• 11 اگست, 2020

تیسری صدی کے مجدد حضرت ابو الحسن اشعریؒ

نام ونسب

آپ کا نام علی بن اسماعیل،کنیت ابوالحسن اور لقب ناصر السنت تھا۔ آپ کے والد محترم کا نام اسماعیل بن ابو بشر اسحاق تھا۔ اپنے جد امجد صحابیٔ رسول حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے نسبت کی وجہ سے ’’اشعری‘‘ کہلوائے۔ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے:علی بن اسماعیل بن ابی بشر اسحاق بن سالم بن اسماعیل بن عبد اللہ بن موسیٰ بن بلال بن ابی بردہ عامر بن ابی موسیٰ اشعری۔

جب آیت فَسَوْفَ یَأْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وُیُحِبُّونَہُ (المائدۃ:55) نازل ہوئی تو رسول اللہؐ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ وہ قوم یہ ہے۔

(مسند ابن ابی شیبہ جزء2ص179)

پیدائش

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَتَاکُمْ أَہْلُ الیَمَنِ، أَضْعَفُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَۃً، الفِقْہُ یَمَانٍ وَالحِکْمَۃُ یَمَانِیَۃٌ

(صحیح بخاری کتاب المغازی باب قوم الاشعریین و اھل الیمن)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں۔ دل کے نرم اور رقیق القلب ہیں، دین کی سمجھ یمانی ہے اور حکمت بھی یمانی ہے۔

علماء کے نزدیک ان احادیث میں رسول اللہؐ نے ابو الحسن الاشعری کی پیدائش کی بشارت دی ہے۔ جیسے ’’عالم قریش‘‘ والی حدیث میں امام شافعی اور ’’عالم المدینۃ‘‘ والی حدیث میں امام مالک کی پیشگوئی مراد لیتے ہیں۔

ان بشارات کے مطابق آپ کی پیدائش 260ھ میں عراق کے شہر بصرہ میں ہوئی۔ آپ کا خاندان اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا تھا۔

تعلیم و تربیت

آپ کی عمر کے پہلے دس سال قرآن و حدیث کے علوم کے حصول میں گزرے۔ اس کے بعدپھرآپ کے والد محترم نے اہل سنت ہونے کے باوجودابتدائی تعلیم و تربیت کے لیے آپ کو معتزلہ کے بزرگ عالم ابوعلی جبائی کے گھر بھجوادیا۔ پس آپ کی تعلیم و تربیت معتزلی عقائد پر ہونے لگی۔ یوں آپ علوم معتزلہ میں طاق ہوئے اورفن مناظرہ و مجادلہ کے ماہراوراس پر گہرا غور و تفکرکرنے کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ آپ اپنی بات کو عقلی و نقلی دلائل سے ثابت کیا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے آپ کوعلم الکلام کابانی بھی کہا جاتا ہے۔ علم الکلام سے آپ کوخاص شغف تھاجس کی وجہ سے آپ نے اس میں پوری دسترس حاصل کی۔ آپ علماء و فقہاء کی مجالس سے استفادہ فرمایا کرتے تھے۔ علوم حدیث آپ نے زکریا بن یحیٰ الساجی سے سیکھے۔ جامع منصوربغداد میں ابو اسحاق المروزی فقیہہ کی مجالس میں شامل ہوکران سے فقہ کی تعلیم پاتے اور وہ آپ سے علم الکلام سیکھتے تھے۔ بعض مالکیوں نے سمجھا کہ آپ مالکی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ درست نہیں لیکن جنہیں آپ کے حالات کی خبر تھی وہ جانتے تھے کہ آپ شافعی المسلک تھے۔

(طبقات الفقہاء الشافعیہ جزء2ص604 از عثمان الشہزوری(متوفی:643ھ))

امام معتزلہ

قریباً چالس برس تک آپ معتزلی عقائد پر رہے یہاں تک کہ معتزلہ کے امام بن گئے۔اپنے اساتذہ سے مناظرے کیا کرتے تھے اور جو سوال عقل و فکر کے خلاف معلوم ہوتے وہ دریافت کیا کرتے تھے لیکن اپنے معتزلی اساتذہ و علماء سے شافی وکافی جواب نہ پاتے۔ جس کی وجہ سے آپ ان سوالات میں مزید غور و فکرکرتے رہتے۔

ایک دفعہ ابو الحسن اشعری نے اپنے استاد ابو علی جبائی سے سوال پوچھا کہ اللہ تعالیٰ مومن، کافر اور بچے سے کیا سلوک کرے گا؟ ابو علی جبائی نے کہا کہ مومن اہل درجات میں سے ہوگا،کافراہل ہلاکت میں سے ہوگا اور بچہ اہل نجات میں سے ہوگا۔تو ابو الحسن اشعری نے کہا کہ اے شیخ!اگر بچہ اہل درجات کے مقام تک پہنچنا چاہے تو کیا ایسا ممکن ہے تو شیخ نے جواب دیا کہ نہیں، اسے کہا جائے گا کہ مومن نے تو یہ درجہ اپنی اطاعت کی وجہ سے پایا ہے جو کہ تو نہیں کر سکا۔تو ابو الحسن اشعری نے کہا کہ بچہ کہے گا :یہ تو میری غلطی نہیں، اگر تو مجھے زندہ رکھتا تو میں ضرور مومن کی طرح اطاعت گزاری کرتا۔تو جبائی نے کہا: اللہ تعالیٰ اسے کہے گا کہ میں جانتا تھا کہ اگر تو زندہ رہتا تو ضرور میری نافرمانی کرتا اور سزایافتہ ہوجاتا۔پس میں نے تیری مصلحت کے لیے تیری رعایت کی اس سے پہلے کہ تو بڑی عمر کو پہنچتا۔تو ابو الحسن اشعری نے کہا : تو اگر کافر کہے کہ اے اللہ!جس طرح تو اس بچے کا حال جانتا تھا، ویسے ہی تو میرا حال بھی جانتا تھا پھر تو نے کیوں نہ اس کی طرح میری بھی رعایت کی۔یہ سن کر جبائی لاجواب ہوگئے۔

(طبقات الشافعیہ الکبری جزء3صفحہ356از تاج الدین السبکی (متوفی:771ھ))

معتزلہ سے رجوع

چونکہ ابو الحسن اشعری دلائل عقلیہ و نقلیہ کے ساتھ بات کرنے کے عادی تھے۔جب انہوں نے معتزلی اقوال میں خرابیاں دیکھیں اورپوچھنے پراساتذہ و علمائے معتزلہ سے تسلی بخش جوابات بھی نہ پاتے توحیران ہوتے اوریہ بات آپ کو بے چین کیے رکھتی تھی۔ رفتہ رفتہ ایک ایک کر کے معتزلہ کے اکثر عقائد سے بیزار ہوتے چلے گئے۔ جب کافی عرصہ آپ تذبذب کی حالت میں رہے تو 300ھ رمضان کے بابرکت مہینہ کے پہلے عشرہ میں آپ نے خواب میں رسول اللہؐ کو دیکھا۔ رسول اللہؐ نے آپ سے فرمایا کہ اے علی! جو مذہب و طریق مجھ سے مروی ہے اس کی مدد کرو یقیناً وہی حق ہیں۔جب آپ بیدار ہوئے تو آپ کے دل میں یہ بات داخل ہوگئی اورآپ پورا عشرہ مھموم و مغموم رہے۔پھر دوسرا عشرہ شروع ہوا تو رسول اللہؐ دوبارہ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ تم نے اس بارہ میں کیاکیا جو میں نے تمہیں حکم دیا تھا۔تو ابو الحسن اشعری نے کہا کہ آپ سے مروی صحیح مذہب و طریق سے تو میں نکل چکا ہوں، میں کیسے ایسا کروں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: جو مذہب و طریق مجھ سے مروی ہے اس کی مدد کرو یقیناً وہی حق ہیں۔ جب آپ بیدار ہوئے تو شدید افسردہ اور غمگین ہوئے اور علم الکلام کو ترک کردیا اورتلاوت قرآن کریم کو لازم کر لیا اورسنت وحدیث پر عمل شروع کر دیا۔

رمضان کی ستائیسویں رات آئی تو آپ کی عادت تھی کہ آپ اس ساری رات جاگ کر عبادت الہٰی کیا کرتے تھے۔ لیکن اس رات آنکھ لگ گئی اور خواب میں تیسری دفعہ رسول اللہؐ کو دیکھا۔ آپؐ نے وہی سوال دہرایا کہ تم نے کیا کیا جس کا میں نے تمہیں حکم دیا تھا؟ تو ابو الحسن نے فرمایا: یا رسول اللہؐ! میں نے علم الکلام کو چھوڑ دیا ہے اور کتاب اللہ اور آپؐ کی سنت کو اپنا لیا ہے۔ تو آپ ؐ نے فرمایا کہ میں نے تو علم الکلام کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیا تھا میں نے تو اس مذہب و طریق کی تائید و نصرت کا حکم دیا تھا جو مجھ سے مروی ہے اور یقیناً وہی حق ہے۔

ابو الحسن اشعری نے خواب میں ہی رسول اللہؐ سے فرمایا کہ میں کیسے اس مذہب کو ایک خواب کی بناء پر چھوڑ دوں جس کے مسائل کو سیکھنے اور دلائل کوجاننے میں تیس سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے؟ تو رسول اللہؐ نے فرمایا کہ کیوں نہیں چھوڑو گے جبکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ اپنی طرف سے تمہاری مدد کرے گا۔جب ابو الحسن اشعری جاگے تو گمراہی دور ہوچکی تھی اور حق ظاہر ہوچکا تھا اور خواب میں ہی احادیث کی نصرت حاصل ہوچکی تھی اور شفاعت کی توفیق بھی مل چکی تھی اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ۔ آپ پر ایسی نئی بحثیں اور نئے براہین کے دروازے کھول دئیے گئے جو آپ نے اپنے اساتذہ سے بھی نہیں سنے تھے، نہ ہی کسی مناظرہ میں پیش کیے تھے اور نہ ہی کسی کتاب میں دیکھے تھے۔

(طبقات الشافعیہ الکبریٰ جزء3صفحہ348-349)

اس رؤیا کے بعد آپ پندرہ یوم تک اپنے گھر میں رہے اور لوگوں کے سامنے نہ آئے۔ اس کے بعد جامع مسجد گئے اور اس کے منبر پر چڑھ کر بولے:اے لوگو!میں اس مدت میں تمہارے سامنے اس لیے نہیں آیا کیونکہ میں غور و فکر میں مصروف تھا۔ میرے پاس دلائل کاانبار تھا اور میرے نزدیک کوئی چیز کسی دوسری پر برترو غالب نہیں نکلی۔پس میں نے اللہ سے ہدایت طلب کی تو اس نے مجھے ان اعتقادات کی طرف ہدایت دے دی جو میں نے اپنی اِن کتب میں چھوڑ رکھے تھے۔اور اب میں اپنے ان تمام عقائد سے الگ ہوتا ہوں جس طرح میں اپنے کپڑوں سے الگ ہوتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنی قمیض اتار کرپھینک دی اور اپنی ان کتب کو جو آپ نے اہل سنت کے طریق کے خلاف لکھی تھیں لوگوں کے سامنے پھینک دیا۔

(طبقات الشافعیہ الکبریٰ جزء3 صفحہ347)

اہل معتزلہ سے مناظرے

حسین بن محمد عسکری بیان کرتے ہیں کہ ابو الحسن اشعری ابو علی جبائی کے شاگرد تھے اور آپ ماہر علم الکلام، نگاہِ دانائی کے مالک اور مناظرہ و مباحثہ کے شہسوار تھے۔ جبائی صاحب تصنیف و قلم تو تھے لیکن ان میں قوت مناظرہ زیادہ نہ تھی۔جب انہیں مناظرے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے اشعری سے کہا کہ مجھےرہنے دو۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ جزء3 صفحہ347)

ابو سھل الصعلوکی بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو الحسن اشعری کے ساتھ بصرہ میں مجلس علوی میں گئے اور وہاں معتزلہ سے مناظرہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے معتزلہ کو رسوا کیا اور ایک کے بعددوسرا آتا گیا، ابو الحسن اشعری نے سب کو شکست دے دی۔پھر دوبارہ دوسری مجلس میں گئے تو کوئی بھی مناظرہ کے لیے نہ آیا۔

(تبیین کذب المفتری فیمانسب الی الاشعری از ابوالقاسم ابن عساکر جزء1ص94)

امام ابو بکر الصیرفی کہتے ہیں کہ معتزلہ اپنا سر اٹھا رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اشعری کو ظاہر کر دیاپس اس نے انہیں اپنی بلوں میں گھسنے پر مجبور کر دیا۔

(تاریخ بغداد جزء 11 صفحہ 346)

تکفیر سے انکار

زاھر بن احمد بیان کرتے ہیں کہ جب امام ابو الحسن اشعری بغداد میں میرے گھر آئے توانہوں نے کہا کہ میرے گواہ رہنا میں کبھی کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہوں گاکیونکہ سب ایک ہی معبود کی عبادت کرتے ہیں۔باقی یہ سب عبارتوں کے اختلافات ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء جزء15صفحہ88از شمس الدین الذھبی(متوفی:748ھ))

عقائد باطلہ اور بدعات کا خاتمہ

ابو الحسن اشعری ائمہ حدیث و اہل سنت میں سے ایک عظیم امام تھے۔ آپ نے سنت نبویہؐ پر عمل کرتے ہوئے بدعات کا خاتمہ کیا اور معتزلہ کے عقائد کا ردّ کیا۔ خلق قرآن، تقدیر وغیرہ کے مسائل کو حل کیا۔ آپ معتزلہ، روافض، خوارج، جہمیہ، فرقہ قدریہ وجبریہ اور بدعتیوں کے لیے سیف مسلول تھے۔ کسی بدعت کو جاری نہ کیا اور نہ ہی کوئی نیا مذہب تشکیل دیا بلکہ آپ نے رسول اللہؐ اور صحابہ کے مذہب کو ہی آگے بڑھایا اور اس کی حمایت کی اور اس پر ایک بند باندھا تاکہ کوئی اس میں رخنہ پیدا نہ کر سکے۔آپ کا علم الکلام سنن کی وضاحت اور ان کے قیام کے لیے تھا۔آپ نے اپنے علوم کو کتاب اللہ و سنت رسولؐ کی تائید و نصرت کے لیے وقف کر دیا۔اسی لیے آپ کومجددین امت میں تیسرا مجددشمار کیاجاتاہے۔

وفات

امام ابو الحسن اشعری324ھ کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ آپ کا مدفن بغداد میں ہے۔ زاہر بن احمد بیان کرتے ہیں کہ نزع کی حالت میں امام ابو الحسن اشعری کا سر میری گود میں تھا آپ کچھ فرما رہے تھے میں نے اپنا سر نزدیک کرکے سنا تو آپ فرمارہے تھے کہ معتزلہ پر لعنت ہو انہوں نے جھوٹی باتیں گھڑیں اور تحریفات کیں۔

(طبقات الشافعیین جزء1ص210از ابن کثیر القرشی (متوفی:774ھ))

جس دن آپ کی وفات ہوئی تو اہل سنت رو رہے تھے اور اہل بدعت خوشیاں منارہے تھے۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ جزء3ص367)

تقویٰ و عبادت گزاری

ابو الحسن اشعری متقی،عبادت گزار اور گھڑی ہوئی احادیث سے بچانے والے ناصر السنت تھے۔آپ کے ساتھی بیان کرتے ہیں کہ آپ نے بیس سال تک رات کے وضو سے صبح نماز ادا کی۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ جزء3صفحہ351)

سادہ اورمتصوفانہ زندگی

آپ نے اپنی زندگی زہد و بساطت میں گزاری۔ آپ پرمتصوفانہ اثر کا غلبہ تھا۔ آپ تصوف میں سردار کا درجہ رکھتے تھے جیسا کہ علم الکلام اور مختلف علوم میں آپ سردار جانے جاتے ہیں۔آپ کے خادم کا بیان ہے کہ آپ اپنے دادا بلال بن ابوبردہ کی طرف سے وقف شدہ جائیدادی غلہ میں سے کھایا کرتے تھے۔ آپ کا سالانہ خرچ محض سترہ درہم ہوا کرتا تھا۔ ہر ماہ ایک درہم سے کچھ زائد خرچ تھا۔

(تاریخ بغداد جزء 11صفحہ 346)

علم و فضل کا شاہکار

ابو الحسن اشعری فقیہہ، عالم، مجتہد اور محدث تھے۔ آپ صاحب فراست اوردانا تھے اور ان سب کا منبع اللہ کا نور تھا۔آپ ملت محمدیہ کی نصرت کے لیے کھڑے ہوئے اور مضبوط تائید ونصرت کی۔آپ ذکاوت وفہم کے شاہکار اورعلم کے سمندر تھے۔آپ اعلیٰ صفات و حسنات کے مالک تھے۔زبردست مناظر تھے۔علم الکلام کے بانی اورعلم اصول کے ماہر تھے۔آپ کو امام المتکلمین اور امام المتصوفین بھی کہا جاتا ہے۔حضرت امام ابو الحسن اشعری علم و فضل کا مینار تھے۔ علماء نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو مختلف ’’امام اہل سنت‘‘،’’امام الفضل‘‘،’’رئیس الکامل‘‘،’’امام المتکلمین‘‘،’’زعیم المجددین‘‘،’’شیخ السنۃ‘‘،’’ناصر السنۃ‘‘،’’حبر الامۃ‘‘، ’’امام ائمۃ الحق‘‘ وغیرہ جیسے القابات سے نوازا۔

ابو اسحاق اسفراینی کہتے ہیں کہ میں ابو الحسن الباہلی کے نزدیک ایسا ہی ہوں جیسے ایک قطرہ سمندر کے پاس ہوتا ہے اور میں نے ابو الحسن الباہلی کو یہ کہتے سنا ہے کہ میں ابو الحسن اشعری کے نزدیک ایسا ہی ہوں جیسا ایک قطرہ سمندر کے پاس ہوتا ہے۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ جزء3صفحہ351)

اساتذہ

ابو الحسن نے کثیر علماء سے اقتباس علم کیا۔ جن میں سے مشہور یہ ہیں: ابو خلیفہ الجمحی، ابو علی جبائی، زکریا الساجی، سھل بن نوح، محمد بن یعقوب، عبد الرحمٰن بن خلف ضبی وغیرہ۔

شاگرد

آپ کے شاگردوں کی تعداد ان گنت ہے اور ان میں حنفی، مالکی شافعی اور حنبلی تمام مکاتب فکر شامل ہیں۔ ابو سہل الصعلوکی، ابو اسحاق اسفراینی، ابو بکر قفال، ابو زید المروزی، ابو عبد اللہ ابن خفیف، زاہر بن احمد سرخسی، ابوبکر جرجانی، ابو بکر الادونی وغیرہ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے الاشاعرۃ (اشعریین) کہلاتے ہیں اور آپ کو اشعری فرقہ کا بانی کہا جاتا ہے۔

تصانیف

ابو الحسن اشعری صاحب لسان ہونے کے ساتھ صاحب قلم بھی تھے۔آپ نے اپنی زندگی میں بہت سی کتب لکھیں۔آپ کی کتب کی تقسیم دو طرح سے ہے۔ پہلی وہ کتب جو معتزلی عقائد کے دور میں لکھیں جن کے بارہ میں بعدمیں آپ نے بیزاری کا اظہار کیا اور پھینک دیں۔ دوسری قسم وہ ہے جو آپ نے معتزلہ سے تائب ہوکر اہل سنت ہونے کے دور میں لکھیں۔ ان اکثرکتب میں معتزلہ کا ردّ کیا ہے۔آپ کی کتب کی مجموعی تعداد 100 سے بھی زائد ہے جن میں مشہور یہ ہیں: مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، اللمع فی الرد علی اھل الزیغ والبدع، رسالہ الیٰ اھل الثغر، الابانۃ عن اصول الدیانۃ، رسالہ الاستحسان الخوض فی علم الکلام، الفصول فی الردّ علی الملحدین، الموجز، الاسماء والاحکام، الجوابات فی الصفات علی الاعتزال وغیرہ۔

٭…٭…٭

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 27 جون 2020ء