• 26 جنوری, 2022

حضرت صاحب کا روشن ستارے والا نشان

حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز مزىد فرماتے ہىں:
حضرت مرزا غلام نبى صاحبؓ بىان کرتے ہىں کہ جب مَىں نے بىعت کى تو حضرت صاحب کے الہامات پڑھنے کا مجھے بہت شوق تھا۔ اُن دنوں اخبار زمىندار اور کئى اخباروں مىں حضرت اقدس کے الہامات کے خلاف تحرىرىں نکلا کرتى تھىں اور مَىں بھى اکثر اُن کو پڑھا کرتا تھا۔ اُن کے پڑھنے کا مجھ پر ىہ اثر ہوا کہ الہامات کى کىفىت کے بارے مىں مجھے پرىشانى پىدا ہوئى۔ کىونکہ جب الہامات کا ذکر ہوتا تھا ىا مخالفىن کے جو اخبارات تھے ىہ اپنے اخباروں مىں الہامات کا ذکر کرتے تھے اور پھر اس پر اوٹ پٹانگ تبصرے ہوتے تھے۔ تو کہتے ہىں اس سے مجھے پرىشانى پىدا ہوتى تھى۔ کہتے ہىں اىک دن مَىں نے خدا کے حضور دعا کى کہ اے خدا! مَىں اس حقىقت کو نہىں سمجھ سکتا، مجھے اپنے فضل سے سمجھا۔ اس کے بعد اچانک دوپہر کے وقت مجھ پر اىک نئى حالت غنودگى کى طارى ہوئى اور اس حالت مىں آسمان سے اىک نىلگوں رنگ کا گھوڑا اترتا ہوا معلوم ہوا۔ جوں جوں وہ زمىن کے نزدىک آتا تھا اُس کا رنگ شوخ ہوتا جاتا تھا۔ اُس کى گردن سے بجلى کى طرح اىک شعلہ نکلتا تھا۔ مىرے دل پر ىہ القاء ہوا کہ ىہ تمہارے مرشد کا نشان ہے۔ عنقرىب ىہ روشنى زمىن تک پہنچے گى اور دشمنوں کا رنگ زرد کر دے گى۔ اس کے چند ماہ بعد حضرت صاحب کا روشن ستارے والا نشان جو حقىقۃ الوحى مىں درج ہے، وہ نمودار ہوا۔

(ماخوذ از رجسٹر رواىات صحابہ غىر مطبوعہ رجسٹر نمبر11صفحہ نمبر225 رواىت حضرت مرزا غلام بنى صاحبؓ)

اس نشان کے بارے مىں تھوڑا سا مختصر ذکر مَىں بتا دوں۔ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے مىں فرماتے ہىں کہ:
’’اس کے بعد جس رنگ مىں ىہ پىشگوئى ظہور مىں آئى‘‘ (ىہ روشن ستارے والى) ’’وہ ىہ ہے کہ ٹھىک 31 مارچ 1907ء کو جس پر 7مارچ سے 25دن ختم ہوتے ہىں اىک بڑا شعلہ آگ کا جس سے دل کانپ اٹھے، آسمان پر ظاہر ہوا اور اىک ہولناک چمک کے ساتھ قرىباً سات سو مىل کے فاصلہ تک جو اب تک معلوم ہو چکا ہے(جب ىہ لکھا گىا تھا) ىا اس سے بھى زىادہ جا بجا زمىن پر گرتا دىکھا گىا اور اىسے ہولناک طور پر گرا کہ ہزارہا مخلوقِ خدا اس کے نظارہ سے حىران ہوگئى اور بعض بىہوش ہو کر زمىن پر گر پڑے اور جب ان کے منہ مىں پانى ڈالا گىا تب ان کو ہوش آئى۔ اکثر لوگوں کا ىہى بىان ہے کہ وہ آگ کا اىک آتشى گولہ تھا جو نہاىت مہىب اور غىر معمولى صورت مىں نمودار ہوا اور اىسا دکھائى دىتا تھا کہ وہ زمىن پر گرا اور پھر دھواں ہو کر آسمان پر چڑھ گىا۔ بعض کا ىہ بھى بىان ہے کہ دُم کى طرح اس کے اىک حصہ مىں دُھواں تھا۔ اور اکثر لوگوں کا بىان ہے کہ وہ اىک ہولناک آگ تھى جو شمال کى طرف سے آئى اور جنوب کو گئى۔ اور بعض کہتے ہىں کہ جنوب کى طرف سے آئى اور شمال کو گئى۔ اور قرىباً ساڑھے پانچ بجے شام کے اس وقوعہ کا وقت تھا۔‘‘ (ىعنى ىہ وقوعہ ہوا)۔

(حقىقۃ الوحى، روحانى خزائن جلد22 صفحہ518)

تو اس طرح اللہ تعالىٰ حضرت مسىح موعود علىہ السلام کے صحابہ کو دعا کے بعدنشانات کى طرف اشارہ کرتا تھا اور پھر وہ نشانات ظاہر بھى ہوئے اور اس طرح ىہ اُن کے اىمان مىں ترقى کا باعث بنتے تھے۔ پس دعاؤں کى قبولىت اور روشن نشانوں سے اللہ تعالىٰ نے اُن صحابہ کے اىمانوں کو مزىد مضبوط اور صىقل کىاہے۔ حضرت مسىح موعود علىہ السلام کے ذرىعہ دعاؤں کى حقىقت اور آداب کا جو ادراک صحابہ کو حاصل ہوا، ىہ دعا کرنى چاہئے کہ اللہ تعالىٰ وہ ہم مىں سے ہر اىک کو حاصل کرنے کى توفىق عطا فرمائے۔ ہمىں بھى روشن نشانوں کے ذرىعہ قبولىت دعا کے نشان دکھائے۔ ہم مىں سے ہر اىک حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام پر اىمان مىں مضبوط ہو اور اللہ تعالىٰ سے خاص تعلق پىدا کرنے والا ہو۔

پس آجکل بھى ہر احمدى کو ىہ دعا کرنى چاہئے۔ ىہ الہام جو مىں نے بتاىا کہ نہ کوئى عارضى رہائش باقى رہے گى نہ مستقل۔ دنىا کے جو حالات ہو رہے ہىں اور جس طرح جنگِ عظىم کا خطرہ ہے، اس بارے مىں بھى دعا کرنى چاہئے۔ اللہ تعالىٰ ہر احمدى کو اس سے محفوظ رکھے بلکہ انسانىت کو اس سے محفوظ رکھے۔ اور ىہ بلائىں جو آنے والى ہىں وہ ٹل جائىں۔ ان شاء اللہ تعالىٰ مَىں چند ہفتوں کے لئے پھر سفر پر جا رہا ہوں۔ دعا کرىں اللہ تعالىٰ ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ امرىکہ اور کىنىڈا کے جلسے ہر لحاظ سے بابرکت ہوں۔ دنىاکے بعض ممالک مىں پاکستان کے علاوہ بھى احمدىوں پر زندگى تنگ کرنے کى کوشش کى جا رہى ہے۔ اللہ تعالىٰ ان شر پىدا کرنے والوں کو جن مىں حکومتىں بھى شامل ہىں اپنى قدرت کا نشان دکھاتے ہوئے ان کے شر دور فرمائے اور احمدىت کى سچائى ظاہر فرمائے اور احمدىوں کو ہر جگہ ہر قسم کے شرور سے محفوظ فرمائے۔ آمىن

(خطبہ جمعہ 15؍جون 2012ء بحوالہ الاسلام وىب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

سانحہ ارتحال

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 نومبر 2021