• 12 اگست, 2020

برائی زمین و زماں میں نہیں ہے

برائی زمین و زماں میں نہیں ہے
مکینوں میں ہے یہ مکاں میں نہیں ہے

تجھے دیکھ کر تیرا انکار کر دے
یہ ہمت کسی بدگماں میں نہیں ہے

کوئی وجہِ ترکِ تعلق عزیزو!
مرے آپ کے درمیاں میں نہیں ہے

یہ دھوکا لگا ہے مرے معترض کو
کہ وہ معرضِ امتحاں میں نہیں ہے

اگر آپ آ جائیں واپس تو کیا ہے
جو ربوے میں اور قادیاں میں نہیں ہے

شکاری بڑی دیر سے منتظر ہیں
پرندہ مگر آشیاں میں نہیں ہے

گلی میں تو چرچا ہے اب بھی اسی کا
سنا ہے کہ مالک مکاں میں نہیں ہے

فقط دائیں بائیں کا ہے فرق ورنہ
کوئی فاصلہ درمیاں میں نہیں ہے

فقط شور ہی شور ہے یہ سراسر
اگر سوز آہ و فغاں میں نہیں ہے

یہ دعویٰ ہے دجّال کا اب بھی مضطرؔ
دریچہ کوئی آسماں میں نہیں ہے

(چوہدری محمد علی مضطرؔ عارفی)

(اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم صفحہ592-593)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 24 جولائی 2020ء