• 20 جولائی, 2024

باغبانی کا آغاز کیسے کیا جائے

ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ ساری زندگی خوش رہنا چاہتے ہیں تو باغبانی شروع کر لیجئے۔ باغبانی نہ صرف انسان کے جسمانی نظام بلکہ ذہنی صحت کو بھی درست رکھتی ہے۔ باغبانی کے دوران مختلف کاموں کی وجہ سے جسم متحرک رہتا ہے جو کیلوریز کو جلانے کا سبب بن کر جسم انسانی کو صحت مند رکھتا ہے۔ باغبانی اعصابی دباؤ کو ختم کرتی ہے اس طرح ڈپریشن کے شکار افراد کے لئے فائدہ مند ہے وہ بھی پودوں کے پاس خوشی محسوس کرتے ہیں ۔آس پڑوس کے لوگوں میں سبزیاں دینے سے تعلقات بھی مستحکم ہوتے ہیں لیکن باغبانی کا آغاز کیسے کیا جائے خاص طورپر شہروں میں جہاں جگہ کی قلت ہے تو سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ باغبانی شروع کرنے کے لئے جگہ کی نہیں بلکہ شوق اور جذبہ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے دل میں پودوں سے محبت اور باغبانی کا شوق ہے تو آپ اپنے گھر کے کسی بھی حصے میں باغبانی کر سکتے ہیں، چاہے آپ کسی فلیٹ میں رہتے ہیں تب بھی آپ اپنی کھڑکیوں یا بالکونی کو استعمال کرکے اپنے گھر میں سبزیاں اور پودے لگا سکتے ہیں۔

اگر آپ کسی بڑےگھر کے رہائشی ہیں یا آپ کے گھر میں تھوڑی سی کچی زمین ہے تو یہ سونے پہ سہاگہ ہے ورنہ آپ چھوٹی کیاریوں سے بھی اچھی سبزی حاصل سکتے ہیں۔ اس کے لئے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ۔اس کے لئے آپ کوئی سے پرانے برتنوں جیسے پرانی بالٹی ، پرانے ٹائر، ٹیوب یا پائیپ کے ٹکڑے یا کوئی بھی ایسا برتن جس میں تھوڑی سی مٹی اور پانی جمع کیا جاسکے استعمال کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ لکڑی کے تختوں سے بنے پھلوں کے کارٹن یا موٹے کپڑے یا پلاسٹک سے بنے تھیلے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بلڈنگ میٹیریل کی دکانوں سے بھی آپ کوخالی لکڑی کی پیٹیاں یا بڑے سائز کے میٹیریل بیگ مل سکتے ہیں۔

اگر آپ یو کے میں ہیں تو کسی بھی سپر مارکیٹ سے گارڈنگ کے لئے پلاسٹک بیگز، ٹرے اور گملے مل سکتے ہیں۔ اگر آپ مشرقی ممالک میں ہیں تو آپ چھت کا بھی بخوبی استعمال کرسکتے ہیں۔

جو لوگ زیادہ ہمت اور جذبہ رکھتے ہیں وہ مغربی ممالک میں اللاٹمنٹ گارڈن یا کمیونیٹی گارڈن بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

بڑے شہروں میں جہاں جگہ کی قلت ہے وہاں ورٹیکل گارڈن بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں جو شہری گھروں کیلئے بہت کارآمد ہیں جو خالی پلاسٹک کی بوتلوں اور استعمال شدہ لکڑی کے پیلٹس کی مدد سے بڑی عمدگی سے بنائے جاسکتے ہیں۔

ان کے علاوہ آپ اپنے گھر یا فلیٹ کے فرش کو بھی برؤئے کار لاسکتے ہیں، اس کے لئے فرش پر موٹے پولی تھین کی دہری تہہ لگانی چاہئے تاکہ سیپیج سے فرش خراب نہ ہو۔

اب آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کیا اگانا چاہتے ہیں۔ابتدائی طور پر آ سانی سے اگنے والے پودے اور سبزیاں لگانی چاہیں مثلاً مختلف قسم کے سلاد، پالک، سرخ مولی، ٹماٹر ، بینگن، سٹرابیری، زوکینی، آلو وغیرہ۔ پھر جب کچھ تجربے حاصل کر لیں تو وہ پودے بھی لگانے کی کوشش کریں جنہیں ذرا زیادہ توجہ چاہئے ہو تی ہے مثلاً کھیرا، مرچ، مٹر، پھلیاں، شلجم ، گاجر، سیلیری وغیرہ

ایک بات یاد رکھیں کہ جس ملک اور ماحول میں آپ رہتے ہیں اس سے مطابقت رکھنے والے مقامی پودے لگائیں تاکہ شروع میں آپ کو زیا دہ محنت نہ کرنی پڑے مثلاً اگر آپ یو کے میں ہیں اور یہاں کدو، کریلا، بھنڈی وغیرہ اگانے کی کوشش کریں گے تو شاید جلد ہمت ہار جائیں کیونکہ یہ پودے یہاں کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے اور ان کو مخصوص ماحول مہیا کرنے کے لئے زیادہ محنت اور احتیاط کے ضرورت ہوتی ہے۔

سب سے پہلی چیز منصوبہ بندی ہے ۔جو بھی چیز شروع کریں اس سے پہلے پوری معلومات حاصل کریں۔ اس کا پورا پلان بنائیں۔مقامی موسم اور شیدول کے مطابق عمل کریں۔

موسم بہار کا آغاز ہو چکا ہے ہر طرف نرگس کے پھول کھل رہے ہیں اور اور درجہ حرارت بھی بہت موزوں ہے۔ اگر آپ یو کے میں ہیں تو مارچ سے لے کر مئی تک بیج اور پنیری لگا نے کےمہینےہیں۔مارکیٹ سے سیڈ ٹرے لائیں اور مرچ ، ٹماٹر، شملہ مرچ ،سلاداور بینگن کے بیج بودیں۔

یہ پودے باہر بھی لگائے جاسکتے ہیں لیکن موسم کی شدت کی وجہ سے نقصان ہو سکتا ہے اسلئے بہتر یہ ہے کہ پولی ٹنل، گرین ہاوٗس یا انڈور لگائے جائیں ۔بیج سے پودا بننے کے دورانیہ درجہ حرارت کے مطابق کم یا زیا دہ ہو سکتا ہے کیونکہ ان پودوں کی نشونما کے لئے زیادہ درجہ حرارت اور کم نمی والا ماحول موافق ہے۔

اگر آپ باہر کچھ لگانا چاہ رہے ہیں تولال مولی، چقندر، شلجم، پالک، سلاد،پیاز لہسن، مٹر، اور پھلیاں لگا سکتے ہیں لیکن رات کی سردی سے بچانے کے لئے کیاری یا گملوں کو کسی فلیس یا کپڑے سے ڈھانپنا پڑے گا۔ برطانیہ میں عموماً اپریل کے آخری ہفتہ یا مئی کے پہلے ہفتہ کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہتی۔

یا توری بھی لگانی آسان ہے اسے لگانے کابہترین وقت مئی اور جون ہے۔ zucchini اگنے میں سب سے آسان آلو کا پودا ہے۔ یہ اپریل سے لے کر اگست تک لگایا جا سکتا ہے۔ اسے آپ کسی بالٹی، گملے، گروئنگ بیگ یا گروسری کے پرانے تھیلے میں بھی آسانی سےلگا سکتے ہیں ۔

اگر آپ انڈیا یا پاکستان میں ہیں تو یہ کدو ، ٹینڈے، کریلے ، بھنڈی، ٹماٹر ، آلو، توری اور پیاز لگانے کا موسم ہے۔

مٹی کا انتظام

پودے اگانے کے لئے مٹی ایک اہم جزو ہے کیونکہ یہ مختلف نامیا تی اجزا کا مرکب ہو تی ہے جس سے پودا قدرتی ذریعہ سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے۔ آپ کسی بھی گارڈن سنٹر سے کمپوسٹ بیگ لا سکتے ہیں۔اسمیں پودے کی ضرورت کے لحاظ سے کچھ نامیاتی کھادیں ملالیں۔ اگر آپ کے قریب کوئی مویشی فارم ہے تو وہاں سے گوبر کی کھاد بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ گھر میں بھی آسانی سےکھاد تیار کی جا سکتی جس کا طریقہ آئندہ کسی مضمون میں بتائیں گے۔

باغبانی کے لئے ضروری سامان

باغبانی کے آغاز میں کچھ بنیادی سامان کی ضرورت بھی ہو گی جو سب با آسانی ہر بڑے اسٹور پردستیاب ہے۔

  1. آپکے ہاتھوں کو محفوظ رکھنے کے لئے دستانوں کے ضرورت ہو گی تاکہ کس نقصان دہ چیز یا الرجی سے بچا جا سکے۔
  2. پودوں کو پانی دینے کے لئے فوارہ
  3. پودوں کی تراش کے لئے پودے کاٹنے کی قینچی
  4. پودوں کی گوڈی اورمٹی ڈالنے کے لئے ہینڈ فورک اور شول

آئندہ مضمون میں انفرادی طور پر پودوں کو لگانے کے طریقے، ان کی دیکھ بھال اور بیماریوں سے بچاؤ کے متعلق ذکر ہوگا۔ ان شاء اللہ

(عامر محمود ملک۔ شیفیلڈ، برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

رمضان کے تیسرے عشرہ (آگ سے نجات) اور اس کے متعلق حضرت مسیحِ موعودؑ کی دعائیں

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ