• 5 دسمبر, 2021

سورۃ الرّوم اور لقمان کا تعارف (ازحضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ)

سورۃ الرّوم اور لقمان کا تعارف
ازحضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

سُورۃ الرّوم

ىہ سورت مکى ہے اور بسم اللہ سمىت اس کى اکسٹھ آىات ہىں۔

اس سورت کا آغاز بھى حروفِ مقطعات الٓمٓ سے ہوا ہے۔ الٓمٓ سے شروع ہونے والى سورتوں مىں ىہ ذکر ہے کہ اللہ تعالىٰ سب سے زىادہ جانتا ہے کہ کىا ہوا اور کىا ہونے والا ہے۔

اس سے پہلى سورت کے اختتام پر ىہ دعوىٰ تھا کہ اللہ تعالىٰ ىقىناً احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے اور سب سے بڑے احسان کرنے والے آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم تھے۔ پس آپؐ کو مزىد فتوحات کى خوشخبرى دى جا رہى ہے جن کا ذکر اس سورت مىں متعدد جگہ ملتا ہے۔ سب سے پہلے پىشگوئى کے رنگ مىں ىہ بىان فرماىا گىا کہ فارس کے مشرکىن کو روم کى عىسائى حکومت کے مقابل پر (جو بہر حال موحِد ہونے کا دعوىٰ تو رکھتے تھے) تھوڑے سے علاقہ مىں فتح مىسر آئى تو اس سے مشرکىن نے ىہ فال نکالى کہ وہ اللہ تعالىٰ کى طرف منسوب ہونے والوں پر آخرى فتح بھى حاصل کر لىں گے۔ اس سورت مىں ىہ اعلان کىا گىا ہے کہ ہر گز اىسا نہىں ہو گا۔ لازماً رومى اپنے کھوئے ہوئے علاقے کو مشرکىنِ فارس سے دوبارہ چھڑوالىں گے اور اس پر مسلمان خوشىاں منائىں گے، ىہ توقع رکھتے ہوئے کہ اب ان شاء اللہ مسلمانوں کو بھى بت پرستوں پر فتح عظىم حاصل ہوگى۔

ىہ پىشگوئى اُن دنوں کى ہے جب ابھى مسلمان انتہائى کمزور تھے اور کوئى اُن کى فتح کا دعوىٰ نہىں کر سکتا تھا۔ اس ضمن مىں ىہ پىشگوئى بھى اس فتح کے وعدے مىں مضمر تھى کہ مسلمانوں کو مشرکوں کى عظىم الشان حکومت ىعنى کسرىٰ کى حکومت پر بھى فتح نصىب ہو گى۔ پس بعىنہٖ اىسا ہى ہوا۔ اس اتنے واضح ثبوت کو دىکھتے ہوئے بھى لوگ اللہ تعالىٰ کى ہستى کا انکار کرتے چلے جاتے ہىں۔ پس ان کو اىک دفعہ پھر اس حقىقت کى طرف متوجہ فرماىا گىا کہ کىا وہ زمىن و آسمان ىا اپنے نفوس پر غور نہىں کرتے کہ ان کو اللہ تعالىٰ کے وجود کى شہادتىں خود اپنے اندر اور زمىن و آسمان کے آفاق مىں دکھائى دىنے لگىں۔ اسى طرح ان کى توجہ پہلى قوموں کے آثار کى طرف بھى پھر مبذول کروائى گئى کہ اگر وہ اپنے حال سے بے خبر ہىں تو پھر پہلى قوموں کے انجام کو دىکھ لىں۔ دنىاوى لحاظ سے وہ کتنى عظىم قومىں تھىں اور آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کے زمانہ مىں موجود قوموں سے زىادہ انہوں نے زمىن کو آباد کىا لىکن جب ان کے پاس رسول آئے اور انہوں نے انکار کر دىا تو اُن کى عظمتىں خاک مىں ملا دى گئىں۔

اس کے بعد مختلف مثالوں کے ذرىعہ مسلسل ىہ مضمون جارى ہے کہ جدھر بھى تم نظر دوڑاؤ گے ادھر ہى تمہىں زندگى کے بعد موت اور موت کے بعد زندگى کا مضمون پھىلا ہوا دکھائى دے گا۔ لىکن افسوس کہ انسان اس پر غور نہىں کرتا کہ اس سارے نظام کى آخرى منزل ىہ تو نہىں ہو سکتى کہ انسان کو بار بار اسى دنىا کى خاطر زندہ کىا جائے۔ آخرى زندگى وہى ہو گى جس مىں وہ حساب دہى کے لئے اللہ کے حضور حاضر کىا جائے گا۔ پس آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کو اىک دفعہ پھر اس امر کى نصىحت ہے کہ تُو صبر سے کام لے۔ اللہ کا وعدہ بہر حال حق ہے اور وہ لوگ جو ىقىن نہىں کرتے، تجھے اپنے موقف سے اکھاڑ نہ سکىں۔ ىہاں صبر کا مفہوم ىہ ہے کہ نىکىوں سے چمٹے رہو اور کسى قىمت پر بھى حق بات کو ترک نہ کرو۔

(قرآن کرىم اردو ترجمہ مع سورتوں کا تعارف از حضرت خلىفۃ المسىح الرابعؒ،صفحہ)

 سورۃ لقمان

ىہ سورت مکى ہے اور بسم اللہ سمىت اس کى پىنتىس آىات ہىں۔

اس سورت کا آغاز بھى الٓمّٓ سے ہوتا ہے اور الٓمّٓ سے شروع ہونے والى سب سے پہلى سورت ’’البقرۃ‘‘ کے مضامىن کا نئے انداز سے اعادہ فرماىا گىا ہے۔ الکتٰب کے نزول کا جس طرح سورۃ البقرہ کے آغاز مىں ذکر ہے اس سورت کے شروع مىں بھى اس کتاب مىں مضمر، اللہ تعالىٰ کى طرف سے نازل ہونے والى ہداىت کا ذکر ہے۔ لىکن مضمون کو اس پہلو سے بہت آگے بڑھا دىا گىا ہے کہ وہاں کتاب نے تقوىٰ کے ابتدائى مفہوم کے اعتبار سے ان لوگوں کے لئے ہداىت بننا تھا جو سچ کو سچ کہنے کى جرأت رکھتے ہوں مگر ىہاں اس کتاب سے ان کو ہداىت عطا کرنے کا بھى دعوىٰ کىا گىا ہے جو تقوىٰ کے مقام مىں بہت آگے بڑھ چکے ہوں اور محسنىن کے منصب پر فائز کئے جا چکے ہوں۔اس سے آگے ہداىت کے جتنے لا متناہى مراحل ہىں ىہ ہداىت کا نہ ختم ہونے والا سر چشمہ ان کو بھى سىراب کرتا رہے گا۔ اس سورت مىں اىک دفعہ پھر اس امر پر زور دىا گىا ہے کہ اللہ تعالىٰ کى بہت سى طاقتىں ہىں جن کو تم اپنى آنکھوں سے دىکھ نہىں سکتے جىسا کہ کششِ ثقل کو بھى دىکھ نہىں سکتے تو پھر ننگى آنکھوں سے ان طاقتوں کو پىدا کرنے والے کو کىسے دىکھ سکو گے۔

حضرت لقمان علىہ الصلوٰۃ و السلام لوگوں مىں بہت حکىم مشہور تھے ىعنى گہرى حکمت کى باتىں کرنے والے تھے اور اس سورت مىں الٓمٓ کے بعد اَلْکِتَابُ کے ساتھ لفظ اَلْحَکِىْمُ کا اضافہ موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب لقمان حکىم کے حوالہ سے حکمت کى باتوں کو مختلف پىراىہ مىں بىان کىا جائے گا۔ ان کى حکمت کى باتوں مىں سے سب سے بڑى حکمت کى بات ىہ ہے کہ اپنے بىٹے کو نصىحت کرتے ہوئے فرماىا کہ وہ کبھى اللہ کے ساتھ کسى کو شرىک نہ ٹھہرائے۔ پھر ماں باپ سے احسان کى تعلىم دى کىونکہ وہ ربّ سے اس معنى مىں ظلّى طور پر مشابہت رکھتے ہىں کہ بچوں کے پىدا ہونے کا اىک ظاہرى سبب بن جاتے ہىں۔ اس کے بعد ىہ تاکىد فرمائى گئى کہ اگر ادنٰى سے ادنٰى بھى شرک کے خىالات تمہارے دل مىں پىدا ہوئے تو اس علىم و حکىم اللہ کو اُن کا علم ہوگا جو زمىن اور چٹانوں مىں چھپے ہوئے رائى کے برابر دانوں کا علم بھى رکھتا ہے اور خبىر بھى ہے۔ ىہاں لفظ خبىر مىں اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُن سے پىش آنے والے اُن کے مستقبل کى بھى خبر رکھتا ہے کہ وہ کس انجام کو پہنچىں گے۔

اس کے بعد قىام صلوٰۃۃ کا وہ مرکزى حکم دىا گىا جو سورۃ البقرۃ کے احکام مىں سب سے پہلا حکم ہے۔ مومن کى زندگى کا انحصار سراسر قىام ِ صلوٰۃ پر ہى ہے اور اَمْر بِالْمَعْرُوْفِ اور نَھِى عَنِ الْمُنْکَرِ کى توفىق قىام صلوٰۃ ہى کے نتىجہ مىں ملتى ہے۔ لىکن انسان کا ىہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ اُسے نىکى کى ہر توفىق اللہ ہى کى طرف سے ملتى ہے، وہ دوسرے انسانوں پر چھوٹى چھوٹى فضىلتوں کے نتىجہ مىں فخر سے اپنے کلے پھلانے لگتا ہے۔ پس اس کو عجز کى تعلىم دى گئى کہ زمىن مىں انکسارى کے ساتھ چلو اور اپنى آواز کو بھى دھىما رکھو۔

اس کے بعد انسان کو شکر کى طرف متوجہ فرماىا گىا ہے جو اس سورت کرىمہ مىں اىک مرکزى اہمىت رکھتا ہے۔ بار بار حضرت لقمان علىہ السلام اپنے بىٹے کو شکر کى نصىحت فرماتے ہىں۔ پس حضرت لقمان ؑ کو جو حکمت عطا ہوئى اس کا مرکزى نقطہ ہى شکر الہٰى ہے جس سے ان کى نصىحت کا آغاز ہوتا ہے۔ اللہ تعالىٰ کى نعمتوں کى تو کوئى انتہا ہى نہىں جس نے زمىن اور آسمان اور اس مىں مخفى تمام طاقتوں کو انسان کى نشو نما کے لئے مسخر کر دىا حتى کہ کائنات کے کنارے پر واقع گىلىکسىز (Galaxies) بھى انسان مىں مخفى طاقتوں پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور ڈال رہى ہىں۔ لىکن اس کے باوجود لوگوں مىں اىسے بھى ہىں جو اس کائنات کا کوئى علم نہىں رکھتے اور اپنى لا علمى کے باوجود بڑھ بڑھ کر اللہ تعالىٰ پر باتىں بناتے ہىں۔ ان کے پاس نہ کوئى ہداىت ہے اور نہ کوئى روشن کتاب ہے جس مىں شرک کى تعلىم دى گئى ہو۔ ىہاں کِتَابٌ مُّنِىْرٌ کہہ کر اس وہم کا ازالہ فرما دىا گىا کہ بت پرست اپنى بگڑى ہوئى تعلىم کے ثبوت کے طور پر بعض کتابىں پىش کرتے ہىں جىسا کہ وىدوں کا حوالہ دىا جاتا ہے۔ لىکن وىد تو کوئى بھى روشن دلىل نہىں رکھتے بلکہ اور بھى زىادہ اندھىروں کى طرف انسان کو دھکىل دىتے ہىں۔

کائنات مىں اللہ تعالىٰ کى حکمت اور قدرت کے جو اَسرار پھىلے پڑے ہىں ان پر کوئى حساب احاطہ نہىں کر سکتا ىہاں تک کہ تمام سمندر بھى اگر روشنائى بن جائىں اور تمام درخت قلم بن جائىں تو سمندر خشک ہو جائىں گے اور قلم ختم ہو جائىں گے لىکن اللہ تعالىٰ کى قدرتوں کے اَسرار کا بىان ابھى باقى ہو گا۔

اس کے بعد اىک اىسى آىت(نمبر29) آتى ہے جو انسانى تخلىق کے رازوں پر سے عجىب رنگ مىں پردہ اٹھا رہى ہے۔ انسان کو متوجہ کىا گىا کہ اگر وہ رحمِ مادر مىں تشکىل پانے والے جنىن پر غور کرے کہ وہ تخلىق کے کن بے انتہا مراحل مىں سے گزرتا ہے تو اسے اپنى پہلى پىدائش کى پُر اسرار حکمتوں کا کسى قدر علم ہو سکتا ہے۔ چنانچہ سائنسدان قطعىت سے ىہ بىان کرتے ہىں کہ حمل کے آغاز سے لے کر جنىن کى تکمىل تک جنىن مىں وہ سارى تبدىلىاں واقع ہو رہى ہوتى ہىں جو آغازِ زندگى سے لے کر تمام ارتقائى کہانى کو دہراتى ہىں۔ ىہ اىک بہت ہى وسىع اور گہرا مضمون ہے جس پر تمام اہلِ علم سائنس دان متفق ہىں۔ فرماىا ىہ تمہارى پہلى پىدائش ہے۔ جس طرح اىک حقىر کىڑے سے ترقى کرتے ہوئے تم اپنى بشرى صلاحىتوں کى انتہا تک پہنچے اسى طرح تم اپنى نئى پىدائش مىں قىامت تک اتنى ترقى کر چکے ہو گے کہ اس تکمىل شدہ صورت کے مقابل پر انسان کى وہى حىثىت ہوگى جىسے انسان کے مقابل پر اس بے حىثىت کىڑے کى تھى جس سے زندگى کا آغاز کىا گىا۔

اس سورت کا ختتام اس اعلان پر ہے کہ وہ گھڑى جس کا ذکر کىا گىا ہے جب انسان مُردوں سے انتہائى تکمىل شدہ صورت مىں دوبارہ اٹھاىا جائے گا، اس کا علم صرف اللہ ہى کو ہے کہ وہ کب اور کىسے ہو گى اور اسى تعلق مىں ان اَور دوسرى باتوں کا بھى ذکر فرماىا گىا جن کا صرف اللہ تعالىٰ کو علم ہے اور انسان اس علم مىں کسى طرح شرىک نہىں۔ وہ باتىں ىہ ہىں کہ آسمان سے پانى کب اور کىسے برسے گا اور ماؤں کے اَرحام مىں کىا چىز ہے جو پرورش پا رہى ہے اور انسان آنے والے کل مىں کىا کمائے گا اور زمىن مىں اس کى موت کس مقام پر واقع ہو گى۔

 ىہاں اىک شک کا ازالہ ضرورى ہے۔ آج کل کے ترقى ىافتہ دور مىں ىہ دعوىٰ کىا جا رہا ہے کہ نئے آلات کى مدد سے معلوم کىا جا سکتا ہے کہ ماں کے پىٹ مىں کىا ہے۔ ىہاں تک کہ اب ىہ بھى علم ہو سکتا ہے کہ بچہ صحت مند ہے ىا پىدائشى مرىض ہے۔ لڑکا ہے ىا لڑکى۔ لىکن قطعىت کے اس دعوىٰ کے باوجود وہ ہر گز ىقىن سے نہىں کہہ سکتے کہ ماں کے پىٹ مىں پلنے والا بچہ معذور ہے ىا نہىں۔ محض اىک غالب امکان کا ذکر کرتے ہىں۔ اسى طرح ان کى ىہ پىشگوئى بھى با رہا غلط ثابت ہوئى ہے کہ پىدا ہونے والا بچہ بىٹا ہے ىا بىٹى۔ انسانى مشاہدے مىں بکثرت ىہ بات آرہى ہے کہ بعض دفعہ زچگى کے ماہرىن اىک بچے کے پىدائشى نقص کا بڑے ىقىن سے ذکر کرتے ہىں مگر جب بچہ پىدا ہوتا ہے تو اس نقص سے مبرا ہوتا ہے۔ اسى طرح بعض دفعہ ىقىن سے کہتے ہىں کہ لڑکى پىدا ہو گى مگر لڑکا پىدا ہو جاتا ہے اور اس کے بر عکس بھى۔ ىہ بات تو بکثرت ہمارے روز مرہ کے مشاہدہ مىں آتى ہے۔

(قرآن کرىم اردو ترجمہ مع سورتوں کا تعارف از حضرت خلىفۃ المسىح الرابعؒ،صفحہ709-711)

(عائشہ چوہدری۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

عالمی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 نومبر 2021