• 5 دسمبر, 2021

خلفائے احمدیت کی تحریکات (قسط نمبر4)

خلفائے احمدیت کی تحریکات
قسط نمبر4

احمدی ڈاکٹرز کو اپنے نسخوں کے اوپر ھُوَالشَّافِی لکھنے اور مریضوں کے لئے دعا کی تحریک

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے احمدی ڈاکٹرز کو اپنے نسخہ جات کے اوپر خدا تعالیٰ کی صفتِ شافی اور اس کا ترجمہ لکھنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کے لئے دعائیں بھی کرنے کی تحریک فرمائی تھی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ حالیہ ورچوئل کلاس میں اس خطبہ کا ذکر بھی فرمایا۔ اور اس تحریک کا اعادہ بھی فرمایا۔ ذیل میں حضور انور ایدہ اللہ کے بابرکت الفاظ درج کئے جا رہے ہیں:

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ :
’’… پس ہر احمدی ڈاکٹر اور ریسرچ کرنے والے کو اپنے مریضوں کے لئے اس انسانی ہمدردی کے جذبہ سے کام کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ڈاکٹرز (ربوہ کے ہسپتالوں میں بھی، افریقہ میں بھی) اپنے نسخوں کے اوپر ھُوَالشَّافِی لکھتے ہیں۔ اگر ہر ڈاکٹر دنیا میں ہر جگہ اس طرح لکھتا ہو اور ساتھ اس کا ترجمہ بھی لکھ دے تو یہ بھی دوسروں پر ایک نیک اثر ڈالنے والی بات ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو بھی جذب کرنے والی ہو ی اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ میں شفاء بھی بڑھا دے گا۔ اکثر پرانے ڈاکٹرز تو مجھے امید ہے کہ یہ کرتے ہوں گے لیکن بہت سے نوجوان ڈاکٹرز شاید اس طرف توجہ نہ دیتے ہوں۔ تو ان کو بھی مَیں اس لحاظ سے توجہ دلا رہا ہوں۔

ہر احمدی جو معالج ہے ہمیشہ سب سے پہلے یہ ذہن میں رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی عقل اور علم سے مَیں علاج تو کر رہا ہوں لیکن شافی خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اگر اس کا اِذن ہو گا تو میرے علاج میں برکت پڑے گی اور ظاہر ہے جب یہ سوچ ہو گی تو پھر ڈاکٹر کی دعا کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی اور جب دعا کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور اس کے نتیجے میں اس کے ہاتھ میں شفاء بھی بڑھے گی تو خداتعالیٰ کی ذات پریقین بھی بڑھے گا اور اس طرح روحانیت میں بھی ترقی ہو گی۔اسی طرح مریض ہیں، ان کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ فلاں ڈاکٹر میرا علاج کرے گا تو ٹھیک ہو جائوں گا یا فلاں ہسپتال سب سے اچھا ہے وہاں جاؤں گا تو ٹھیک ہوں گا۔ ٹھیک ہے سہولتوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے لیکن مکمل انحصار ان پر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ شافی خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اذن ہو گا تو مَیں شفا پاؤں گا۔ اس لئے جس ڈاکٹر سے بھی ایک مریض علاج کروا رہا ہے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا رکھ دے اور اسے صحیح راستہ سمجھائے۔ ہر احمدی کویہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شفا دے تو اس کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے شفا دے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 19؍ دسمبر2008ء بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 09؍جنوری تا 15؍جنوری2009ء)

جب نسخہ لکھیں تو نسخے کے اوپر ھُوَالشَّافِی لکھیں

واقفین نو بنگلہ دیش کی امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے (آن لائن) ملاقات منعقدہ مؤرخہ 30؍جنوری 2021ء میں ایک اور واقفِ نَو ڈاکٹر محمود احمد نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ پیارے حضور حال ہی میں میری تقرری بطور ڈاکٹر لائبیریا میں ہوئی ہے اس لیے آپ سے دعا کی درخواست کرتا ہوں اور آپ سے رہنمائی و ہدایت کا طلبگار ہوں۔

حضور انور نے فرمایا: خاص ہدایت یہ ہے کہ وہاں جاکے خدمت کے جذبہ سے افریقی لوگوں کی خدمت کریں، افریقی قوم ایسی ہے کہ اگر صحیح طور پر ان کی خدمت کریں ان سے اچھا سلوک کریں تو وہ آپ لوگوں کے شکر گزار بھی ہوتے ہیں اور اس سے ان کو خوشی بھی ہوتی ہے کہ جماعت ہماری خدمت کر رہی ہے۔ اور اگر اپنا نمونہ اچھا نہیں دکھائیں گے تو ایک وقف ڈاکٹر کی بجائے آپ جماعت کو بدنام کرنے والے ہوں گے۔ اس لیے ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ وہاں اللہ کی خاطر خدمت خلق کے جذبہ سے جارہے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کو بھی راضی کرنا ہے اور لوگوں کی بھی خدمت کرنی ہے اور یہ جذبہ ہمیشہ قائم رکھنا ہے۔

ایک اَور واقف نو ڈاکٹر اطہر احمد سوہاگ نے پیارے حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست کی اور ہدایت طلب کی کہ میں وقف کرکے اب احمدنگر میں جماعت کے ہسپتال/کلینک میں کام شروع کرنے والا ہوں۔

حضور انور نے فرمایا: محنت سے کام کریں اور دعا کریں۔ پہلے ڈاکٹر کو میں نے نہیں کہا تھا اس کے لیے بھی یہی ہدایت ہے ان کو بھی یہ باتیں یاد رکھنی چاہئیں کہ مریض کو شفا اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ جب مریض کو دیکھیں تو دعا کرکے دیکھیں۔ جب نسخہ لکھیں تو نسخے کے اوپر ’’ھُوَالشَّافِی‘‘ لکھیں۔ ایک دفعہ مَیں نے خطبہ میں بھی اس کا ذکر کیا تھا۔ اور پھر جب مریض کو دیکھ لو تو رات کو جو نمازیں پڑھو تو نماز میں ان مریضوں کے لیے دعا کرو جن کو دیکھا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کو شفا دے اور ہاتھ میں شفا رکھے اور برکت ڈالے۔ اور ہر مریض سے خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔ خوش اخلاقی سے پیش آؤگے، مریض کو دیکھو گے تو مریض کی آدھی بیماری ڈاکٹر کی باتوں سے ہی دور ہوجاتی ہے اور آدھی بیماری پھر دوائیاں دے کے دور ہوتی ہے۔ اگر آپ اچھی طرح مریض سے پیش آئیں گے تو آدھی بیماری اس کی دور ہو جائے گی۔ دوائی دیں اور دعا کریں تو باقی مریض بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ آپ کے ہاتھ میں شفا رکھے گا۔زیادہ سے زیادہ مریض آپ کے پاس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کے لیے ان کو شفا عطا کرے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

(الفضل انٹرنیشنل 23 فروری 2021ء)

(ذیشان محمود۔ مبلغ سلسلہ سیرالیون)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خطوط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2021