• 3 جولائی, 2020

آؤ توبہ کریں

میری خوابوں کی اُجلی سنہری زمیں
ہنستے پھولوں کی خوشبو سے مہکی ہوئی
امن اور پیار کے رس میں ڈوبی ہوئی
یہ زمیں تو خداداد انعام تھی
اس میں کیوں آگ اور خوں کی ہولی ہوئی
خونِ انسان کیوں اتنا ارزاں ہوا
ہر طرف ہے قیامت کا منظر بنا
زلزلے، قحط ، طوفاں حوادث، وبا
بوئے بارود ہے نار نمرود ہے
رہنما جو ہمارے ہیں رہزن ہوئے
اقتدار اور دولت کی مستی میں گم
سب رعونت تکبر کے مارے ہوئے
کھیلتے ہیں زمانے کی تقدیر سے
ناخداؤ یہ بے چہرہ شہروں کی دھند
آسمانوں سے قہر خدا لائی ہے
لالچی گدھ ہیں نظریں جمائے ہوئے
کب وطن کا بدن آخری سانس لے
ہو گیا ہے خدا ہم سے ناراض کیا
آؤ سوچیں کہ ہم سے ہوئی کیا خطا
آسمانی صحیفوں میں لکھا ہے کیا
کیوں بھڑکتا ہے دھیمے خدا کا غضب
اک منادی نے سب برملا کہہ دیا
آج انسان خدا کو ہے بھولا ہوا
اپنے ہونے کا وہ دے رہا ہے پتا
سچ کی تکذیب سچوں کی تعذیب ہے
جھوٹ کہنا ہی اس وقت تہذیب ہے
کیوں عذابوں کو آواز دیتے ہو تم
اب بھی کچھ وقت باقی ہے اے دوستو
اپنے شہروں سے قصبوں سے باہر چلو
اپنے محلوں فصیلوں کو تم چھوڑ کر
اپنے گھر اپنی چاہت سے منہ موڑ کر
اپنے بچے بلکتے ہوئے چھوڑ کر
ربط ارضی خداؤں سے سب توڑ کر
اک خدا کو پکاریں کرم مانگ لیں
بہت گڑ گڑا کے دعائیں کریں
چیخیں چلائیں روئیں اور توبہ کریں
بخش دے گا ہمیں سن کے آہ و بکا
بڑھ کے ماؤں سے بھی مہرباں ہے خدا

(امۃ الباری ناصر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 25 جون 2020ء