• 5 اگست, 2020

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے قبل از خلافت کے چند ایمان افروز واقعات

اس عاجز کے آباؤاجداد کا بنیادی طور پر تعلق حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے مولد و مسکن بھیرہ سے ہے۔ اس عاجز کی پیدائش اور میٹرک تک ابتدائی تعلیم بھی بھیرہ کی ہی ہے۔اس کے بعد ٹی آئی کالج ربوہ اور پھر انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں تعلیم حاصل کی اور عملی زندگی میں انجینئرنگ کے پراجیکٹس پر ملک بھر میں rolling stone بنا رہا۔ اس عاجز کے بزرگ صحابہ کا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے قریبی تعلق تھا۔ وہ جلسہ سالانہ قادیان پر حضورؓ کے ہی مبارک گھر میں ٹھہرتے تھے اور آپؓ کے ذریعے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دامن سے وابستہ ہوئے تھے۔

اس عاجز کی ایکٹو سروس سے ریٹائرمنٹ اٹک میں ہوئی جہاں تقریباً 5 سال قیام رہا ۔اس دوران ضلع کی مختلف جماعتوں اور افراد سے قریبی تعلق رہا۔گزشتہ دنوں جامعہ احمدیہ کے ایک بچے کو تاریخ احمدیت ضلع اٹک پر مقالہ ملا جس کا اس عاجز کو نگران مقرر کیا گیا۔اس سے قبل اس عاجز کے اٹک میں احمدیت کےآغاز اور اٹک کے صحابہ اور امراء اضلاع وغیرہ پر معلوماتی مضامین الفضل میں کئی سال پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ اس پس منظر اور اسی کے تسلسل میں یہ معلومات بھی سپرد قرطاس ہیں۔

ضلع اٹک میں ایک نہایت معزز احمدی خاندان کوٹ فتح خان میں آباد ہے۔ جن کی رشتہ داری حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی حرم اوّل سے جا ملتی ہے۔ کوٹ فتح خان جو کہ اب ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ میں ہے، کی اپنی ایک rich تاریخ ہے۔ اس کو چھوڑتے ہوئے یہ عاجز اصل مقصد کی طرف آتا ہے۔

ملک سلطان رشید آف کوٹ فتح خان(سابق امیر ضلع اٹک) نے اس عاجز سے ایک مرتبہ ذکر کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا کوٹ فتح خان کے رؤساء سے دوستانہ تعلق تھا اور ان کے چند ایمان افروز واقعات کا انہیں علم ہے۔

اس عاجز کی درخواست پر انہوں نے بذریعہ خط محررہ 14 جنوری 2020ء چند واقعات تحریر کر کے بھیجے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ

امید ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بخیریت ہوں گے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے بعض واقعات جو خلافت سے پہلے کے ہیں اور ان کا تعلق کوٹ فتح خان سے بھی ہے وہ لکھ کر آپ کی طرف بھیج دوں ۔سو یہ تحریر اسی بارے میں ہے۔

کوٹ فتح خان کا ذکر ایک جگہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان نے ’’ تحدیث نعمت‘‘ میں بھی کیا ہے۔ جب انہوں نے والئ کوٹ فتح خان سردار سر محمد نواز خان کا ایک کیس پریوی کونسل میں کامیابی سے لڑا۔ یہ ذکر خاکسار نےاس لئے کیا ہے کیونکہ خاکسار نے یہ واقعات سردار صاحب موصوف سے سنے ۔ سردار سر محمد نواز خان سردار فتح خان کے نواسے سردار محمد علی خان کے بیٹے تھے۔

کوٹ فتح خان گاؤں ایک مغل سردارفتح خان کی ملکیت تھا اور اس کے ارد گرد کے تقریباً 50گاؤں بھی ان کی ملکیت تھے۔

خاکسار نے جب سردار صاحب سے پوچھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ اور سردار فتح خان کا آپس میں تعارف کب اور کیسے ہوا تو انہوں نے کہا کہ اس کا تو مجھے علم نہیں البتہ اتنا وہ جانتے ہیں کہ حضور سردار فتح خان صاحب کے پاس کبھی کبھار آیا کرتے تھے اور ان کا قیام کئی روز کا ہوتا تھا اور وہ بنگلہ نمبر 5 پر ٹھہرا کرتے تھے۔ جو کہ گاؤں کی آبادی سے باہر ہے اور یہ اس وقت بطور مہمان خانہ کے استعمال ہوتا تھا۔ اندازہ یہی ہے کہ یہ بنگلہ اس وقت 175 سال سے زیادہ پُرانا ہے۔

اس تمہید کے بعد ان واقعات کی طرف آتا ہوں۔

ایک دفعہ حضور ؓ یہاں آئے ہوئے تھے اور 5نمبر بنگلہ پر ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔ سردار فتح خان صاحب سے حضورؓ کی ملاقات دن کے وقت کسی معین وقت پر ہوتی تھی۔ باقی وقت ایک مصروفیت یہ تھی کہ کچھ غریب لوگ ادھر ادھر سے سن کر کہ حکیم صاحب آئے ہوئے ہیں مفت علاج کے لئے آجاتےتھے۔

ایک دن کسی شخص کو شرارت سوجھی اس نے حضور ؓکی حکمت کا امتحان لینے کی ٹھانی اور ایک شیشی میں اپنی بھینس کا پیشاب بھر کر لے آیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی بیمار ہے خود نہیں آسکتی میں اس کا پیشاب لے کر آیا ہوں کہ شاید یہ دیکھ کر آپ کوئی علاج تجویز کرسکیں۔حضور نے شیشی نہیں پکڑی بلکہ اسے کہا کہ شیشی پکڑ کر اس طرح اس کو اونچا کرو کہ سورج کی کرنیں براہ راست اس پر پڑیں۔ اس نے ایسا ہی کیا آپ نے تھوڑا وقت اسے دیکھ کر کہا اسے بنولوں کی کھل کھلایا کرو ٹھیک ہو جائے گی۔ یہاں اکثر لوگ اپنی بھینسوں کو کھلاتے ہیں۔

دوسرا واقعہ جو انہوں نے سنایا وہ یہ تھا کہ سردار فتح خان کا ایک پرانا ملازم تھا۔ اس کی بیوی کو بہت لمبے عرصے سے بخار تھا، بہت علاج کروائے لیکن آرام نہیں آیا۔ ایک دن اس نے سردار صاحب سے کہا کہ اتفاق سے حکیم صاحب آئے ہوئے ہیں ان سے بھی علاج کروا لیتے ہیں آپ سفارش کر دیں انہوں نے کہا سفارش کی ضرورت نہیں تم خود جا کر عرض کرو کہ وہ مریضہ کو دیکھ کر کوئی علاج تجویز کریں۔اس پر وہ حاضر خدمت ہوا اور حالات بتائے۔ آپ نے مفتی فضل الرحمن سے کہا کہ وہ سائل کے ساتھ گاؤں جائیں۔ وہ راستے میں سوچنے لگا کہ میں نے تو حکیم صاحب کو خود چلنے کے لئے کہا تھا انہوں نے اپنے ایک شاگرد کوبھیج دیا ہے۔ بہر حال جب یہ لوگ مریضہ کے گھر پہنچے تووہاں انہوں نے دو تین چارپائیاں صحن میں رکھی ہوئی تھیں جن میں سے ایک پر وہ مریضہ بیٹھی ہوئی تھی اور اس کا چہرہ صحن کے دروازے کی طرف تھا۔ مفتی صاحب دروازے میں ہی رُک گئے۔ اس پر مریضہ کے خاوند نے کہا اندر تشریف لے چلیں اور نبض وغیرہ دیکھیں ۔انہوں نے کہا کہ مریضہ کو میں نے دیکھ لیا ہے اب واپس جا کر نسخہ تجویز کرتا ہوں۔ اب وہ ملازم سوچنے لگا کہ ایک تو حکیم صاحب نے شاگرد کو بھیجا دوسرے شاگرد نے نبض تک نہیں چیک کی تو علاج کیا ہوگا۔ بہر حال مفتی صاحب نے ایک کاغذ پر نسخہ لکھ کر حضورؓ کو دکھایا حضورؓ نے فرمایا نسخہ تو ٹھیک ہے۔ البتہ میری طرف سے یہ اضافہ ہے کہ ایک ہفتہ تک مریضہ کو کھانے کی جگہ صرف گائے کے گوشت کے کباب صبح شام دیئے جائیں۔ یہ سن کر وہ شخص سخت گھبرایا کیونکہ کباب تو بخار میں مضر خیال کئے جاتے ہیں۔بہر حال واپس آکر سردار صاحب سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جیسے حکیم صاحب کہتے ہیں ایسے ہی کرو۔ چوتھے، پانچویں دن مریضہ صحت یاب ہو گئی

تیسرا واقعہ کچھ یوں ہے کہ سردار فتح خان کی وفات کے بعد ان کے نواسے سردار محمد علی خان والئ کوٹ فتح خان ہوئے۔ انہیں دھوکہ سے زہر ملا دودھ پلایا گیا لیکن چونکہ انہوں نے صرف ایک ہی گھونٹ پیا تھا اس لئے فوراً تو موت واقع نہ ہوئی لیکن آہستہ آہستہ باوجود علاج کروانے کے صحت بہت کمزور ہوتی گئی۔ اس پر انہوں نے سوچا کہ قادیان جا کر حضرت خلیفۃ المسیح الاّولؓ سے علاج کروایا جائے۔ لیکن اس میں دقت یہ پیدا ہوئی کہ سردار محمد علی خان پیر مہر علی گولڑوی کے مرید تھے۔ چنانچہ آدمی بھیج کر اجازت لینے کی کوشش کی گئی جو کہ نہ مل سکی کچھ عرصہ مزید گزر گیا۔ ایک دن ملک اعتبار خان کھنڈہ (ملک اللہ یار خان کھنڈہ سابق ممبر قومی اسمبلی کے دادا) طبیعت پوچھنے آئے جب انہیں حالات کا علم ہوا تو وہ گولڑہ گئے اور پیر صاحب سے تھوڑا بہت جھگڑا کر کے ان کے قادیان جانے کی اجازت اس شرط پر لے لی کہ ملک صاحب خود سردار صاحب کے ساتھ قادیان جائیں گے۔ چنانچہ ان کے کہنے کے مطابق انہیں ایک مکان میں ٹھہرایا گیا وہیں حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓسردار صاحب کو دیکھنے آئے۔ حضورؓ آکر سردار صاحب کے بستر کے پاس کھڑے ہو گئے نبض وغیرہ نہیں دیکھی فرمایا زہر دیا گیا ہے۔ ملک اعتبار خان نے کہا ’جی‘ پھر فرمایا 6 ماہ پہلے دیا گیا ہے۔ ملک صاحب نے پھر کہا ’جی‘ تو فرمایا پھر اتنا عرصہ کہاں رہے؟ اس پر ملک صاحب خاموش رہے تو حضور نے کہا پیر صاحب نے منع کیا ہوگا ملک صاحب نے کہا ’جی‘ حضور نے فرمایا آپ سردار محمد علی خان کو نہیں لائے ان کی لاش لائے ہیں۔ میں صرف ایک دوا دے سکتا ہوں جس کے بعد سردار صاحب شاید کوٹ پہنچ جائیں اور شاید نہ پہنچیں چنانچہ واپسی پر ابھی کوٹ سے تین چار میل کے فاصلہ پر تھے کہ انتقال ہو گیا۔

والسلام
خاکسار ملک سلطان رشید خان


(انجینئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 24 ۔اپریل2020 ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اپریل 2020