• 1 اکتوبر, 2020

استغفار کا مطلب اور اس کی حقیقت

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام استغفار کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
’’غفر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔ استغفار سے انسان ان جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے۔پس استغفار کے یہی معنی ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کرکے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ۔ان پر غالب آوے اور خداتعالیٰ کے احکام آوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ 348)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام استغفار کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’گناہ ایک ایسا کیڑاہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہوسکتا ہے۔استغفار کیا ہے؟ یہی کہ جو گناہ صادر ہوچکے ہیں ان کے بد ثمرات سے خدا تعالیٰ محفوظ رکھے اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقُوّہ انسان میں موجود ہیں ان کے صدور کا وقت ہی نہ آوے اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر راکھ ہوجاویں۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ218)

فرمایا ’’استغفار کے اصل معنی تویہ ہیں کہ یہ خواہش کرنا کہ مجھ سے کوئی گناہ نہ ہو یعنی میں معصوم رہوں اور دوسرے معنے جو اس کے نیچے درجے پر ہیں کہ میرے گناہ کے بد نتائج جو مجھے ملنے ہیں میں ان سے محفوظ رہوں۔‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد اول صفحہ 303)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 25 جون 2020ء