• 3 جولائی, 2020

ہم اپنے آپ کو قرآن کریم میں تلاش کریں

ہم جب سورۃ الانبیاء کی آیت گیارہ کومختلف تفاسیرکی رو سے دیکھتے ہیںتو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس سورت میں مختلف انبیاء اور ان کے مخالفین کا ذکر ہے اور قوموں کو متنبہ کیا ہے کہ تم سے پہلے بھی بعض قومیںاپنے اپنے دَور کے انبیاء کو جھٹلا چکی ہیں اور ان کے انجام کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ کیا تم اپنا ذکر قرآن میں نہیں پاتے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ کِتٰبًا فِیۡہِ ذِکۡرُکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ

(الأنبیاء:11)

یقیناًہم نے تمہاری طرف وہ کتاب اُتاری ہے جس میں تمہارا ذکر موجود ہے پس کیا تم عقل نہیں کرتے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے اس آیت کے تحت حاشیے (foot note) میں تحریر فرمایا ہے:

کتاب اُتاری تواُسے پڑھ کر دستورالعمل کیوں نہیں بناتے۔ بدیوں سے کیوں نہیں بچتے۔

(زیر آیت سورۃ الانبیاء آیت 11صفحہ 674)

بعضوں نے لکھا ہے کہ ایسی کتاب اُتاری ہے جس پر عمل کرنے سے تم عزت اور شرف پاؤ گے۔اس ناطے یہی معانی سامنے آتے ہیں کہ تمہارا ذکراللہ تعالیٰ نےاس عظیم الشان کتاب میں کیاہے۔ تم اپنے آپ کو قرآن میں تلاش کرو۔ تاتم اپنے ایمانوں میں پختگی اختیار کرو۔

ہرایک کا انفرادی طور پر قرآن میں تذکرہ

خاکسار نےجب اس آیت پر غور کیا توعمر کے اعتبارسے ایک ناصر اور لجنہ ممبرکو بحیثیت رکن اور اجتماعی اورتنظیمی لحاظ سےانصاراللہ اور لجنہ کوبھی قرآن کریم میں موجود پایا۔

اللہ تعالیٰ سورۃالاحقاف آیت سولہ میں فرماتا ہے۔ہم نے انسان کو تاکیدی نصیحت کی (ہے) کہ اپنے والدین سے احسان کرے۔ اسے اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اپنے پیٹ میںاٹھائے رکھااور تکلیف ہی کے ساتھ اسے جنم دیااور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کا زمانہ 30مہینے ہے۔ حتّٰی بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچا اورچالیس سال کا ہو گیاتو اس نے اپنے رب سے کہا۔

رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَنِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلیٰ وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضٰہُ وَ اَصْلِحْ لِی فِیْ ذُّرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

اےمیرےرب!مجھےتوفیق عطاکرکہ میںتیری اس نعمت کا شکر ادا کر سکوں جوتونےمجھ پراورمیرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جن سے تو راضی ہواور میرے لئے میری ذُرّیّت (اولاد) کی بھی اصلاح کر۔ یقینا میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور بلا شبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

قرآن کریم میں اگر انسان کی کسی خاص عمر کا ذکر ہے تو وہ بھی ’چالیس سال‘ ہی ہے۔ اس میں ایک طرف انسان کے چالیس سال کو پہنچنے کی اہمیت بیان فرمائی اور دوسری طرف اس سے استنباط کرتے ہوئے جماعت احمدیہ میں ذیلی تنظیموں کے حوالہ سے انصار اور لجنات کی ذمہ داریوں کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے۔یہ عمر جہاں مادی و جسمانی پختگی کی ہے وہاں روحانی پختگی Spirtual Maturity کی بھی ہے۔ معلوم تاریخ انبیاء کے مطابق انبیاء علیھم السلام کو بھی اس پختہ عمر کے بعد نبوّت کی عظیم الشان ذمہ داریوں سے سرفراز فرمایا جاتا رہا۔ اگر دنیوی لحاظ سے دیکھیں تو انسان کو کاروبار کرنے کی صورت میں کاروبار کے اونچ نیچ سے واقفیت چالیس سال کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے۔ ملازمت کرنے کی صورت میں قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی سوچ چالیس سال کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔ اوردینی ومذہبی لحاظ سےاچھے اور بُرے میں فرق،نیکی اور بدی میں تمیزکرناسیکھ لیتاہے۔ اور اپنی عاقبت سنوارنے کی فکر پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔

یہی عمر ایسی ہے جس میں اکثر لوگوں کے والدین حیات ہوتے ہیں اور ان کی اپنی اولادیں بھی پیدا ہو چکی ہوتی ہیں۔ ان دونوں لحاظ سے ایک ناصرکے لئے باپ کی حیثیت سے اور لجنہ کی ممبر ہونے کی صورت میں ماں کی حیثیت سے اس دعا کا ورد بہت ضروری ہے کہ

رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَنِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلیٰ وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضٰہُ وَ اَصْلِحْ لِی فِیْ ذُّرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(الاحقاف:61)

اے میرے رب!مجھے توفیق عطا کر کہ میںتیری اُس نعمت کا شکر ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پراور میرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجا لائوں جن سے تُو راضی ہو اور میرے لئے میری ذُرّیّت (اولاد) کی بھی اصلاح کر۔ یقینًا میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوںاور بلا شبہ میں فرمانبردارں میں سے ہوں۔

ایک طرف ان نعمتوں کا ذکر کر کے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کی مکمل پیدائش کی صورت اُس پر نازل کیں اور والدین کی تکالیف کےبرداشت سےجوافضال اورنعماء کا وہ وارث ٹھہرا تو ان کو مدنظر رکھ کرایک طرف اپنے مالک حقیقی کا شکر ادا کرنا ہے اور دوسری طرف نیک، صالح اعمال بجالانےکےلئے اللہ تعالیٰ کےحضورجھکنا بھی ہے۔اور اولادکے تعلق میں ان کی اصلاح و تربیت کے اعلیٰ معیاروں کو پانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگنی ہے۔اس ناطے بہت بڑی اور اہم ذمہ داریاں انسان کے کندھوں پر پڑ چکی ہوتی ہیں۔ جن کو بآسانی ادا کرنے کی وہ صلاحیت بھی رکھتا ہے اور دعا بھی کرتا ہے۔

اس ناطےایک ناصر اور لجنہ کی ایک ممبر کا انفرادی لحاظ سے قرآن میں ذکر ہے اور اس عمر کوپہنچ کر جو کام آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ اللہ تعالیٰ کی رضاکےحصول کےلئے کیا کرتے تھے۔وہ اپنانےکی کوشش کریں اورحضرت عائشہ ؓ کایہ قول مد نظر رہے۔ جس میں کسی کے دریافت کرنے پر آپؓ نے فرمایا تھا کہ کَانَ خُلُقُہٗ القُرْآن کہ آپ ﷺ کا کردار، اطوارواخلاق قرآن کریم کی تعلیمات کےعین مطابق تھے۔ہمیں بھی اپنے آپ کو قرآن میں تلاش کرنا چاہئے اور قرآن نما بننے کی فکر اور کوشش کرنی چاہئے۔

انصار اللہ کا بحیثیت تنظیم ذکر

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الصف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے جب اس نے اپنے حواریوں کو پکارا تھا اور انہوں نے جواب میں ’’نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ‘‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔

اسی طرح لازم تھا کہ آخرین کے دَور میں مسیح موعودکی پکارپربھی اس کےماننےوالے ’’نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ‘‘ کانعرہ بلندکر کے اپنی معیت، تائید اور اپنےاخلاص کااظہار کرتے۔ چنانچہ جماعت احمدیہ کی 130 سالہ تابناک تاریخ وفاداری کے ایسےروشن واقعات سےبھری پڑی ہےجواللہ کے مددگار کاہروقت نعرہ لگانےکو تیارتھی تیارہے، اور آئندہ بھی تیار رہے گی۔

گو جماعت میں ہر چھوٹابڑا ’’نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ‘‘ کا نعرہ بلندکرتا ہے لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے ضروری جانا کہ اس نام سے اسم بامسمّٰی ایک تنظیم بھی قائم کر دی جائے۔ چنانچہ آپ نے 26جولائی 1940ء کو خطبہ جمعہ میں مجلس انصار اللہ کی بنیاد ان الفاظ سے رکھی۔ آپؓ فرماتے ہیں:

’’چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپرہیںاس میں شریک ہوں۔ ان کے لئے بھی لازمی ہو گا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں‘‘

(سبیل الرشاد جلد اول ص 18-17)

الحمد للہ یہ انجمن آج دنیاکےکونے کونے میں اپنی جڑیں مضبوطی سے گاڑ چکی ہے اور اس کی تاریخ قربانی، وفا، اخلاص و فدائیت سے رقم ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اس حوالہ سے فرماتے ہیں۔
’’آپ سب لوگ وہ چنیدہ افراد ہیں جن کا ذکر قرآن مجیدمیں انصار اللہ کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔اے وہ لوگو!جو ایمان لائے ہو اللہ کے انصار بن جاؤ اللہ کے انصار بن جاؤ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا تھا(کہ)کہ کون ہیں جو اللہ کی طرف راہنمائی کرنے میں میرے انصار ہوں؟ حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے انصار ہیں۔

پس اے مومنو! تم اللہ کے دین کے لئے مددگار بن جاؤاگرچہ حضرت مسیح موعودؑ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ کی بیعت کرنے والے سب کے سب آپ کے انصار ہیںلیکن حضرت المصلح الموعودؓنے جماعت کے ان افرادکانام ’’انصار اللہ‘‘ رکھا جن کی عمر چالیس سال سے زائد ہے تاکہ ہمیشہ ان کے مدنظریہ رہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت اور حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کی تکمیل کے لئے ہمیشہ صف اول میں رہنے کا عہد کئے رکھنا ہے۔پس اس پہلو سے آپ پر بہت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ وہ ذمہ داریاں اجمالاً انصار کے عہد میں بیان کردی گئی ہیں جسے آپ اپنے ہراجلاس میں دہراتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اسلام احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت اور نظام خلافت کے لئے آخر دم تک جدوجہد کرنی ہے۔اور اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا ہے اور اپنی اولاد کو ہمیشہ خلافت احمدیہ سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے رہنا ہے اور ان کے دلوں میں خلیفہ وقت سے محبت پیدا کرنی ہے۔ یہ اتنا عظیم اور عظیم الشان نصب العین ہے کہ اس عہد پر پورا اُترنا اور اس کے تقاضوں کو نبھانا ایک عزم اور دیوانگی چاہتا ہے۔‘‘

(سبیل الرشادجلد 4ص3)

پھر فرمایا۔ ’’پس ہر ایک کو ہم میں سے اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ کا نعرہ لگانے سے پہلے غور بھی کیا ہے کہ یہ کتنا گہرا اور وسیع نعرہ ہے؟ کیا کیا قربانیاں دینی پڑیں گی اس کے لئے اور قربانیاں ہیں کیا؟ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کوئی جنگ،توپ،گولہ نہیں ہے، کسی گولے کے آگے کھڑا ہونا نہیں ہے،کسی توپ کے منہ کے سامنے کھڑے ہونانہیں ہے، تیروں کی بوچھاڑکےآگےکھڑے ہونا نہیں ہے۔ صحابہ کرام، جو آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ تھے ان کی طرح گردنیں کٹوانا نہیں ہے۔ ہاں یہ قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کبھی کبھار اکّا دکّا لے لیتا ہے۔ نمونے قائم رکھنے کے لئے اس طرح کرتا ہے۔ لیکن قربانی جو اس زمانے میں کرنی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں۔ اپنے معاشرہ کے حقوق ادا کرنے ہیں۔ اپنے مالوں کی قربانیاں دینی ہیں۔‘‘

(سبیل الرشادجلد 4ص52)

پھر فرمایا: ’’انصار اللہ کی عمر چالیس سال سے شروع ہوتی ہے۔ گویا انصاراللہ کی عمر میں انسان اپنی پختگی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جب یہ صورت ہو تو اس عمر میں پھر آخرت کی فکر بھی ہونی چاہئے اور یہی ایک ایسے شخص کا، ایک ایسے مومن کا رویہ ہونا چاہئے جس کو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو، یقین ہو اور تقویٰ میں ترقی کرنے کے لئے اس کی کوشش ہو تو پھر اس کی یہ سوچ ہونی چاہئے کیونکہ ایک احمدی نے اپنے عہد میں، عہدِ بیعت میں اس بات کا اقرار کیا ہوا ہے کہ اس نے تقویٰ میں ترقی کرنی ہے، تمام اعلیٰ اخلاق اپنانے ہیں، اس لئے اس کو تو عمومی طور پر اور اس پختہ عمر میں خاص طور پر یہ سوچ اپنے اندر بہت زیادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انصار اللہ ہیں۔ ایک ایسی عمر ہے جو نَحْنُ اَنْصَارُاللّٰہ کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کو تو ہر وقت یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہئے‘‘۔

(سبیل الرشادجلد 4ص273)

جہاں تک لجنہ کا تعلق ہے اس حوالہ سے حضرت مصلح موعوؓد بانی لجنہ اماء اللہ فرماتے ہیں:
’’اس تحریک کے تین بڑے حصے ہیں۔ اول مردوں کی اصلاح، دوسرے عورتوں کی اصلاح اور تیسرے بچوں کی اصلاح۔دنیا میں کوئی قوم کامیابی حاصل نہیں کر سکتی جب تک کوئی مقصد اس کے سامنے نہ ہو اور اس کے لئے مرد، عورت اور بچے سب مل کر کام نہ کریں۔ پس ہر جماعت کا فرض ہے کہ اپنے ہاں کے مردوں، عورتوں اور بچوں کی اصلاح کرے۔ عورتوں کی اصلاح کے لئے لجنہ کا قیام نہایت ضروری ہےلیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے فرض کفایہ سمجھ لیا گیا ہے۔ چند عورتیں لجنہ میں شامل ہوجاتی ہیں اور باقی اپنے لئے اس میں شامل ہونا ضروری نہیں سمجھتیں۔ پس ضرورت ہے کہ ہر جگہ لجنہ اماء اللہ قائم ہو اور سب بالغ عورتیں اس میں شامل ہوں اور کوئی عورت بھی ایسی نہ رہے جو اس سے باہر ہو یہی ایک ذریعہ ہے جس سے عورتوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔‘‘

(اوڑھنی والیوں کے لئے پھول جلد اول صفحہ 315)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے لجنہ ممبرات کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف ایک جگہ یوں توجہ دلائی:
ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ جماعتی نظام ایک مرکزی نظام ہے اور خدام، لجنہ اور انصار ذیلی تنظیمیں ہیں اور گویا ذیلی تنظیمیں بھی براہ راست خلیفہ وقت کے ماتحت ہیں، ان سے ہدایات لیتی اور اپنے پروگرام بناتی ہیں لیکن جماعتی نظام بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور خلیفہ وقت کے قائم کردہ نظاموں میں سے سب سے بالا نظام ہے۔ ہر ذیلی تنظیم کا ممبر جماعت کا بھی ممبر ہے اور جماعت کا ممبر ہونے کی حیثیت سے وہ جماعت نظام کا پابند ہے ……حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ذیلی تنظیمیں بنانے کایہ مقصدتھا کہ جماعت کے ہر طبقے کو جماعت activities میں شامل کیا جائے تاکہ ترقی کی رفتارمیں تیزی پیداہو۔ ہر ایک کا اپنا اپنا ایک لائحہ عمل ہوتاکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسابقت کی روح پیدا ہو۔ گاڑی کی پٹڑی کی طرح، لائن کی طرح دونوں برابر چل رہے ہوں، کہیں ٹکراؤ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں میں سےایک انعام ہے۔ اس کی قدر کریں تاکہ اسلام اور احمدیت کی گاڑی اس پٹڑی پر منزلوں پر منزلیں طے کرتی چلی جائے اور ہم اسلام کا جھنڈا دنیا میں لہراتا ہوا دیکھیں ……میں سمجھتا ہوں کہ لجنہ کی تنظیم بھی نچلی سطح سے لے کر،اپنے شہر کی تنظیم سے لے کر مرکزی سطح تک تربیت میں اس کمی کی ذمہ دار ہے۔ بڑے بڑے مسائل یاد کرنے سے بہتر ہے پہلے اپنی تربیت کریں۔ جیسا کہ میں نے کہا جماعت میں نئے شامل ہونے والے اپنے اخلاص میں بڑھ رہے ہیں اور دنیا کے ہر ملک میں بڑھ رہے ہیں ان کو دیکھ کر جہاں خوشی ہوتی ہے کہ نئے آنے والے اخلاص میں بڑھ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نیکی اور اخلاص میںبڑھنے والے ملک ملک میں عطا کئے ہیں اور عطا فرما رہا ہے اور دل سے بے اختیار اللہ کی حمد اور شکر کے جذبات نکلتے ہیں، وہاں یہ فکر بھی ہوتی ہے۔ پُرانے احمدیوں کی قربانیوں کو کہیں ان کی اولادیں ضائع نہ کردیں۔

(اوڑھنی والیوں کے لئے پھول جلدسوم حصہ دوم صفحہ138۔142)

پس اس لحاظ سے ہم میں سے ہر ناصراورہرلجنہ کی ممبرکو بحیثیت انفرادی اور مجلس انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ کو بحیثیت تنظیم اس امر پر غور کرنا ہے کہ کیا ہم اپنے آپ کو قرآن میں پاتے ہیں؟ کیا ہم اللہ،اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں؟ کیا ہم پنجوقتہ نماز اد ا کرتے ہیں؟ کیا ہم نوافل، نماز تہجد ادا کرتے ہیں؟ کیاہم تلاوت قرآن کریم اور ترجمہ کے ساتھ اسے پڑھتے ہیں؟ کیا ہم رمضان کے روزے رکھتے ہیں؟ کیا ہم سچ بولتے ہیں؟ کیا ہم ان تمام اخلاق حسنہ سے آراستہ ہیں جن کی نشاندہی قرآن و حدیث میں ملتی ہے اور صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ اخلاق کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے؟ کیا ہم ان تمام اخلاق سیئہ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں جن کو ترک کرنے کا ذکر قرآن میں موجود ہے؟

اگر ایسا ہے تو الحمد للہ ثم الحمدللہ ہم قرآنی تعلیم کے عین مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں اور کَانَ خُلُقُہٗ القُرْآن کی تقلید میں ہم بھی اخلاق قرآن سے مزین ہیں۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 27 جون 2020ء