• 7 اگست, 2020

مضطر کی دعا خدا جلد سنتا ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

’’اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے بندوں کو جو دعا کی طرف توجہ دلائی ہے اور یہ کہا ہے کہ میں تمہارے قریب آ جاتا ہوں اس میں صرف رمضان کے مہینہ کا ہی ذکر نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ جو بھی بے چین ہو اور بے قرار ہو کر میری طرف دعا کرتے ہوئے آتا ہے مَیں اس کی دعا سنتا ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْٓءَ (النمل:63) وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دُور کر دیتا ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ (النمل:63) کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہے جو یہ سب کچھ کر سکتا ہے؟ یعنی کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو مضطر کی دعا سنتا ہے۔ اس کی تکلیفوں کو دُور کرتا ہے جب اس کو ایک شخص اضطراری حالت میں پکارے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ اس آیت کے حوالے سے فرمایا کہ ’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خدا وہ خدا ہے جو بے قراروں کی دعا سنتا ہے۔‘‘

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 259 (خطبہ جمعہ مؤرخہ 30جون 2017ء)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 24 ۔اپریل2020 ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اپریل 2020