• 3 جولائی, 2020

مادی اور روحانی امیون سسٹم

ہم نے دنیا میں بارہا دیکھا ہے کہ ہر نئی چیز یا آفت کچھ اصطلاحات متعارف کرواجاتی ہے جیسے Covid 19 نے قرنطینہ، اسمارٹ لاک ڈاؤن ، امیون سسٹم یا ماسک وغیرہ متعارف کروائے۔ گو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اصطلاحات کوئی نئی نہیں ہیں۔پُرانے وقتوں میں استعمال ہوتی رہیں مگر زبان زدعام نہیں۔ جیسے ہم روزنامہ الفضل کے سابقہ شماروں میں پڑھ آئے ہیں کہ حضرت مولانا ابو العطاء جالندھری فلسطین جاتے اور حضرت مفتی محمد صادق ؓ امریکہ پہنچ کر قرنطینہ میں رہے۔ اب Covid 19 کی وجہ سے یہ اصطلاحات عام بچوں کی زبان سے بھی سنائی دیتی ہیں۔ مجھے اس وقت مادی اور دنیاوی لحاظ سے ان اصطلاحات کی تشریح کرنا مقصود نہیں تاہم روحانی دنیا کے لحاظ سے مجھے کچھ کہنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مادی اور روحانی نظام کو ساتھ ساتھ بیان فرمایا ہے۔ جیسے مادی سورج کے مقابل روحانی سورج یعنی سیدنا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفٰی ﷺ، مادی چاند کے مقابل پر روحانی چاند یعنی حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام، مادی ستاروں کے مقابل پر روحانی ستارے یعنی صحابۂ رسول ؐ اور مادی پانی کے مقابل پر روحانی پانی یعنی الہام و وحی وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح اس وبا میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کو بھی جہاں ہم اپنی مادی زندگیوں میں استعمال کررہے ہیں اپنے روحانی معیاروں کو بڑھانے کے لئے ان کا استعمال کرنا چاہیے۔ جیسے

قرنطینہ

قرنطینہ یعنی کچھ عرصہ کے لئے ایک جگہ رہنے یا ٹھہرنے کو کہتے ہیں اور اصطلاحی معنوں میں وبا کے دنوں میں کسی مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہوکر کسی مخصوص جگہ پر اپنے آپ کوQuarantine کرنے کو کہتے ہیں تا وبائی جراثیم ساتھ آنے کی صورت میں ان علامتوں کا پتہ لگایا جاسکے اور وہ وبائی اثرات دوسروں تک نہ پہنچنے پائیں۔

چونکہ ہماری روحانی زندگیوں میں بھی فضا روحانی بیماریوں سے بالعموم مکدّررہتی ہے اس لئے ان روحانی بیماریوں اور ان کے بد اثرات سے بچنے کے لئے ہر مومن کو حکم ہے کہ وہ ان بداثرات سے خود بھی بچے اور ماحول بالخصوص اپنے اہل خانہ کو محفوظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ (اٰل عمران:32) کہ اے مومنو! اگر تم اللہ سے محبت کے دعویدار ہو تو حضرت خاتم الانبیاء سیدالمرسلین محمد مصطفٰی ﷺ کی پیروی کرو۔ اگر ایسا کروگے تو تم اور تمہاری اولادیں بد اخلاقیوں سے محفوظ رہیں گی۔ اس لئے ہر مومن کو ہر وقت اپنے آپ کو قرنطینہ میں سمجھنا چاہیے کہ وہ بھی محفوظ رہے اور دوسرے بھی اس سے محفوظ رہیں۔

اسمارٹ لاک ڈاؤن

ہم اپنی زندگیوں میں کرفیو کی اصطلاح سنا کرتے تھے لیکن اس وبا کے دنوں میں لاک ڈاؤن اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاحات سننے میں آئی ہیں کہ اپنے آپ کو Covid 19 کے بد اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے آپ لاک ڈاؤن میں چلے جائیں یعنی معاشرتی میل ملاپ (Social Activities) کو محدود کردیں۔ روحانی دنیا میں ایک مومن کو ہمیشہ اپنے آپ کو اخلاق سیئہ سے بچنے کے لئے لاک ڈاؤن میں رہنے کا حکم ہے۔ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ (صحیح مسلم،کتاب الزہد والرقائق، باب الدنیا سجن المؤمن) کہ دنیا ایک مومن کے لئے قیدخانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ اس حدیث میں سیدنا و امامنا حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے ایک مومن کو پابندیوں میں رہ کر زندگی گزارنے کی تلقین کی ہے کہ ایک مومن پر زنا، شراب، چوری، ڈاکہ وغیرہ وغیرہ ممنوع ہیں اور یہ کیفیت لاک ڈاؤن جیسی ہی ہے۔

ماسک

ان وبائی دنوں میں بیماری کی روک تھام اور عدم پھیلاؤ کے لئے ماسک کے استعمال کی تلقین کی جارہی ہے بلکہ اب تو یہ کہا جارہا ہے کہ Covid 19 پر قابو پانے کا بہترین حل اور ذریعہ ماسک کا استعمال ہے۔ ہم نے بچپن میں کثرت سے دیکھا کہ بعض جانوروں کے منہ کو چھیکو (جالی نما ماسک) سے بند کردیتے تھے تا ان سے کسی دوسرے جانور کو نقصان نہ پہنچے۔ یہی کیفیت روحانی دنیا میں انسان کی زبان کے متعلق ہے جس کے درست استعمال کی تلقین قرآن و حدیث اور سنت سے ہمیں ملتی ہے۔ تو روحانی دنیا میں استعارۃً منہ پر ماسک چڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا ہے المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (‌صحيح البخاري، كِتَابُ الإِيمَانِ) کہ مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

امیون سسٹم

امیون سسٹم (Immune System) جسے ہم اردو زبان میں قوت مدافعت بھی کہتے ہیں۔ ہر انسان کے اندر بیماریوں کے حملہ سے بچنے کے لئے ایک دفاعی نظام ہے۔ جب کوئی بیماری کسی پر حملہ آور ہوتی ہے تو اس انسان کا دفاعی نظام متحرک ہوکر اس بیماری کا مقابلہ کرتا ہے۔ اگر بیماری کا حملہ شدید ہو تو دفاعی نظام کمزور پڑجاتا ہےاور انسان بیمار ہوجاتا ہے اسی لئے ڈاکٹرزCovid 19 میں ہر انسان کو امیون سسٹم مضبوط رکھنے کی طرف توجہ دلارہے ہیں اور اس کو مضبوط کرنے اور رکھنے کے لئے پھل فروٹ، وٹامن، انڈے اور دودھ کے استعمال کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔

انسان کی روحانی زندگی میں بھی ایک امیون سسٹم ہے جس کو ہر آن اور ہر لمحہ مضبوط رکھنا ہے ورنہ شیطان حملہ آور ہوکر نیکیوں کی جمع پونجی لے جائے گا۔ یوں مادی قوت مدافعت کے ساتھ ساتھ روحانی قوت مدافعت کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ وہ یوں کہ ان وبائی دنوں میں ہر بندہ تنہائی کی زندگی بسر کررہا ہے اور معاشرتی میل ملاپ نہ ہونے کی وجہ سے اسے وافر وقت مل رہا ہوتا ہے۔اس زائد اور فالتو وقت کو اپنے خالق حقیقی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذکرو شکر میں گزارے۔ نمازیں بروقت پڑھے، تلاوت قرآن کریم روزانہ کرے۔ نوافل کثرت سے پڑھے، استغفار کرے، دعاؤں میں وقت گزارے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرے، ایم ٹی اے دیکھے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات باقاعدگی سے خود بھی سنے اور اپنے اہل و عیال کو بھی سنوائے۔ یہ تمام چیزیں دراصل وٹامنز ہیں جن کے استعمال سے روحانی امیونٹی مضبوط ہوگی اور عفریت یعنی شیطان بآسانی حملہ آور نہ ہوگا۔

حال ہی میں ہم رمضان کے مبارک ایام سے گزرے ہیں جو فی ذاتہٖ روحانی امیون سسٹم کی مضبوطی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ہم ان نیکیوں کی پریکٹس کے عادی بھی ہوچکے ہیں۔ اس لئے ذرا سی کوشش اور تگ و دو سے ہم اپنی روحانی امیونٹی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ اس حد تک بڑھا اور مضبوط کرسکتے ہیں کہ شیطان باقی حصہ زندگی ہم پر حملہ آور نہ ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے روحانی نظام مدافعت کو مضبوط سے مضبوط ترکرنےکی توفیق دے۔ آمین

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 24 جون 2020ء