• 23 ستمبر, 2021

سُرینام میں عید الاضحی

کرونا کی عالمی وباء نے انسانی میل جول اور سماجی رابطوں کو بری طرح متائثر کیا ہے، اور نظام زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

سُرینام جنوبی امریکہ کا وہ واحد ملک ہے جہاں مسلمان آبادی کا تناسب خطے کے باقی سب ملکوں سے زیادہ ہے۔ اور عیدین کے موقعہ پر ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے اور مسلمان اس کا خاص اہتمام بھی کرتے ہیں۔

عید الفطر کے دن تقریباً ہر مسلمان گھر میں کھانے کی میز سجائی جاتی ہے،جو عید کی مبارک باد دینے کی غرض سے آنے والوں کے لئے مختلف لوازمات سے بھری رہتی ہے۔عزیز، رشتہ دارمسلم و غیر مسلم مہمان بلا تکلف اس مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ہرجامعہ مسجد کے احاطہ میں عید الاضحی کے دن قربانی کے لئے جگہ مخصوص ہے، اور یوم النحرکے موقعہ پر مساجد میں خصوصی اہتمام کے ساتھ چھوٹے بڑے جانور قربان کئے جاتے ہیں۔ اور مختلف رنگ و نسل کے لوگ گوشت کا پیکٹ لینے کے لئے لائن میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

لیکن امسال کرونا وباء کی وجہ سے گھروں میں کھانے کے میز سجےنہ مسجدوں میں گوشت کے حصول کے لئے کھڑے لوگوں کی قطار نظر آئی، کیونکہ دونوں عیدیں ٹوٹل لاک ڈاون کی نظر ہو گئیں۔ لیکن ارباب اختیار جانتے ہیں کہ مذہبی احکام و معاملات انسانی عقیدت و احترام سے جڑے ہوئے ہیں، اس لئے گورنمنٹ نے جہاں ایک طرف وبا کو قابو میں رکھنے کےلئے ٹوٹل لاک ڈاون کا اعلان کیا، وہیں ہر مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے مہیا کردہ افراد کو سپیشل پاس جاری کرکے مذبح خانوں سے جانور ذبح کروانے اور ان کا گوشت بانٹنے کی سہولت دی۔

سُرینام مین مسلمانوں کی اکثریت نے منگل 20جولائی کو عید الاضحی منائی۔ عید سے ایک دن قبل اجتماعی وقار عمل کا پروگرام رکھا گیا۔ مسجد اور قرب و جوار کی صفائی کی گئی، کھاس کاٹا گیا،قربانی کے لئے مخصوص جگہ کو پریشر پمپ سے دھویا گیا۔ تمام ٹیبل اور قربانی کے اوزار صاف کئے گئے۔ اور کِرم کُش دوا کی سپرے کی گئی۔

ارباب حلّ و عقد کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق افراد جماعت کو مختلف جگہوں پر نماز عید ادا کرنے کی ہدایات دی گئیں، اور نماز عید پڑھنے کا طریق اور خطبہ مہیا کیا گیا۔ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ صبح نو بجےچار مختلف جگہوں پر نماز عید ادا کی گئی۔ ساڑھے نو بجے خاکسار نے زوم کے ذریعہ خطبہ دیا اور اجتماعی دعا کروائی۔

بعد ازاں خدام کا ایک گروپ مذبح خانہ روانہ ہوا، جہاں تین بیل ذبح کروانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پانچ چھوٹے جانور تین مختلف جگہوں پر ذبح کئے گئے۔ جن15 افراد جماعت کی ڈیوٹی گوشت کاٹنے اور تقسیم کرنے کی تھی وہ گیارہ بجے کے بعد مرکزی مسجد ناصر پہنچے۔

مذہبی امور کے ڈائریکٹر کی طرف سے مورخہ 19جولائی کو پیغام موصول ہوا کہ کل عید کے دن وزیر داخلہ (مسٹر برونتو سلام سوموہارجو) اپنے سٹاف کے ساتھ مسجد کادورہ کریں گے۔ دن بارہ بجے کے قریب وزیر موصوف اپنی میڈیا ٹیم اور وزارت داخلہ کے ڈائریکٹر مسٹر محمد نصیر ایسکاک کے ساتھ مسجد پہنچے۔ خاکسار نے محترم صدر صاحب کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔ موصوف نے مسجد میں موجود تمام افراد سے فرداً فردا ًمل کر عید کی مبارک باد دی۔ بعد ازاں ہم نے انہیں کھانے کی دعوت دی تو کہنے لگے کہ مجھے ڈائریکٹر صاحب نے صبح ہی کہا تھا کہ اگر احمدیہ مسجد جانا ہے تو وہاں لازما ً کھانے کا انتظام ہوگا، اس لئے اس حساب سے وقت مقرر کرکے جائیں۔ چنانچہ موصوف اور افراد جماعت ظہرانے میں شریک ہوئے۔

دن تین بجے کے قریب تین بڑے جانوروں کا گوشت مسجد پہنچا، جہاں اس کی کٹائی کی گئی، اور پیکٹ بنانے کا کام شروع کیا گیا۔ تمام فیملز کے پیکٹ تیار کرکے ان پہ لیبل لگائے گئے۔پچاس پیکٹ افراد جماعت، تیس پیکٹ ضرورتمند افراد اور دو یتیم خانوں کے لئے تیار کئے گئے۔ اکثر افراد جماعت کو اسی شام اور چند گھروں کو اگلے دن گوشت پہنچایا گیا۔

میڈیا کوریج

خدا تعالیٰ کے فضل سے عید الاضحی کے موقعہ پر ہمیں بہترین میڈیا کوریج ملی۔ ملک کے سب سے معروف اخبار ’’داوارٹیڈ‘‘ (De Ware Tijd) کی نمائندہ خاتون نے مشن ہاؤس فون کرکے عید اور قربانی کے حوالے سے مفصّل معلومات لیں۔ یہ انٹر یو مؤرخہ 20جولائی کو شائع ہوا۔ اس ضمن میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس صحافی خاتون نے پانچ اور مسلمان تنظیموں سے بھی رابطہ کیا اور ان کے خیالات کو بھی خبر میں شامل کیا، مگر سب سے پہلے ہماری جماعت کا مؤقف پیش کیا۔دو نیوز ویب سائٹس نے اس خبر کو اپنے مرکزی صفحے پر شیئر کیا۔

ملک کی سب سے معروف نیوز ویب سائٹ ’’سٹار نیوز‘‘ (StarNieuws) کا نمائندہ عید کے دن سہ پہر کے وقت مسجد آیا،اور دو گھنٹے سے زائد وقت موجود رہا۔ اس نے قربانی کے فلسفے اور گوشت کی تقسیم کے حوالے سے محترم صدر صاحب کا انٹرویو لیا، اور کام کرتے ہوئے افراد جماعت کی تصاویر بنائیں۔ اور 20جولائی کی شام اس خبر کو مع تصاویر اپنی ویب سائٹ پہ شائع کیا۔ سٹار نیوز سُرینام کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹ ہے، جس کے قارئین کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔ اس ویب سائٹ نے عید الاضحی کی خبر اپنے فیس بک پیچ پر بھی شائع کی اورقریباً چھ سو افراد نے اس خبر کو لائیک کیا، اور پچاس سے زائد افراد نے مبارک باد کے پیغام لکھے، اور مثبت تبصرے کئے۔ تین اور نیوز ویب سائٹس نے اس خبر کو اپنے مرکزی صفحے پر شیئر کیا۔

وزیر داخلہ نے عید کے دن مسجد ناصر سمیت جن مساجد کا دورہ کیااس کی ویڈیو رپورٹ اُسی شام اور اگلے دن مختلف ٹی وی چینلز پر دکھائی گئی، اور منسٹری کے سوشل میڈیا اکاونٹ پر بھی شیئر کی گئی۔

قارئین الفضل سے جماعت سُرینام کے نفوس و اموال میں برکت کے لئے دعا کی درخواست ہے۔

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خطوط

اگلا پڑھیں

مرے وطن ! مجھے تیرے افق سے شکوہ ہے