• 26 فروری, 2024

احمدیت کا فضائی دور ایم ٹی اے (قسط 2)

احمدیت کا فضائی دور
ایم ٹی اے- تقدیر الٰہی کا زندہ و تابندہ نشان
قسط 2

ایم ٹی اے کی ضرورت اور مقاصدکا جائزہ

ایم ٹی اے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ضرورت بھی خود ہی پیدا کی اور خود ہی اسے پورا کرنے کے سامان پیدا فرمائے۔

یوں تو جماعت احمدیہ کافی دیر سے عالمی مواصلاتی روابط کی ضرورت محسوس کررہی تھی مگر اس کی طلب میں اس وقت بے پناہ اضافہ ہوگیا جب خلافت رابعہ کے دور میں جماعت ترقی کے نئے سنگ میل نصب کرنے لگی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ ماموریت کے ٹھیک سو سال بعد 1982ء میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو خلیفہ مقرر فرمایا اس وقت جماعت احمدیہ دنیا کے قریباً 80ملکوں میں قائم تھی۔ 1983ء کے شروع میں آپ نے دعوت الی اللہ کی تحریک کا ازسر نو احیاء کیا اور تمام احمدیوں کو داعی الی اللہ بننے کا ارشاد فرمایا۔

پھر آپ نے اس مضمون پر مسلسل خطابات ارشاد فرماکر جماعت میں بے پناہ جوش و جذبہ پیدا کردیا۔ جس کے نتیجہ میں مخالفین کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ امام جماعت احمدیہ سےملنے کے لئے آنے والے ہجوم در ہجوم لوگوں کو دیکھ کر حکومت پریشان ہوگئی اور 26؍اپریل 1984ء کو وہ ظالمانہ آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کے تحت جماعت احمدیہ کے سربراہ کی پاکستان میں موجودگی ناممکن بنادی گئی۔ چنانچہ الٰہی اشاروں اور بشارتوں کے تابع حضور انور انگلستان تشریف لے گئے۔یہ واقعہ احمدیت کی تاریخ میں ناقابل بیان صدمات لے کر آیا مگر اسی تاریکی سے نور کے وہ سوتے پھوٹے جنہوں نے کل عالم کے لئے روشنی کے سورج چڑھا دیئے۔

حضورؒ کے سفر ہجرت کی وجہ سے پاکستان کا ہر احمدی گھرانہ غمکدہ کا منظر پیش کررہا تھا۔ شمع اور پروانوں کے مابین ناقابل عبور فاصلے حائل ہوچکے تھے۔احمدی اپنے امام کی براہ راست رہنمائی سے محروم ہوچکے تھے۔ وہ موہنی صورت آنکھوں میں بسائے آنسوؤں کی راہ سے پگھل رہے تھے۔

مگر اس عسر کے ساتھ یسر کے وسیع دور مقدر تھے۔ حضورؒ کے یورپ پہنچتے ہی احمدیت کا سورج مغرب کی طرف سے چڑھتا دکھائی دینے لگا۔بیعتیں جو پہلے چند سو سالانہ تھیں، ہزاروں میں تبدیل ہوئیں اور پھر لاکھوں کے عدد عبور کر گئیں۔ ان میں بیسیوں اقوام اور بیسیوں ممالک کے سینکڑوں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ تھے۔ ان سب کی تربیت اور اصلاح ایک بہت بڑے اور وسیع نظام کا تقاضا کررہی تھی جس کے ذریعہ وہ خدا کے خلیفہ کا حتی المقدور قرب حاصل کرسکیں۔

جماعت کی نئی نسل خصوصاً واقفین نو مستقبل کے مربی اور خدام دین اپنے امام کی براہ راست توجہ اور رہنمائی کے محتاج تھے۔ جماعت احمدیہ کے لٹریچر پر پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔ ان کی اشاعت اور ابلاغ ایک اور بہت بڑا چیلنج تھا جو جماعت احمدیہ کو درپیش تھا۔

احمدیت کے خلاف جھوٹ پر مشتمل جو عالمی پروپیگنڈہ کیا جارہا تھا اس کا جواب دینے کےلئے احمدیوں کو اجازت نہیں تھی۔ ایسے زہریلے مواد کا توڑ بھی وقت کی اہم ضرورت تھا۔ خصوصاً ایسے ممالک میں جہاں احمدیت کے پیغام کی اشاعت پر مکمل پابندی ہے اور وہاں داخلے کے تمام زمینی ذرائع بند ہیں وہاں صرف کوئی آسمانی حربہ ہی کام دے سکتا تھا۔

کیسٹس کا نظام

خلافت کے ساتھ جماعت کے براہ راست رابطہ کو زندہ رکھنے کےلئے حضور کے خطبات کی کیسٹس بھجوانے کا طریقہ شروع کیا گیا مگر بے پناہ محنت اور بے تحاشا خرچ کے باوجود یہ کیسٹس جماعت کے صرف کچھ حصہ تک پہنچ پاتی تھیں۔پھر مختلف زبانوں میں ان کے تراجم شروع ہوئے مگر ان تراجم میں خلیفہ وقت کا پیغام پوری شوکت کے ساتھ نہیں پہنچ سکتا تھا اس لئے ایک راہ تو تھی مگر اطمینان نہیں تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اس نظام کاذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’عرصہ تقریباً دس سال کا گزر رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کیسٹس کے ذریعہ سے خلیفہ وقت کا پیغام دُنیا کے احمدیوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پہلے صرف آڈیو کیسٹس کے ذریعے یہ پیغام پہنچانےکی کوشش کی جاتی رہی پھر ویڈیو کیسٹس بیچ میں شامل ہوگئیں لیکن بے حد محنت کے باوجود بہت ہی جانکاہی کے ساتھ کام کرنے کے باوجود بہت ہی معمولی اور کم حصہ تھا جماعت کا جس تک یہ آواز پہنچ سکی۔حالانکہ میں جانتا ہوں کئی ممالک میں خدمت کرنے والوں کی بعض رضاکار ٹیمیں ہیں جو بہت وقت خرچ کرتی ہیں اور ایک کیسٹ سے آگے کئی کیسٹس بنانا،اس بات کا خیال رکھنا کہ کوالٹی اچھی ہے، پھر مختلف پتہ جات پر ان کو بھجوانا، ان کے حسابات رکھنا بڑا لمبا محنت کا کام ہے لیکن جماعت کرتی رہی۔ پھر بھی احباب جماعت کی بہت ہی تھوڑی تعداد ہے جن تک یہ پیغام براہ راست خلیفہ وقت کی زبان میں پہنچتے تھے۔ اس کوشش کی وجہ یہ تھی کہ میرا تجربہ ہے کہ خلیفہ وقت کی طرف سے جو بات کوئی پہنچاتا ہے اس کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا براہ راست خلیفہ وقت سے کوئی بات سنی جائے۔ میرا اپنا زندگی کا لمبا عرصہ دوسرے خلفاء کے تابع ان کی ہدایت کے مطابق چلنے کی کوشش میں صرف ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کوئی پیغام پہنچائے فلاں خطبہ میں خلیفہ وقت نے یہ بات کی تھی اور خطبے میں خود حاضر ہوکر وہ بات سننا، ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پیغام خواہ کسی کے ذریعے پہنچے اطاعت تو پھر بھی کی جاتی ہے لیکن پیغام کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ پیغام پہنچانے والے میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ جس جذبے کے ساتھ جن باتوں کو ابھار کر نمایاں کرکے پیغام دینے والا پیغام پیش کررہا ہے بعینہ اس پیغام کو اس طرح آگے پہنچائے کہ اس کے جذبات اس کے زیر وبم تمام کے تمام پیغام کے ساتھ دوسرے شخص تک منتقل ہو چکے ہوں۔ کوالٹی کا بیچ میں ضائع ہونا یعنی اس کے مزاج کا بیچ میں ضائع ہو جانا ایک ایسی طبعی بات ہے کہ انسان کی یادداشت تو زیادہ بھولتی ہے لیکن الیکٹرانکس کی یادداشت کے ذریعے جو پیغام کیسٹ سے کیسٹ میں منتقل کئے جاتے ہیں تیسری، چوتھی، پانچویں جنریشن میں جاکر اس کیسٹ کا مزاج ہی بدل جاتا ہے اور وہ بات ہی نہیں رہتی جو پہلی کیسٹ میں تھی اس لئے مدر (Mother) کیسٹ کو ہمیشہ سنبھال کر رکھا جاتا ہے تاکہ آگے اسی سے بار بار دوسری کیسٹس تیار ہوں۔ تو یہ مشکل تھی جس کی وجہ سے جماعت نے کوشش کی کہ کیسٹس کے ذریعے پیغام پہنچے، کیسٹ کے واسطے سے احباب جماعت پورا پیغام خود سنیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت محنت کے باوجود وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔ بعض جماعتوں کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہاں اگر دس ہزار آبادی ہے تو بمشکل دو یا چار سو ایسے احمدی ہیں جو استفادہ کرسکتے تھے یا کرتے رہے اور باقیوں کے متعلق محض رپورٹ ہی ملتی رہی کہ کیسٹس بھجوائی جارہی ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 8؍جنوری 1993ء روزنامہ الفضل ربوہ 12؍جنوری 1993ء)

ان حالات میں امام اور جماعت کے درمیان ایک ایسے رابطہ کے ذریعہ کی ضرورت تھی جس میں کوئی دوسرا حائل نہ ہو اور اگر زبان سمجھ نہ بھی آئے اور ترجمہ سن رہے ہوں تب بھی امام کے دلی تاثرات آنکھوں کی راہ سے دلوں میں اتریں اور ہیجان پیدا کریں۔یہ ضرورت تھی جو خدا نے ایم ٹی اے کے ذریعہ خود پوری فرمائی اور تمام ممکنہ ضمنی فوائد سے متمتع فرما دیا۔

خدا نے روک ظلمت کی اُٹھا دی
فسبحان الذی اخزی الاعادی
ہوا کے دوش پہ لاکھوں گھروں میں در آیا
نکل گیا تھا جو گھر سے کبھی خدا کے لئے
یہ کارہائے غریب الدیار بھی دیکھیں
جو منتظر ہیں دم عیسیٰؑ و عصا کے لئے
ٹیلی ویژن کی ایجاد اور ایم ٹی اے

ایم ٹی اے کے پس منظر کا ایک بہت اہم پہلو جماعت احمدیہ کا وہ جہاد ہے جو اس نے دجالی طاقتوں کے خلاف جاری کیا ہوا ہے۔ ٹیلی ویژن ایک بہت مفید ایجاد ہے جس سے دُنیا کو اخلاق اور امن کے سبق دے کر جنت نظیر بنایا جاسکتا تھا مگر عیسائی اور لامذہب طاقتوں نے اس کو بے حیائی اور بدکرداری پھیلانے کے لئے سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور سیٹلائٹ کے دور میں تویہ کیفیت ایک زہریلے سمندر کی مثال اختیار کرگئی ہے جس نے ایمان اور فطرت کا ہر خرمن اور خوشہ جلاکر راکھ کردیا ہے۔

صرف پاکستان کی مثال لیں۔ پاکستان میں 136چینلز کو مختلف ڈشوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان میں انڈیا کے 36 امریکہ کے 17 برطانیہ کے 9 فرانس کے 5 اور چین کے 17 چینل ہیں۔ ایک ہفتے میں سات چینلز کے ذریعہ قریباً 100 بھارتی فلمیں دکھائی جاتی ہیں اور یہ فلمیں سراسر گند سے بھری ہوئی اوپر سے نیچے تک گندی کھوکھلی اور روز مرہ کے مذاق کو برباد کرنے والی۔ نہ ادب کا کچھ رہنے دیتی ہیں نہ شریعت کا۔ محض بے ہودہ اور پھر ایسے توہمات میں مبتلا کرنے والی جو انسان کو جانوروں سے بھی گرادیں۔

اس خطرناک اور تباہ کن صورت حال میں خدا کے مسیح اور اس کی جماعت نے ہی انسان کو ایک روشنی اور سچائی کاراستہ دکھایا۔دنیا کی تاریخ میں ٹیلی ویژن کو پہلی دفعہ اعلیٰ اور روحانی اقدار کے لئے استعمال کیا گیا جو موت کے منہ سے انسان کو کھینچ کر لے آیا ہے اور یہ بات بالکل سچ ہے؎

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

اور یہ حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کے مقاصد اور دعاؤں کے عین مطابق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام عرض کرتے ہیں:
’’اے میرے قادر خدا! میری عاجزانہ دُعائیں سن لے اور اس قوم کے کان اور دل کھول دے اور ہمیں وہ وقت دکھا کہ باطل معبودوں کی پرستش دنیا سے اُٹھ جائے اور زمین پر تیری پرستش اخلاص سے کی جائے اور زمین تیرے راستباز اور موحد بندوں سے ایسی بھر جائے جیسا کہ سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے اور تیرے رسول کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور سچائی دلوں میں بیٹھ جائے۔ آمین

اے میرے قادر خدا! مجھے یہ تبدیلی دُنیا میں دکھا اور میری دعائیں قبول کر جو ہریک طاقت اور قوت تجھ کو ہے۔ اے قادر خدا ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔ واخردعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ603)

ایم ٹی اے کے متعلق پیشگوئیاں

ایم ٹی اے کا عالمی اور ہمہ گیر نظام جسے دور آخرین میں دین کے غلبہ کے لئے ناقابل فراموش عظیم کردار ادا کرنا تھا ایسا نہیں ہے جواتفاقی واقعات کی پیداوار ہوتا بلکہ آسمانی نوشتوں میں قدیم سے اس کے متعلق بشارات اور خوشخبریاں موجود ہیں۔اس کے متعلق قرآن کریم میں اشارات موجود ہیں اور بزرگان سلف نے قرآن کریم کی آیات سے ایسا استنباط کیا ہے جو حیرت انگیز ہے اور اس نظام پر بعینہٖ چسپاں ہوتا ہے۔

بائیبل میں بھی اس کے متعلق اجمالاً ذکر موجود ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور صلحائے امت کے کلام میں تو اس تفصیل کے ساتھ ذکر ملتا ہے کہ انسان وَرْطَہٴ حَیرت میں ڈوب جاتا ہےکس طرح خدا تعالیٰ نے انہیں علم غیب سے مطلع فرمایا تھا اور اس طرح یہ پورا نظام ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی سچائی کا زندہ گواہ بن گیا۔

جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ آیا تو آپ نے بھی منشائے الٰہی سے خبرپاکر اس آسمانی نظام کی خبر دی۔ جس کے ذریعہ آپ کا پیغام زمین کے کناروں تک پہنچنا تھا۔اس کے بعد خلفائے سلسلہ نے بھی القائے الٰہی کے تابع اس عالمی نظام کا ذکر کیا جو کہیں واضح لفظوں میں اور کہیں ایسی خواہشات کے رنگ میں ہے جو پیشگوئیوں کی شکل میں ڈھل گئی ہیں۔

پیشگوئیوں کا بنیادی اصول

پیشگوئیوں کے اصول کے مطابق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ پیش خبریاں تعبیر طلب اور تمثیلات پر مشتمل ہیں۔ ان میں آج کے زمانہ کی اصطلاحات استعمال نہیں ہوسکتی تھیں۔ اسی طرح ان کا ایسا ترجمہ کرنا جو سنت اللہ اور قانون قدرت کے خلاف ہو درست نہیں۔ہاں اگر نظر بصیرت سے کام لیں اور خدا تعالیٰ جس طرح استعارہ کے ساتھ اور پردہ اخفاء میں کلام کرتا ہے اس کو ملحوظ رکھیں تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ اسی دور کی باتیں ہیں۔

یہ نہیں اِک اتفاقی واقعہ
معجزہ، روشن نشاں ہے ایم ٹی اے
یہ ستارہ ہے نہ سیارہ کوئی
اِک مکمل کہکشاں ہے ایم ٹی اے

حصہ اول۔ قرآن اور بائیبل کی پیشگوئیاں

امام مہدی اور مسیح موعود کے زمانہ میں دین کے عالمی غلبہ کے متعلق تو بزرگان سلف اور مفسرین نے قرآن کریم کی متعدد آیات سے استنباط کیا ہے جن پر سنی اور شیعہ مفسرین دونوں متفق ہیں۔ مگر خاص طور پر ٹیلی ویژن کے ذریعہ امام مہدی کی آواز کل عالم میں پہنچنے کے متعلق بھی قرآن کریم میں اشارات موجود ہیں اوریہ ایک ایسا استنباط ہے جو یقیناً الٰہی تفہیم سے روشن ہے ورنہ آج سے1400سال قبل اس نظام کا تصور بھی انسان کے لئے کسی طور ممکن نہیں تھا۔

1۔ یہ استدلال سورۃ ’’ق‘‘ کی آیات 42-43 سے کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ یعنی سن رکھو کہ ایک دن ایک پکارنے والا قریب کی جگہ سے پکارے گا جس دن سب لوگ ایک پوری ہوکر رہنے والی گرجدار آوازسنیں گے۔ یہ خروج کا دن ہوگا۔

اس آیت کے متعلق تفسیر صافی کا بیان ملاحظہ ہو جہاں علامہ قمی حضرت امام جعفر صادق کے حوالہ سے ایک حیرت انگیز استنباط کرتے ہیں:

وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ۔۔ القمی قال ینادی المنادی باسم القائم واسم ابیہ علیھماالسلام من مکان قریب بحیث یصل نداء ہ الی الکل علی سواء يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ۔۔القمی قال صیحۃ القائم من السماء۔۔ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ۔۔ القمی عن الصادق علیہ السلام قال ھی الرجعہ۔

یعنی علامہ قمی نے کہا کہ ایک منادی امام قائم اور اس کے باپ علیہما السلام کے نام کی ندا دے گا اس طرز پر کہ اس کی آواز ہر آدمی تک برابر انداز میں پہنچے گی۔ قمی نے کہا ہے کہ صیحہ سے مراد یہ ہے کہ قائم کی صیحہ یعنی انذاری آواز آسمان سے آئے گی۔ حضرت امام جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ یہ رجعت یعنی امام مہدی کا زمانہ ہوگا۔

(تفسیر صافی زیر آیت مذکورہ صفحہ506 از ملامحسن فیض کاشانی، از انتشارات کتاب فروشی محمودی)

مراد یہ ہے کہ امام مہدی کی طرف سے ایک منادی امام مہدی اور اس کے عظیم روحانی باپ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کرندا بلند کرے گا اور اس کی آواز دور اور نزدیک کے تمام لوگوں کو یکساں طریق سے پہنچے گی اور آواز آسمان سے اُترے گی۔

آواز کا آسمان سے اترنا اور یکساں سب لوگوں کو پہنچنا عالمی مواصلاتی نظام کی طرف بلیغ اشارہ ہے ورنہ عام آواز تو قرب و بعد کا فرق رکھتی ہے۔ یہ حیرت انگیز پیشگوئی پوری تفصیلات کے ساتھ ایم ٹی اے پرچسپاں ہوتی ہے۔ جہاں امام مہدی کا خلیفہ امام مہدی اور اس کے کامل آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی آسمان سے منادی کر رہا ہے۔

پاٹ ڈالیں اس نے ساری دوریاں
ایک حدِ لامکاں ہے ایم ٹی اے
تیر علم و معرفت کے چل پڑے
دستِ مولا کی کماں ہے ایم ٹی اے

2۔سورۃ الشعراء کی آیت نمبر 5 سے بھی حضرت جعفر صادق (وفات 148ھ) نے یہی استدلال کیا ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں۔

اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُہُمۡ لَہَا خٰضِعِیۡنَ ﴿۵﴾

(الشعراء: 5)

یعنی اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر ایک ایسا نشان اتاریں کہ اس کے سامنے ان کی گردنیں جھکی کی جھکی رہ جائیں۔

حضرت امام جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ:

’’ینادی مناد من السماء تسمع الفتاہ فی خدرھا ویسمع اھل المشرق والمغرب وفیہ نزلت ھذہ الایہ۔إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ‘‘

(بحار الانوار جلد52 صفحہ285 از ملا محمد باقر مجلسی، داراحیاء التراث العربی بیروت)

ایک منادی آسمان سے آواز دے گا جسے ایک نوجوان لڑکی پردے میں رہتے ہوئے بھی سنے گی اور اہل مشرق و مغرب بھی سنیں گےاور یہ آیت مذکورہ بالا اسی تعلق میں نازل ہوتی ہے۔

سورۃ نمل میں ہد ہدکے قصہ میں پیشگوئی

قرآن کریم کی سورۃ نمل میں باریک اشاروں میں ایک لطیف پیشگوئی بیان ہوئی ہے جس کا تعلق آخری زمانہ کی ایجادات سے ہے۔یہ نکتہ ایک احمدی عالم مکرم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب نے اخذ کیا ہے۔

سورۃ نمل میں حضرت سلیمانؑ کے واقعات میں ایک ھدھد کا ذکر ہے جسے عام طور پر پرندہ سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے نزدیک یہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا نام ہے اور اس کے معانی میں پیشگوئی مضمر ہے۔

لغت میں ہُد ہُد کے معنی سمندر کی گونج اور ایسی آوازوں کے ہیں جو سنائی تو دیں مگر بولنے والے سامنے نہ ہوں اسی لیے ایک پرندے کا نام ھدھد رکھا گیا ہے جو درختوں میں چھپ کر چونچ سے آواز پیدا کرتا ہے اس کی کنیت ابو الاخبار ہے یعنی خبریں پہنچانے والا۔عرب بصارت اور تیز نگاہی کے لیے ہُد ہُد کی مثال دیتے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے مخالفین کی خفیہ سرگرمیوں سے آگاہ رہنے کے لئے محکمہ قائم کیا ہوا تھا جس کے افسر کا صفاتی نام ہُد ہُد رکھا تھا۔ (النمل: 21) اور قرآن مجید میں اس قصہ کو بیان کرنے کی غرض یہ پیشگوئی ہے کہ آئندہ اسلام کی خدمت کے لیے ایسی ایجادات ہوں گی جن سے آوازیں سنی جائیں گی مگر بولنے والے سامنے نہیں ہوں گے پھر ایسے آلات بھی نکل آئیں گے کہ بولنے والے نظر آ جائیں گے۔

مولانا کی تحقیق کے مطابق سورۃ نمل کا خصوصی لگاؤ پندرھویں صدی سے ہے اس لئے یہ آلات اس صدی میں اسلام کی خاص خدمت انجام دیں گے۔ (معجزات القرآن صفحہ216) مولانا نے یہ کتاب ٫1975 میں تصنیف کی تھی اور 1982ء میں آپ کی وفات ہو گئی اور اس کے بعد یہ کتاب شائع ہوئی۔ان سے یہ روایت بھی منسوب ہے کہ جماعت احمدیہ کے پاس 15 ویں صدی ہجری میں طاقتور ٹی وی سٹیشن ہو گا۔

قران کریم میں اشارۃً ریڈیو اور ریکارڈنگ مشین کا بھی ذکر ہے۔ مولانا کا استدلال سورۃ ق کی آیت نمبر 19 سے ہے۔

مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ۔ کہ انسان جو بات بھی اپنے منہ سے نکالتا ہے ایک چست نگران اسے فوراً محفوظ کر لیتا ہے۔ جب یہ الفاظ نازل ہوئے تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسی مشین ایجاد ہو گی جو آواز کو محفوظ کر لے گی اورآواز بار بار سنی جا سکے گی۔

(معجزات القرآن صفحہ 217)

انجیلی پیش خبریاں

انجیل میں بھی آخری زمانہ میں وحدت اقوام اور آسمانی پیغام کی عالمی اشاعت کا تذکرہ موجود ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی بعثت ثانی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ’’بادشاہی کی یہ انجیل تمام دنیا میں سنائی جائے گی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو تب انجام ہوگا۔‘‘

(انجیل متی باب 24 آیت 14)

اسی تسلسل میں چند آیات کے بعد اپنے غلبہ کے ذرائع اورکیفیت بھی بیان کرتے ہیں: ’’جیسے بجلی مشرق سے چمک کر مغرب تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن آدم کی آمد ہوگی۔‘‘

(متی باب 24 آیت 27)

پھر فرمایا ’’:وہ ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھیں گے۔ تب وہ نرسنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ آسمان کے افق تک چاروں طرف سے اس کے برگزیدوں کو جمع کریں گے۔‘‘

(متی باب 24 آیت 30-31)

ان آیات میں برقی نظام کے خدمت دین پر مامور ہونے اور ہوائی لہروں کے افق تا افق مسیح موعود کے پیغام کے پہنچنے کی خبر ہے جو چاروں طرف سے سعید روحوں کو جمع کردے گا۔

یہ فقط ٹی وی کا اک چینل نہیں
پیار کی اِک داستاں ہے ایم ٹی اے
اِک تمنا کی حسیں تعبیر ہے
آج مثلِ خانداں ہے ایم ٹی اے

(عبد السمیع خان۔استاد جامعہ احمدیہ گھانا)

پچھلا پڑھیں

ساؤتومے میں جماعت احمدیہ کی سولہویں مسجد کا افتتاح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 فروری 2023