• 20 اکتوبر, 2020

حضرت مسیح موعود ؑ۔ فتح نصیب جرنیل جناب ابوالکلام آزاد کے حقیقت افروز مقالے

تبرکات

دوست محمدشاہد مؤرخ احمدیت

’’امام الہند‘‘ ابو الکلام آزاد (ولادت 17اگست 1887ء۔ وفات 21فروری 1958ء) برصغیر کے نہایت ممتاز لیڈر اور بے مثال انشاء پرداز اور نامور محقق تھے۔ آپ کے قلم سے ا خبار ’’وکیل امرتسر‘‘ میں سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے وصال (26 مئی 1908ء) پر حسب ذیل دو حقیقت افروز مقالے شا ئع ہو ئے۔

پہلا مقالہ

’’وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبا ت کا مجسمہ تھا۔ جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جس کی انگلیو ں سے انقلا ب کے تار اُلجھے ہو ئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریا ں تھیں۔ وہ شخص جو مذہبی دُنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔ جو شور قیا مت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا، خا لی ہاتھ دُنیا سے ا ُٹھ گیا ۔ یہ تلخ موت، یہ زہر کا پیالہ موت جس نے مرنے وا لے کی ہستی تہہ خاک پنہاں کردی۔ ہزاروں لاکھوں زبانوں پر تلخ کا میاں بن کے رہے گی اور قضا کے حملہ نے ایک جیتی جان کے ساتھ جن آ رزوؤں اور تمناؤں کا قتل عا م کیا ہے۔ صدائے ماتم مدّتوں اس کی یاد تا زہ رکھے گی۔

مرزا غلام احمد صاحب قادیا نی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جا ئے اور مٹا نے کے لئے اسے امتدادِزمانہ کے حوالے کر کے صبر کر لیا جا ئے۔ ایسے لو گ جن سے مذہبی یا عقلی دُنیا میں انقلا ب پیدا ہو، ہمیشہ دُنیا میں نہیں آ تے۔ یہ نازشِ فرزندان ِ تاریخ بہت کم منظرِ عالم پر آ تے ہیں اور جب آ تے ہیں تو دُنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جا تے ہیں۔

مرزا صاحب کی اس رحلت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلا ف کے با وجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ان تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرادیا کہ ان کا ایک بڑا شخص اُن سے جُدا ہو گیا،اور اس کے ساتھ مخالفینِ اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھُلا اعتراف کیا جائے تا کہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنو ں کو عرصہ تک پست اور پائمال بنائے رکھا آئندہ بھی جاری رہے۔ اور اگر شور بختی مزاحم صلح و احسان نہ ہو تو یکجہتی کے سا تھ مشترکہ فرض کی واجبی شرکت کے ساتھ اور جامعہ اسلامیہ کے مبارک اُصولوں کے ساتھ۔

مرزا صاحب اس پہلی صف عشاق میں نمودار ہوئے تھے جس نے اسلام کے لئے یہ ایثا ر گوارا کیا کہ ساعتِ مہد سے لے کر بہار و خزاں کے سارے نظارے ایک مقصد پر ہاں ایک شاہد رعنا کے پیمان ِ وفا پر قر با ن کر دئیے سید احمد۔ غلام احمد۔ رحمت اللہ۔ آل حسن۔ وزیر خاں ۔ ابوالمنصور۔ یہ اَلسَّابِقُوْنَ الْاَ وَّلُوْن کے زمرہ کے لوگ تھے۔ جنہوں نے بابِ مدافعت کا افتتاح کیا اور آخر وقت تک مصروفِ سعی رہے۔ اختلافِ طبائع اور اختلافِ مدارجِ قابلیت کے ساتھ ان کے اندازِ خدمت بھی جُداگانہ تھے۔ اس لئے اثر اور کامیابی کے لحاظ سے ان کے درجے بھی الگ الگ ہیں۔ تاہم اس نتیجہ کا اعترا ف بالکل ناگزیر ہے کہ مخالفین اسلام کی صفیں سب سے پہلے انہی حضرات نے بر ہم کیں۔

مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریو ں کے مقا بلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبولِ عا م کی سند حا صل کر چکاہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کےمحتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جبکہ وہ اپنا کا م پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس لئے کہ وہ وقت ہرگز لو حِ قلب سے نسیاً منسیاً نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام مخالفین کی یورشو ں میں گھِر چکا تھا اور مسلمان جو حافظِ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب و وسائط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفا ظت پر ما مور تھے اپنے قصّوں کی پاداش میں پڑے سِسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے یا نہ کر سکتے تھے۔ ایک طرف حملو ں کے اِمتداد کی یہ حا لت تھی کہ ساری مسیحی دُنیا اسلام کی شمعِ عرفانِ حقیقی کو سرِ راہ منزل مزاحمت سمجھ کر مٹا دینا چا ہتی تھی اور عقل و دولت کی زبردست طاقتیں اس حملہ کی پشت گری کے لئے ٹوٹی پڑتی تھیں اور دوسری طرف ضعفِ مدا فعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقا بلہ پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا ۔ چونکہ خلاف اصلیت محض شامتِ اعمال سے مفسدہ 1857ء کا نفسِ ناطقہ مسلمان ہی قرار دئیے گئے تھے۔ اس لئے مسیحی آبادیو ں اور خاص کر انگلستان میں مسلمانوں کے خلاف پولیٹیکل جوش کا ایک طوفان برپا تھااور اس سے پادریوں نے صلیبی لڑا ئیوں کے داعیانِ راہ سے کم فا ئدہ نہ اٹھایا۔ قریب تھاکہ خوفناک مذہبی جذبے ان حضرات کے میراثی عارضۂ قلب کا جو اسلا م کی خُود رَو سرسبزی کے سبب بارہ تیرہ صدیوں سے ان میں نسلاً بعدنسلٍ منتقل ہوتا چلا آتا تھا درمان ہو جائے کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔ اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر خچےاُڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اورمستحقِ کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طِلسم دُھواں ہو کر اُڑنے لگا۔

کچھ شُبہ نہیں ان حضرات نے ثابت کر دکھایا ہے کہ اسلام اپنے حریفوں کا خواہ اُن کے ساتھ زندہ قو مو ں کا پولیٹیکل جذبہ بھی شریک ہو، ہمیشہ فتحِ نصیب مدِّمقابل رہا ہے اور انشاء اللہ دُنیا کے آ خری سانس تک رہے گا۔ انہوں نےمدافعت کا پہلو بدل کے مغلوب کو غالب بنا کر دکھا دیا ہے۔ اگر ہم آج اپنے نئے اور پُرانے اختلافات سے قطع نظر کر کے محض اسلام کی خدمت غایت المقصود قرار دے لیں تو یقیناً اس جوشیلے اور اسلام کی خداداد طا قت سے چشم پوشی کرنے والے

لاٹ پادری (بشپ) کی زندگی میں ہی جس نے ایک مسیحی مشن کی پچاس سالہ جوبلی کے مو قع پر تقریر کرتے ہوئے دوسری جوبلی کے لئے دہلی کی مسجدعظمٰی کے کیتھڈرل بنائے جانے کا اِدعاء ناروا ظاہر کیا تھا۔ وہ وقت آجا ئے کہ اسلام کی روحا نی فتوحات سینٹ پال کے گرجے کو مریم و مسیح کی پرستش کی بجائے ایک خدا کی عبادت گاہ بنا لیں اور ناقوسِ کلیساء کے بدلہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ کا زمزمۂ قدسی فضا میں گونجنے لگے۔

ہر چند پادریوں نے اسلام کی مخالفت میں لٹریچر کا ہمالہ بنا کے کھڑا کر دیا ہے مگر کاغذ کے تودوں کے لئے چند شرارے ہی کافی ہیں۔ برعکس اس کے مسلمانوں کا لٹریچر اگر سرکشی اور تمرّد کے حق میں توپ اور گولہ ہے تو طلب حق کے

اضطراب سے تڑ پنے والوں کے لئے صندل و کا فور ہے۔ کاش اس کی تاثیر کی آ زمائش کی جا ئے اور اسے عیسائی آبادی کی زبانوں میں منتقل کر کے کثرت سے شا ئع کیا جا ئے کیو نکہ ترقی ٔ علم و حکمت کے ساتھ مذہب وہاں وبال دوش ہوا جا تا ہے اور دُنیا طلبی کے انہماک نے وہا ں رو ح کی تشنگی غیر محسوس بنا رکھی ہے۔ اس لئے کہ عیسائیت اس فطرتی جذبہ کو جو دنیوی حشمت کے بوجھ میں دَب گیا ہے اُبھارنے سے با لکل قاصر ہے۔ یہ فخر اسلا م کا ہی حصہ ہے کہ اس حالت میں بھی وہا ں جب کبھی اس کی تجلی عکس فگن ہو تی ہے وَجدان بے تا ب ہو نے لگتے ہیں۔

غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آ نے والی نسلوں کوگرانبارِ احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کر نے والو ں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرضِ مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھو ڑا جو اس وقت تک کہ مسلما نوں کی رَگو ں میں زندہ خون رہے اور حما یتِ اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آ ئے، قائم رہے گا۔

اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت انجا م دی ہے۔ مرزا صاحب اور مولوی محمد قاسم نے اس وقت سے کہ سوامی دیا نند نے اسلام کے متعلق اپنے دماغی فلسفہ کی نوحہ خوانی جا بجا کی تھی، ان کا تعاقب شروع کر دیا تھا۔ ان حضرات نے عمر بھر سوا می جی کا قافیہ تنگ کر رکھا۔ جب وہ اجمیر میں آ گ کے حوا لے کر دیئےگئے اس وقت سے اخیر عمر تک برا بر مرزا صاحب آ ریہ سما ج کے چہرہ سے انیسویں صدی کے ہندو ریفارمر کا چڑھایا ہواملمّع اُتا رنے میں مصروف رہے ان کی آریہ سما ج کے مقابلہ کی تحریرو ں سے اس دعوے پر نہایت صاف رو شنی پڑتی ہے کہ آ ئندہ ہماری مدا فعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہوجائے ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جا سکیں۔

فطرتی ذہا نت، مشق مہارت اور مسلسل بحث و مباحثہ کی عادت نے مرزا صاحب میں ایک شانِ خاص پیدا کر دی تھی۔ اپنے مذہب کے علا وہ مذا ہبِ غیر پر اُن کی نظر نہایت وسیع تھی اور وہ اپنی ان معلومات کا نہایت سلیقہ سے استعمال کرسکتے تھے۔ تبلیغ و تلقین کا یہ ملکہ اُن میں پیدا ہو گیا تھا کہ مخاطب کسی قابلیت یا کسی مشرب وملت کا ہو ان کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گہرے فکر میں پڑ جاتا تھا۔ ہندوستان آج مذاہب کا عجائبات خانہ ہے اور جس کثرت سے چھو ٹے بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور باہمی کشمکش سے اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں اس کی نظیر غالباً دُنیا میں کسی جگہ سے نہیں مل سکتی۔ مرزا صا حب کا دعویٰ تھا کہ مَیں ان سب کے لئے حکَم وعَدل ہوں لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابل پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی ان میں مخصوص قابلیت تھی اور یہ نتیجہ تھی ان کی فطری استعداد کا۔ ذوقِ مطالعہ اور کثرتِ مشق کا آئندہ اُمید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دُنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلیٰ خواہشیں محض اس طر ح مذا ہب کے مطالعہ میں صرف کردے۔ فقط۔‘‘

دوسرا مقالہ

’’اگرچہ مرزا صاحب نے عُلوم مروّجہ اور دینیات کی باقاعدہ تعلیم نہیں پائی مگر ان کی زندگی اور زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک خاص فطرت لے کر پیدا ہوئے تھے جو ہرکس و نا کس کو نصیب نہیں ہوسکتی۔ اُنہوں نے اپنے مطالعہ اور فطرتِ سلیمہ کی مدد سے مذہبی لٹریچر پرکا فی عبور حاصل کیا اور 1877ء کے قریب جبکہ اُن کی 35۔36 سال کی عمر تھی ہم اُن کو غیرمعمولی مذہبی جوش میں سرشار پاتے ہیں۔ وہ ایک سچے اور پا کباز مسلمان کی طر ح زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا دل دُنیوی کششوں سے غیر متاثر ہے۔ وہ خلوت میں انجمن اور انجمن میں خلوت کا لُطف اُٹھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ہم اُسے بے چین پاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں ہے جس کا پتہ فانی دُنیا میں نہیں ملتا۔ اسلام اپنے گہرے رنگ کے سا تھ اس پر چھایا ہوا ہے۔ کبھی وہ آریوں سے مباحثے کرتا ہےکبھی حما یت اور حقیقتِ اسلام میں وہ بسیط کتابیں لکھتا ہے۔ 1886ء میں بمقام ہوشیارپور جو مباحثات انہوں نے کئے ان کا لُطف اب تک دلوں سے محو نہیں ہوا۔‘‘

غیر مذاہب کی تردید میں اور اسلام کی حمایت میں جو نادر کتابیں انہو ں نے تصنیف کی تھیں ان کے مطالعہ سے جو وَجد پیدا ہوا وہ اب تک نہیں اُترا ہے۔ اُن کی کتاب ’’براہینِ ا حمدیہ‘‘ نے غیرمسلمانوں کو مرعُوب کر دیا اور اسلامیو ں کے دل بڑ ھا دئیے اور مذہب کی پیا ری تصویر کو ان آلائشو ں اور گردو غُبار سے صاف کر کے دُنیا کے سامنے پیش کیا جو مجاہیل کی توہّم پرستیوں اور فطری کمزوریوں نے چڑھا دئیے تھے۔ غرضیکہ اس تصنیف نے کم از کم ہندوستان کی حد میں دُنیا میں ایک گونج پیدا کر دی جس کی صدائے باز گشت ہمارے کانوں میں اب تک آ رہی ہے۔ گو بُزرگانِ اسلام اب براہین کے بُرا ہونے کا فیصلہ دے دیں۔ محض اس وجہ سے کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنی نسبت بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں اور بطور حفظ ماتقدم اپنے دعاوی کے متعلق بہت کچھ مصالحہ فراہم کر لیا تھا۔لیکن اس کے بہتر فیصلہ کا وقت 1880ء تھا جبکہ وہ کتاب شائع ہوئی۔مگر اس وقت مسلمان بالاتفاق مرزا صاحب کے حق میں فیصلہ دے چکے تھے۔کیریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا چھوٹا سا دھبّہ بھی نظر نہیں آ تا۔ وہ ایک پا کباز جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی۔ غرضیکہ مرزا صاحب کے ابتدائی زندگی کے پچاس سالو ں نے بلحا ظ اخلا ق و عادات اور پسندیدہ اطوار اور کیا بلحاظ خدمات و حمایت دین مسلمانانِ ہند میں اُن کو ممتاز برگزیدہ اور قابلِ رشک مرتبہ پر پہنچا دیا۔‘‘

یہاں یہ وا ضح کر دینا ضروری ہے کہ مؤلف ’’مجدّدِ اعظم‘‘ جناب ڈا کٹر بشارت احمد نے ان معرکہ آراء تحریروں کو جن کا لب و لہجہ اور منفرد انداز و اسلوب جناب ابو الکلام آزاد کی سحرطرازی کی غماز ہے۔ غلطی سے عبداللہ العمادی ایڈیٹر ’’البیان‘‘ کی طرف منسوب کردیا ہے جو کہ صریحاً غلط ہے۔ عمادی صاحب اس وقت امرتسر میں نہیں تھے۔ ’’الوکیل‘‘ امرتسر کی ادارت کے فرائض ان دنوں جناب ’’امام الہند‘‘ ابوالکلام آزاد انجام دے رہے تھے اور یہ ناقا بلِ تردید حقیقت ہے کہ آپ نے اگست 1908ء میں اپنے والد کی شدید علالت کے باعث ’’الوکیل‘‘ سے استعفیٰ دیا تھا۔ بالفاظ دیگر مئی، جون، جولائی کے شما رے آ پ ہی کے زیرِ ادارت منظرِ عام پر آئے۔

(عکسی ’’الہلال‘‘ کا دیباچہ جلد اول زیر عنوان حیات ِ ابوالکلام ناشر الہلال اکیڈ یمی 32 – اے شاہ عالم مارکیٹ لاہور)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 افریقہ ڈائری نمبر39، 25 مئی 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25مئی 2020