• 1 اکتوبر, 2020

زندہ مذہب کی نشانی اور دعا


حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں’’زندہ مذہب وہ ہے جس کے ذریعہ زندہ خدا ملے۔ زندہ خدا وہ ہے جو ہمیں بلا واسطہ ملہم کر سکے اور کم سے کم یہ کہ ہم بلا واسطہ ملہم کو دیکھ سکیں سو میں تمام دنیا کو خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ زندہ خدا اسلام کا خدا ہے ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 311، 312)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبولیت دعا کے متعلق فرماتے ہیں:
’’دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اوراس کے رب میں ایک تعلق جاذبہ ہے یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خداتعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔ سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفا داری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہِ اُلوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ۔ تب اس کی روح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوتِ جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب اللہ جل شانہٗ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہو تا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔‘‘

(برکات الدعاء، روحانی خزائن جلد6۔صفحہ9تا10)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 26 جون 2020ء