• 9 جولائی, 2020

عہدیداران کے فرائض

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
ذیلی تنظیمیں بھی، انصار بھی، لجنہ بھی، خدام بھی، ہر سطح پر فعّال ہوں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد تنظیموں کے قیام کا یہ تھا کہ جماعت کا ہر طبقہ فعّال ہو جائے اور مختلف ذرائع سے جماعت کی ترقی کی کوشش ہوتی رہے اور افراد جماعت کے ہر طبقہ تک پہنچا جا سکے۔ عورتوں تک بھی، بچوں تک بھی، نوجوانوں تک بھی، بوڑھوں تک بھی تا کہ خلیفۂ وقت کو ہر ذریعہ سے خبر بھی پہنچتی رہے۔ اس بارے میں بھی اس کو علم ہوتا رہے کہ جماعت کی کیا حالت ہے۔ پس ہر عہدیدار جو ہے، وہ خدمت دین کو اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہوئے کرے اور ایک دوسرے سے تعاون بھی کریں۔ نظام جماعت صدران، امراء اور ذیلی تنظیموں کا بھی ایک دوسرے سے باہمی تعاون ہونا چاہئے۔ اگر یہ باہمی تعاون ہو اور تمام ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام بھی فعال ہو تو جماعت کی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ پس اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔

ایک بات یہ بھی ہر عہدیدار یاد رکھے کہ اگر کسی کے اپنے خلاف بھی شکایت ہو، کسی عہدیدار کے خلاف اس کو یا اس کے خلاف اس کو شکایت پہنچے یا اس کے خلاف کوئی اس کے سامنے بات کرے تو اس کو سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔ عہدیداروں میں سب سے زیادہ برداشت ہونی چاہئے اور بات کرنے والے سے بدلہ لینے کی بجائے سب سے پہلے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے، اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کہیں میرے میں یہ برائی ہے تو نہیں۔ یہ ٹھیک کہہ رہا ہے یا صحیح کہہ رہا ہے۔ یہ بات بھی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ضروری ہے۔

(خطبہ جمعہ 10 مارچ 2017)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 25 جون 2020ء