• 19 جون, 2024

کونگو کنشاسا میں نسلی فسادات

کونگو کنشاسا میں نسلی فسادات
اور جماعت احمدیہ کی خدمت انسانیت

کونگو کنشاسا کے صوبہ Mai-Ndombe کے علاقہ Kwamouth میں ماہ جولائی 2022ء میں دو قبائل Tekeاور Yaka کے درمیان نسلی فسادات شروع ہو گئے۔ ان دونوں قبائل کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ مکئی کی فصل کی کٹائی پر Yaka قبیلہ کے لوگ Tekeقبیلہ کو ایک تھیلا مکئی کا دیں گے لیکن جب کٹائی کا وقت آیا تو Teke قبیلہ جو تعداد اور طاقت میں زیادہ ہیں نے ایک کی بجائے پانچ تھیلوں کا مطالبہ کر دیا جس پر Yaka قبیلہ نے انکار کر دیا اور فسادات شروع ہو گئے۔ Yaka قبیلہ والوں کے گھر جلا دیے گئے ان کی دوکانیں لوٹ لی گئیں اور جہاں پر موقع ملا وہاں Tekeقبیلہ کے ساتھ بھی یہی کیا گیا۔پویس اور قیام امن کے ضامن حکومتی ادارے کوئی روک تھام نہیں کر سکے۔صوبہ کا دار الحکومت شہر Inongo ہے جو متاثرہ علاقہ سے تین سو کلومیٹر ہے۔زمینی راستہ محدود ہونے کی وجہ سے زیادہ تر دریائی راستہ استعمال کیا جاتا ہے۔اس لیے بر وقت کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی۔ دریا کے پار بالکل ساتھ والا شہر Bandundu ہے جو صوبہ Kwilu کا صدر مقام ہے۔وہاں کے حکومتی اداروں نے یہ کہہ کر کوئی کارروائی نہیں کی کہ یہ علاقہ ہماری حدود سے باہر ہے۔

ہماری جماعتیں اکثر باندوندو کنشاسا روڈ پر ہیں۔ Masiambio-Bisiala-caccampbanku. تین معلم سنٹر ہیں بیس کے قریب جماعتیں ہیں۔ اس سیزن اکثر لوگ اپنی فرم پر کھیتی باڑی کر رہے ہوتے ہیں۔ گاوٴں میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ان علاقوں کے احمدی احباب اکثر نقل مکانی کر گئے۔

Bisila کے لوگ جنگل میں بھاگ گئے نیز کچھ دریا کراس کر کے کوویلو اور کوانگو کے دیہاتوں کی طرف چلے گئے۔

Camp Banku کے اکثر لوگ ابھی ادھر موجود تھے جب کے کچھ لوگ باندوندو شہر آگئے۔

اس کے علاوہ جو احمدی Yaka قبائل سے تعلق رکھتے تھے وہ ان بڑے گاوٴں میں پناہ گزین ہو گئے جہاں ان لوگوں کی اکثریت ہے اور Teke قبائل سے تعلق رکھنے والے احمدیوں کا بھی یہی حال رہا۔

ان فسادات کی وجہ سے تعداد میں پناہ گزین باندوندو شہر میں داخل ہوئے جن کو صوبائی حکومت نے باندوندو شہر کی سب سے بڑی مارکیٹ malebo کے علاقے میں جگہ دی ان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھی۔حکومت بڑے پیمانے پر ان کی امداد کی اپیل کر تی رہی۔

الحمد للّٰہ جماعت احمدیہ باندوندو ریجن کو موٴرخہ 17؍ستمبر کو 500 سے زائد افراد کو اشیا خور و نوش اور دیگر ضروری اشیا جس تقسیم کرنے کی توفیق ملی۔ اگرچہ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد اور پیش آمدہ نقصان کے سامنے یہ امداد بہت کم تھی لیکن کسی بھی مذہبی تنظیم کی طرف سے کی جانے والی واحد کوشش یہی تھی جس کی وجہ سے مقامی اور غیر ملکی میڈیا یہاں تک کہ حکومتی عہدیداران نے بھی اس کاوش کو سراہا۔

خدام اور لجنہ کی ایک ٹیم نے نماز فجر کے فورا ًبعد کھانا کی تیاری شروع کی جس میں گائے کا گوشت اور فوفو شامل تھا تقریبا ًدوپہر تین بجے کھانا تیار ہوا پھر تیار شدہ کھانے کو تقسیم کی جگہ پر لے جایا گیا اورخدام نے تقریباً دو گھنٹے سے زائد وقت میں ان پناہ گزینوں میں تقسیم کیا۔اس موقع پر منتظمین نے جماعت کا شکریہ ادا کیا اور اس کاوش کو سراہا۔

مقامی اور ملکی میڈیا نے اس کو خصوصی کوریج دی اقوام متحدہ کے امن مشن کے ریڈیو Okapi نے فرینچ زبان کے علاوہ مقامی زبانوں Lingala اور Kikongo میں خبریں نشر کی نیز اپنے Twitter اکاؤنٹ جس کے ایک ملین سے زائد Followers ہیں پر اس خبر کو ٹویٹ کیا نیز اپنے فیس بک پیج جس کے 12 لاکھ Followers سے زائد ہیں اس پر اس خبر کی پوسٹ لگائی۔ نیز ابھی تک 20سے زائد اخبارات کی ویب سائٹس یہ خبر لگا چکے ہیں۔

کونگو کی نیوز ایجنسی Acp نے اس خبر کو شائع کیانیز حسب ذیل ٹی چینل RTNC ,RTBd,Tele 50 نے اس خبر کو اپنے خبرنامہ میں جگہ دی۔ اس کے علاوہ 5 سے زائد ریڈیو زنے اس پروگرام کی خبریں نشر کیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ملین سے زائد افراد تک پرنٹ اور الیکٹرونک کے ذریعہ جماعت کا تعارف پہنچا۔

اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً متاثرین پناہ گزینوں میں جماعت احمدیہ Bandundu ریجن اشیا خور و نوش تقسیم کرتی رہی۔

ان فسادات میں اب تک 180 اموات ہو چکی ہیں اور تیس ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور مالی نقصان کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔

(شاهد محمود خان۔ مبلغ سلسلہ کونگو کنشاسا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی