• 29 فروری, 2024

ربط ہے جان محمدؐ سے مری جاں کو مدام (قسط 49)

ربط ہے جان محمدؐ سے مری جاں کو مدام
وصالِ اکبر

قسط 49

اللہ تعالیٰ کی جناب سے وفات کی اطلاع

جان نثار عشاق کو اپنے محبوب سے جسمانی جدائی کے لئے تیار کرنے کے لئے مولا کریم نے اپنے محبوب کو پہلے سے وصال کی خبریں دیں۔ جن سے منشائے الٰہی کے ماتحت آپﷺ نے اپنے پیاروں کو آگاہ فرمایا۔

خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرتﷺ نے فرمایا:
’’اے لوگو لطیف و خبیر خدا نے یہ بتایا ہے کہ ہر نبی کو اس سے پہلے نبی سے نصف عمر ضرور دی جاتی ہے میں خیال کرتا ہوں کہ اب مجھے بلاوا آئے گا تو میں اس کا جواب دوں گا۔‘‘

(موٴطا کتاب الجامع باب النہی عن القول بالقدر)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
’’جبرائیل مجھے ہر سال ایک دفعہ قرآن کریم سنایا کرتے تھے اس سال انہوں نے دو دفعہ سنایا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ کوئی نبی نہیں گزرا کہ جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہو اور یہ بھی انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس سال تک ز ندہ رہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہوگی۔‘‘

(زرقانی شرح مواہب اللدنیہ جلد ایک صفحہ 76)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ فرمایا کرتے تھے:
’’کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں ہوتی جب تک کہ اسے دنیا اور آخرت کے مابین اختیار نہ دیا جائے یعنی اگر وہ مالک حقیقی کے حضور حاضر ہونا چاہتا ہے تو بھی اسے اختیار ہے اور اگروہ دنیا میں رہ کر مزید الٰہی کام سرانجام دینا چاہتا ہے تو بھی اسے اختیار ہے کہ وہ دنیا میں رہ لے۔‘‘

(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیؐ)

اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو اختیار دیا تو آپ نے اپنے رفیق اعلیٰ سے وصل اور دنیوی زندگی سے فراق کو پسند فرمایا۔

آخری خرچ

حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے سات دینار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھوائے ہوئے تھے۔ آخری بیماری میں فرمایا کہ اے عائشہ! وہ سونا جو تمہارے پاس تھا کیا ہوا؟عرض کیا میرے پاس ہے۔ فرمایا صدقہ کردو۔ پھر آپﷺ پر غشی طاری ہوگئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کے ساتھ مصروف ہوگئیں۔ جب ہوش آئی، پوچھا کہ کیا وہ سونا صدقہ کر دیا؟ عرض کی، ابھی نہیں کیا۔ چنانچہ آپﷺ نے وہ دینار منگواکر ہاتھ پر رکھ کر گنے اور فرمایا محمدکا اپنے ربّ پر کیا توکل ہوا اگر خداسے ملاقات اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت یہ دینار اس کے پاس ہوں۔ پھر وہ دینار صدقہ کردیئے اور اسی روز آپؐ کی وفات ہوگئی۔

(مجمع الزوائد للھیثمی جلد3 صفحہ124مطبوعہ بیروت)

آخری خرچ آپ نے وہ چھ دینار کئے جو لوگوں میں تقسیم کے بعد بچ رہے تھے۔ آپﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا وہ دینار کہاں ہیں جو بچ گئے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میرے پاس محفوظ ہیں آپﷺ نے فرمایا ان کو خرچ کردو۔ اس بات کے بعد آپﷺ پر غشی طاری ہو گئی۔ کچھ بہتر محسوس فرمایا تو پھر دیناروں کے بارے میں دریافت فرمایا کہ خرچ کر دیئے گئے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ابھی نہیں۔ آپ نے وہ دینار منگوا کر اپنے ہاتھ پر رکھ کر گنے وہ چھ تھے۔ آپﷺ نے فرمایا محمد کا اپنے رب پر کیا توکل ہوا اگر وہ اس سے اس حال میں ملے کہ اس کے پاس یہ ہوں،آپ نے وہ سب کسی کو دلوا دیئے تب آپﷺ کو اطمینان ہوا۔

(صحیح ابن حبان ذکر من یستحب للمرء و ابن سعد)

رسول اللہﷺ کی آخری بیماری میں کسی بیوی نے حبشہ کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو ماریہ (یعنی حضرت مریمؑ) کے نام سے موسوم تھا۔ آپﷺ اپنی بیماری کی تکلیف دہ حالت میں بھی خاموش نہ رہ سکے۔ جوش غیرتِ توحید میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ’’برا ہو ان یہودیوں اور عیسائیوں کا جنہوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کے مزاروں کو معابد بنالیا۔‘‘ گویا بالفاظ دیگر اپنی وفات کو قریب جانتے ہوئے آپﷺ بیویوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ دیکھو! میرے بعد توحید پر قائم رہنا اور میری قبر پر سجدہ نہ ہونے دینا۔

(بخاری کتاب الصلوۃ باب الصلوۃ فی البیعۃ 24)

فجر کی نماز آخری نماز

آخری بیماری میں رسول کریمﷺ تپ محرقہ کے باعث شدید بخار میں مبتلا تھے مگر فکرتھی تو نماز کی۔ گھبراہٹ کے عالم میں بار بار پوچھتے، کیا نماز کا وقت ہوگیا؟ بتایا گیا کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں۔ بخار ہلکا کرنے کی خاطر فرمایاکہ میرے اُوپر پانی کے مشکیز ے ڈالو۔ تعمیل ارشادہوئی مگر پھر غشی طاری ہوگئی۔ ہوش آیا تو پھر پوچھا کہ کیا نماز ہوگئی؟ جب پتہ چلا کہ صحابہ انتظار میں ہیں تو فرمایا ’’مجھ پر پانی ڈالو‘‘ جس کی تعمیل کی گئی۔ غسل سے بخار کچھ کم ہوا تو تیسری مرتبہ نماز پر جانے لگے مگر نقاہت کے باعث نیم غشی کی کیفیت طاری ہوگئی اورآپ مسجد تشریف نہ لے جاسکے۔

(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی ووفاتہ 4088)

آخری نماز حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی امامت میں ادا فرمائی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز کی تکبیر کہی۔ آپﷺ نے نقاہت سے قدرے افاقہ محسوس کیا تومسجد والے دروازے کے پاس تشریف لے آئے اور اس کا پردہ سرکا کر جھانکا۔ صحابہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: قرۃ عینی فی الصلوٰۃ پھر آپ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اور ایک خادم حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے سہارے مسجد میں تشریف لے آئے۔ جب آپﷺ آہستہ آہستہ صفوں تک پہنچے تو نماز کی دوسری رکعت شروع ہوچکی تھی۔ صحابہ نے آپﷺ کو دیکھا توخوش ہوگئے۔ آپﷺ آگے بڑھ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر آپﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو مصلی پر ہی روک دیا اور خود ان کے دائیں جانب کھڑے ہوگئے۔ پھر آنحضرتﷺ جلد ہی بیٹھ گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دوسری رکعت کی تلاوت مکمل کی اور باقی نماز پوری کرکے سلام پھیرا اور نماز ختم کی۔ آنحضرتﷺ اپنی رہی ہوئی پہلی رکعت پڑھنے کے بعد نماز ختم کی اور سلام پھیرا۔ اس کے بعد آپﷺ اپنے حجرے میں تشریف لے گئے۔

(بخاری کتاب الاذان)

آخری الفاظ

روزِ وصال آنحضرتﷺ پر باربارغشی طاری ہوتی تھی جب بھی ہوش آتی تو آپ کے لبِ مبارک ہلتے اور آپ ﷺ کچھ نہ کچھ کلام فرماتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت آپ ﷺ پر غرغرہ کی حالت تھی آپﷺ اس وقت یہ فرما رہے تھے الصلوٰۃ وماملکت ایمانکم (ابنِ ماجہ کتاب الوصایا) نماز اور وہ جو تمہارے زیر نگیں ہیں (ان کا خیال رکھنا ہرگز نہ بھولنا) وقتِ وصال آپﷺ کے آخری الفاظ جو آپﷺ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے۔

’’فی الرفیق الاعلی بالجنہ‘‘

(بخاری کتاب المغازی باب فی مرض النبیؐ)

یعنی میں جنت میں اپنے رفیق اعلیٰ میں جذب ہونا چاہتا ہوں۔

آپؐ کا وصال یکم ربیع الاول 11؍ہجری مطابق 26؍مئی 632 عیسوی کو ہوا۔

(استفادہ سیرۃ خاتم النبیین حصہ دوم از ہادی علی چودھری صفحہ 791)

عاشق اور معشوق سے ایمان افروز مماثلت

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سفر آخرت کے حالات میں اپنے محبوبﷺ سے ایمان افروز مماثلت ملاحظہ کیجئے۔

وفات کے متعلق الٰہی خبریں

اللہ تبارک تعالیٰ نے وقت آخر کی اطلاعیں دیں تاکہ عشاق ذہنی طور پر عارضی جسمانی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کے کسی حد تک قابل ہوجائیں۔ 9؍مئی 1908ء کو الہام ہوا تھا۔ ’’الرحیل ثم الرحیل‘‘ (بدر 28؍مئی 1908ء) پھر 17؍مئی 1908ءکو الہام ہوا:

’’مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار۔‘‘

اس کے بعد 20 مئی کو الہام ہوا ’’الرحیل ثم الرحیلُ والموت قریب‘‘ کوچ کا وقت آگیا ہے ہاں کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے۔

روانگی سے قبل حضور نے وہ حجرہ بند کیا جس میں آپ آخری عمر میں تصنیف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا ’’اب ہم اس کو نہیں کھولیں گے۔‘‘

آخری تصنیف

حضرت اقدس علیہ السلام کی آخری تصنیف ’’پیغام صلح‘‘ ہے جس میں آپ نے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔ یہ مضمون 25؍مئی کی شام کو مکمل کیا۔ فرمایا ’’ہماری آخری کتاب ہے اب جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر چکے۔‘‘

25؍مئی 1908ء کی رات حضور کی تکلیف اور کمزوری بڑھتی دیکھ کر حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے منہ سے نکلا:

’’یا اللہ! یہ کیا ہونے والا ہے۔‘‘

اس پر حضور نے فرمایا وہی جو میں آپ سے کہا کرتا تھا۔

(سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ406)

واقعہ وصال کی طرف اشارہ

حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے سخت گھبراہٹ کا اظہار کیا اور کہا اب قادیان واپس چلیں۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ’’اب تو ہم اسی وقت جائیں گے جب خدا لے جائے گا۔‘‘

آخری خرچ

25؍مئی 1908ء کو پیغام صلح مکمل کرکے نماز عصر کے بعد سیر کے لئے باہر تشریف لائے ایک کرائے کی گھوڑا گاڑی حاضر تھی جو فی گھنٹہ مقررہ شرح کرایہ پر منگوائی گئی تھی۔ آپ نے اپنے ایک نہایت مخلص رفیق شیخ (بھائی) عبدالرحمن قادیانی سے فرمایا اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سے سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ کے کرایہ کے پیسے ہیں وہ ہمیں صرف اتنی دور لے جائے کہ ہم اس وقت کے اندراندر ہوا خوری کرکے گھر واپس پہنچ جائیں چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اور آپ تفریح کے طور پر چند میل پھر کر واپس تشریف لے آئے۔

(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ335)

یہ آخری سرمایہ تھا جو آپ نے وصال سے پہلے خرچ کرلیا۔ حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہانے اپنے بچوں کو مخاطب کر کے فرمایا:
’’بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا‘‘

(الفضل 19؍جنوری 1962ء صفحہ15)

آخری نماز۔ فجر کی نماز

26؍مئی کی صبح آپ کوصرف ایک فکر تھا۔ فکر تھا تو نماز کا۔ رات بھر طبیعت خراب رہی۔ جب ذرا روشنی ہوگئی تو حضور علیہ السلام نے پوچھا ’’کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟‘‘

عرض کیا گیا ’’ہاں حضور! ہو گیا ہے۔‘‘

اس پر آپؑ نے بستر پر ہی ہاتھ مار کر تیمم کیا اور لیٹے لیٹے نماز شروع کردی اسی حالت میں تھے کہ غشی سی طاری ہوگئی اور نماز کو پورا نہ کرسکے۔ تھوڑی دیر بعد آپ علیہ السلام نے پھر دریافت فرمایا کہ ’’صبح کی نماز کا وقت ہوگیا ہے؟‘‘ عرض کیا گیا ’’حضور! ہو گیا ہے‘‘ آپ علیہ السلام نے پھر نیت باندھی مگر۔۔۔ نماز پوری نہ کرسکے۔اس وقت آپ علیہ السلام کی حالت سخت کرب اور گھبراہٹ کی تھی۔

(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ9)

آخری الفاظ

حضرت اقدس کے لبوں پہ ’’اللہ میرے پیارے اللہ‘‘ کے الفاظ جاری تھے۔

ضعف لحظہ بلحظہ بڑھتا جاتا تھا… قریباََ ساڑھے دس بجے دو ایک دفعہ لمبے سانس آئے، روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی اور خدا کا برگزیدہ، قرآن کا فدائی، اسلام کا شیدائی، محمد مصطفیٰﷺ کا عاشق اور دینِ محمدی کا فتح نصیب جرنیل جس نے اپنی پوری عمر علمی اور قلمی جہاد کی قیادت میں بسر کی تھی، اپنے اہلِ بیت اور اپنے عشاق کو سوگوار اور افسردہ چھوڑ کر اپنے آسمانی آقا کے دربار میں حاضر ہوگیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

وفات کے وقت حضور علیہ السلام کی عمر سوا تہتر سال کے قریب تھی۔دن منگل کا اور شمسی تاریخ 26؍مئی 1908ء جو (ڈاکٹر محمد شہیداللہ صاحب پروفیسر راجشاہی یونیورسٹی) کی جدید تحقیق کے مطابق آنحضورﷺ کا یومِ وصال بھی ہے۔

(تاریخِ احمدیت جلد دوم صفحہ541۔542)

وفات کی خبر پر آنحضرتﷺ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عشاق کی بے یقینی کے عالم میں مماثلت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں پڑھیے۔

’’آپ کے ساتھ جو محبت آپ کی جماعت کو تھی اس کا حال اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ بہت تھے جو آپ کی نعش مبارک صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے مگر وہ اس بات کو قبول کرنے کوتو تیار تھے کہ اپنے حواس کو مختلف مان لیں لیکن یہ باور کرنا انہیں ناگوار تھا کہ ان کا حبیب ان سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگیا ہے… آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک شخص جو خاتم النبیین بن کر آیا تھا، اس کی وفات پر نہایت سچے دل سے ایک شاعر نے یہ صداقت بھرا شعر کہا تھاکہ؎

کنت السواد لناظری فعمی علی الناظر
من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر

ترجمہ: تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہوگئی ہے۔ اب تیرے بعد جو کوئی بھی مرتا رہے ہمیں اس کی پرواہ نہیں کیونکہ ہم تو تیری ہی موت سے ڈر رہے تھے۔

آج تیرہ سو سال بعد اس نبیﷺ کے ایک غلام کی وفات پر پھر وہی نظارہ چشم فلک نے دیکھا کہ جنہوں نے اسے پہچان لیا تھا ان کا یہ حال تھاکہ دنیا ان کی نظر وں میں حقیر ہوگئی تھی اور ان کی تمام تر خوشی اگلے جہان میں چلی گئی تھی… خواہ صدی بھی گزر جائے مگر وہ دن ان کو کبھی نہیں بھول سکتے جبکہ خدا تعالیٰ کا پیارا رسول ان کے درمیان چلتا پھرتا تھا۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓصفحہ58۔59)

اپنے آقا و مطاعﷺ کے نقوش قدم سے غیر معمولی مشابہت کوسچائی کے نشان کے طور پر پیش کرتے ہوئے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میری سچائی کے نشانات میں سے ایک نشان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے رسول کی اتباع اور پیروی کی توفیق دی ہے۔ میں نے آثار نبویہ میں سے کوئی اثر نہیں دیکھا مگر میں نے اس کی پیروی کی ہے اور مشکلات کے ہر پہاڑ کو سر کیا ہے اور میرے ربّ نے مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملا دیا ہے جن پر اس نے اپنے انعامات کئے ہیں۔‘‘

(ترجمہ: آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ483)

صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ سیرت المہدی میں ایک اور مماثلت تحریر فرماتے ہیں:
’’حدیث شریف میں آتا ہے کہ مرض موت میں آنحضرتﷺ کو بھی سخت کرب تھا اور نہایت درجہ بے چینی اور گھبراہٹ اور تکلیف کی حالت تھی اور ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی بوقت وفات قریباً ایسا ہی حال تھا۔یہ بات ناواقف لوگوں کے لئے موجب ِتعجب ہو گی کیونکہ دوسری طرف و ہ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ صوفیا اور اولیاء کی وفات نہایت اطمینان اور سکون کی حالت میں ہوتی ہے۔سودراصل بات یہ ہے کہ نبی جب فوت ہونے لگتا ہے تو اپنی امت کے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں اس کے سامنے ہو تی ہیں اور ان کے مستقبل کا فکر مزید برآں اس کے دامن گیر ہو تا ہے۔تمام دنیا سے بڑھ کر اس بات کو نبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ موت ایک دروازہ ہے جس سے گزر کر انسان نے خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ پس موت کی آمد جہاں اس لحاظ سے اس کو مسرور کر تی ہے کہ وصال محبوب کا وقت قریب آن پہنچا ہے وہاں اس کی عظیم الشان ذمہ داریوں کا احساس اور اپنی امت کے متعلق آئندہ کا فکر اسے غیرمعمولی کر ب میں مبتلا کر دیتے ہیں مگر صوفیا اور اولیاء ان فکروں سے آزاد ہو تے ہیں۔ان پر صرف ان کے نفس کا بار ہوتا ہے مگر نبیوں پر ہزاروں لاکھوں کروڑوں انسانوں کا بار۔پس فرق ظاہر ہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ11۔12)

ڈاکٹر بشارت احمد صاحب (غیر مبائع) اپنی مشہور تصنیف مجدد اعظم جلد دوم میں لکھتے ہیں: ’’گرمی کا موسم تھا۔ حضرت اقدس بمع بیوی صاحبہ کے عموماً شام کو فٹن یا بند گاڑی میں بیٹھ کر سیر کو جایا کرتے تھے۔ 25؍مئی 1908ء کی شام کو بھی تشریف لے گئے مگر چہرہ اداس تھا۔ کسی نے عرض کیا کہ حضور آج اداس نظر آتے ہیں۔ فرمانے لگے ’’ہاں میری حالت اُس ماں کی طرح ہے جس کا بچہ ابھی چھوٹا ہو اور اپنے تئیں سنبھال نہ سکتا ہو اور وہ اُسے چھوڑ کر رخصت ہو رہی ہو۔‘‘

(الفضل 26؍مئی 2020ء)

؎اے خدا بر تُربتِ اوآبرِ رحمت ہا ببار
داخلش کُن از کمال فضل در بیت النعیم

(امۃ الباری ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

برکینا فاسو کے شہداء کے نام

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 جنوری 2023