• 21 مئی, 2022

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں کا اثر

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اب یہ ایک واقعہ ہے، بلکہ یہاں دو واقعات ہیں۔ حضرت میاں محمد الدین صاحب ولد میاں نورالدین صاحب فرماتے ہیں، (اپنا بیان دے رہے ہیں پچھلا چلتا چلا آ رہا ہے) کہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ آریہ، برہمو، دہریہ لیکچراروں کے بد اثر نے مجھے اور مجھ جیسے اور اکثروں کو ہلاک کر دیا تھا، یعنی خدا تعالیٰ سے دور لے گئے تھے، اسلام سے دور لے گئے تھے اور ان اثرات کے ماتحت لایعنی زندگی بسر کر رہا تھا کہ براہین احمدیہ پڑھنے کو ملی تو وہ پڑھنی شروع کی۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے کتاب پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ بہت سارے ایسے ہیں جن کو یہ توفیق ہی نہیں ملتی اور ضد اُن کی طبیعت میں ہوتی ہے لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل فرمانا تھا۔ کہتے ہیں مجھے براہین احمدیہ مل گئی، پڑھنی شروع کی۔ پڑھتے پڑھتے جب میں ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کو پڑھتا ہوں، صفحہ90 کے حاشیہ نمبر2 پر اور صفحہ نمبر149 کے حاشیہ نمبر11 پر پہنچا تو معاً میری دھریت کافور ہو گئی۔ (یہ روحانی خزائن کی پہلی جلد کا صفحہ78 ہے اور ’حاشیہ 2‘ انہوں نے میرا خیال ہے غلطی سے یہاں لکھا ہوا ہے۔ کیونکہ اردو میں پہلے گنتی لکھی جاتی ہے۔ یہ 2 نہیں ہے، حاشیہ نمبر 4 ہے۔ اور اسی طرح روحانی خزائن کی جو جلد 1ہے اُس کے صفحہ نمبر 153 میں یہ حوالہ ہے جو چار پانچ صفحے آگے حاشیہ نمبر 11سے شروع ہوتا ہے۔ اس کو پڑھا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی کی بات واضح ہوتی ہے۔) بہر حال یہ کہتے ہیں کہ مَیں وہاں پہنچا تو معاً میری دہریت کافور ہو گئی اور میری آنکھ ایسے کھلی جس طرح کوئی سویا ہوا یا مرا ہوا جاگ کر زندہ ہو جاتا ہے۔ سردی کا موسم، جنوری 1893ء کی 19تاریخ تھی۔ آدھی رات کا وقت تھا کہ جب میں ’’ہونا چاہئے‘‘ اور ’’ہے‘‘ کے مقام پر پہنچا۔ (یہاں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا بیان ہو رہا ہے۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ ہر چیز جو وجود میں آتی ہے یہ خیال پیدا ہوتا ہے اُس کو بنانے والا کوئی ’ہونا چاہئے‘ اور یہ کہ اس کا بنانے والا کوئی ’ہے‘۔ یہ دو چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش فرمائی ہیں۔ سو یہ چیز ہے اصل میں جو خدا تعالیٰ کے وجود پرکامل یقین پیدا کرتی ہے۔ بہر حال اس مضمون کی گہرائی تو بہت ہے، تفصیل میں اس وقت تو نہیں جایا جا سکتا۔ براہین احمدیہ میں جو لکھا ہوا ہے وہ پڑھیں) کہتے ہیں بہرحال آدھی رات کا وقت تھا جب مَیں یہ کتاب پڑھ رہا تھا۔ ’’ہونا چاہئے‘‘ اور ’’ہے‘‘ کے مقام پر پہنچا تو پڑھتے ہی معاً توبہ کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور مَیں نے توبہ کر لی۔ کورا گھڑا پانی کا بھرا ہوا صحن میں پڑا تھا۔ یعنی نیا گھڑا ٹھنڈے پانی کا صحن میں پڑا ہوا تھا، جنوری کے دن اور پانی گھڑے کا کتنا یخ ہو گا، تصور کریں۔ اور تختہ سہ پائی میرے پاس تھی، سرد پانی سے لاچا (تہ بند) پاک کیا۔ ٹھنڈے پانی سے اپنا تہ بند جو ہے اُس کو دھویا۔ میرا ملازم مسمّی منگتو سو رہا تھا۔ وہ بھی جب مَیں دھو رہا تھا تو جاگ پڑا اور وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ کیا ہوا؟ کیا ہوا؟ یہ تہ بند جو ہے، لاچا ہے مجھے دو مَیں دھوتا ہوں۔ مگر مَیں اُس وقت ایسی شراب پی چکا تھا کہ جس کا نشہ مجھے کسی سے کلام کرنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔ آخر منگتو اپنا سارا زور لگا کر خاموش ہو گیا اور کہتے ہیں کہ گیلا تہ بند باندھ کے مَیں نے نماز پڑھنی شروع کی اور منگتو دیکھتا گیا اور محویت کے عالم میں میری نماز اس قدر لمبی ہوئی کہ منگتو جو ملازم تھا وہ تھک کے سو گیا اور مَیں نماز میں مشغول رہا۔ پس یہ نماز براہین نے پڑھائی کہ بعد ازاں اب تک مَیں نے نماز نہیں چھوڑی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ معجزہ بیان کرنے کے لئے مذکورہ بالا طوطیہ تمہید مَیں نے باندھا تھا۔ یعنی یہ لمبی اور خوبصورت تمہید مَیں نے یہ معجزہ بیان کرنے کے لئے باندھی ہے کہ کس طرح براہین احمدیہ نے میرے اندر ایک انقلاب پیدا کیا۔ کہتے ہیں عین جوانی میں بحالت ناکتخدا (یعنی میرے جوانی کے دن تھے اور مَیں غیر شادی شدہ بھی تھا) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ ایمان جو ثریا سے شاید اوپر ہی گیا ہو اتھا اتار کر میرے دل پر داخل کیا اور ’’مسلماں را مسلماں باز کردند‘‘ کا مصداق بنایا۔ جس رات میں مَیں بحالت کفر داخل ہوا تھا اس کی صبح مجھ پر بحالت اسلام ہوئی۔ براہین احمدیہ پڑھنے کی وجہ سے۔ اس مسلمانی پر جب میری صبح ہوئی تو مَیں وہ محمد دین نہ تھا جو کل شام تک تھا۔ فطرتاً مجھ میں حیا کی خصلت اچھی تھی۔ فطرت میں یہ تھا میرے اندر حیا تھی لیکن اوباشوں کی صحبت میں عنقا ہو چکی تھی (یعنی ختم ہو گئی تھی غلط لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کی وجہ سے۔) اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی برکت سے مجھے وہی خصلت حیا واپس دی۔ میں اس وقت اس آیت کے پر تو کے تحت مزے لے رہا تھا۔ سورۃ حجرات کی یہ آیت نمبر7 یہاں لکھا ہے لیکن یہ 8۔ 9 آیت ہے کہ اَللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَ الۡفُسُوۡقَ وَ الۡعِصۡیَانَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۙ﴿۸﴾ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ نِعۡمَۃً ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۹﴾ (الحجرات: 8 – 9) یعنی اللہ نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنا دیا اور تمہارے دلوں میں سجا دیا ہے اور کفر اور بداعمالی اور نافرمانی سے کراہت پیدا کر دی ہے۔ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ اللہ کی طرف سے ایک بڑے فضل اور نعمت کے طور پر یہ ہے۔ اللہ دائمی علم رکھنے والا اور حکمت رکھنے والا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کے ساتھ ہی قرآن کی عظمت اور محبت نے میرے دل میں ڈیرہ لگایا۔ گویا علم شریعت جو ایمان کی جڑ ہے اُس کے حاصل کرنے کا شوق اور فکر دامنگیر ہوا۔ ازاں بعد سال 1893ء، 1894ء میں براہین احمدیہ کا ایک دور ختم کیا جو نمازِ تہجد کے بعد پڑھتا تھا اور پھر آئینہ کمالاتِ اسلام پڑھا جو ’’توضیح المرام‘‘ کی تفسیر ہے۔ حضرت قبلہ منشی مرزا جلال الدین صاحب پنشنر منشی رسالہ نمبر 12ساکن بولانی تحصیل کھاریاں ضلع گجرات دو ماہ کی رخصت لے کر سیالکوٹ چھاؤنی سے بولانی تشریف لائے اور بولانی ہی میں مَیں پٹواری تھا۔ اُن سے پتہ پوچھ کر بیعت کا خط لکھ دیا جس کا جواب مجھے اکتوبر 1894ء میں ملا۔ جس میں لکھا تھا کہ ظاہری بیعت بھی ضروری ہے جو میں نے 5؍جون 1895ء مسجد مبارک کی چھت پر بالا خانے کے دروازے کی چوکھٹ کے مشرقی بازو کے ساتھ حضرت صاحب سے کی۔

(ماخوذازرجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد7 صفحہ46-47 روایت حضرت میاں محمد الدین صاحبؓ)

(خطبہ جمعہ 30؍نومبر 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

خدا ایسے بھی دوڑ کر آتا ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 جنوری 2022