• 5 دسمبر, 2021

عاجزانہ راہیں

اللہ تعالىٰ قرآن شرىف مىں فرماتا ہے:

وَ لَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمۡشِ فِى الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا ىُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ۱۹﴾

(لقمان: 19)

ترجمہ: اور (نخوت سے) انسانوں کے لىے اپنے گال نہ پھُلا اور زمىن مىں ىونہى اکڑتے ہوئے نہ پھر۔ اللہ کسى تکبر کرنے والے (اور) فخر و مباہات کرنے والے کو پسند نہىں کرتا۔

پىارے نبى ﷺ نے عرفات کے مىدان مىں اپنے پہلے اور آخرى حج کے موقع پر خطبہ سے فارغ ہو کر ظہر و عصر کى نماز ادا فرمائى۔ ىہ جمعہ کا دن تھا۔ بعد ازاں وقوف پر آئے۔ جہاں آپ ﷺ اپنے اونٹ پر سوار تھے۔ پھر آپ غروبِ آفتاب تک نہاىت عاجزى اور انکسارى کے غلبہ کے ساتھ تضرع اور ابتہال کے ساتھ اپنے رب کے حضور ىوں فرىاد کرتے رہے۔

ترجمہ: اے اللہ! تو مىرى بات سنتا ہے اور مىرى جگہ کو دىکھتا ہے اور مىرے پوشىدہ اور ظاہر کو جانتا ہے۔ تجھ سے مىرى کوئى بات چھپى نہىں رہ سکتى۔ مىں مصىبت زدہ ہوں۔ محتاج ہوں۔ فرىادى ہوں۔ پناہ جو ہوں۔ پرىشان ہوں۔ ہراساں ہوں۔ اپنے گناہوں کا اقرار کرنے والا ہوں۔ اعتراف کرنے والا ہوں۔ تىرے آگے سوال کرتا ہوں۔ جىسے بے کس سوال کرتے ہىں۔ تىرے آگے گڑگڑاتا ہوں اور تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ جىسے خوفزدہ آفت رسىدہ طلب کرتا ہو۔ اور جىسے وہ شخص طلب کرتا ہو، جس کى گردن تىرے آگے جھکتى ہو، اور اس کے آنسو بہہ رہے ہوں۔ اور تن بدن سے وہ تىرے آگے فروتنى کىے ہوئے ہو۔ اور اپنى ناک تىرے سامنے رگڑ رہا ہو۔ اے رب! تو مجھے اپنے سے دعا مانگنے مىں ناکام نہ رکھ اور مىرے حق مىں بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہو جا۔ اے سب مانگے جانے والوں سے بہتر اور سب دىنے والوں سے اچھے!

غروبِ آ فتاب کے وقت آپﷺ عرفہ سے روانہ ہوئے اور اُسامہ بن زىد کو اپنى سوارى کے پىچھے بٹھاىا۔ عاجزى اور فروتنى کا ىہ عالم تھا کہ اونٹنى کى مہار آپﷺ نے اس طرح سمىٹى ہوئى تھى کہ قرىب تھا کہ سر کجادہ سے لگ جائے۔

حضرت مسىح موعود علىہ السلام، حضرت اقدس محمد ﷺ کى قوت قدسى اور فاتحانہ شان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہىں:
اللہ تعالىٰ نے اپنے نبى کو مسکىنى اور غرىبى اور ىتىمى اور تنہائى اور بے کسى کى حالت مىں مبعوث کر کے اور پھر اىک قلىل عرصہ جو تىس(30) برس سے بھى کم تھا، اىک عالم پر فتح ىاب کىا اور شہنشاہِ قسطنطنىہ و بادشاہان دىار ِ شام و مصر و ممالک مابىن دجلہ و فرات وغىرہ پر غلبہ بخشا اور اس تھوڑے ہى عرصہ مىں فتوحات کو جزىرہ نما عرب سے لے کر درىائے جىحون تک پھىلاىا۔ اور ان ممالک کے اسلام قبول کرنے کى بطور پىشگوئى قرآن شرىف مىں خبر دى۔ اس حالت بے سروسامانى اور پھر اىسى عجىب و غرىب فتحوں پر نظر ڈال کر بڑے بڑے دانشمند اور فاضل انگرىزوں نے بھى شہادت دى کہ جس جلدى سے اسلامى سلطنت اور اسلام دنىا مىں پھىلا ہے اس کى نظىر صفحہ توارىخ دنىا مىں کسى جگہ نہىں پائى جاتى۔

 (سرمہ چشم آرىہ، روحانى خزائن جلد2 صفحہ19 بقىہ حاشىہ)

اسلام نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِىْمِ کى تعلىم مىں ا دب اور عجز کا طرىقہ سکھا دىا ہے۔ ہر وہ کام جو رحمٰن اور رحىم خدا کى استعانت کے ساتھ شروع کىا جائے وہ بابرکت ہو جاتا ہے۔

حضرت مسىح موعود علىہ السلام، نبى اکرمﷺ کے اسوہ حسنہ کى بہت پىارى تصوىر تھے۔ آپ علىہ السلام نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمدﷺ کى محبت مىں سرشار ہو کر عاجزانہ راہوں کو اختىار کىا۔ تب خدا تعالىٰ نے جو قدر شناس ہے اس لعل بے بہا کو چُن لىا اور آپ کو فرماىا کہ :
’’تىرى عاجزانہ راہىں اس کو پسند آئىں۔‘‘

(تذکرہ اىڈىشن دوم صفحہ701)

 حضرت مولوى عبد الکرىم سىالکوٹى بىان فرماتے ہىں:
’’اىک شخص جو دنىا کے فقىروں اور سجادہ نشىنوں کا شىفتہ اور خوکردہ تھا۔ ہمارى مسجد مىں آىا۔ لوگوں کوآزادى سے آپ علىہ السلام سے گفتگو کرتے دىکھ کر حىران ہو گىا۔ آپ علىہ السلام سے کہا کہ آپ کى مسجد مىں ادب نہىں۔ لوگ بے محابا بات چىت آپ سے کرتے ہىں۔ آپ علىہ السلام نے فرماىا:
مىرا ىہ مسلک نہىں کہ مىں اىسا تند خو اور بھىانک بن کر بىٹھوں کہ لوگ مجھ سے اىسے ڈرىں جىسے درندہ سے ڈرتے ہىں۔ اور مىں بُت بننے سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ مىں تو بُت پرستى کے رد کرنے کو آىا ہوں نہ ىہ کہ مىں خود بُت بنوں اور لوگ مىرى پُوجا کرىں۔ اللہ تعالىٰ بہتر جانتا ہے کہ مىں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرا بھى ترجىح نہىں دىتا۔ مىرے نزدىک متکبر سے زىادہ کوئى بُت پرست اور خبىث نہىں۔ متکبر کسى خدا کى پرستش نہىں کرتا بلکہ وہ اپنى پرستش کرتا ہے۔

(سىرت حضرت مسىح موعود علىہ السلام صفحہ41۔42)

آپ کى ملاقات کى جگہ عموماً مسجد ہى ہوتى تھى۔ لوگ آتے اور آزادى سے آپ سے بات چىت کرتے۔ آپ توجہ اور محبت سے ان کى بات سنتے اور وہ آپ کى محبت سے فىض حاصل کرتے۔ آپ کى طبعىت عاجزانہ رنگ رکھتى تھى۔ اپنى بڑائى کے اظہار سے آپ متنفر تھے۔ کئى مرتبہ اىسا ہوتا کہ چارپائى کے سرہانے کى طرف کوئى دوسرا شخص بىٹھا ہے اور پائنتى کى طرف حضرت مسىح موعود علىہ السلام ہىں ىا ننگى چارپائى پہ آپ ہىں اور بستر والى چارپائى پہ آپ کا کوئى مرىد بىٹھا ہے۔ بسا اوقات اىک نووارد کو دھوکا لگ جاتا تھا کہ حضرت مسىح موعود علىہ السلام کون ہىں اور کہاں بىٹھے ہىں۔ آپ اپنے خادموں اور مرىدوں کے نام بھى ادب سے لىتے۔ اگر کوئى گستاخى سے کلام کرتا تو آپ نرمى سے ہى جواب دىتے۔ آپ کى زندگى اسوہ نبوى کا پر تو تھى۔ گھر کے کام کاج مىں کبھى عار محسوس نہ کرتے۔ پىوند لگے جوتے اور کپڑے پہن لىتے۔ آپ کى گھرىلو زندگى خَىْرُ کُمْ خَىْرُ کُمْ لِاَھْلِہٖ کى مکمل تصوىر تھى۔ اندرون خانہ کى خدمت گزار عورتىں بھى آپ کے حسنِ معاشرت کى گواہ تھىں۔ آپ اپنے دوستوں، ملازموں اور غرىب لوگوں کى خدمت مىں راحت محسوس کرتے۔ دوا پوچھنے والى گنوار عورتوں کى بات کشادہ پىشانى سے سنتے اور دوا بتاتے۔ پھل کا موسم آتا تو اپنے مہمانوں ودوستوں کو باغ مىں ساتھ لے کر جاتے اور موسم کا پھل تُڑوا کر سب کے ساتھ مل کر بے تکلفى سے نوش فرماتے۔

آپ علىہ السلام کى عاجزى اور تواضع کا ىہ حال تھا کہ اپنا لکھا ہوا مضمون اپنے دوستوں اور خدام کو سناتے تا کہ اگر کوئى بات ہو تو کمى بىشى کى اصلاح ہو سکے۔ حالانکہ خدائے بزرگ و برتر نے اپنے الہام مىں آپ کو سلطان القلم فرماىا تھا۔

اپنى اولاد کا بہت اکرام کرتے۔ ان کى ضرورىات پہ نظر رکھتے۔

بىٹىوں کى بہت دلدارى فرماتے۔ جب چھوٹى عمروں کے تھے تو اُنہىں گود مىں لے کر ٹہلتے بھى تھے۔

حضرت مسىح موعود علىہ السلام نے اپنى سارى زندگى عجز و فروتنى کے ساتھ اپنے آپ کو لاشئى محض سمجھتے ہوئے خدمتِ دىن مىں گزارى۔ آپ خود فرماتے کہ جب کوئى دىنى ضرورى کام آن پڑے تو مىں اپنے اوپر کھانا، پىنا اور سونا حرام کر لىتا ہوں، جب تک وہ کام ہو نہ جائے۔ آپ کى تحرىرات مىں جگہ جگہ عاجز، ناچىز، احقر العباد، خاکم، خاک جىسے عاجزانہ الفاظ کا استعمال پاىا جاتا ہے۔

؎ کِرم خاکى ہوں مىرے پىارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کى جائے نفرت اور انسانوں کى عار

حضرت خلىفۃ المسىح الاول رضى اللہ عنہ فرماتے ہىں :
خدا کى راہ مىں استقامت اور عجز کے ساتھ قدم اٹھاؤ۔ قوىٰ سے کام لو۔ اس کى مددطلب کرو۔ پھر ىہ کوئى بڑى بات نہىں ہے کہ تم بھى اللہ تعالىٰ کے فضل کے وارث ہو جاؤ۔

 (خطبات نور جلد اول صفحہ228)

حضرت مصلح موعود رضى اللہ عنہ فرماتے ہىں:
ىہى وجہ ہے کہ اسلام نے تکبر کو شدىد طور پر ناپسند کىا ہے۔ اسلام ىہ نہىں کہتا کہ تم اپنى ترقىات کے لىے کوشش نہ کرو۔ تم اپنى ترقىات کے لىے جتنى بھى کوشش کرو جائز ہے۔ مگر اس کے بعد تمہىں جتنى بھى ترقى ملے۔ اتنا ہى اپنے آپ کو متواضع بناؤ۔ورنہ اگر تم متکبر ہو گئے تو خداتعالىٰ تم سے خوش نہىں ہوگا۔

(تفسىر کبىر جلد ہفتم صفحہ549)

حضرت خلىفۃ المسىح الثالث رحمہ اللہ تعالىٰ حضرت ابو ىزىد بسطامى رحمہ اللہ کے حوالے سے اپنے اىک خطبہ مىں ارشاد فرماتے ہىں:
تم محض ان عبادتوں کے نتىجہ مىں اللہ تعالىٰ کے قرب اور اس کى رضا کو حاصل نہىں کر سکتے۔ اگر تم اس تک پہنچنا چاہتے ہو تو اپنے اندر عاجزى، ذات تواضع اور اپنے آپ کو حقىر سمجھنے کى ذہنىت پىدا کرنى چاہىے۔

(خطبہ جمعہ 21 جنورى 1966ء)

حضرت خلىفۃالمسىح الرابع رحمہ اللہ تعالىٰ فرماتے ہىں:
۔۔۔ عجز کے مقام تو بے شمار ہىں لىکن جب تک اندرونى طور پر آپ کو وہ آنکھ نصىب نہ ہو جو عجز شناسائى بخشتى ہے۔ جس سے عجز پہچانا جاتا ہے، اس وقت تک صحىح معنوں مىں خدا کى راہ مىں آگے قدم نہىں بڑھا سکتے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 6 اپرىل 1990ء)

حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ فرماتے ہىں:
عاجزى اور انکسارى اىک اىسا خلق ہے جب کسى انسان مىں پىدا ہو جائے تو اس کے ماحول مىں اور اس سے تعلق رکھنے والوں مىں باوجود مذہبى اختلاف کے جس شخص مىں ىہ خلق پىدا ہو اس پر انگلى اٹھانے کا موقعہ نہىں ملتا بلکہ اس خلق کى وجہ سے لوگ اس کے گروىدہ ہو جاتے ہىں۔ اس سے تعلق رکھنے کى خواہش رکھتے ہىں۔۔۔ اىسے لوگ جن کو اپنى بڑائى بىان کر کے اپنے مقام کا اظہار کرنے کا شوق ہوتا ہے۔ ان کو ىہ ذہن مىں رکھنا چاہىے کہ بلند مقام عاجزى سے ہى ملتا ہے۔۔۔

اللہ تعالىٰ ہر احمدى بچى، ہر احمدى عورت کو اپنے اىمان کى پوشاک ہى پہنائے اور دنىاوى لباس جو دکھاوے کے لباس ہىں ان سے بچائے رکھے۔ اسى طرح مرد بھى اگر دکھاوے کے طور پر کپڑے پہنتے ہىں۔ لباس پہن رہے ہىں تو وہ بھى اسى زمرے مىں آتے ہىں۔۔۔اللہ تعالىٰ ہمىں عاجزى اور انکسارى کے اعلىٰ معىار قائم کرنے کى توفىق عطا فرمائے۔

 (خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جنورى 2004ء)

خدا کے انبىاء عاجزى و زارى کرتے ہوئے خدا کے حضور جھکتے رہتے ہىں اور اپنے قصوروں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے فضل اور رحمت کے طلب گار رہتے ہىں۔ تورات مىں لکھا ہے ’’تب موسىٰ نے جلدى سے زمىن پر سر جھکاىا اور بولا کہ اے خدا وند! ہمارے گناہ اور خطائىں معاف فرما۔‘‘

(خروج 34-9)

حضرت داؤد علىہ السلام خدا تعالىٰ کو مخاطب کر کے کہتے ہىں کہ ’’مىں نے تىرا گناہ کىا‘‘

(زبور:51-3)

حضرت عىسىٰ علىہ السلام کى کمال فروتنى کا ذکر حدىث مىں اس طرح آتا ہے کہ حضرت ابوہرىرہ رضى اللہ عنہ نبى کرىم ﷺ سے رواىت کرتے ہىں کہ آپﷺ نے فرماىا:

 عىسىٰ نے اىک شخص کو چورى کرتے دىکھا تو اس سے کہا کہ تُو نے چورى کى ہے۔ اس نے کہا، قسم اللہ کى جس کے سوا کوئى معبود نہىں (مىں نے چورى نہىں کى) تو عىسىٰ نے کہا، مىں اللہ پر اىمان لاتا ہوں اور اپنى آنکھ کى تکذىب کرتا ہوں۔

(تجرىد بخارى کتاب بدء الخلق صفحہ634)

 حضرت ابراہىم علىہ السلام کى صفت قرآن پاک نے ’’حَنِىْف‘‘ بىان فرمائى ہے۔ اور حنىف کا مطلب ہى جھکنے والا ہے۔ اللہ تعالىٰ نے آپ سے فرماىا کہ اَسْلِمْ ىعنى فرماں بردار ہو جا تو آ پ نے فوراً ہى اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِىْنَ کا اعلان فرما دىا۔

انبىاء اپنے نمونے سے بنى نوع انسان کى راہ نمائى کرتے ہىں۔ وہ خدا کے معصوم اور عاجز بندے ہوتے ہىں۔ وہ عاجزانہ راہوں کو اختىار کرتے ہوئے خدا کے حضور مخلوقِ خدا کى اصلاح کے لىے دعائىں اور گرىہ و زارى کرتے ہىں۔

ہمارے نبى پاک ﷺ کى تواضع و انکسارى کا تو ىہ حال تھا کہ اىک شخص نے آپ ﷺ کو اِن الفاظ سے مخاطب کىا۔ اے ہمارے آقا اور ہمارے آقا کے فرزند ہم مىں سب سے بہتر اور ہم مىں سب سے بہتر کے فرزند۔ تو آپ ﷺ نے فرماىا تقوىٰ سے کام لو۔ شىطان تمہىں پُھسلا نہ دے۔ مىں عبد اللہ کا بىٹا محمد ہوں۔ خدا کا بندہ ہوں اور رسول ہوں۔ خدا نے مجھے جو مرتبہ بخشا ہے اس سے آگے نہ بڑھاؤ۔

(مسلم، کتب الفضائل باب من فضائل ابراہىم الخلىل)

پىارے نبى ﷺ خدا تعالىٰ کى عناىت خاص سے انتہائى عظمت کے مقام پر فائز تھے۔ آپ ﷺ کے انکسار طبعى کا ىہ حال تھا کہ آپ ﷺ خود دوسروں کا اعزازو اکرام فرماتے۔ کوئى آتا تو اپنى چادر بچھا دىتے، مجلس مىں بىٹھتے تو صحابہ رضى اللہ عنہم سے باتىں کرتے۔ جب کوئى شخص بات کرتا تو اس کى بات توجہ سے سنتے اور اس وقت تک منہ نہ پھىرتے جب تک وہ خود منہ نہ پھىرے۔ ناپسندىدہ آدمى کے ساتھ خندہ پىشانى سے ملتے۔ اپنى بىوىوں کے ساتھ نہاىت محبت سے پىش آتے۔ اپنے بال بچوں پہ بہت مہربان تھے۔ آپ ﷺ کے لباس و بستر اور کلام مىں بھى سادگى تھى۔

رسول خدا ﷺ نے فرماىا کہ اللہ تعالىٰ نے مجھ کو وحى بھىجى ہے کہ تم تواضع ىعنى فروتنى اختىار کرو تا کہ کوئى اىک دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئى کسى پر زىادتى نہ کرے۔

(مشکوٰۃ بحوالہ رىاض الصالحىن حصہ دوم صفحہ290)

حضرت مسىح موعود السلام فرماتے ہىں:
’’بعض نادان اىسے بھى ہىں جو ذاتوں کى طرف جاتے ہىں اور اپنى ذات پر بڑا تکبر اور ناز کرتے ہىں۔ مىں سچ کہتا ہوں کہ خداتعالىٰ کا قرب حاصل کرنے کے لىے ذات کچھ بھى چىز نہىں ہے۔ آنحضرت ﷺ جو سىد وُلد آدم اور افضل الانبىاء ہىں۔ انہوں نے اپنى بىٹى حضرت فاطمہ رضى اللہ عنہا سے صاف طور پر فرماىا کہ اے فاطمہ! تو اس رشتہ پر بھروسہ نہ کرنا کہ مىں پىغمبر زادى ہوں۔

 قىامت کو ىہ ہر گز نہىں پوچھا جائے گا کہ تىرا باپ کون ہے۔ وہاں اعمال کام آئىں گے۔ مىں ىقىناً جانتا ہوں کہ خدا تعالىٰ کے قرب سے زىادہ دُور پھىنکنے والى اور حقىقى نىکى کى طرف آنے سے روکنے والى بڑى بات ىہى ذات کا گھمنڈ ہے۔ کىونکہ اس سے تکبر پىدا ہوتا ہے۔ اور تکبر اىسى شئے ہے کہ وہ محروم کر دىتا ہے۔

(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ188۔189)

حقىقت ىہ ہے کہ انکسار و تواضع وہ عزت کى راہ ہے جو خدا تعالىٰ کو محبوب ہے۔ خدا کے لىے تواضع اختىار کرنے سے انسان در حقىقت مکرم و معزز بن جاتا ہے۔ اللہ تعالىٰ نے قرآن مجىد مىں عباد الرحمٰن کى ىہ اعلىٰ صفت بىان فرمائى ہے:
(ترجمہ) اور رحمٰن کے سچے بندے وہ ہوتے ہىں جو زمىن پر عاجزى سے چلتے ہىں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہىں تو وہ (لڑتے نہىں بلکہ) کہتے ہىں کہ ہم تو تمہارے لىے سلامتى کى دُعا کرتے ہىں۔

اس آىت مىں رحمٰن خدا کے بندوں کى تعرىف ىہ فرمائى گئى ہے کہ وہ تکبر نہىں کرتے بلکہ عاجزانہ راہوں کو ختىار کرتے ہىں۔ لىکن اس کے ساتھ ساتھ زمانے کے امام حکم و عدل ىہ بھى فرماتے ہىں:
جو شخص بدى کے مقابل پر بدى نہىں کرتا اور معاف کرتا ہے وہ بلاشبہ تعرىف کےلائق ہے۔ مگر اس سے زىادہ وہ شخص تعرىف کے لائق ہے جو عفو ىا انتقام کا مقىد نہىں۔ بلکہ خدا کى طرف سے ہو کر مناسب وقت کام کرتا ہے۔ کىونکہ خدا بھى ہر اىک کے مناسبِ حال کام کرتا ہے جو سزا کے لائق ہے اس کو سزا دىتا ہے۔ جو معافى کے لائق ہے اس کو معاف کر دىتا ہے۔۔۔

(براہىن ِ احمدىہ حصہ پنجم، صفحہ426)

؎شوخى و کبر دىو لعىں کا شعار ہے
آدم کى نسل وہ ہے جو خاکسار ہے

مخبر صادق حضرت محمد ﷺ کى پىشگوئىوں کے مطابق، اللہ تعالىٰ نے آپ کو اپنے وعدہ کے موافق مسىح ابن مرىم کى خصلت اور رنگ مىں بھىج کر آپ کو عىسىٰ اور مسىح کا نام دے کر آپ کى متواضعانہ عادت اور عاجزانہ طبعىت کى طرف رہنمائى فرمائى۔

حضرت مسىح موعود علىہ السلام کے دل صافى مىں خداتعالىٰ کى عظمت اور اس کے کلام کى عظمت موجزن تھى۔ آپ حرمات اللہ اور شعائر کى عظمت کا بہت خىال رکھتے۔

 آپ خود فرماتے ہىں:۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا مىں خدا کى سب راہوں مىں سے آخرى راہ ہوں۔ اور اس کے سب نُوروں مىں سے آخرى نور ہو۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کىونکہ مىرے بغىر سب تارىکى ہے۔

(کشتى نوح، صفحہ56)

حضرت مسىح موعود علىہ السلام کى صداقت کے بے شمار نشان آسمان پر ستاروں کى طرح چمک رہے ہىں۔ اللہ کرے کہ مخالفىن احمدىت بد ظنى اور تکبر کى راہىں چھوڑ کر اس مہدى معہود و مسىح موعودعلىہ السلام کو پہچان کر اس کو قبول کرنے والے ہوں۔

ہم بھى عاجزانہ راہوں کو اختىار کرتے ہوئے انکسارى و خشوع کے جذبات سے دىن اور انسانىت کے خادم بنىں۔ اللہ تعالىٰ ہمىں ہمىشہ اپنے فضل و کرم و رحم سے نوازتا چلا جائے۔ (آمىن)

(مبارکہ شاہین ۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خطوط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اکتوبر 2021