• 26 جنوری, 2022

جماعت احمدیہ کے مخلص اور دیرینہ خادم

محترم ملک منور احمد جاوید وفات پا گئے

جماعت احمدیہ کے مخلص اور دیرینہ خادم، سابق نائب ناظر ضیافت اور سابق نائب صدر مجلس انصاراللہ

(اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ)

(لندن ۔مانیٹرنگ ڈیسک، نمائندہ خصوصی) احباب جماعت کو نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ خبر دی جا رہی ہے کہ جماعت احمدیہ کے مخلص،دیرینہ خادم، سابق نائب ناظر ضیافت صدر انجمن احمدیہ اور سابق نائب صدر مجلس انصاراللہ محترم ملک منور احمد جاوید مورخہ 22 فروری 2020ء بروز ہفتہ 9 بجے رات بعمر 84سال طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ۔ آپ کافی عرصہ سے جگر کی تکلیف Liver Cirrhosis کی وجہ سے بیمار تھے۔ بیماری زیادہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ 10دن سے طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں داخل تھے۔

آپ کی نماز جنازہ مورخہ 25 فروری کو مسجد مبارک میں بعد نماز ظہر محترم سید خالد احمد شاہ ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے پڑھائی۔ بہشتی مقبرہ کے قطعہ بزرگان میں تدفین کے بعد ناظر صاحب اعلیٰ نے ہی دعا کرائی۔نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر احبابِ جماعت کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ خدام ِ ربوہ نے بھی خوش اسلوبی سے مختلف جگہوں پر ڈیوٹی کے فرائض انجام دیئے۔ اس سے قبل صبح ساڑھے گیارہ بجے میت کو مورچری فضل عمر ہسپتال سے دارالضیافت لایا گیا جہاں ربوہ اوردُور و نزدیک کے شہروں سے تشریف لانے والے احباب کی کثیر تعداد نے آخری دیدار کیا۔

محترم ملک منور احمد جاوید کے والد محترم ملک مظفر احمد صدر موصیان مغل پورہ لاہور تھے۔ آپ کے دادا جان حضرت ڈاکٹر ظفر چودھری آف دھرم کوٹ رندھاوا تحصیل بٹالہ ، صحابی حضرت مسیح موعودؑ اور اسی طرح آپ کے ناناجان حضرت شیخ عبدالکریم بازید پور ضلع گورداسپور بھی صحابی حضرت مسیح موعودؑ تھے۔ دونوں بزرگوں نے حضرت اقدسؑ کے ہاتھ پر بیعت کی اور لمبا عرصہ آپؑ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔ محترم ملک صاحب مرحوم کے والد فوج میں تھے ان کی ٹرانسفر مختلف شہروں میں ہوتی رہی اس لئے آپ کی ابتدائی تعلیم کے مراحل مختلف جگہوں پر طے ہوئے۔جس کی تفصیل یہ ہے۔ آپ نے پہلی جماعت قادیان سے پاس کی، دوسری لاہورسے، تیسری جماعت پُوناسے، چوتھی اور پانچویں لاہور سے، چھٹی جماعت رابرٹسن انجمن اسلامیہ ہائی اسکول جبل پورسے پاس کی جہاں آپ نے 380 ہندو، سکھ اور مسلمان طلباء میں ٹاپ کیا۔ ساتویں جماعت راولپنڈی سے، آٹھویں کراچی اور پھر نویں، دسویں لاہور سے پاس کی۔ میٹرک کے بعد کالج کی تعلیم بھی لاہور سے حاصل کی۔ سیکنڈ ایئر کے بعد خانگی حالات کی وجہ سے آپ کو تعلیم ترک کرنا پڑی اور سول سیکریٹریٹ میں ملازمت شروع کردی جہاں آپ 1956ء سے 1971 تک سروس کرتے رہے۔ اس کے دوران ہی گریجوایشن اور سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے بی ایڈ کیا۔ 17 سال اس سروس کے بعد آپ نے 17 سال تک شیزان فیکٹری کے ساتھ کاروبار کیا۔ ان کی مینگو جوس کی بوتل سب سے پہلے آپ نے فروخت کی ۔ جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر 1966ء سے جب تک سٹال لگے، آپ ہی کے ہوا کرتے تھے۔

آپ کی شادی 1968ء میں اپنی پھوپھی زاد محترمہ سلمیٰ جاوید سے ہوئی جو محترم صوفی حامد صاحب کی بیٹی اور حضرت حافظ صوفی غلام محمد صحابی حضرت مسیح موعود ؑ یکے از 313 و مبلغ ماریشس کی پوتی اور حضرت ڈاکٹر ظفر حسن صحابی حضرت مسیح موعودؑ کی نواسی ہیں

1968ء تا 1977ء آپ کو قائد ضلع اور قائد علاقہ لاہور خدمت کی توفیق ملی۔ ان دنوں آپ کو حضرت چوہدری سر ظفراللہ خان کے قریب رہنے اور فیضیاب ہو نے کا اعزاز حاصل ہوا۔ایک مرتبہ حضرت چوہدری صاحب نے آپ سے فرمایا کہ میری کوٹھی میں نماز عصر کے بعد نوجوانوں کی ایک کلاس کا انتظام کریں، میں سادہ نماز صحیح تلفظ کے ساتھ ان کو یاد کرانی چاہتا ہوں۔محتر ملک صاحب بتایا کرتے تھے کہ آپ کے ساتھ دوہرائی ہوئی نماز آج بھی مجھے صحیح تلفظ کے ساتھ یاد ہے۔

پاکستان میں 1973ء کو آنے والے سیلاب کی وجہ سے ملک میں بہت تباہی ہوگئی۔ محترم ملک صاحب نے احباب جماعت کے ساتھ مل کے مجلس خدام الاحمدیہ ضلع لاہور کی طرف سے سیلاب زدگان کی امداد کے سلسلہ میں بہت تاریخی خدمات ادا کرنے کی توفیق پائی۔ آپ نے بطور قائد ضلع لاہور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں ان خدمات کی رپورٹ بھجوائی۔ اس پرحضورؒ کی طرف سے خوشنودی کا خط موصول ہوا، اس میں حضورؒ نے فرمایا:

’’الحمد للہ آپ کو بہتر خدمت کی توفیق ملی ۔ اللہ تعالیٰ احسن جزا دے۔ سب خدام بیٹوں کو میرا سلام پہنچا دیں۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں وہ ہمت سے کام لیں اور ضرورت کی آخری گھڑی تک اپنی اپنی ذمہ داری کو نبھاتے چلے جائیں۔‘‘

(روزنامہ الفضل مورخہ 14 ستمبر 1973ء)

جب آپ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1982ء کے موقع پروقف زندگی کے موضوع پر خطاب سن رہے تھے تو آپ کی توجہ اپنی زندگی وقف کرنے کی طرف مبذول ہوئی۔آپ نے وقف کی درخواست حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کی توحضور نے مورخہ 18۔اگست 1983ء کو آپ کا وقف منظور فرمالیا اور ارشاد فرمایا کہ ’’آپ اپنے کام سمیٹ کر بےشک آجائیں‘‘۔ اس کے بعد آپ بمعہ فیملی لاہور سے ربوہ شفٹ ہوگئے۔ آپ کو نائب وکیل صنعت و تجارت بنا دیا گیا۔ کچھ عرصہ مینیجر ریویو آف ریلیجنز رہے، اس پر پابندی کے بعد 1984 میں حضرت خلیفہ رابعؒ نے آپ کو معاون ناظر دارالضیافت مقرر فرمایا۔ 1987ء میں آپ کو نائب ناظر دارالضیافت بنا دیا گیا۔ تیس سال تک اس عہدہ جلیلہ پر خدمات سرانجام دینے کے بعد آپ جولائی 2016ء میں ریٹائر ہوئے۔ 1990ء میں کفالت یکصد یتامٰی کمیٹی کے پہلے سیکریٹری مقرر ہوئے اور تقریباً 20سال تک اس شعبہ میں غیرمعمولی خدمت کی توفیق پائی۔آپ علمی مزاج کے مالک تھے۔ سیرت کی کتابوں خاص طور پر اصحاب احمد کی جلدوں کا مطالعہ آپ کا شوق تھا۔ انہی میں سے چنیدہ واقعات بیان کرکے اپنی تقاریر کو موثر بناتے تھے۔ روزنامہ الفضل میں آپ کے کئی مضامین شائع ہوئے۔

محترم ملک منور جاوید کی مجلس انصاراللہ پاکستان میں خدمات کا آغاز 1984ء میں ہوا اور یہ سلسلہ 31 سال تک جاری رہا۔ 1984ء تا 1994ء قائد تحریک جدید کے طور پر خدمت کی۔ آپ نے اس شعبہ میں منصوبہ بندی کے ساتھ کام کیا۔ مجالس اور اضلاع کی تجنید اور وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے وعدہ جات لئے اور وصولی کا کام سرانجام دیا۔ اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وعدہ جات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ 1995ء تا 1997ء تین سال تک آپ نے بطور قائد تربیت کام کیا ۔ دورہ جات کے دوران اپنی تقاریر میں تربیت سے متعلقہ واقعات اس رنگ میں بیان فرماتے کہ وہ تربیتی لحاظ سے دلوں پر اثر کرتے ۔ انصار کو ذاتی نمونہ پیش کرنے کی تلقین کرتے۔ 1998ء تا 2008ء گیارہ سال آپ قائد اشاعت رہے۔مجلس انصاراللہ کے اس شعبہ میں بھی آپ نے اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہت محبت، لگن اور اخلاص کے ساتھ کام کیا۔ اس شعبہ کے تحت آپ نے کتب کی فروخت میں کما حقہ خدمت کی توفیق پائی۔ آپ نے اضلاع سے رابطے کئے، ان کو ٹارگٹ دیئے ان کتب کی فروخت کے لئے دورہ جات کئے۔ خطبہ جمعہ میں صحابہ حضرت مسیح موعودؑ اور دیگر بزرگان دین کے واقعات دلکش انداز بیان کرتے اور یہ اعلان کرتے کہ یہ سارے واقعات اور ان کے علاوہ بے شمار واقعات باہر موجود کتابوں میں محفوظ ہیں، ہر کتاب خرید کر خود بھی پڑہیں اور اپنے بچوں کو بھی سنائیں اور پڑہائیں، اس موثر تلقین و تحریک کے نتیجہ میں جمعہ کے بعد سب کتب فروخت ہو جاتیں۔ اس طرح انہوں نے لاکھوں روپے کی بچت کی اور اپنا فریضہ احسن رنگ میں ادا کیا۔

آپ محترم چوہدری حمیداللہ، محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمداور محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد کے عہدہ صدارت میں دورہ کمیٹی کے صدر رہے۔ آپ ہر ماہ کے وسط میں دورہ کمیٹی کا اجلاس بلواتے اور اس میں اضلاع اور مجالس کے دورہ جات کی پلاننگ کرتے،ایک معین پروگرام بنا کر صدر مجلس کی خدمت میں منظوری کے لئے پیش کرتے۔ متعلقہ ناظمین علاقہ، اضلاع اور زعماء کو بذریعہ فون ہر اطلاع کرتے، وقت کا تعین کرتے اور پھر اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے مسلسل کوشش کرتے۔ الغرض ایک مربوط پروگرام کے ذریعہ قائدین کا وفد اس رنگ میں روانہ ہوتا کہ راستہ میں اپنی مقررہ کردہ مجلس میں ان کو پہنچا کر گاڑی آگے روانہ ہوجاتی اس طرح زیادہ سے زیادہ مجالس سے رابطہ ہو جاتا۔ سالہا سال تک آپ اس خدمت کو بطریق احسن سرانجام دیتے رہے۔ 2009ء تا 2014ء چھ سال تک آپ نائب صدر مجلس انصاراللہ پاکستان رہے، اس طرح آپ مسلسل 31سال تک مجلس انصاراللہ پاکستان کی عاملہ کے رکن رہے۔ اس دوران صدر مجلس کی طرف سے آپ کے ذمہ دکھی انسانیت کے کاموں کی سرانجام دہی کے لئے عطیات کے حصول کا کام سپرد کیا گیا۔قیادت ایثار کے تحت مختلف علاقوں میں لگائے جانے والے میڈیکل کیمپس کے اخراجات کے لئے کثیر رقم کی صورت میں عطیات جمع کرکے فراہم کئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور اجر عظیم سے نوازے۔ آمین

محترم ملک صاحب بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔آپ کا تین خلفاء سلسلہ کےساتھ گہرا تعلق رہا۔خلافت کے مطیع،فرمانبردار اور ہر ارشاد پر پہلی فرصت میں عمل کرتے۔ آپ مالی قربانی اور چندوں کی ادائیگی میں بہت باقاعدہ تھے۔ تحریک جدید۔ وقف جدید کے نئے سال کے اعلان کے ساتھ ہی ان کی کوشش ہوتی کہ سب سے پہلے چندے کی ادائیگی وہ کریں۔ ایک فارم پر اپنے اور اپنی فیملی کے علاوہ خاندان کے مرحومین کے نام بھی درج کرتے اور 20 سے 25 افراد کی طرف سے چندہ ادا کرتے۔ آپ کے پاس جو مدد کے لئے آتا تو کسی کو مایوس نہ کرتے ہر ایک کی پریشانی اور مسائل حل کرتے۔ کارکنان پر پابندی ہوتی کہ ان کے امدادی کاموں کے بارے میں کسی کو نہیں بتانا۔ پانچ وقت نماز کی ادائیگی کے خود بھی عادی تھے اور کارکنان کو بھی تلقین کرتے، ایک کارکن کی ڈیوٹی ہوتی کہ دارالضیافت میں پانچ وقت نمازوں کا اعلان اور صلے علیٰ کرتا رہے۔ کارکنان سے باپ کی طرح سلوک کرتے، ان کی گھریلو پریشانیوں اور مسائل سے آگاہ رہتے اور حل کرنے کی کوشش کرتے۔ پنشن کی رقم کارکنان اور مستحقین میں تقسیم کردیتے۔ مہمانوں کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے، ان کے آرام کا ہرممکن خیال رکھتے کسی مہمان کو ناراض ہو کے نہیں جانے دیتے تھے۔ آپ کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ دارالضیافت میں آنے والے غیر از جماعت مہمانوں کو خود جا کے ملتے ان کو جماعت کا تعارف کراتے اور تبلیغ کرتے۔ بہت دعاگو اور ہمہ وقت ذکر الہٰی میں مصروف رہتے۔ بیت الکرامہ میں مقیم بزرگان کا خاص خیال رکھنا اور بروقت ان کی ضروریات پوری کرنا آپ کی عادت میں شامل تھا۔

آپ نے پسماندگان میں اپنی اہلیہ محترمہ سلمیٰ جاوید کے علاوہ چار بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے اس دیرینہ خادم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ درجات بلند کرتے ہوے غریق رحمت فرمائے، نیز لواحقین کو صبر جمیل بخشے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ادارہ روزنامہ الفضل لندن آن لائن اس دکھ کے موقع پر پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتا ہے۔

محترم ملک منور احمد جاوید کا خلفاء سلسلہ کے ساتھ گہرا تعلق

(رپورٹ: ابوسدید)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 فروری 2020