• 21 مئی, 2022

چھوٹی مگر سبق آموز بات

سنی سنائی بات کی تشہیر کرنا

افواہیں اور سنی سنائی باتیں ازمنہء قدیم میں بھی پھیلائی جاتیں تھیں مگراُس وقت بات پھیلنے میں کچھ وقت لگتا تھا۔ دورِحاضر میں ٹیکنالوجی میں جدت، سوشل میڈیا، پرنٹنگ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے بےجا اور غلط استعمال کی وجہ سے صحیح اور غلط خبر آندھی اور طوفان کی سی تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچ جاتی ہے۔ اور بعض اوقات افواہیں اور بغیر تحقیق کے پھیلائی جانے والی من گھڑت خبریں کمزور دل لوگوں کے لئے جان لیوا بھی ثابت ہو تی ہیں۔ یہ مومن کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ بغیر تحقیق کے خبریں آگے پھیلاتا پھرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا ہے کہ جب بھی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔

(بشریٰ نذیر آفتاب۔ سسکاٹون، کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

خدا ایسے بھی دوڑ کر آتا ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 جنوری 2022