• 22 مئی, 2022

کتاب تعلیم کی تیاری (قسط 29)

کتاب تعلیم کی تیاری
قسط 29

اس عنوان کے تحت درج ذیل تین عناوین پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔

  1. اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارے کیا فرائض ہیں؟
  2. نفس کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟
  3. بنی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں؟

اللہ کے حضور ہمارے فرائض

خدا تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدق دکھایا جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام نے جو قرب حاصل کیا تو اس کی وجہ یہی تھی۔ چنانچہ فرمایا ہے

اِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰی

(النجم: 38)

ابراہیمؑ وہ ابراہیمؑ جس نے وفاداری دکھائی۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت کو چاہتا ہے جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو طیار نہ ہو جاوے۔ اور اس کی ہر ذلت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو طیار نہ ہو۔ یہ صفت پیدا نہیں ہوسکتی۔ بت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اﷲ تعالیٰ کے قرب سے روکتی اور اس پر مقدم ہوتی ہے۔ وہ بت ہے اور اس قدر بت انسان اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ میں بت پرستی کر رہا ہوں۔ پس جب تک خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے نہیں ہو جاتا اور اس کی راہ میں ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے طیار نہیں ہوتا۔ صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو جو یہ خطاب ملا۔ کیا یہ یونہی مل گیا تھا؟ نہیں۔

اِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰی کی آواز اس وقت آئی جبکہ وہ بیٹے کی قربانی کے لئے طیار ہو گیا۔ اﷲ تعالیٰ عمل کو چاہتا ہے اور عمل ہی سے راضی ہوتا ہے۔ اور عمل دکھ سے آتا ہے۔ لیکن جب انسان خدا کے لئے دکھ اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس کو دکھ میں بھی نہیں ڈالتا۔ دیکھو ابراہیم علیہ السلام نے جب اﷲ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہا اور پوری تیاری کرلی تو اﷲ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو بچا لیا۔ وہ آگ میں ڈالے گئے لیکن آگ ان پر کوئی اثر نہ کر سکی۔ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ تکالیف سے بچا لیتا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں جسم تو ہے روح نہیں ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ روح کا تعلق جسم سے ہے اور جسمانی امور کا اثر روح پر ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہئے کہ جسم سے روح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جس قدر اعمال انسان سے ہوتے ہیں۔ وہ ایسی مرکب صورت سے ہوتے ہیں۔ الگ جسم یا اکیلی روح کوئی نیک یا بد عمل نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے جزا و سزا میں بھی دونوں کے متعلقات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ بعض لوگ ایسے راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کر دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا بہشت جسمانی ہے۔ حالانکہ وہ اتنا نہیں جانتے جب اعمال کے صدور میں جسم ساتھ تھا تو جزا کے وقت الگ کیوں کیا جاوے؟ غرض یہ ہے کہ اسلام نے ان دونوں طریقوں کو جو افراط اور تفریط کے ہیں چھوڑ کر اعتدال کی راہ بتائی ہے۔ یہ دونوں خطرناک باتیں ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہئے۔ مجرد تعذیب جسم سے کچھ نہیں بنتا اور محض آرام طلبی سے بھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ86-87، سن اشاعت 2016ء مطبوعہ لندن)

ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہونا چاہئے اور ان کو شکر کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ ان کی ایمانی قوتوں کو یقین کے درجہ تک بڑھانے کے واسطے اپنی قدرت کے صدہا نشان دکھائے ہیں۔ کیا کوئی تم میں سے ایسا بھی ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جس کو ہماری صحبت میں رہنے کا موقعہ ملا ہو اور اس نے خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ نشان اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو۔

ہماری جماعت کے لئے اسی بات کی ضرورت ہے کہ ان کا ایمان بڑھے۔ خدا تعالیٰ پر سچا یقین اور معرفت پیدا ہو۔ نیک اعمال میں سستی اور کسل نہ ہو۔ کیونکہ اگر سستی ہو تو پھر وضو کرنا بھی ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے چہ جائیکہ وہ تہجد پڑھے۔ اگراعمال صالحہ کی قوت پیدا نہ ہو اور مسابقت علی الخیرات کے لئے جوش نہ ہو تو پھر ہمارے ساتھ تعلق پیدا کرنا بے فائدہ ہے۔

ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پرعمل کرتا ہے۔ لیکن جو محض نام رکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا۔ وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل اس جماعت میں نہیں ہے۔ محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔ اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجاوے گا کہ وہ الگ ہو جائے گا۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے۔ اعمال پروں کی طرح ہیں۔ بغیر اعمال کے انسان روحانی مدارج کے لئے پرواز نہیں کرسکتا۔ اور ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتا جو ان کے نیچے اﷲ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔ پرندوں میں فہم ہوتا ہے۔ اگر وہ اس فہم سے کام نہ لیں تو جو کام ان سے ہوتے ہیں نہ ہو سکیں۔ مثلاً شہد کی مکھی میں اگر فہم نہ ہو تو وہ شہد نہیں نکال سکتی اور اسی طرح نامہ بر کبوتر جو ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے فہم سے کس قدر کام لینا پڑتا ہے۔ کس قدر دور دراز کی منزلیں وہ طے کرتے ہیں۔ اور خطوط کو پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح پر پرندوں سے عجیب عجیب کام لئے جاتے ہیں۔ پس پہلے ضروری ہے کہ آدمی اپنے فہم سے کام لے اور سوچ لے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں یہ اﷲ تعالیٰ کے احکام کے نیچے اور اس کی رضا کے لئے ہے یا نہیں؟ جب یہ دیکھ لے اور فہم سے کام لے تو پھر ہاتھوں سے کام لینا ضروری ہوتا ہے سستی اور غفلت نہ کرے۔ ہاں یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ تعلیم صحیح ہو۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعلیم صحیح ہوتی ہے۔ لیکن انسان اپنی نادانی اور جہالت سے یا کسی دوسرے کی شرارت اور غلط بیانی کی وجہ سے دھوکا میں پڑ جاتا ہے۔ اس لئے خود خالی الذہن ہو کر تحقیق کرنی چاہئے۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ94-96، سن اشاعت 2016ء مطبوعہ لندن)

نفس کے ہم پر حقوق

آدمی کئی قسم کے ہیں بعض ایسے کہ بدی کر کے پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔ بھلا یہ کونسی صفت ہے جس کے اوپر ناز کیا جاوے۔ شر سے اس طرح پرہیز کرنا نیکی میں داخل نہیں ہے۔ اور نہ اس کا نام حقیقی نیکی ہے۔ کیونکہ اس طرح تو جانور بھی سیکھ سکتے ہیں۔ میاں حسین بیگ تاجر ایک شخص تھا اس کے پاس ایک کتا تھا وہ اسے کہہ جاتا کہ روٹی کو دیکھتا رہ تو وہ روٹی کی حفاظت کرتا۔ اسی طرح ایک بلی کو سنا ہے کہ اسے بھی ایسے ہی سکھایا ہوا تھا۔ جب بعض لوگوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے امتحان کرنا چاہا۔ اور ایک کوٹھڑی کے اندر حلوہ، دودھ اور گوشت وغیرہ ایسی چیزیں رکھ کر جس پر بلی کو ضرور لالچ آوے اس بلی کو وہاں چھوڑ کر دروازہ کو بند کر دیا کہ دیکھیں اب وہ ان اشیاء میں سے کھاتی ہے کہ نہیں۔ پھر جب ایک دو دن بعد کھول کر دیکھا تو ہر ایک شے اسی طرح پڑی تھی اور بلی مری ہوئی تھی اور اس نے کسی شے کو ہلایا تک بھی نہ تھا۔ اس لئے اب شرم کرنی چاہئے کہ انہوں نے حیوان ہو کر انسان کا حکم ایسا مانا اور یہ انسان ہو کر خدا کے حکم کو نہیں مانتا۔ نفس کو تنبیہ کرنے کے واسطے ایسی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور بہت سے وفادار کتے بھی موجود ہیں مگر افسوس اس کے لئے ہے کہ جو کتے جتنا مرتبہ بھی نہیں رکھتا تو بتلادے کہ پھر وہ خدا سے کیا مانگتا ہے؟ انسان کو تو خدا نے وہ قویٰ عطا کئے ہیں کہ اور کسی مخلوق کو عطا نہیں کئے۔ شر سے پرہیز کرنے میں تو بہائم بھی اس کے شریک ہیں۔ بعض گھوڑوں کو دیکھا ہے کہ چابک آقا کے ہاتھ سے گر پڑی تو منہ سے اٹھا کر اسے دیتے ہیں اور اس کے کہنے سے لیٹتے ہیں اور بیٹھتے ہیں اور اٹھتے ہیں اور پوری اطاعت کرتے ہیں تو یہ انسان کا فخر نہیں ہو سکتا کہ چند گنے ہوئے گناہ ہاتھ پاؤں وغیرہ دیگر اعضاء کے جو ہیں ان سے بچا رہے۔ جو لوگ ایسے گناہ کرتے ہیں وہ تو بہائم سیرت ہیں جیسے کتوں بلیوں کا کام ہے کہ ذرا برتن ننگا دیکھا تو منہ ڈال لیا اور کوئی کھانے کی شے ننگی دیکھی تو کھا لی۔ تو ایسے انسان کتے بلی کے سے ہی ہوتے ہیں انجام کار پکڑے جاتے ہیں۔ جیل خانوں میں جاتے ہیں جا کر دیکھو تو ایسے مسلمانوں سے زندان بھرے ہوئے ہیں ؎

حضرت انساں کہ حد مشترک را جامع است
می تواند شد مسیحا می تواند شد خرے

(ملفوظات جلد4 صفحہ56-57، سن اشاعت 2016ء مطبوعہ لندن)

یہ زمانہ بھی رُوحانی لڑائی کا ہے۔ شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔ شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خدا تعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اُس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ مبارک وہ جو اس کو شناخت کرتا ہے اب تھوڑا زمانہ ہے ابھی ثواب ملے گا لیکن عنقریب وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی سچائی کو آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر دکھائے گا۔ وہ وقت ہوگا کہ ایمان ثواب کا موجب نہ ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہونے کا مصداق ہوگا۔ اس وقت میرے قبول کرنے والے کو بظاہر ایک عظیم الشان جنگ اپنے نفس سے کرنی پڑتی ہے۔ وہ دیکھے گا کہ بعض اوقات اس کو برادری سے الگ ہونا پڑے گا۔ اُس کے دُنیوی کاروبار میں روک ڈالنے کی کوشش کی جاوے گی اُس کو گالیاں سننی پڑیں گی۔ لعنتیں سُنے گا مگر ان ساری باتوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ملے گا۔

لیکن جب دوسرا وقت آیا اور اس زور کے ساتھ دُنیا کا رجوع ہوا جیسے ایک بلند ٹیلہ سے پانی نیچے گرتا ہے اور کوئی انکار کرنے والا ہی نظر نہ آیا اُس وقت اقرار کس پایۂ کا ہوگا اس وقت ماننا شجاعت کا کام نہیں۔ ثواب ہمیشہ دُکھ ہی کے زمانہ میں ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو قبول کر کے اگر مکہ کی نمبرداری چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایک دنیا کی بادشاہی دی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کمبل پہن لیا اور ہر چہ باداباد ماکشتی درآب انداختیم کا مصداق ہو کر آپ کو قبول کیا تو کیا خدا تعالیٰ نے ان کے اجر کا کوئی حصہ باقی رکھ لیا ہرگز نہیں۔ جو خدا تعالیٰ کے لئے ذرا بھی حرکت کرتا ہے وہ نہیں مرتا جب تک اس کا اجر نہ پا لے۔ حرکت شرط ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف معمولی رفتار سے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔ ایمان یہ ہے کہ کچھ مخفی ہو تو مان لے۔ جو ہلال کو دیکھ لیتا ہے تیز نظر کہلاتا ہے لیکن چودھویں کے چاند کو دیکھ کر شور مچانے والا دیوانہ کہلائے گا۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ123-124، سن اشاعت 2016ء مطبوعہ لندن)

بنی نوع کے ہم پر حقوق

جب یہ لوگ خدا کے قائل نہیں تو الہام کے کب قائل ہوں گے؟ ان لوگوں کو بے عقل بھی نہیں کہنا چاہئے بلکہ ان میں نور ایمان نہیں ہے کیا وہ کسی ایسے مفتری و کذاب کی نظیر پیش کر سکتے ہیں کہ اس کی مخالفت پر ناخنوں تک زور لگایا گیا ہو اور ہمیشہ قبل از وقت اپنے افتراء شائع کرتا رہا ہو اور پھر وہ اپنے وقت پر پورے ہوتے رہے ہوں بتلاویں تو سہی جس شدّ و مد سے ہم نے خبریں قبل از وقت پیش کی ہیں کسی اور نے بھی کیں ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک خدا پر یقین نہ ہو۔ خدا کی معرفت ضروری ہے کوئی آسمانی امر ان کے نزدیک عظمت کے قابل نہیں ہے تعجب آتا ہے کہ ایک طرف طاعون کا یہ حال ہے اور ایک طرف دلوں کی یہ سختی۔ کوئی اور برتن ہو تو انسان اس میں ہاتھ ڈال کر صاف بھی کر لے مگر ان کے دلوں کے برتن جن کے اندر زنگار بھرا ہوا ہے کیسے صاف ہوں۔ عجب معاملہ ہے جس قدر ہمیں ان پر حسرت ہوتی ہے اسی قدر ان کو نفرت اور بغض اور جوش بڑھتا ہے۔ جیسے کوئی آدمی جس کا معدہ بلغم یا صفرا سے بھرا ہوا ہو تو اسے کھانا کھانے سے تنفر ہوتا ہے کہ وہ کھانے کا نام سن کر بھی برداشت نہیں کر سکتا اور اس کا جی بیزار ہوتا ہے یہی حال ان کا ہے سچی بات کا نام تک نہیں سن سکتے کس کس کی شکایت کریں سب ایک ہی ہیں۔ مجھے خوب یاد ہے جب سے یہ الہام ہوا ہے۔ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردیگا۔‘‘ اب اس کا مفہوم کہ زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا قابلِ غور ہے بیوقوف جانتے نہیں کہ یہ کاروبار مصنوعی کیسے چل سکتا ہے؟ ہمارے دیکھتے ہوئے ہزاروں چل بسے لیکن ان لوگوں کے نزدیک اب سب کچھ جائز ہو گیا ہے کل خوبیاں جو کہ صادقوں کے لیے تجویز کرتے تھے اب سب کاذبوں کو دیدی ہیں اور ایسے تہیدست ہوئے ہیں کہ کوئی خوبی صادق کی بیان کر ہی نہیں سکتے۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ159-160، سن اشاعت 2016ء مطبوعہ لندن)

جو الہام مجھ کو بھول گیا تھا آج یاد کیا ہے اور وہ یہ ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ عِبَادِہٖ یُوَاسِیْکَ۔ یعنی اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے اور تیری غمخواری کرے گا۔

(البدر جلد2 نمبر7 مورخہ 6 مارچ 1903ء صفحہ50)

جہلم سے خبر آئی کہ کرم دین نے حضرت اقدس پرایک اور مقدمہ مواہب الرحمٰن کے بعض الفاظ کی بنا پر کیا ہے۔

فرمایا: اب یہ ان لوگوں کی طرف سے ابتداء ہے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ ان کے مقابلہ میں کیا کیا تدبیر اختیار کرے گا۔ یہ استغاثہ ہم پر نہیں اللہ تعالیٰ پر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مقدمات کر کے تھکانا چاہتے ہیں۔ الہام اِنَّ اللّٰہَ مَعَ عِبَادِہٖ یُوَاسِیْکَ اسی کے متعلق اجتہادی طور پر معلوم ہوتا ہے اور ایسا ہی الہام سَاُکْرِمُکَ اِکْرَامًا عَجَباً۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ178، سن اشاعت 2016ء مطبوعہ لندن)

(ترتیب و کمپوزڈ: عنبرین نعیم)

پچھلا پڑھیں

خدا ایسے بھی دوڑ کر آتا ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 جنوری 2022