• 9 جولائی, 2020

جماعت احمدیہ کی ترقی کی وجوہات

خدائے عزوجل نے اپنے ابدی کلام قران مجید میں مومنین کو غلبہ کا وعدہ دیتے ہوئے فرمایا ہے وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (آل عمران 140) کہ اگرتم مومن ہو تو تمہی غالب ہو گے۔ اسی طرح فرمایا أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (المجادلة 23) کہ اللہ کے لشکر ہی غالب آتے ہیں۔ نیز فرمایا قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المؤمنون 2) کہ مومن کامیاب ہوتے ہیں ۔سورہ نور میں اللہ تعالی نے مومنوں کی ایک علامت یہ بھی بیان فرماِئی ہے کہ مومنوں کو اللہ تعالی خلافت کے عظیم انعام سےنوازتا ہے جیسے کہ فرمایا وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (النور56)

یعنی: تم میں سے جولوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ان سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کوخلیفہ بنایا اور ان کے لئے ان کے دین کو، جواس نے ان کے لئے پسند کیا ہے ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دےگا۔

سرورکائنات فخرموجودات، سیدالمرسلین خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے آخری زمانہ میں اسلام کے غلبہ اور کامیابی کے لئے مسلما نوں کوخلافت کی خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا نبوت رہے گی پھراللہ تعالیٰ اسے اٹھالےگا۔ پھرجب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا خلافت علی منہاج النبوۃ رہے گی پھراللہ تعالی اسے اٹھالے گا۔ پھرکاٹنے والی بادشاہت آجائے گی وہ بھی جب تک اللہ چاہے گا رہے گی پھراللہ تعالی اسے بھی اٹھالے گا۔ اس کے بعد متکبربادشاہ ہوں گے جب تک اللہ تعالی چاہے گا پھراللہ تعالی اسے بھی اٹھا لے گا۔ ثم تکون الخلافہ علی منہاج النبوة ثم سکت۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالی نبوت کے بعد خلافت قائم فرمائے گا۔اب خلافت کا ذکرفرمانے کے بعد حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔

(مشکوہ۔کتاب الفتن)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں قائم ہونے والی خلافت علی منہاج النبوہ قیامت تک بفضل اللہ تعالی جاری رہے گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

اور اس خلافت پرایمان لانے والے ہی وہ مومن اورصالحین ہوں گے جن کے دین کوتمکنت اور مضبوطی دی جائےگی ،جن کے خوف امن میں بدل دئیے جائیں گے۔

آج جب خلافت احمدیہ کوقائم ہوئے ایک سوبارہ سال ہوگئے ہیں توان سالوں کا ایک ایک دن اس بات کا گواہ ہے کہ مخالفین احمدیت کی طرف سے جوبھی مخالفت کی اندھیاں چلائی گئیں،جوبھی طوفان برپا کئے گئے ۔ انشقاق اور دشمنی کے خارزارلگائے گئے۔ خوف اورہراس پھیلا کرہر طرف سے راستہ روکنے کی کوشش کی گئی ۔نام نہاد مذہبی راہنماؤں، متشدد مولویوں سے لیکرحکومتوں تک نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ مگر تکبر کے سارے بت ٹوٹ گئے۔خوف کی فضائیں امن میں بدل گئیں۔ دین کوتمکنت حاصل ہوئی اوروہ ایک آواز جومنارہ قادیان سے عشق مصطفی کے جام سے لبریز ہو کر اٹھی اور اکناف عالم میں پھیل گئی ایک شخص بیس کروڑ میں بدل گیا اور قادیان کی ایک بستی ہزاروں لاکھوں بستیوں کا روپ دھار گئی۔ یہ خدا کے فضلوں کی وہ بارش ہے جوخلافت کے ذریعہ ارض احمدیت پر برسی۔ ایشیاء کے میدانوں، افریقہ کے تپتے صحراؤں اورامریکہ کے مہکتے لالہ زاروں میں جو لاالہ الا اللہ کے نعرے گونج رہے ہیں اور وہ زنگ جو براعظم آسٹریلیا کے باشندوں کے دلوں سے اتارا جا رہاہے اور وہ روشنی جس سے شش جہات جگمگا رہے ہیں۔ بادشاہ مسیح پاک کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈرہے ہیں یہ بھی خدا کے فضلوں اورنعمتوں کی وہ با رش ہے جواحمدی زمین پر عرش کا خدانازل فرمارہا ہے یہ سب بھی خلافت کا فیض ہے۔

ایک شاعرنے کیا خوب کہا ہے۔

خلافت نوررب العالمیں ہے خلافت ظل ختم المرسلیں ہے
خلافت پاسبان مومنیں ہے خلافت ہی سے شان مومنیں ہے
کیا ہے متحد قوموں کوجس نے مرے ہمدم یہ وہ حبل متیں ہے

حقیقت یہ ہے کہ خلافت خدائے عزوجل کی نعمت ہے ،دولت ہے۔ برکت ہے ۔رحمت ہے ۔خلافت باعث تہذیب انساں ہے، خلافت زینت مہرنبوت ہے۔خلافت دین کا ایک حصن حصیں ہےامرواقعہ یہ ہے کہ خلافت کی وجہ سے خاک کے سینہ سے پھول اگتے ہیں۔ بحروبر میں رنگ ونور کی گھٹائیں برستی ہیں ۔خلافت کے طفیل ہی وفا کے دئیے جلتے اورنت نئے چراغ مصطفوی کے اظلال جگمگاتے ہیں ۔پس اج احمدیت کودنیا میں جو بھی ترقیات نصیب ہو رہی ہیں وہ خلافت کی وجہ سے ہِیں ۔ہزارں ہزار احمدی جوسچی خوابوں کا فیض پاتے ہیں۔کشوف والہامات سے نوازے جاتے ہیں۔ جن سے فرشتے ہمکلام ہوتے ہیں۔جن کے لیئے اسمانی دروازے کھولے جاتے ہیں ۔جو ہر میدان وغا میں فتح وظفر کے علم لہراتے ہیں ۔یہ سب خلافت احمدیہ کا فیضان ہیں ۔آج جو شخص بھی ان نعمتوں سے فیضیاب ہونا چاہتا ہے ان برکتوں سے حصہ لینا چاہتا ہے اسے چاہیئے کہ وہ بھی دل وجان سےخلافت کے ساتھ وابستہ ہوجائے اورخلافت کی اطاعت وفرمانبرداری کا جؤا اپنی گردن میں ڈال لے کیونکہ۔

محبت کے جذبے، وفا کاقرینہ اخوت کی نعمت،ترقی کا زینہ
خلافت سے ہی برکتیں ہیں ساری رہے گا خلافت کا فیضان جا ری

میں اپنے اس مضمون کو حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیزکے اس پیغام کے ساتھ ختم کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں۔

’’پس یہ الٰہی تقدیرہے۔ یہ اسی خداکا وعدہ ہے جوکبھی جھوٹے وعدے نہیں کرتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ پیارے جو آپ کے حکم کے ماتحت قدرت ثانیہ سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دنیا پرغالب آنا ہے کیونکہ خدا ان کے ساتھ ہے خدا ہمارے ساتھ ہے ۔۔۔پس ہراحمدی کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کوقدرت ثانیہ سے چمٹ کر اپنی تمام استعدادوں کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کریں۔ آج ہم نے عیسائِیوں کو بھی آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے۔ یہودیوں کوبھی آنحضرتﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے۔ ہندوؤں کوبھی اور ہر مذہب کے ماننے والے کو بھی آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے۔ یہ خلافت احمدیہ ہے جس کے ساتھ جڑکرہم نے روئے زمین کے تمام مسلمانوں کوبھی مسیح ومہدی کے ہاتھ پرجمع کرنا ہے۔‘‘

(ماہنامہ خالد۔جون، جولائی 2008)

خلافت سے وابستہ جوبھی رہے گا
نہیں اس کوخطرہ نہ پھرکوئی غم ہے
خلافت کے سایہ میں ہم بڑھ رہے ہیں
ہمارا ترقی کی جانب قدم ہے

(مکرم عبدالقدیر قمر مربی سلسلہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 25 جون 2020ء