• 20 جون, 2021

احمدیہ مسلم جماعت سیرالیون کا اعزاز

حکومتِ سیرالیون کی طرف سے احمدیہ مسلم جماعت کو ملک میں سو سالہ خدمات پر سیرالیون کے سب سے بڑے سِول اعزاز سے نوازا گیا۔

27؍ اپریل 1961 ء کو مغربی افریقہ کے ملک سیرالیون کو برطانیہ کے قبضہ سے آزادی حاصل ہوئی اور یہ ایک مکمل خود مختار ریاست بن گیا۔ چنانچہ ہر سال سیرالیون میں 27 ؍ اپریل کو یوم ِآزادی کے طور پر منا یا جاتا ہےا ور سرکاری ، نیم سرکاری اور نجی طور پر ملک بھر میں جشنِ آزادی کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

جشنِ آزادی کی وفاقی تقریبات کے انعقاد کے ساتھ حکومتِ سیرالیون اس دن ملک و قوم کی خاطر نمایاں خدمات سرانجام دینے والے افراد، محکموں، تنظیموں اور جماعتوں کو اعزازات سے نوازتی ہے۔

یہ سال سیرالیون کی آزادی کا 60 واں سال ہے اور اسی سال جماعتِ احمدیہ کو سیرالیون میں 100 ؍ سال مکمل ہوئے ہیں۔ حکومت سیرالیون اور صدر مملکت عزت مآب ریٹائرڈ بریگیڈئر جولیئس مادا بیئو (H.E. Rtd. Brg. Julius Maada Bio) نے جماعت کی سو سالہ خدمات کے اعتراف میں اس سال نوازے گئے اعزازات میں احمدیہ مسلم جماعت سیرالیون کو ملک کے سب سے بڑے سِول اعزاز Commander of the Order of the Rokel سے نوازا۔ 27؍ اپریل 2021ء کو ایوانِ صدر میں ہونے والی اس تقریب میں امیر و مشنری انچارج سیرالیون مولانا سعیدالرحمٰن صاحب نےاحمدیہ مسلم جماعت سیرالیون کی طرف سے یہ اعزاز وصول کیا۔

سیرالیون میں جماعت کی خدمات کا مختصر تذکرہ پیشِ خدمت ہے۔ جماعت احمدیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے1938 میں ملک کے پہلے مسلم پرائمری سکول اور 1960 میں پہلے مسلم سیکنڈری سکول کا اجراء کیا جس کے نتیجہ میں ملک کے مسلمانوں کو رائج الوقت تعلیم کے حصول میں آسانی ہوئی ۔ اور اب تک جماعت احمدیہ سیرالیون میں 300سے زائد سکولوں کا قیام کرچکی ہے اور کسی بھی ایک مسلمان تنظیم کی طرف سے یہ ملک بھر میں سکولوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس کے علاوہ ایک لمبے عرصہ سے جماعتی ہسپتال اور کلینک ملک میں ضرورت مند مریضوں کو معیاری اور سستے علاج کی سہولت مہیا کررہے ہیں ۔ خدمتِ خلق کے میدان میں جماعت نے ملک کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں کنویں کھدوائے ہیں اور نلکے لگائے ہیں جس سے صاف ستھرا پانی لوگوں کو بآسانی مل رہا ہے۔ خانہ جنگی، مٹی کے تودے گرنے، سیلابوں ، ایبولا اور اب کرونا وائرس کی وبا میں جماعت احمدیہ ضرورت مند اور مستحق لوگوں کی خوراک، کپڑوں، ادویات اور رہائش میں مدد کررہی ہے۔ اس میں ایبولا میں یتیم ہونے والے پچاس بچوں کی مکمل ذمہ داری بھی شامل ہے۔

ملک بھر میں جماعت کی 1400؍ سے زائد مساجد لوگوں کو خدائے واحد کی عبادت کے ساتھ ساتھ علمی، عملی اور روحانی تربیت میں مصروف ہیں اور ملک میں مذہبی روادری اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

احمدیہ جماعت کے تین ریڈیو ملک بھر میں لوگوں کی روحانی، عملی، اخلاقی تعلیم وتربیت میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔

جماعت احمدیہ کی ملکی ترقی میں کاوشوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2005 ء سے اب تک ہونے والے جلسہ سالانہ میں ملک کے تین صدور اپنے دورِ صدارت میں باقاعدہ شرکت کرتے رہے ہیں۔ اور اس کے علاوہ نائب صدور، سابقہ نائب صدور، وزراء، سفارت کار، پیراماؤنٹ چیفس اور ملک کے اعلیٰ سطح کے عہدےدار جماعتی تقریبات میں شامل ہونے کو اپنے لئے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ 2019ء کے جلسہ سالانہ میں جماعتی خدمات کے اعتراف میں صدرِ مملکت عزت مآب ریٹائرڈ بریگیڈئر جولئس مادا بیئو نے اپنی تقریر میں امیر جماعت سیرالیون مولانا سعیدالرحمن صاحب کو ملک میں انسانی بہبودو ترقی کا اعزازی سفیر قرار دیا تھا۔اسی طرح 2020ء کے جلسہ سالانہ سیرالیون میں نائب صدر مملکت سیرالیون نے جلسہ سالانہ سیرالیون میں اپنی تقریر کے دوران جماعت احمدیہ کی تعلیمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئےامیر جماعت احمدیہ مولانا سعید الرحمن صاحب کو وزیر تعلیم قرار دیا اور بار ہا اس بیان کو دہرایا۔

اس سے قبل بھی 2014 ء میں اس وقت کی حکومت نے احمدیہ جماعت کو ملک میں جماعتی خدمات کے اعتراف میں صدارتی گولڈ میڈل ،نیشنل ایوارڈ سے نوازا تھا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس اعزاز کو جماعت کے لئے مبارک کرے اور ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلاتے ہوئی اپنی ذمہ داریاں احسن طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(رپورٹ: عبدالہادی قریشی، نمائندہ روزنامہ الفضل لندن آن لائن ( سیرالیون))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 مئی 2021