو ہمیشہ بیکار رہتا تھا جب اس کی بیکاری سے تنگ آکر اُس کی بیوی اُسے کوئی کام کرنے کے لئے کہتی تو وہ جواب دیتا کہ بڑی دِقّت تو یہی ہے کہ ان دنوں کوئی کام نہیں ملتا۔ اتفاق کی بات ہے کہ اُن دنوں اس ملک کے بادشاہ کی کسی اور ملک سے جنگ ہو گئی اور اُس نے ملک میں عام فوجی بھرتی کا اعلان کردیا۔ میراثی کی بیوی نے کہا گھر میں کھانے کو کچھ نہیں اور تم کوئی کام نہیں کرتے۔ اگر واقعی کوئی کام نہیں ملتا تو یہ سنہری موقع ہے تم فوج میں بھرتی ہو جاؤاور کماؤ۔ بے شک تنخواہ کم ہے لیکن تاہم کچھ نہ کچھ تو آئے گا اور جو کچھ آئے گا وہ بیکاری سے بہرحال بہتر ہو گا۔

میراثی نے کہا تم بھی عجیب ہو، بیویاں تو اپنے خاوندوں کی خیر خواہ ہوتی ہیں اور تم مجھے فوج میں بھرتی کرا کے مروانا چاہتی ہو۔ اُس کی بیوی نے اُسے سمجھانے کے لئے چکّی میں چند دانے ڈالے اور چکی کو چلایا اِس پر آٹے کے ساتھ بعض سالم دانے بھی نکل آئے۔ چنانچہ اُس نے میراثی سے کہا کہ دیکھو جنہیں خداتعالیٰ محفوظ رکھنا چاہتا ہے وہ چکی کے پاٹوں کے درمیان سے بھی سالم نکل آتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتی کہ تم نے اپنے متعلق یہ خیال کیوں کر لیا کہ تم ضرور مر جاؤ گے۔ جو لوگ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں وہ سارے کے سارے تو نہیں مر جاتے۔ اس پر میراثی نے کہا مجھے تو پِسے ہونے دانوں میں ہی سمجھ لے۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ617-618)

(محمد انور شہزاد)

پچھلا پڑھیں

ساؤتومے میں جماعت احمدیہ کی سولہویں مسجد کا افتتاح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 فروری 2023