• 9 جولائی, 2020

ہماری جماعت کو چاہئے کہ کُل ناکردنی افعال سے دور رہا کریں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں۔
’’یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمے سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔ غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔ اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئے جاتے۔ غضب نصف جنون ہے اور جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔ ہماری جماعت کو چاہئے کہ کُل ناکردنی افعال سے دور رہا کریں۔ وہ شاخ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھل رہ جاتی ہے۔ سو دیکھو اگر تم لوگ ہمارے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شرائط پر کار بند نہ ہو گے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خداتعالیٰ نے ہمیں دئیے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 104)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 27 جون 2020ء