• 30 ستمبر, 2020

ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں

پاکستان میں سیاستدان بھی اور علماء بھی وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی بہانے سے احمدیوں کے خلاف اپنا غبار نکالتے رہتے ہیں۔ ان کے خیال میں قوم کو اپنے پیچھے چلانے اور اپنا ہم نوا بنانے کا اور شہرت حاصل کرنے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ اور سب سے بڑا ہتھیار جو مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے استعمال ہوسکتا ہے وہ ختم نبوت کا ہتھیار ہے۔ پس جب بھی کسی سیاسی پارٹی کی ساکھ خراب ہو رہی ہو، جب بھی کسی سیاستدان کی پسندیدگی کا گراف گر رہا ہو یا معیار کم ہو رہا ہو، جب بھی نام نہاد مذہبی تنظیمیں سیاسی شہرت حاصل کرنا چاہیں، دوسری تنظیم، دوسری سیاسی پارٹی یا دوسرے سیاستدان کو نیچا دکھانا چاہیں تو احمدیوں کے ساتھ ان کے تعلق جوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ دیکھو یہ کتنا بڑا ظلم ہونے لگا ہے کہ غیر ملکی طاقتوں کے زیر اثر یہ لوگ احمدیوں کو مین سٹریم (main stream) مسلمانوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں جبکہ احمدی ان کے خیال میں ختم نبوت کے منکر ہیں۔ یہ نام نہاد اسلام کا درد رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم ناموس رسالت پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور کبھی ایسا ظلم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ احمدیوں کو مسلمان کہا جائے اور پھر جب یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کی خاطر اپنی جانیں بھی قربان کر دیں گے اس پر دوسری پارٹی جو چاہے حکومت بھی کر رہی ہو اس کے نمائندے فوراً اسمبلی میں کھڑے ہو کر بیان دیں گے کہ سوا ل ہی پیدا نہیں ہوتا کہ احمدیوں کو کوئی حق ملے بلکہ جو ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے جو تھوڑا بہت حق ہے چاہے وہ تیسرے درجہ کے شہری کی حیثیت سے ہی ہے، جو تھوڑے حقوق ملے ہوئے ہیں وہ یہ نعرہ لگائیں گے کہ وہ بھی لے لو۔ ہر ایک کے اپنے سیاسی ایجنڈے ہیں۔ ہر ایک کے اپنے ذاتی مفادات ہیں۔ لیکن اس میں تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی احمدیوں کو زبردستی گھسیٹا جاتا ہے کیونکہ یہ بڑا آسان معاملہ ہے۔ غیر حکومتی ارکان اسمبلی بھی اور حکومتی ارکان اسمبلی بھی بڑھ بڑھ کر احمدیوں کے خلاف بولتے ہیں۔ چنانچہ گزشتہ دنوں پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں ایک آئینی ترمیم کے الفاظ میں ردّ و بدل جو سیاسی پارٹی یا حکومتی پارٹی اپنے مفادات کے لئے کر رہی تھی اس کے سلسلہ میں یہی کچھ ہمارے دیکھنے میں آیا۔ پاکستان میں پچھلے دنوں میں بڑا شور مچا رہا اور میڈیا کے ذریعہ سے یہ سب کچھ دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ اس لئے اس بارے میں تو زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہم نے کسی غیر ملکی طاقت سے نہ ہی کبھی یہ کہا ہے کہ ہمیں پاکستانی اسمبلی کے آئین میں ترمیم کروا کر قانون اور آئین کی نظر میں مسلمان بنوایا جائے۔ نہ ہی ہم نے کسی پاکستانی حکومت سے کبھی اس چیز کی بھیک مانگی ہے۔ نہ ہی ہمیں کسی اسمبلی یا حکومت سے مسلمان کہلانے کے لئے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے، کسی سند کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کہا ہے۔ ہم کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھنے والے ہیں۔ ہم تمام ارکان اسلام اور ارکان ایمان پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ ہم اس بات پر علی وجہ البصیرت قائم ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاف صاف اور واضح لکھا ہے۔ متعدد جگہ اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ جو ختم نبوت کا منکر ہے مَیں اسے بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ وہ نہ احمدی ہے، نہ مسلمان ہے۔ پس ہمارے خلاف یہ شورش پیدا کی جاتی ہے اور ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں اور نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ نہایت گھٹیا اور گھناؤنا الزام ہے جو ہم پر لگایا جاتا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اکتوبر 2017)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 24 جون 2020ء