• 18 جولائی, 2024

حضرت ابوبکر صدیقؓ

دوستی کی لازوال مثال
حضرت ابوبکر صدیقؓ

دوستی انسانوں کے درمیان ایک رشتے اور تعلق کا نام ہے۔ یہ تعلق ممکن ہے باہمی ہو یا ایک طرفہ ہو۔ یہ رشتہ محض تعلق نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تعلق ہے جو دو یا دو سے زیادہ وجودوں کو محبت، سچائی، تعاون، اخلاص، باہمی تفاہم اور اعتماد کے رشتہ میں ایک دوسرے سے منسلک کرتا ہے۔

آپ نے دنیا میں دوستی کی بہت سی مثالیں دیکھی اور سنی ہونگی لیکن آج جس دوست کی دوستی کے بارے میں خاکسار آپ کو بتانے جا رہا ہے اس جیسی مثال نا آپ نے کبھی دیکھی، نا سنی اور نا کبھی سوچی ہو گی۔

یہ مثال ایک ایسے دوست کی ہے جس نے اپنے محبوب دوست کی خاطر ہمیشہ اپنے آپ کو قربان کرنا چاہا۔ اس کے لیے ہر جگہ خود کو حاضر کر دیا۔ اس دوست کا نام ’’ابوبکر‘‘ ہے۔ جن کو تاریخ ’’سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی پیدائش نبی کریم ﷺ کی پیدائش کے دو یا اڑھائی سال بعد ہوئی تھی۔ بچپن سے دوستی ہو گئی اور نیک فطرت اور اچھے اخلاق دونوں دوستوں میں یکساں تھے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے دوست اور آپ کی پاکیزہ سیرت واخلاق کے عینی شاہد تھے، اپنی دور اندیشی، ومعاملہ فہمی اور اصابت رائے کی قوت سے حقیقت تک پہنچ گئے، فرصت پاکر درِ رسالت پر پہنچے، وحی و نبوت سے متعلق آپ کی زبان سے سنا اور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔

ایمان لانے کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جس طرح اپنی دوستی کو نبھایا اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔

آنحضرتﷺ جب ہجرت کے اراد ہ سے مکہ سے نکلے اور غار ثور میں پناہ گزین ہوئے تو اس غار کے تمام سوراخ اگرچہ نہایت احتیاط کے ساتھ بند کر دیے گئے تاہم ایک سوراخ باقی رہ گیا۔ آنحضرتﷺ، حضرت ابو بکر کے زانو پر سر مبارک رکھ کر استراحت فرمارہے تھے کہ اتفاقاً اس سوراخ میں سے ایک زہریلے سانپ نے سر نکالا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے محبوب آقاکے آرام میں کوئی معمولی خلل بھی گوارا نہ کرتے ہوئے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر خوشی اور مسرت کے جذبات سے اس سوراخ پر پاؤں رکھ دیا جس پر سانپ نے کاٹ لیا۔ زہر اثرکرنے لگا مگر آپ نے پھر بھی حضور کے آرام کا اس قدر خیال رکھا کہ اف تک نہ کی۔ اور معمولی سی معمولی حرکت بھی آپ سے سرزد نہ ہوئی۔ تا آنحضرتﷺ کے آرام میں خلل نہ آئے۔ لیکن درد کی شدت بے قرار کر رہی تھی۔ اس لیے آنکھوں سے آنسو گر گئے۔ جن کا ایک قطر ہ آنحضرتﷺ کے رخسار مبارک پر گرا۔ آپ کی آنکھ کھل گئی اور دریافت فرمایا کہ کیا معاملہ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ سانپ نے ڈس لیا ہے۔ آنحضرتﷺ نے لعاب دہن اس مقام پر لگایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے زہر دور ہوگیا۔

(زرقانی جلد1 صفحہ335)

کفار جب آنحضرتﷺ پر تشدد کرتے تو بسا اوقات حضرت ابوبکرؓ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر آپ کی حفاظت کی سعادت حاصل کرتے۔

ایک دفعہ آنحضرتﷺ خانہ کعبہ میں تبلیغ فرما رہے تھے کہ قریش سخت برہم ہوئے۔ اور آپ پر حملہ آور ہوئے۔ اس وقت قریش کے غصہ کا پارہ اگرچہ انتہا پر پہنچا ہوا تھا اور ان سے تعرض کرنا گویا اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں ڈالنا تھا تاہم حضرت ابوبکرؓ کے جذبہ جان نثاری نے جوش مارا اور آپؐ نے آگے بڑھ کر قریش کو بہت لعنت ملامت کی اور فرمایا۔ خدا تم لوگوں سے سمجھے کیا تم آپؐ کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ آپ ایک خدا کا نام لیتے ہیں۔

(بخاری کتاب المناقب باب مناقب ابو بکر)

ایک مرتبہ آنحضرتﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک کافر عقبہ بن معیط نے اپنی چادر کا حضور کے گلے میں پھندا ڈال ڈیا لیکن عین اس وقت حضرت ابوبکرؓ پہنچ گئے۔ اور اس بدبخت کی گردن پکڑ کر آپ سے علیحدہ کی اور فرمایا: کیا تم اس شخص کو قتل کردو گے جو تمہارے پا س خدا تعالیٰ کی کھلی نشانیاں لایا ہے اور کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔

(بخاری کتاب بنیان الکعبہ باب ذکر ما لقی النبیؐ و اصحابہ من المشرکین بمکۃ)

یہ توتھی جان کی قربانی کی مثال، لیکن اگر مال کی قربانی کو دیکھا جائے تب بھی اس فدائی دوست نے اپنی دوستی کا پورا پورا حق ادا کیا۔

ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مالی قربانی کی تحریک فرمائی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کا کُل اثاثہ اللہ اور اس کے رسول یعنی اپنے عزیز دوست کے حضورپیش کرنے کے لئے لے آئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے ابو بکر! گھر میں بھی کچھ چھوڑ کے آئے ہو؟ تو عرض کی: گھر میں اللہ اور اس کا رسول ؐ چھوڑ آیا ہوں جس سے بڑھ کر کوئی اثاثہ نہیں ہے، جس سے بڑھ کر کوئی سامان نہیں ہے، جس سے بڑھ کر کوئی جائیداد نہیں ہے۔

یہ چند ایک مثالیں تھیں اس عظیم الشاں دوستی کی جو حضرت ابوبکر آخر تک نبھاتے چلے آئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرح نبی کریم ﷺ سے سچا اور پاک عشق کرنے اور اس محبت کے تعلق کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

(شہزاد منظور)

پچھلا پڑھیں

دوسرا سالانہ ریجنل اجتماع واقفین/ واقفات نو گیمبیا 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جنوری 2023