• 18 جولائی, 2024

ہر جلسے کے بعد ایک نیا سنگ میل، ایک نئی منزل ہمیں نظر آ رہی ہوتی ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کی طرف تو جہ دلا رہی ہوتی ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
عموماً جماعت احمدیہ کا جہاں بھی جلسہ سالانہ ہوتا ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کی قبولیت کے طفیل ہم اللہ تعالیٰ کے فضل بارش کی طرح برستے دیکھتے ہیں، اور ہر جلسے کے بعد ایک نیا سنگ میل، ایک نئی منزل ہمیں نظر آ رہی ہوتی ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کی طرف تو جہ دلا رہی ہوتی ہے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس بستی میں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنا کامیاب جلسہ ہوا، جہاں پہلے جلسے میں صرف75افراد شامل تھے اور اس بستی کو چند لوگ جانتے تھے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کی قبولیت کے طفیل آج دیکھیں اس بستی میں جلسے کی حاضری 70ہزار افراد کے قریب تھی اور دنیا کے کونے کونے میں قادیان دارالامان کی آواز پہنچ رہی تھی۔ ہمارے سر اِس انعام پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جانے چاہئیں۔ ہمارے دل شکر کے جذبات سے لبریز ہونے چاہئیں تاکہ اللہ تعالیٰ مزید اپنے فضلوں کی بارش برسائے اور اپنے مزید انعامات سے ہمیں بہرہ ور فرمائے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں شکر گزاری کے کیا طریق بتائے ہیں۔ یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا۔ یعنی شکرگزاری تبھی ہو گی جب تم اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے اور اس کی مکمل بندگی اختیار کرنے والے ہو گے اور یہی ایک مومن کی شان ہے اور اس سے ایک مومن مزید انعامات کا وارث بنتاہے۔

پس ہر احمدی کو چاہئے کہ اس نکتے کو سمجھے اور صرف یہ نہ ہو کہ نعرے لگا کر ہی ہماری شکر گزاری کا اظہار ہو رہا ہو، جو ہم نے جلسے میں لگائے اور اس کے بعد ختم ہو گیا۔ بلکہ حقیقی اظہار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کریں، نیک اعمال بجالا کر اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کریں، لوگوں کے حقوق ادا کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ حضرت سلیمانؑ کی ایک دعا کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرماتے ہوئے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے اور یہ دعا ہر احمدی کو بھی ہر وقت یاد رکھنی چاہئے کیونکہ آج احمدی ہی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضلوں کی موسلا دھاربارش ہو رہی ہے اور جتنا ہم اس طرح شکر گزاری کریں گے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا فیض پانے والے ہوں گے اور وہ دعا یوں سکھائی گئی کہ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰٮہُ وَاَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۰﴾َ (النّمل: 20) کہ اے میرے رب مجھے توفیق بخش کہ مَیں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی اور میرے ماں باپ پر کی اور ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جو تجھے پسند ہوں اور تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیکو کار بندوں میں داخل کر۔ پس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر تب ادا ہو گا، جب عبادت کے معیار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے نیک اعمال بجا لانے کی طرف بھی ہر وقت تو جہ رہے گی، اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی تو جہ رہے گی اور تبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والے ہوں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک اعمال، عبادات کے اعلیٰ ترین معیار اور اسوہ حسنہ ہمارے سامنے رکھا ہے۔ آپ کی عبادتوں کے معیار دیکھیں کبھی آپؐ گھر سے باہر نکل کر ویران جگہ پہ جا کے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے ہیں تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ اللہ تعالیٰ سے کیاراز و نیاز ہو رہے ہیں۔ کبھی اپنے گھر میں بیوی سے اجازت لیتے ہیں کہ مجھے اجازت دو کہ آج رات اپنے ربّ کی عبادت میں گزار دوں۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ آپؐ کو تو اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہوا ہے، تمام انعامات سے نواز دیا ہوا ہے پھر کیوں اپنی جان ہلکان کرتے ہیں؟ تو کیا خوبصورت جواب عطا فرماتے ہیں کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ ہوں؟

(خطبہ جمعہ 30؍دسمبر 2005ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 23؍دسمبر 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 دسمبر 2022