• 3 فروری, 2023

آؤ! اُردو سیکھیں (سبق نمبر 67)

اردو زبان میں اسماء یعنی Nouns بنانے کے مختلف طریقوں سے متعلق بات ہورہی ہے۔ یہ کسی بھی زبان کاایک انتہائی اہم پہلو ہے اور اس میں مہارت حاصل کرنا ضروری بھی ہے اور مفید بھی اس لئے ہم اس باب کو تفصیل سے بیان کررہے ہیں۔ اردو کی مستند کتابوں میں یہ باب بیان ہوا ہے مگر اس کا انداز خاصہ پرانا ہے لہٰذا ہم کوشش کررہے ہیں کہ جدید اردو کے تقاضوں کو بھی مد نظر رکھا جائے اور ساتھ ساتھ انگریزی زبان کے ذریعے بھی وضاحت کی جائے۔

1۔ بعض الفاظ کے آگے ’’بر‘‘ کا اضافہ کرنے سے نئے اسماء بن جاتے ہیں۔ جیسے رہبر یعنی رستہ دکھانے والا leader۔ فنا کانپوری کا ایک شعر درج کرتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کے رہنماؤں پر حرف بہ حرف یعنی exactly صادر آتا ہے۔ ؎

اس طرح رہبر نے لوٹا کارواں
اے فنارہزن کو بھی صدمہ ہوا

دلبر یعنی محبوب sweetheart/ beloved۔ جگر مراد آبادی کہتے ہیں۔

بیٹھے ہوئے رقیب ہیں دلبر کے آس پاس
کانٹوں کا ہے ہجوم گل تر کے آس پاس

یہاں گلِ تر سے مراد تازہ کھلا ہوا پھول ہے۔ بنیادی طور پر تَر کے معنی ہیں گیلا تاہم اسی سے اس کے معنی لئے جاتے ہیں شاداب، تازہ،رسیلا جیسے شیرے میں تر رس گلا، اسی طرح اس کامعنی ہے لتھڑا ہوا یعنی کسی کپڑے یا ہاتھوں پاؤں پر کیچڑ یا خون یا گناہوں کی میل ہونا۔ جیسے کہتے ہیں کہ تمہارے ہاتھ معصوم لوگوں کے خون سے لتھڑے ہیں یعنی تم گناہگار یا مجرم ہو۔ اسی طرح بر سے بنتا ہے پیغامبر یعنی پیغام پہنچانے والا۔ منیر شکوہ آبادی کا بہت خوبصورت شعر درج کرتے ہیں جو ہستی باری تعالیٰ پر دلیل بھی ہے۔

؎کبھی پیام نہ بھیجا بتوں نے میرے پاس
خدا ہیں کیسے کہ پیغامبر نہیں رکھتے

2۔ ’’بان‘‘ اور ’’وان‘‘ کا اضافہ کرنے سے بھی اسماء بنتے ہیں جیسے باغبان یعنی باغ کی دیکھ بھال کرنے والا، رہنما وغیرہ، گاڑی بان، کوچوان یعنی بگھی،فٹن یا تانگہ چلانے والا اسے سائیس بھی کہتے ہیں، نگہبان، بادبان یعنی sail/ mast اظہر فراغ کہتے ہیں:؎

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے
ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے

یعنی مشکلات سے نکلنے کے لئے جو اسباب غیب سے اچانک پیدا ہوجاتے ہیں تو انسان تسلیم کرتا ہے کہ یقیناً عِنان تقدیر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ عنان سے مراد ہے لگام، اختیار، کنٹرول۔ عنان ہی سے مزید بھی مرکب اسم بنتے ہیں جیسے عنان حکومت یعنی حکومت کا اختیار، عنان اقتدار یعنی حکومت کی باگ ڈور۔

3۔ ’’مند‘‘کا اضافہ کرنے سے بھی اسما ئے صفت بنتے ہیں جیسے دولتمند wealthy، حاجتمند Needy، احسان مند grateful، سلیقہ مند well organized and polite وغیرہ۔ پھر ور اور آور کا اضافہ کرنے سے بھی اسماء بنتے ہیں جیسے جانور، زور آور یعنی طاقت ور، بار آور یعنی پھل دینے والا، سرسبز، نتیجہ خیزproductive/ fertile۔ لفظ جانور کو شعر میں استعمال کرتے ہوئے الطاف حسین حالی کہتے ہیں:؎

جانور آدمی فرشتہ خدا
آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں

اس شعر میں سیکڑوں، سیکڑا کی جمع ہے جس کا مطلب ہے ایک سو۔ بعض لوگ اسے سینکڑوں بھی لکھتے ہیں تاہم حالی اور اقبال نے اسے سیکڑوں ہی لکھا ہے۔خدا سے حالی کی غالباً مراد خدا نما ہونا ہے جسے فانی فی اللہ بھی کہا جاتا ہے۔اسی مضمون کو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ نے حضرت مسیح موعودؑ کی تحریر کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کااعلیٰ اور بلند مقام یوں بیان فرمایا ہے: آپؐ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو (جانوروں کی طرح جیسی قوم تھی ان کو) انسانی عادات سکھلائے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا (جانوروں کو انسان بنایا) اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔

(خطبہ جمعہ 18؍دسمبر 2015ء فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

4۔ ترکی زبان کی علامت ’’چی‘‘ کا اضافہ کرنے سے بھی اسماء بنائے جاتے ہیں جیسے خزانچی Cashier، طبلچی drummer، بندوقچی gunman/ musketeers، باورچی butler، دیگچی cooking pot، چمچیspoon۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’فرقان مجید باوجود ان تمام کمالاتِ بلاغت و فصاحت و احاطہ ٔ حکمت و معرفت ایک روحانی تاثیر اپنی ذات بابرکات میں ایسی رکھتا ہے کہ اس کا سچا اتباع انسان کو مستقیم الحال اور منور الباطن اور منشرح الصدر اور مقبول الٰہی اور قابلِ خطاب حضرت ِ عزت بنا دیتا ہے اور اس میں وہ انوار پیدا کرتا ہے اور وہ فیوض غیبی اور تائیدات لاریبی اس کے شامل حال کردیتا ہے کہ جو اغیار میں ہر گز پائی نہیں جاتیں اور حضرت احدیت کی طرف سے وہ لذیذ اور دل آرام کلام اس پر نازل ہوتا ہے جس سے اس پر دم بدم کھلتا جاتا ہے کہ وہ فرقان مجید کی سچی متابعت سے اور حضرت نبی کریم ﷺ کی سچی پیروی سے ان مقامات تک پہنچایا گیا ہے کہ جو محبوبان الٰہی کے لئے خاص ہیں اور ان ربانی خوشنودیوں اور مہربانیوں سے بہرہ یاب ہوگیا ہے جن سے وہ کامل ایمان دار بہرہ یاب تھے جو اس سے پہلے گذر چکے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد1 صفحہ528-529)

کمالاتِ بلاغت وفصاحت: کمال کی جمع ہے کمالات یعنی انتہائی درجہ تک ترقی یافتہ۔ بلاغت و فصاحت کا مطلب ہے خوش بیانی، خوش کلامی،کمال تک پہنچا ہوا کلام۔ Eloquence and fluency of speech

احاطۂ حکمت و معرفت: دانائی، فہم اور ادراک کو ہر پہلو سے اپنے اندر رکھنا۔ Full of wisdom and insight

باوجود: یعنی قرآن مجید محض عقل و دانائی، فہم و ادراک ہی عطا نہیں کرتا جیسے دیگر فلسفے بھی کسی حد کرتے ہیں بلکہ روح کی پرورش بھی کرتا ہے۔Despite

روحانی تاثیر:انسانی روح پر اثر انداز ہونے کی بھرپور صلاحیت۔

سچا اتباع: سمجھ بوجھ کے ساتھ کسی تعلیم پر عمل کرنا، نیز اس تعلیم پر صرف رسمی عمل نہ ہو بلکہ پورے فہم کے ساتھ عمل ہو۔

مستقیم الحال: یعنی انسان کو پیچیدگیوں سے پاک کرتا ہے اور سچائی تک اسے رسائی دیتا ہے۔یعنی ان عوامل سے بچاتا ہے جو انسان کی توجہ کو بھٹکا دیتے ہیں۔

straightforwardness/ able to avoid deviation in search and exploration of the truth

منورالباطن: انسان کو اندر سے بھی روشن کرتا ہے۔ یعنی ایسا علم جو انسان کے اپنے اندر کی تاریکی کو بھی مٹا ڈالتا ہے۔

enlightened/ spiritually aware

منشرح الصدر: فہم و ادراک میں انتہائی وسعت پیدا کردیتا ہے۔

open-mindedness/impartial and unbiased/ open

مقبول الٰہی: اللہ تعالیٰ کا پیارا بناتا ہے۔

قابل خطاب حضرت عزت: اس قابل بناتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے۔

انوار، فیوض غیبی، تائیدات لاریبی: نور کی جمع، اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسی صلاحیتں ملتی ہیں جن کی پہلے نہ خبر ہوتی ہے نہ وہ پہلے اس میں موجود ہوتی ہیں، خدا تعالیٰ کی ایسی مدد ملتی ہے جو ہر شک و شبہ اور خوف سے پاک ہوتی ہے۔

اغیار: وہ لوگ جو قرآن مجید سے دور ہیں۔

حضرت احدیت، دل آرام، دم بدم: اللہ تعالیٰ جو ایک ہے، دل کو تسلی و اطمینان دینے والا، مسلسل۔

بہرہ یاب: جس نے اپنا حصہ پالیا ہو، خوش نصیب۔

ربانی خوشنودی: خدا تعالیٰ کی رضا۔

(عاطف وقاص۔ ٹورنٹو کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 18)