• 9 جولائی, 2020

مومن کے لباس کا معیار

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ایک مومن کے اور ایک غیر مومن کے لباس کی زینت کا معیار مختلف ہوتا ہے اور کسی بھی شریف آدمی کے لباس کا جو زینت کا معیار ہے وہ مختلف ہے۔ ایک مومن کبھی ایسا لباس نہیں پہن سکتا جو خود زینت بننے کے بجائے جسم کی نمائش کر رہا ہو۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 24اپریل 2009ء)

’’بعض لڑکیاں کہہ دیتی ہیں کہ ہم نے سر ڈھانک لیا ہے اور یہ کافی ہے لیکن سر اس طرح نہیں ڈھانکا ہوتا جس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے۔ بال نظر آرہے ہوتے ہیں آدھا سر ڈھکا ہوتا ہے۔ آدھا ننگا ہوتا ہے۔ گریبان تک نظر آرہا ہوتا ہے۔ کوٹ اگر پہنا ہے تو کہنیوں تک بازو ننگے ہوتے ہیں۔ گھٹنوں سے اوپر کوٹ ہوتے ہیں۔ یہ نہ ہی ایک احمدی لڑکی اور عورت کی حیا ہے اور نہ ہی یہ ایک احمدی عورت کی آزادی کی حد ہے بلکہ اس ذریعہ سے اس طرح کی حرکتیں کرکے وہ اپنی حیا پر الزام لارہی ہوتی ہیں اور بحیثیت احمدی اپنی آزادی کی حدود کو بھی توڑ رہی ہوتی ہیں۔‘‘

(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ جرمنی 23 اگست 2008ء ، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 4نومبر 2011ء)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مزید فرماتے ہیں:
’’اگر آپ نے ٹراؤزر(trouser) یا جین(jean) پہننی ہے تو قمیض لمبی ہونی چاہیے۔ بعض لڑکیاں سمجھ لیتی ہیں کہ گھر میں جین کے اوپر ٹی شرٹ پہن لیا یا چھوٹا بلاؤز پہن لیا تو ایسا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جبکہ گھر میں اپنے باپ بھائیوں کے سامنے بھی ایسا لباس پہننا چاہئے جو حیا دار ہو، مناسب ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ان سے پردہ نہ کرنے کو کہا ہے لیکن حیا کو بہرحال ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔اس لئے گھر میں بھی اپنا لباس جو ہے حیادار رکھنا چاہیئے۔‘‘

(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ جرمنی 2 جون 2012ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 26اکتوبر 2012ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 25 جون 2020ء